30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
عوام میں بھی جو سوشل میڈیا میں مَصروف رہتے ہیں تو وہ غور کرلیں کہ اس کے سبب نہ نماز مىں دِل لگتا ہے ، نہ تلاوت اور اَورادو وَ ظائف کے لیے وقت ملتا ہے ۔ لوگ مجبوراً نوکری کرنے تو جاتے ہیں لیکن دَورانِ کام بھی سوشل میڈیا پر لگے ہوتے ہىں ۔ اِس کى وجہ سے حادثات بھی ہوتے ہیں جس کے سبب لوگوں کى جانىں ضائع ہو جاتى ہىں ۔ جن کی سىکورٹى کی نوکری ہوتی ہے تو وہ بھی دَورانِ ڈیوٹی سوشل میڈیا پر لگے ہوتے ہیں ۔ سیکورٹی پر مامور اَفراد کے دَورانِ ڈیوٹی موبائل اِستعمال کرنے کا رُجحان میں نے ایک ترقى ىافتہ مُلک مىں بھى دىکھا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ کئی اِداروں میں مُلازمین سے دَورانِ ڈیوٹی موبائل فون لیکر جمع کر لیے جاتے ہیں ۔ بہرحال اگر آپ کچھ بننا چاہتے ہىں تو اس سوشل میڈیا اور نیٹ سے جان چھڑا کر اپنے آپ کو اللہ پاک کی عبادت مىں لگادیں جو دُنیا میں ہمارے آنے کا مقصد ہے جیساکہ پارہ 27 سورۃُ الذّٰرِیٰت کی آیت نمبر 56 میں اللہ پاک نے اِرشاد فرمایا : (وَ مَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَ الْاِنْسَ اِلَّا لِیَعْبُدُوْنِ(۵۶)) ترجمۂ کنز الایمان : ”اور میں نے جن اور آدمی اتنے ہی (یعنی اسی) لئے بنائے کہ میری بندگی کریں ۔ “لیکن بَدقسمتی سے اب نماز پڑھنے کا موقع نہىں ملتا اور جب موقع ملتا ہے تو بَدن نماز مىں ہوتا ہے اور دِل و دماغ سوشل مىڈىا میں غوطے لگا رہے ہوتے ہیں ۔ مسجد میں داخِل ہونے کے بعد موبائل فون بند نہیں کیا جاتا، دَورانِ نماز بھی فون کی گھنٹىاں بج رہی ہوتى ہیں اور لوگوں کى نماز مىں خَلل واقع ہو رہا ہوتا ہے ۔ ممکن ہے کہ بعض جگہ بڑے بوڑھے جَلال مىں آجاتے ہوں گے اور پھر مسجد میں خوب شورشرابا ہو جاتا ہو گا ۔ اللہ پاک ہمارے حال پر کرم فرما دے کہ ہم سوشل مىڈىا کا اِستعمال 100فىصد جائز طریقے سے کرىں ۔ کاش! ہم ایسے بن جائىں کہ ہماری جانب سے نہ تو اللہپاک کے حقوق مىں کمى آئے اور نہ ہی بندوں کی حق تلفی ہو ۔ اللہپاک ہمىں اِن فضولیات سے بچا کر دِىنى کُتُب کے مُطالعے اور عِلمِ دِىن حاصِل کرنے مىں لگا دے ۔ اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلہٖ وَسَلَّم
سوشل میڈیا کے لیے وقت مخصوص کرنا
سُوال : کیا سوشل میڈیا کے اِستعمال کے لیے وقت مخصوص کر کے اِس کے نُقصانات میں کمى لائی جا سکتى ہے ؟
جواب : سوشل میڈیا کے لیے وقت مخصوص کر کے کثرتِ اِستعمال کے سبب ہونے والے نُقصانات میں کمی لائی جا سکتی ہے ۔ سلجھے ہوئے اورسمجھدار لوگ ایسا کرتے بھی ہیں مثلاً عصر اور مغرب کے دَرمىان ىا عشا کى نماز کے بعد ىا جس کو جو وقت ملتا ہو گا تو وہ کچھ دیر سوشل میڈیاUse (یعنی اِستعمال)کرلیتا ہو گا لىکن ایسا وہی کرتے ہوں گے جو دِینی یا دُنیوی اِعتبار سے زیادہ مَصروف ہوتے ہوں گے ۔ عام لوگوں کا ایسا کرنا مشکل ہے کیونکہ ہر وقت ایک گُدگُدى اور بے قراری سی ہوتى ہے کہ دىکھوں تو سہی کس کا پىغام آىا ہے ؟اب نماز کے لىے کوئی پختہ اِرادے کے ساتھ چلا لیکن ایک دَم موبائل فون کی گھنٹى بجی اور کسی کا آڈیو پیغام یا پوسٹ آ گئی ۔ اب اگر کسی عام شخص کا ہے تو صبر ہو جائے گا کہ چلو بعد مىں دىکھىں گے لیکن اگر کسی خاص بندے کا پیغام یا پوسٹ ہے تو اب ىہ اسے ضَرور دىکھے گا ىا اس صوتى پىغام کو سننے مىں لگ جائے گا اور اس دَوران جماعت بلکہ بعض کی مَعَاذَ اللّٰہ نمازىں بھی قضا ہو جاتى ہوں گی۔
قرآنِ پاک کے بعد سب سے پہلی کتاب کون سی ہے ؟
سُوال : دِىنِ اِسلام کے بارے مىں بہت سى کُتُب لکھى گئی ہىں ۔ قرآنِ پاک کے بعد اِن سارى کتابوں مىں سب سے پہلى کون سى اِسلامى کتاب لکھى گئى اور کس نے لکھى؟
جواب : حُجَّۃُ الْاِسْلَامحضرتِ سیِّدُنا امام محمد بن محمد بن محمد غزالى عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْوَالِی نے اِحىاءُ العلوم مىں نقل کىا ہے کہ اِسلام میں سب سے پہلے عبدُالملک بِن عبدُ العزىز بن جرىج رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ کى کتاب تصنىف ہوئى ۔ جس مىں آثار اور حضرتِ سیِّدُنا عطا، حضرتِ سیِّدُنا مجاہد اور حضرتِ سیِّدُنا عبدُاللہ بن عباس رِضْوَانُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِمْ اَجْمَعِیْن کے دِىگر شاگردوں سے منقول تَفاسىر ہیں ۔ ىہ کتاب مَکَّۂ مُکَرَّمہ زَادَہَا اللّٰہُ شَرَفًاوَّتَعْظِیْماً مىں تصنىف ہوئى ۔ ([1])
سرکار عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو مالکِ کوثر کہنا کیسا؟
سُوال : ہر چىز کا مالِک اللہ پاک ہے ، توحوضِ کوثر بھی ایک چیز ہے اور وہ بھى آخرت کى تواس کا مالِک بھی اللہ پاک ہوا، پھر آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکو مالکِ کوثر کىوں کہا جاتا ہے ؟
جواب : نبىِ پاک، صاحبِ لَولاک صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کو مالکِ کوثر کہنے مىں کوئى حَرج نہىں ہے ۔ رَحمتِ عالَم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم اللہ پاک کى تمام
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع