30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
پہلے اِسے پڑھئے
اللہ پاک نے انسان کو اشرفُ المخلوقات (یعنی مخلوقات میں سب سے بہتر)بنایا ہے ، انسان کی زندگی مختلف اَدوار مثلاًبچپن، لڑکپن،جوانی ،اَدھیڑپن اور بُڑھاپے سے گزرتی ہے اور ہر منزل کا رنگ الگ الگ ہے۔ عموماً ہر انسان کو اپنے بچپن کا زمانہ نہایت سُہانا اور دلکش محسوس ہوتا ہے، انسان عمر کے کسی بھی حصے میں پہنچ جائے اس کا دل پیچھے مُڑ کر بچپن کی گلیوں کی جانب ضرورجا نکلتا ہےکیونکہ وہ زمانہ ایسا تھا جس میں نہ حساب وکتاب تھا نہ دنیا کی اُلجھنیں، فکریں کم اور خوشیاں زیادہ تھیں۔ بچپن میں چھوٹی چھوٹی چیزیں بڑی بڑی خوشیکا سبب بن جاتی تھیں ،کبھی کسی کھلونے پر دل مچلتا تھاتوکبھی کسی میٹھی چیز پر چہرہ کِھل اُٹھتا تھا ۔ یہی سادگی اور بے فِکری بعد کے زمانے میں یاد بن کر دل کو کھینچتی ہے۔بچپن کی یادیں صرف واقعات نہیں بلکہ زندگی کے حسین لمحات کا خزانہ ہوتی ہیں۔ مٹی میں کھیلنا، کسی معمولی سی چیز پر خوش ہو جانا اور کبھی کسی چھوٹی سی بات پر رو دینا ،یہ سب باتیں بلکہ پورا بچپن بڑے ہو کر انسان کو یوں یاد آتا ہے جیسےوہ ایک ٹھنڈی ہوا کے جھونکے کی طرح گزرگیا ہو۔اسی لیے بچپن کی خوشگوار یادوں سے سکون ملتاہے اوربچپن کی یادیں انسان کی شخصیت پر بھی اثر ڈالتی ہیں۔ انسان جب زندگی کے تجربات سے گزرتا ہے تو اسے معلوم ہوتا ہے کہ اصل سکون اور خوشی تو اُسی سادگی میں تھی جسے وہ بچپن میں معمولی سمجھتا تھا۔ بچپن ختم تو ہو جاتا ہے مگر دِل کی کتاب سے کبھی نہیں مِٹتا بلکہ اس کی یادیں وقت کےساتھ ساتھ قیمتی محسوس ہونے لگتی ہیں، انسان اپنے بچوں کوبچپن کے واقعات سُنا کر سکھانے کی کوشش کرتا ہے کیونکہ چھوٹے بچوں کی زندگی کے اِبتدائی سال بقیہ زندگی کے لیے بنیاد کی حیثیت رکھتے ہیں۔ بچے جو کچھ بچپن میں سیکھتے ہیں وہ زندگی بھر ان کے دل ودماغ میں
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع