بچوں کی حِفاظت کا وَظیفہ یہ ہے کہ اَوّل و آخر ایک بار دُرُود شریف اور گیارہ بار ” یَا حَافِظُ یَا حَفِیْظُ “پڑھ کر اگر بچوں پر دَم کر دیا جائے تو حِفاظت کا حِصار مِل جائے گا اور اِن شاءَ اللہ کوئی انہیں اِغوا نہیں کر پائے گا۔ اَلحمدُ لِلّٰہ مجلس روحانی علاج کے تحت ملک و بیرونِ ملک سینکڑوں بلکہ ہزاروں بستے قائم ہیں اور عالَمی مَدَنی مَرکز فیضانِ مدینہ کراچی میں بھی بستہ قائم ہے لہٰذا تعویذاتِ عطّاریہ کے بستوں سے حِفاظت کا تعویذ حاصِل کر کے بچوں کو پہنا دیا جائے تاکہ اگر کوئی انہیں اِغوا کرنا چاہے تو اس وقت انہیں چیخ و پُکار یاد آ جائے اور وہ چیخنا پُکارنا شروع کر دیں یا اللہ پاک اُن کی مدد کے لیے کسی کو بھیج دے اور اِغوا کرنے والے اُسے دیکھ کر بھاگ جائیں یا اِغوا کرنے کے لیے جب وہ بچوں کی طرف ہاتھ بڑھائیں تو اُن پر خوف طاری ہو جائے اور وہ اُلٹے پاؤں بھاگ کھڑے ہوں تو تعویذ کی بَرکت سے اللہ پاک کی طرف سے اس طرح کے اَسباب پیدا ہو سکتے ہیں اور یوں تعویذ کے ذَریعے بچوں کی حِفاظت کی صورت بن سکتی ہے ۔
بڑوں کے لیے حِفاظت کا وَظیفہ یہ ہے کہ جب وہ وُضو کریں تو ہر عُضو دھوتے وقت ایک بار ” یَا قَادِرُ “پڑھ لیا کریں مثلاًجب وُضو شروع کریں تو سیدھا اور اُلٹا ہاتھ دھوتے ہوئے ایک بار ” یَا قَادِرُ “پڑھ لیں ، اِسی طرح جب ایک بار کلی کر لیں تو دوسری بار کلی کرنے سے پہلے ایک بار ” یَا قَادِرُ “پڑھ لیں ، پھر جب ایک بار ناک میں پانی چڑھا لیں تو اب رُک جائیں اور ایک بار ” یَا قَادِرُ “پڑھ کر مزید دو بار ناک میں پانی چڑھا لیں ۔ اِسی طرح ہر عُضو دھوتے اور سر کا مسح کرتے وقت ایک بار ” یَا قَادِرُ “پڑھ لیں ، اس کے ساتھ ساتھ دُعائیں بھی پڑھیجا سکتی ہیں مگر دُعاؤں کی جگہ دُرُود شریف پڑھنا افضل ہے لہٰذا دُرُود شریف پڑھ لیا جائے ۔ اگر لوگ اِس طرح اِحتیاطیں بَرتیں گے اور اَوراد و وَظائف پڑھیں گے تو اِن شاءَ اللہ بہتریاں آئیں گی ۔
سُوال : کیا واش روم میں بیسن پر وُضو کرتے ہوئے بھی ” یَا قَادِرُ “پڑھ سکتے ہیں؟
جواب : آج کل پیسے والے لوگوں کے گھر وں میں آسائشوں کا پورا اِنتظام ہوتا ہے اور زبردست ڈیکوریشن ہوتی ہے ۔ اِسی طرح متوسط یعنی دَرمیانے طبقے کے لوگوں اور جو صِرف نام کے غریب ہوتے ہیں ان کے گھروں میں بھی ڈیکوریشن اور سجاوٹیں ہوتی ہیں مگر وُضو خانہ نہیں ہوتا ۔ دعوتِ اسلامی کے دینی ماحول سے وابستہ لوگوں میں سے بھی کسی کسی کے گھر وُضُو خانے کا اِہتمام ہوتا ہے حالانکہ گھروں میں وُضو خانہ بنانے کی بارہا تَرغیب دِلائی گئی ہے اور راہ نُمائی کے لیے مکتبۃ المدینہ کےشائع کردہ ” وُضُو کا طریقہ “ نامی رِسالے میں وُضو خانے کا نقشہ بھی چھاپا گیا ہے ۔ عام طور پر گھروں میں بیسن پر وُضو کیا جاتا ہے اور بیسن واش روم کے ساتھ بنا ہوتا ہے ۔ یاد رَکھیے !اگر بیسن واش روم کے ساتھ بنا ہو تو وُضو کرتے ہوئے ” یَا قَادِرُ “اور وُضو کرنے سے پہلے ” بِسْمِ اللہ “نہیں پڑھ سکتے ۔ چونکہ وُضو سے پہلے ” بِسْمِ اللہ “ پڑھنا مستحب ہے اور فقط اللہ پاک کا نام لینا سُنَّتِ مؤکدہ ہے ۔ (بحر الرائق ، 1 / 39) اس لیے واش روم میں لگے ہوئے بیسن پر وُضو کرنے کے باعِث اگر اسے چھوڑنے کی عادت بنائیں گے تو گناہ گار ہو جائیں گے لہٰذا ایسی صورت میں ” بِسْمِ اللہ “پڑھنے کے لیے واش روم سے باہر نکلنا ضَروری ہو جائے گا ۔
اگر واش روم کا اِحاطہ بڑا ہو تو W.C یا کموڈ ( Commode) کو سِلائیڈنگ ڈور یا گلاس ( یعنی شیشہ) لگا کر اِس طرح کور کر لیں کہ یہ دیکھنے میں الگ لگے تو اس صورت میں بیسن پر وُضو کرتے ہوئے ” یَا قَادِرُ “اور ” بِسْمِ اللہ “پڑھنے میں حَرج نہیں ۔ یاد رہے خالی پلاسٹک کا پردہ لگا کرW.C یا کموڈ کو کور کرنے سے کام نہیں چلے گا بلکہ اس کے لیے کسی سولڈ چیز مثلاً لکڑی ، سیمنٹ ، اَیلومینیم یا ہارڈ بورڈ کی دِیواریں لگا کر کور کرنا ضَروری ہے ۔ میں نے اپنے گھر کے واش روم میں اور فیضانِ مدینہ میں اپنے زیرِ اِستعمال واش روم میں W.C کو اسی طرح کور کیا ہوا ہے ۔ مجھے کبھی کبھار جب اَرب پتی لوگوں کے گھروں میں جانے کا اِتفاق ہوتا ہے تو وُضو کرنے میں مَزہ نہیں آتا کیونکہ بیسن پر کھڑے کھڑے وُضو کرنا پڑتا ہے ۔ جن گھروں میں بیسن پر وُضو کرنا پڑتا ہے یا تو ان گھروں میں بڑے بوڑھے نہیں ہوتے ہوں گے یا پھر بے چارے کھڑے کھڑے وُضو کرتے ہوں گے جس کے باعِث بے چاروں کی ٹانگوں میں دَرد ہو جاتا ہو گا اور بسااوقات وہ گِر بھی پڑتے ہوں گے ۔ خیال رہے کہ جب بوڑھا آدمی گِرتا ہے تو اگر اس کی کسی نازک جگہ پر چوٹ آ جائے یا پھر ہڈیاں ٹوٹ جائیں تو وہ اُٹھ نہیں سکتا بلکہ اُسے کندھے پر اُٹھا کر لے جانا پڑتا ہے اور پھر بے چارے کو تکلیفیں اُٹھا کر زندگی کے سال دو سال پورے کرنے پڑتے ہیں کیونکہ کمزور ہونے کے باعِث ہڈیاں آسانی سے جُڑتی نہیں ہیں ۔ آج کل گھروں میں لوگ طرح طرح کی آسائشیں ، سوئمنگ پول اور حوض بناتے ہیں مگر وُضو خانہ بنانے کے لیے اُن کے پاس دو گز جگہ نہیں ہوتی ۔ اپنے گھروں میں ایسی جگہ کہ جہاں وُضو کرنے میں سُستی نہ ہو مسجد کے وُضو خانے کی طرح ایک وُضو خانہ بنائیے اور اس میں ایک یا دو نل لگائیے اِن شاءَ اللہ وُضو کرنے میں بہت سہولت ہو جائے گی ۔ اگر اس نیت سے اپنے گھر میں وُضو خانہ بنائیں گے کہ اللہ پاک کا نام لے سکیں ، دُرُودِ پاک پڑھ سکیں اور ” یَا قَادِرُ “پڑھ سکیں تو یہ وُضو خانہ بنانا بھی عبادت بن جائے گا ۔ وُضو خانہ کس طرح بنایا جائے اس کے لیے دعوتِ اسلامی کےمکتبۃ المدینہ سے ” وُضو کا طریقہ “ نامی رِسالہ حاصل کر کے اس کا مُطالعہ کیجیے ، اس رِسالے میں وُضو خانہ بنانے کے مَدَنی پھول اور تَصویر بھی دی گئی ہے کہ کس طرح وُضو خانہ بنانا ہے ۔
سُوال : آج کل بچّے کارٹو ن والی چپل اور کارٹون والے کھلونے لینے کی ضِد کرتے ہیں ، جبکہ ہم نے بڑوں سے سنا ہے کہ کارٹون والی کوئی چیز گھر میں نہیں رکھنی چاہیے ، اس بارے میں شَرَعی راہ نمائی فرمادیجئے۔
جواب : جو کارٹون کسی ذِی روح یعنی جاندار مثلاً کسی ایسے زِندہ انسان یا جانور کی حِکایت کرے جو پایا جاتا ہو تو ایسا کارٹون بنانا،ناجائز اور ممنوع ہے ، کیونکہ وہ تصویر کے حکم میں ہے۔ (مرقاة المفاتیح ، 8 / 266،تحت الحدیث:4489) رہا تصویر والے جوتوں کا معاملہ! تو جوتے میں جیسی بھی تصویر ہو ، بھلے کسی انسان کی صحیح تصویر بھی ہو تب بھی اگر بچہ وہ جوتا پہنتا ہے تو کوئی ممانعت نہیں ہے ، کیونکہ جوتا توہین کی جگہ ہے ، اس پر موجود تصویر نہ رحمت کے فرشتوں کےلئے رکاوٹ ہے اور نہ ہی نماز میں اِس سے کوئی مسئلہ ہوگا۔ (بہار شریعت ، 1 / 629 ، حصّہ : 3 ماخوذا)البتہ جوتے پر
جاندار کی تصویر بنانے والا گناہ گار ہے۔ (مرقاة المفاتیح ، 8 / 266،تحت الحدیث:4489) جائز کھلونوں سے کھیلا جاسکتا ہے ، لیکن انہیں توہین کی جگہ پر رکھا جائے۔ بعض لوگ کھلونوں کے لئے گھر میں شوکیس یا خانے بنواتے ہیں اور اُن میں ایسی تصاویر والے کھلونے رکھتے ہیں جو جاندار کی حکایت کررہے ہوتے ہیں ، اس پر وعید ہے اور ان کی وجہ سے رحمت کے فرشتے گھر میں داخل نہیں ہوتے۔ (بخاری ، 2 / 385، حدیث : 3225) البتہ ایسے کھلونے اگر اِدھر اُدھر پڑے ہوں اور ٹھوکروں میں آرہے ہوں تو پھر ممانعت نہیں ہے۔
سُوال : کیا کھیلنے کُودنے والے چھوٹے بچّوں کو وَالدین کی خدمت کرنی چاہیے؟
(ایک چھوٹے بچّے کاسُوال)
جواب : چھوٹے بچّوں کو بھی وَالدین کی خدمت کرنی چاہیے ، ابھی سے خدمت کریں گے تو بڑے ہوکر بھی کریں گے ، نیز اِ س سے ماں باپ کی دُعائیں ملیں گی اور وہ خوش بھی ہوں گے۔ البتہ ماں باپ کو چاہیے کہ بچّے کی طاقت اور ہمت کے مطابق خدمت لیں ، اتنی خدمت نہ لیں کہ بچّے پر بوجھ پڑ جائے اور وہ تھک جائے۔ جب بچّہ خدمت کرے تو والدین کو چاہیے کہ اُس کی دِل جوئی اور حوصلہ اَفزائی کریں ، دِل جوئی ثواب کا کام ہے اور حَوصلہ اَفزائی بچّے کی پَگار ہے۔ دِل جوئی کا دُنیاوی فائدہ یہ ہوتا ہے کہ بچّہ زیادہ کام کرتا ہے اور خُوش دِلی کے ساتھ کرتا ہے۔ جب تک بچّے کی حوصلہ اَفزائی نہیں ہوگی وہ ترقّی نہیں کرے گا۔ اگر بچّے کو ٹوکتے رہیں گے اور تنقید کرتے رہیں گے تو وہ دل توڑ کر بیٹھ جائے گا۔ بچّہ کبھی بہت اچھا کام کرلے تو اُسے اِنعام بھی دینا چاہیے اور دُعائیں دینی چاہئیں ، ایسا نہ ہو کہ ہر وقت بچّے کو کوستے اور پیٹتے رہیں ، کیونکہ اگر قبولیت کی گھڑی ہوئی اور اُس کو بَد دُعا لگ گئی تو رونا بھی آپ کو پڑے گا۔ جو والدین ہر وقت اپنے بچوں کو ڈانٹتے رہتے ہیں ان میں علم اور تربیت کی کمی ہوتی ہے۔ ماں ، بچّوں کے ابو کا ذہن بنائے گی کہ’’ تم نے اس کو سر پہ چَڑھا کر رکھا ہے ، تم اس کو کچھ بولتے نہیں ہو ، اِسے مارتے نہیں ہو ، اِس کی پٹائی کرو ، باپ کا رُعب ہوتا ہے ، سختی کرو۔“اگر باپ ان باتوں میں آجائے تو اولاد آگے چل کر ایسی باغی ہوتی ہے کہ بڑی ہوکر ماں باپ کو اولڈ ہاؤس (Old House)کا راستہ دِکھاتی ہے۔ ماں باپ کی اپنی بھلائی اِسی
میں ہے کہ نرمی کریں اور پیار کریں ، ٹھیک ہے کہ ضرورتاً شریعت کی حد میں رہ کر سختی بھی کی جاسکتی ہے ، لیکن بات بات پر ڈانٹ ڈپٹ اور ٹوک ٹاک ٹھیک نہیں ہوتی ، بلکہ نقصان دہ ہوتی ہے۔
سُوال: چھوٹے بچے بہت ضِدی ہوتے ہیں ان کی ایسی تَربیت کس طرح کی جائے کہ یہ ضِدی نہ بنیں اورجب یہ ضِد کر رہے ہوں اُس وقت ایسا کیا کیا جائے کہ یہ ضِد سے باز آجائیں؟ نیز بچوں کی تَربیت کے حوالے سے راہ نمائی فرمادیجیے۔
جواب:اگر یہ ضِد نہیں کر یں گے تو انہیں بچہ کون بولے گا؟بچے کچھ نہ کچھ ضِد تو کرتے ہی ہیں ان سے بڑوں کو سیکھنا چاہیے گویا وہ ضِد کرکے اپنے بارے میں بتا رہے ہوتے ہیں کہ میں بچہ ہوں لیکن آپ بچے نہیں ہیں لہٰذا آپ ضِد نہ کیا کریں ۔ یعنی ضد کرنا بچوں کا کام ہے بڑوں کا کام نہیں ہے۔ بچوں کے مستقل طور پر ضِدی بن جانے کی وجہ یہ ہوتی ہے کہ والدین شروع سے ہی ان کی ہر ضِد پوری کرتے آرہے ہوتے ہیں تو بچے بڑے ہوکر بھی اِسی عادت میں مبتلا رہتے ہیں۔ شروع شروع میں بچہ بہت پیارا لگتا ہے جو مانگتا ہے اس سے بڑھ کر دِلا دیا جاتا ہے لیکن کچھ بڑا ہونے کے بعد اس کی ہر مانگ پوری نہیں کی جاتی ، اِس طرح بچے کے ذہن میں یہ بات بیٹھ جاتی ہے کہ پہلے جو مانگتا تھا مل جاتا تھا لیکن اب میرے مُطالبات پورے نہیں کیے جاتے ، یوں وہ ضِد شروع کر دیتا ہے۔ بعض اوقات واقعی خواہ مخواہ کی ضِد کر رہا ہوتا ہے لیکن اس کا ہرگز یہ حل نہیں ہے کہ بچے کو مار پیٹ شروع کر دی جائے بلکہ اس کا علاج یہ ہے کہ بچے کی ضِد پوری کرنا چھوڑ دیں آہستہ آہستہ اس کی عادت نکل جائے گی۔ اِس میں بھی یہ نہ ہو کہ ایک دَم سے بچے کو سب کچھ دِلانا چھوڑ دیں بلکہ کبھی کبھی ضِد پوری بھی کردیاکریں ورنہ بچہ باغی اور والدین سے بَدظن ہو جائے گا ، اس کے ذہن میں غیر محسوس طور پر یہ بات جم جائے گی کہ میرے ماں باپ مجھ پر ظلم کرتے ہیں۔ ایسے ہی بچے ہوتے ہیں جو بڑے ہوکر کہتے سنائی دیتے ہیں کہ ہمیں ہمارے والدین کا پیار نہیں ملا! بہتری اِسی میں ہے کہ حکمتِ عملی سے اپنے بچوں کی ضِد کی عادت ختم کریں۔ یاد رَکھیے! یہ عادت ایک دَم ختم نہیں ہو سکتی۔بعض والدین اپنی اَولاد کے ساتھ اِنتہائی نامناسب رَوَیَّہ اِختیار کرتے ہیں ان کو بات بات پر جھاڑتے ہیں بلکہ مار دھاڑ بھی کرتے ہیں ، ان کی کوئی ضِد پوری نہیں کرتے ، ان کا مان نہیں رکھتے ، خرچہ کرتے ہیں لیکن بچے کے کہنے پر نہیں کرتے اپنے طورپر جو سمجھ آتا ہے کرتے رہتے ہیں ، اِس طرح بچے اپنے والدین سے باغی ہو جاتے ہیں اور پھر بے چارے نا فرمانی پر اُتر کر اپنی آخرت خراب کر بیٹھتے ہیں۔
بچہ اگر ضِد کرتا ہو اور والدین میں سے کوئی صحیح قرآنِ پاک پڑھنا جانتا ہو تو روزانہ ایک ایک بار یا تین تین بار سورۂ فَلق اور سورۂ ناس اَوَّل آخر ایک بار یا تین بار دُرُود شریف پڑھ کر بچے پر دَم کریں اِن شاءَ اللہ بہتری آئے گی۔
سُوال : بڑے بعض دفعہ بچّوں کو ڈرانے کے لئے کہتے ہیں کہ”ہاؤ آجائے گا، یا بھاؤ آجائے گا، یا ہاؤ! اِسے لے جاؤ“یہ ہاؤ اور بھاؤ کون ہیں ؟جو نظر بھی نہیں آتے اور بچّے اِن سے ڈرتے بھی ہیں۔ (محمد دانیال عطاری۔ طالبِ علم مدرسۃُ المدینہ کورنگی نمبر ڈھائی ، کراچی)
جواب : یہ ہاؤ اور بھاؤ فرضی نام ہیں ، اِن کا کوئی وُجود نہیں ہے۔ بچّوں کو اِس طرح بولنا کہ ”بھاؤ آجائے گا، تجھے لے جائے گا، یا تجھے فقیر لے جائے گا، وہ دیکھو بھاؤ“بعض صُورتوں میں جھوٹ بھی ہوتا ہےاور ماں باپ کے نامۂ اعما ل میں گُناہ لکھا جاتا ہے۔ (ابو داود ، 4 / 387 ، حدیث :4991ماخوذا)مَزید اِس کا نقصان یہ ہوتا ہے کہ بچّہ ڈر پوک ہوجاتا ہےاور اُس کے دل میں ڈر بیٹھ جاتا ہے۔ پھر فجر کے لئے اندھیرے میں نکلنے سے بھی ڈرتا ہے۔ بچّوں کو بہادُر بنانا چاہیے ، ڈر پوک نہیں بنانا چاہیے۔ بعض اَوقات ماں باپ بچّے سے کہتے ہیں کہ ”تمہیں کھلونا لاکر دیں گے ، بسکٹ دیں گے ، چاکلیٹ دیں گے ، یہ دیں گے اور وہ دیں گے“اور نیّت یہ ہوتی ہے کہ ”صرف بہلا رہے ہیں ، لاکر نہیں دیں گے۔“اِس طرح جھوٹ نہیں بولنا چاہیے۔ اللہ پاک ہم سب کو سچّا کردے۔
سُوال : بعض بچّے بغیر پوچھے اپنے ابّو کی بائیک چلاتے ہیں اور خاموشی سے آکر کھڑی کر دیتے ہیں ، ایسا کرنا کیسا؟(محمد طلحہ عطاری۔ طالبِ علم شعبۂ حفظ مدرسۃ المدینہ عزیز آباد ، کراچی)
جواب : اِس میں تین غلطیاں سامنے آرہی ہیں۔ ایک تو یہ کہ ابّو کی اجازت کے بغیر بائیک لی ، ظاہر ہے کہ اِس میں اُن کی رِضا مندی نہیں ہوگی اور ُانہیں پتا چلے گا تو ناراض بھی ہوں گے۔ دوسری غلطی یہ کی کہ بغیر لائسنس گاڑ ی چلائی ، جبکہ تیسری غلطی یہ کی کہ چھوٹی عُمر میں گاڑی چلائی ، کیونکہ 18 سال سے کم عُمر بچّوں کو گاڑی چَلانا منع ہے ، ایکسیڈنٹ کا زیادہ خطرہ ہوتا ہے اور 18 سال سے کم عُمر بچّوں کا لائسنس بھی نہیں بنتا۔ بغیر اِجازت اور وہ بھی چھوٹی عُمر میں گاڑی نہیں چلانی چاہیے ، کیونکہ اِس میں جان کا خطرہ بھی ہے اور گاڑی بھی ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوسکتی ہے جس میں ابّو کا نقصان ہے۔ اگر کسی کو ٹکّر ماردی یا کسی کا نقصان کردیا تو پھر کیس ہوجائےگا اور کراچی میں تو بچّوں کی بھی جیل ہے ، ایسا کرنے پر بچّہ چھوٹ کر نہیں جا سکے گا اور اُسے جیل میں ڈال دیا جائے گا ، پھر امّی ، ابّو اور خاندان والے الگ پریشان ہوں گے ، رونے دھونے کا بھی کوئی فائدہ نہیں ہوگا اور جیل سے جانے نہیں دیا جائے گا۔ اِن سب چیزوں میں نہ جانے کتنا پیسا بھی خرچ ہوجائے گا ، اِس لئے خوب احتیاط کرنی ہے اور ملک و شریعت کا قانون بھی نہیں چھوڑنا۔
سُوال : بعض بچّے سَلام کرنے میں شرماتے ہیں ، ہمیں کس کس کو سَلام کرنا چاہیے؟ (چھوٹا بچّہ سیّد محمد عبّاس عطّاری)
جواب : بچّوں کو بھی سلام کرنا چاہیے، تاکہ عادت پڑے۔ جو بھی بڑے ہیں، جیسے امّی، ابّو، باجی ، بھائی چاچو، انکل، آنٹی اور پڑوس میں رہنے والےبلکہ جو بھی مسلمان ہیں اُنہیں آمنا سامنا ہونے پر یا موقع ملنے پر سلام کرنا چاہیے۔ کوئی گھر آئے تو سلام کریں ، کسی کے گھر جائیں تو سَلام کریں۔ ابھی سے عادت ڈالیں گے تو اِن شاءَ اللہ آگے چل کر یہ عادت کام آئے گی۔
************