دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Ambiya o Auliya ko Pukarna Kaisa? | انبیا اور اولیا کو پکارنا کیسا؟

book_icon
انبیا اور اولیا کو پکارنا کیسا؟

                         کی آفات سے تُو بچا یاالٰہی      (وسائلِ بخشش)

توبہ کے معنٰی اور اس کی حقیقت

سُوال:توبہ کا کیا معنیٰ ہے؟ نیز اس  کی حقیقت بھی بیان فرما دیجیے۔

جواب:توبہ کا معنیٰ ہے رُجُوع کرنا اور لوٹ جانا جیسا کہ مُفَسِّرِ شَہِیر، حکیمُ الاُمَّت حضرتِ مفتی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّان فرماتے ہیں:توبہ کے معنیٰ رُجوع کرنا۔ اگر یہ حق تعالیٰ کی صفت ہوتو اس کے معنیٰ ہوتے ہیں اِرادۂ عذاب سے  (اپنی شان کے لائق)  رُجوع فرما لینا  ([1])  اور اگر یہ بندے کی صفت ہو  (یعنی یہ کہا جائے کہ بندے نے توبہ کی) تو اس کے معنیٰ ہوتے ہیں گناہ سے اِطاعت کی طرف ،  غفلت سے ذِکر کی طرف،  غَیْبت  (یعنی غیرحاضری)  سے حضور  (یعنی حاضری)  کی طرف لوٹ جانا  (یعنی پلٹ آنا) ۔توبہ صحیح یہ ہے کہ بندہ گزشتہ گناہوں پر نادِم ہو،  آئندہ نہ کرنے  کا عہد کر ے اور جس قدر ہو سکے اسی قدر گزشتہ گناہوں کا عوض اور بدلہ کر دے،  نمازیں  (رہتی )  ہوں تو قضا کرے،  کسی کا قرض رہ گیا ہے تو ادا کر دے۔ حضرتِ سَیِّدُنا جنید بغدادی  (عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ ِالْہَادِی)  فرماتے ہیں کہ توبہ کا کمال یہ ہے کہ دِل لذّتِ گناہ بلکہ گناہ بھول جائے  (یعنی دوبارہ  اس گناہ کے کرنے کا خیال بھی دِل میں نہ آئے) ۔ ([2])  

توبہ کے معنیٰ اکثر لوگوں نے اپنے  گال پر چپت مار لینا یا اپنے کان پکڑ کر زبان سے”توبہ توبہ“ کر لینا سمجھ رکھا ہے، یہ ہرگز توبہ نہیں ہے، توبہ کی حقیقت تو  یہ ہے کہ بندہ  جس گناہ سے توبہ کرنا چاہتا ہےاس گناہ پر شرمندہ  ہو کر اُسے ترک کر دے اور آئندہ اُس سےبچنے کا پختہ اِرادہ کرے۔اِس طرح اگرکوئی توبہ کرے گا تو اللہ عَزَّوَجَلَّ اُس کی توبہ کو قبول فرمائے گا چنانچہ پارہ 25 سورۃُ الشوریٰ کی آیت نمبر 25 میں اِرشادِ رَبّ العباد ہے:

وَ هُوَ الَّذِیْ یَقْبَلُ التَّوْبَةَ عَنْ عِبَادِهٖ وَ یَعْفُوْا عَنِ السَّیِّاٰتِ وَ یَعْلَمُ مَا تَفْعَلُوْنَۙ (۲۵)

ترجمۂ کنز الایمان:اور وہی ہے جو اپنے بندوں کی توبہ قبول فرماتاہے اور گناہوں سے دَرگزر فرماتا ہے اور جانتا ہے جو کچھ تم کرتے ہو ۔

اِسآیتِ کریمہ کے تحت صدرُالافاضل حضرتِ علّامہ مولانا سَیِّد محمد نعیم الدِّین مُرادآبادی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ ِالْہَادِی فرماتے ہیں:”توبہ ہر ایک گناہ سے واجب ہے  اور توبہ کی حقیقت یہ ہے کہ آدمی بدی و معصیّت  (یعنی گناہ) سے باز آئے اور جو گناہ اس سے صادِر  (یعنی واقع)  ہوا اس پر نادِم  (شرمندہ)  ہو اور ہمیشہ گناہ سے مجتنب  (یعنی دُور)  رہنے کا پختہ اِرادہ کرے اور اگر گناہ میں کسی بندے کی حق تلفی بھی تھی تو اس حق سے بطریقِ شرعی عہدہ برآں ہو  (یعنی اگر کسی گناہ میں بندے کا کوئی حق مارا تو جس طرح شریعت نے اُسے ادا کرنے کا حکم دیا ہے  اس طرح اسے ادا کرے) ۔“

حدیثِ پاک میں گناہوں پر ندامت کو بھی توبہ کہا گیا ہے چنانچہ خَلق کے رہبر،  شافعِ محشر صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم نے اِرشاد فرمایا: اَلنَّدَمُ تَوْبَۃٌ ندامت  (یعنی شرمندگی)  توبہ ہے۔ ([3])

ندامت سے گناہوں کا اِزالہ کچھ تو ہو جاتا

مگر رونا بھی تو آتا نہیں ہائے ندامت سے      (وسائلِ بخشش)

توبہ کرنا تمام لوگوں پر واجب ہے

سُوال: توبہ کرنا  کب واجب ہوتا ہے؟

 



[1]     جیسا کہ پارہ 4 سورۃُ النساء کی آیت نمبر 17 میں  ہے : (اِنَّمَا  التَّوْبَةُ  عَلَى  اللّٰهِ  لِلَّذِیْنَ  یَعْمَلُوْنَ  السُّوْٓءَ  بِجَهَالَةٍ  ثُمَّ  یَتُوْبُوْنَ  مِنْ  قَرِیْبٍ  فَاُولٰٓىٕكَ  یَتُوْبُ  اللّٰهُ  عَلَیْهِمْؕ-وَ  كَانَ  اللّٰهُ  عَلِیْمًا  حَكِیْمًا(۱۷)) ترجمۂ کنز  الایمان: وہ توبہ جس کا قبول کرنا اللہ نے اپنے فضل سے لازم کرلیا ہے وہ انہیں کی ہے جو نادانی سے برائی کر بیٹھیں پھر تھوڑی ہی دیر میں توبہ کرلیں ایسوں پر اللہ اپنی رحمت سے رجوع کرتا ہے اور اللہ علم و حکمت والا ہے۔ 

[2]     مِراٰۃُالمناجیح،۳ / ۳۵۳

[3]     ابنِ ماجه ، کتاب الزھد ،  باب  ذکر التوبة،۴ / ۴۹۲ ، حدیث:۴۲۵۲ 

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن