دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Andaz-e-Guftugu Kesa Ho? | اَندازِگُفتگوکیسا ھو؟

book_icon
اَندازِگُفتگوکیسا ھو؟

اَنداز، رَفتار ، گفتار اور  کِردار  اىسا ہو کہ ہر  بندہ آپ کی طرف کھچتا چلا آئے ۔  

مذہبی لوگوں کی حَرکات وسکنات بغور دیکھی جاتی ہیں

کافی عرصہ پہلے کى بات ہے کہ میں  اىک بار کسى جگہ دَعوت میں گىا تھا، اس وقت حفاظتى اُمُور کے مَسائِل نہىں تھے ۔  کافى داڑھى والے مُعَزَّز  اَفراد بھی وہاں  جمع تھے ۔ میں الگ تھلگ بیٹھا ہوا تھا جبکہ ان لوگوں میں گفتگو ہو رہی تھی اور قہقہے بلند ہو رہے تھے ۔  اىک کلین شىوڈ آدمی میرے پاس آیا، اس کی  باتوں سے ایسا  لگ رہا تھا  کہ وہ بہت بڑا  مالدار تاجر ہے ، دَورانِ گفتگو  اُس نے بتا بھی دیا  کہ بولٹن مارکىٹ میں  مىمن مسجد کے پاس اس کی کپڑے کى دُکان ہے ۔  اس نے کہا : ”ىہ سب مولانا لوگ ہنس رہے ہىں اور آپ  سنجىدہ بىٹھے ہوئے ہىں تو مىں نے کہا کہ مىں آپ کو کمپنى دے دوں کہ ىہ مولانا بے چارہ اکىلا بىٹھا ہوا ہے ۔ “ىوں مجھے  اىک طرح سے اُس نے سکھاىا  کہ  ىہ جو کر رہے ہىں دُرُست نہیں کر رہے تم  ایسا مَت کرنا ۔  اَلْحَمْدُ لِلّٰہ عَزَّوَجَلَّ اُس کى باتوں سے مجھے سىکھنے کو مِلا ۔   

اِسی طرح جن دِنوں میں شہىد مسجد کھارادر بابُ المدینہ(کراچی) مىں امامت کرتا تھا تو وہاں بھی اىک کلین شیوڈ بىوپارى مجھ سے ملنے آىا تھا، اُس نے بھی دَوران گفتگو مجھ سے پوچھا کہ ىہ مولانا لوگ”ہا ہا ہا“  کر کے کیوں   ہنستے ہىں؟ اس کی بھی یہ بات سُن کر  مجھے سیکھنے کو ملا کہ مذہبی لوگوں کو  اِس طرح نہیں  ہنسنا چاہىے کہ لوگ نوٹ کرىں ۔  یاد رَکھیے ! تاجر، سرمایہ دار ، سىاسى لىڈر و  اَرباب اِقتدار لوگوں مىں بہت عقل ہوتى ہے اور یہ بہت سمجھ دار ہوتے ہىں ىہ ہم لوگوں کى باتوں کو نوٹ کرتے ہىں ۔  ان لوگوں کا  ہمارے پاس آنا جانا اِس بات کی غمازی نہیں کرتا کہ یہ آنکھیں بند کر کے ہم پر لٹو ہیں، جىسے ہر ہاتھ چومنے والا عقىدت مند نہىں ہوتا، مَصْلَحَۃًبھى لوگ ہاتھ چُوم رہے ہوتے ہىں، کچھ اپنا کام نکلوانے کے لىے بھى ہاتھ چُومتے ہىں، دوسروں کو سىٹ رکھنے کے لىے بھى چُومتے ہوں گے ىا بے اِختىار بھى ہاتھ  چُوم جاتے ہوں گے ىہ سب تجربات سکھاتے ہىں ۔ اِسی طرح جس کو ہم نے سمجھاىا وہ خاموش ہو گىا تو یہ ضَرورى نہىں کہ وہ مطمئن بھى ہو گىا ہو، ہو سکتا ہے کہ وہ اس لیے  خاموش ہو گىا  ہو کہ مولانا سے کیا بحث کروں ىہ دَلائل پر دَلائل دىئے جائے گا لہٰذا خاموش ہو جانا   ہی بہتر ہے  ۔  

بازارى گفتگو ختم کرنا کئی گناہوں کے خاتمے کا سبب ہے

بہرحال بازارى لہجہ اپنانا اور ”ہا ہا ہا“  کر کے ہنسنا ىہ اچھى بات نہىں ہے ، ىہ چھچھور پن ہے ۔ ہمارے پىارے آقا صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم زور زور سے ہنسنے سے پاک تھے ۔ آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم سے قہقہہ(یعنی اتنی آواز سے ہنسنا کہ دوسروں تک آواز پہنچے )لگانا ثابت نہىں ہے ۔ ([1]) بڑے بڑے عُلَمائے کِرام، اَولىائے کِرام اور مفتىانِ کِرام کَثَّرَہُمُ اللّٰہُ السَّلَام  میں بھی ایسا اَنداز آپ کو نہىں ملے گا ۔  مفتىانِ کِرام بہت ذہىن ہوتے ہىں، مىرا تجربہ ہے کہ یہ لوگ  اکثر سنجیدہ ہوتے ہىں، لوگ  ہنس بول رہے ہوں گے تو ىہ منع نہىں کرىں گے مگر خود اِس طرح کریں گے بھی نہیں، اِسی مىں ان کى عزت ہوتى ہے ۔   اگر ىہ بھى عام لوگوں کی  طرح قہقہے بلند کرىں، ہا ہا ہا  کر کے ہنسىں اور پگڑىاں اُچھالىں تو پھر  ان سے مَسائِل کون پوچھے گا؟ اور ان سے پوچھ کر  مطمئن کون ہو گا؟اس لىے بازارى لہجے ، مذاق مسخرى، تُو تڑاک اور  اىک دوسرے کى توہىن والا اَنداز نہىں ہونا چاہىے ۔ بعض اوقات لوگ دائرہ پھلانگ کر دِل آزارىوں، آبرو رىزىوں اور  گناہوں  مىں پڑ جاتے ہىں ۔  اگر اسى بازارى گفتگو کو  ہى ختم کر دیں تو اِنْ شَآءَ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ بہت سارے گناہوں سے بچنے میں بھى کامیاب ہو جائىں گے ۔  ورنہ حقىقت تو ىہ ہے کہ غالِب اکثرىت اِس مىں مبتلا نظر آتی ہے ، چاہے وہ مذہبى ہو یا نہ ہو، تقریباً ہر گھر کا  یہ مسئلہ ہے ۔  اللہ پاک ہم سب کو صحىح کر دے ۔ اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلہٖ وَسَلَّم  

ہر غیر محتاط اَنداز سے بچنے کی کوشش کیجیے

سُوال : گفتگو میں ہی اِحتیاط کرنی ضَروری ہے یا اِس  کے عِلاوہ  اور بھی چىزوں مثلاً اُٹھنے بىٹھنے ، کھانے پینے ، پہننے اور چلنے وغیرہ کے اَنداز  میں جو کمزور پہلو ہوتے ہىں ان میں بھی اِحتیاط کی جائے ، بالخصوص نىکى کى دعوت دینے اور معزز کہلانے والے اَفراد کو اِس حوالے سے کیسا ہونا چاہیے ؟(نگرانِ شُوریٰ کا سُوال)

جواب : گفتگو کے عِلاوہ اُٹھنے بىٹھنے ، کھانے پینے ، پہننے اور چلنے وغیرہ کے اَنداز  میں بھی سب کو اِحتیاط کرنی چاہیے ۔  بعض لوگوں کى عادت ہوتى ہے کہ چلتے چلتے ڈبہ، گتہ  جو چىز سامنے آئى اُسے لاتیں  مارتے ہوئے جاتے  ہىں، بظاہر ىوں نظر آتے ہىں کہ ىہ ٹھىک ٹھاک ہىں مگر ان کى ٹانگىں ٹھىک ٹھاک نہىں ہوتى ۔  ىہ خود  کو  



[1]    مراٰۃالمناجیح، ۶ / ۴۰۲ ماخوذ اً ضیاء القرآن پبلی کیشنز مرکز الاولیا لاہور

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن