30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
جو اللہ پاک نے آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کو عطا فرماىا ہے ۔ ([1])ہمارے آقا ومولا صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم تو ہماری جانوں کے بھى مالِک ہىں اور اَلْحَمْدُ لِلّٰہ عَزَّوَجَلَّ ہمیں اِس پر فخر ہے کہ ہم آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کے اُمَّتی اور غُلام ہىں ۔
اللہ اللہ شہِ کونىن جَلالت تىرى
فرش کىا عرش پہ جارى ہے حکومت تىرى (ذوقِ نعت)
مالکِ کونىن ہىں گو پاس کچھ رکھتے نہىں
دوجہاں کى نعمتىں ہىں ان کے خالى ہاتھ مىں
مىں تو مالِک ہى کہوں گا کہ ہو مالِک کے حبىب
ىعنى محبوب و مُحِب مىں نہىں مىرا تىرا (حدائقِ بخشش)
جُلُوسِ مِیلاد کے لیے کتنے اَفراد ہونے چاہیے ؟
سُوال : جُلُوسِ مِىلاد مَنانے کے لىے کتنے اَفراد کا ہونا ضَرورى ہے ؟(سوشل میڈیا کا سُوال)
جواب : جُلُوسِ مِیلاد ایک بندہ بھی نکال سکتا ہے ۔ مىں نے خود اکىلے بھى جُلُوس نکالا ہے ۔ گھر کی چار دىوارى مىں جھنڈا لے کر نعت شرىف پڑھتے پڑھتے جُلُوسِ مِیلاد کی اپنی حَسرت پوری کی ہے ۔
دِل مىں ہو ىاد ترى گوشۂ تنہائى ہو
پھر تو خَلوت مىں عجب انجمن آرائى ہو (ذوقِ نعت)
سرکار عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کا سایہ نہیں تھا
سُوال : لوگ کہتے ہیں کہ سرکار عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کا ساىہ نہىں تھا لىکن مىں کہتا ہوں کہ سرکار عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کا ساىہ ساری دُنىا پر ہے ، آپ اس بارے میں کیا اِرشاد فرماتے ہیں؟
جواب : میرے آقا، مکی مَدَنی مصطفے ٰ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کے جِسمِ مُبارَک کا سایہ نہیں تھا ۔ یہ جو کہا جاتا ہے کہ ہم پر یا سارے عالَم پر سرکار عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کا سایہ ہے تو یہ مجازاً اور بطورِ اِستعارہ کہا جاتا ہے ۔ اِستعارہ کا مَطلب یہ ہے کہ لفظ کے ظاہری معنیٰ چھوڑ کر کوئی اور معنیٰ مُراد لیے جائیں جیسا کہ ہم کہتے ہیں کہ ہم پر سرکار عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کا سایہ ہے اور مُراد یہ ہوتی ہے کہ آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکی مدد اور حمایت ہمیں حاصِل ہے اور آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام ہمیں اپنی پناہ میں لیے ہوئے ہیں ۔
ہم ان کے زىر ساىہ رہتے ہىں جن کا ساىہ نظر نہىں آتا
جھولىاں بھرتى جاتى ہىں مگر دىنے والا نظر نہىں آتا
میرے پیارے آقا صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم بے سایہ ہیں مگر سائبانِ عالَم ہیں ۔ سائبان کے معنیٰ ہیں ”ساىہ ڈالنے والا “اِس لیے لوگ سایہ حاصِل کرنے کے لیے جو چھپر بناتے ہیں اُسے سائبان بولتے ہیں کہ وہ بھی سایہ ڈالتا ہے ۔
لوگ کہتے ہىں کہ ساىہ مىرے پىکر کا نہ تھا
مىں تو کہتا ہوں جہاں بھر پہ ہے ساىہ تىرا
آپصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم دھوپ مىں جب قدم رَنجہ فرماتے تو آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کا ساىہ نظر نہ آتاتھا ۔ اگر آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کا ساىہ ہوتا تو اس پر لوگوں کے پاؤں پڑنے کا اندیشہ تھا اِس لیے آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کا سایہ ہی نہیں تھا اور سایہ نہ ہونا آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کا معجزہ ہے ۔ میرے آقا ، مکی مَدَنی مصطفے ٰ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کا سایہ اس لیے بھی نہیں تھا کہ آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نور ہیں اور نور کا سایہ نہیں ہوتا ۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع