30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
سَیِّد بھی ان ہی حروف میں سے ہے کہ اُردو لغت کے ماہرین اسے یا کے زبر کے ساتھ پڑھتے ہیں ۔ اسی طرح لفظِ میت کی یا اور قیامت کے قاف کو زبر کے ساتھ پڑھتے ہیں اور یہی لوگوں میں عام بھی ہے ، لہٰذا ان کو اُردو زبان کے اِعتبار سے قبول کرلیا جائے گاحالانکہ ان میں زبر کے بجائے زیر دُرُست ہے ۔
سُوال : مسجدِ ضِرار کو مسجد کا دَرَجہ کیوں نہیں دیا گیا اور اللہ پاک نے اس کو توڑنے کاحکم کیوں دیا؟
جواب : اس کو منافقین نے مسجدِ قُبا کے مقابلے میں بنایا تھا تو اس کی عمارت مسجد کے حکم میں تھی ہی نہیں صرف اس جگہ کا نام انہوں نے مسجد رکھ دیا تھا اور کسی جگہ کا نام مسجد رکھنے سے وہ مسجد نہیں ہو جاتی ۔ جیسے اگر کوئی شخص شراب کا نام جَو کا پانی یا شربت رکھ دے تو وہ حلال نہیں ہو گی، اسی طرح کسی جگہ کا نام مسجد رکھنے سے وہ مسجد نہیں ہو گی، اسی وجہ سے اسے توڑنے کاحکم دیا گیا ۔
اگر آج بھی کوئی شخص کسی مسجد کے نمازی توڑنے کی نیت سے مسجد بنائے اور پہلے سے بنی ہوئی مسجد والوں میں مذہبی خرابی نہ ہو اور نہ ہی کوئی ایسا عذر اور حاجت ہو جس کی وجہ سے ایک اور مسجد بنانے کی ضرورت ہو تو یہ نئی تعمیر کی جانے والی مسجد بھی مسجد نہیں ہو گی کیونکہ یہ مسجد اللہ پاک کے لیے نہیں بنائی جا رہی بلکہ مقابلے کے لیے تعمیر کی جا رہی ہے تاکہ پہلے والی مسجد کو نقصان پہنچایا جائے ۔ ([1])یوں ہی اگر کوئی شخص کسی مدرسے کے مقابلے میں مدرسہ کھولتا ہے تاکہ وہاں کے طَلَبہ اس کے مدرسے میں آجائیں اور یہ طَلَبہ اس کی Gathering میں اِضافے کا باعث ہوں حالانکہ پہلے سے تعمیر شدہ مدرسہ کسی صحیح العقیدہ سُنّی کا ہے تو اس کے مقابلے میں بننے والا مدرسہ مدرسۂ ضِرار کہلائے گا ۔ ([2])
اگر پہلے سے تعمیر شدہ مدرسے میں غَلَط عَقائد و اَعمال کی تعلیم دی جاتی ہے اور کوئی شخص طلبہ کو ان سے بچانے کے لیے دُرُست تعلیم دینے کی نیت سے مدرسہ کھولتا ہے تو یہ مدرسہ کھولنا بالکل دُرُست ہے جبکہ کسی خطرناک فتنے فساد کا اندیشہ نہ ہو ۔ فی زمانہ مقابلے بازی کا ماحول بن چکا ہے خواہ مخواہ مقابلوں کے لیے مدارس کھولے جاتے ہیں، حتّٰی کہ ایک دوسرے کے مدارس میں جاسوس بھیجے جاتے ہیں، کسی جگہ کوئی انجمن بنائے تو اس کے مقابلے میں انجمن بنا لی جاتی ہے ۔ یاد رَکھیے !یہ سب مقابلے بازیاں اللہ پاک کو راضی کرنے والے کام نہیں ہیں ۔
اَبے تَبے اور تُو تَڑاک والے اَنداز میں گفتگو کرنا
سُوال : کچھ لوگ نیکی کی دَعوت بھی دے رہے ہوتے ہیں ، بظاہر نیک بھی لگتے ہیں مگر ان کا بات کرنے کا اَنداز اَبے تَبے اور تُو تَڑاک والا ہوتا ہے ، جسے بازاری گفتگو بھی کہا جاتا ہے ایسو ں کے بارے میں آپ کیا اِرشاد فرماتے ہیں ؟
جواب : کسی کے سامنے ایسے اَنداز میں گفتگو کرنا بسااوقات اسے بَدظن کر دیتا ہے ، اگرچہ بَدظن ہونے والا خود بھی اىسا ہى ہوتا ہے ۔ آج کل ہمارے مُعاشرے میں اَبے تَبے اور تُو تَڑاک والی گفتگو بہت عام ہے ۔ اگر سب کے ساتھ ایسی گفتگو نہىں کی جاتی تو بند کمرے مىں کی جاتی ہے ، بند کمرے مىں نہىں ہوتی تو اپنے گھر مىں ہوتی ہے ۔ یاد رَکھیے ! ایسی گفتگو اگر کسى کى توہىن اور دِل آزارى کا سبب نہ بنے تو اسے ناجائز نہىں کہىں گے مگر یہ اَنداز اچھا نہىں ہے ۔ مبلغ کا لہجہ نَرم اور حکىمانہ ہونا چاہیے تاکہ لوگوں کے دِل اُس کی طرف مائِل ہوں، اَبے تَبے اور تُو تَڑاک والی بازاری گفتگو شُرَفَا (یعنی شریف اور عزت دار لوگوں)کے نزدىک معىوب سمجھی جاتى ہے اور اس سے لوگوں کے دِل بھی مائِل نہیں ہوتے لہٰذا ایسی گفتگو اور اَنداز سے بچنا چاہىے ۔
مُحتاط اَنداز میں گفتگو کرنا مفىد ہوتا ہے
دعوتِ اسلامى کا مَدَنى کام کرنے والے چاہے وہ مبلغىن ہوں یا مُدَرِّسین یا طُلَبائے کِرام سبھی کو مُحتاط اَنداز میں گفتگو کرنی چاہیے ، بلکہ مُحتاط اَنداز میں گفتگو کرنے کو اپنے لىے لازِم قرار دىں کیونکہ مُحتاط اَنداز میں گفتگو کرنا مفید ہوتا ہے ، اِس سے مزید بہتر طرىقے سے دِىن کى خِدمت کر سکىں گے ۔ اگر آپ بازاری گفتگو والا اَنداز اپناتے ہوئے چوراہے پر کھڑے ہو کر کِھل کِھلا کر ہنسیں گے اور اَبے تَبے کریں گے تو لوگ کہیں گے کہ دیکھو مولانا لوگ بھی یُوں کرتے ہیں ہم تو ہیں ہی گنہگار، یوں وہ آپ کو دَلىل بنا کر خود کو دِىن سے دُور کرىں گے ، ظاہر ہے ان کا دِین سے دُور ہونا نقصان کا کام ہے ۔ آپ کا
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع