30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
موتیوں کا ہار لئے بیٹھے تھے،اپنے حاجی دوست کو پُھولوں کے گجرے پہنے دیکھ کر اپنی پلکوں میں چھپے آنسوؤں کے سمندر کو روک نہ سکے اور بے قابو ہو کر بِلک بِلک کر رونے لگے، بند ٹوٹ گیا اور آنسوؤں کا دَھارا بہہ نکلا۔ یہ پُر کیف منظر دیکھ کر اُس عاشقِ مدینہ کے دِل میں حَسرَت بڑھ چلی تھی کہ آہ! میرا دوست سفرِ حج پر جا رہا ہے اور میرے پاس حاضری ِ مدینہ کے اَسباب نہیں (کاش! میں بھی حاضریِ مدینہ کی سعادت پاتا ۔۔۔)۔
یاد میں آقا کی آنسو بہہ گئے سب مدینے کو گئے ہم رہ گئے
ہم مدینے جائیں گے اَب کے بَرس ہر برس یہ سوچ کر ہم رہ گئے
جب اُن حاجی صاحب کو حج کے لئے رُخصت کرنے کی گھڑی آئی تو وہ مدینے کا سچا عاشق اپنے حاجی دوست کواَلْوَداع کرنے کے لئے بھی گیا،اُس عاشقِ مدینہ کا کہنا ہے: میں بڑی رَشک وآس(یعنی اُمید)بھری نظروں سے مدینے جانے والے خوش نصیب عاشقانِ رسول کو سفینۂ مدینہ(یعنی بحری جہاز)میں سُوئے مدینہ جاتے ہوئے دیکھ رہا تھا۔آہ !صَدہزار آہ! پھر میں اپنا بے قرار دِل تھامے واپس گھر کی طرف چل پڑا۔سالوں گُزر جانے کے باوجود اَب تک اُن زائرین ِ مدینہ کی خوشیوں کا مَنظَر مجھے یاد ہے۔
زائرِ طیبہ! روضے پہ جاکر تُو سلام اُن سے رو رو کے کہنا
میرے غم کا فَسانہ سُنا کر تُو سلام اُن سے رو رو کے کہنا
تیری قسمت پہ رَشک آرہا ہے تُو مدینے کو اَب جا رہا ہے
آہ! جاتاہے مجھ کو رُلا کر تُو سلام اُن سے رو رو کے کہنا
جب پہنچ جائے تیرا سفینہ جب نظر آئے میٹھا مدینہ
با اَدب اپنے سَر کو جھکا کر تُو سلام اُن سے رو رو کے کہنا
(وسائل بخشش،ص594)
پیارے پیارے اسلامی بھائیو!اپنی پلکوں میں آنسوؤں کا ہار لئے،دِل میں شمع عشقِ
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع