30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
حضرت سیِّدُناسفیان ثوری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَ لِی
ان بزرگوں میں ایک حضرت سیِّدُناابو عبداللہ سفیان بن سعیدثَوری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَ لِی بھی ہیں ۔آپ قضائے الٰہی پرراضی رہنےوالےاورروشن ورع وتقوٰی والےتھے۔آپ کےاقوال خالص اورتفردات بہت بلند تھے، آپ کی امامت تسلیم شدہ اورسرپرستی مضبوط ومستحکم تھی ، علم آپ کا دوست اور زُہد آپ کا غم خوار تھا۔
منقول ہے کہ ’’ معرفت میں کمال اور خوف خدا وندی میں بلند مقام تک پہنچنے کا نام تصوف ہے۔ ‘‘
(9050)…حضرت سیِّدُنا عبیداللہ بن سعید رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضرت سیِّدُنا عبد الرحمٰن بن مہدی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی کو فرماتے سنا: میں نے لوگوں میں سے چار حضرات کو امام پایا ہے: حضرت سیِّدُنامالک بن انس، حضرت سیِّدُنا حماد بن زیداور حضرت سیِّدُناسفیان بن سعید عَلَیْہِمُ الرَّحْمَۃ پھر آپ نے چوتھے کا ذکر کیا مگر میں ان کا نام بھول گیا شاید حضرت سیِّدُناابن مبارک رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کا نام لیا ہو ورنہ ان کے علاوہ تو میں کسی کو نہیں جانتا۔
امیر المؤمنین فی الحدیث:
(9051)…حضرت سیِّدُنا امام شعبہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نےفرمایا:حضرت سیِّدُناسفیان ثوری رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ حدیث میں امیرالمؤمنین ہیں ۔
(9052)…حضرت سیِّدُناابو اسامہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں : جب حضرت سیِّدُناسفیان ثوری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَ لِی کا وصال ہوا تو میں بصرہ میں ہی تھا۔ حضرت کے انتقال والی رات کی اگلی صبح میں حضرت یزید بن ابراہیم رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ سے ملا تو انہوں نے مجھ سےفرمایا: رات خواب میں مجھے کسی نے کہا کہ امیرالمؤمنین کا انتقال ہو چکا
ہے۔ میں نے اس کہنے والے سے پوچھا: کیا آج رات حضرت سیِّدُناسفیان ثوری رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کا انتقال ہوا ہے؟ اس نے کہا: ہاں آج رات ان کا انتقال ہو چکا ہے۔ اسی رات حضرت سیِّدُناسفیان ثوری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَ لِی کا وصال ہوا تھا اور ہمیں اس کے بارے میں کوئی خبر نہ تھی۔
(9053)…حضرت سیِّدُناسفیان بن عیینہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں :(اکابر)صحابَۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان کے بعد لوگوں کے صرف تین امام ہیں :حضرت سیِّدُناابن عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ اپنے زمانے میں ، حضرت سیِّدُنا امام شعبی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَ لِی اپنے زمانے میں اور حضرت سیِّدُناسفیان ثوری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی اپنے زمانے میں ۔
اُمَّتِ محمدیہ کے عالم اور عابد:
(9054)…حضرت سیِّدُنا مُثَنّٰی بن صَبَّاح رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے حضرت سیِّدُناسفیان ثوری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَ لِی کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ اس امت کے عالِم اور عابد ہیں ۔
(9055)…حضرت سیِّدُنامحمد بن عبید طَنافِسی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی بیان کرتے ہیں کہ میں حضرت سیِّدُنا سفیان ثوری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَ لِی کو مفتی ہونے کی حیثیت سے ہی یاد رکھتا ہوں ، میں 70سال سے دیکھ رہا ہوں کہ ہم مدرسے میں ہوتے اورجب بھی کوئی مردوعورت آتے تو وہ ہم سے حضرت سفیان ثوری کا ہی پوچھتے تاکہ اُن سے فتوی دریافت کریں اور وہ انہیں جواب ارشاد فرمائیں ۔
لوگوں کے امام:
(9056)…حضرت سیِّدُنابشر بن حارث رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتےہیں : حضرت سیِّدُناسفیان ثوری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَ لِی ہمارے نزدیک لوگوں کے امام تھے۔
(9057)…سیِّدُنامبارک بن سعید رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں : میں نے حضرت سیِّدُناامام عاصم بن ابو نَجُود رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کو دیکھا کہ آپ حضرت سیِّدُناسفیان ثوری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی کے پاس فتوی پوچھنے آئے تو کہا: اے سفیان! جب ہم چھوٹے تھے تو تب بھی آپ کے پاس آتے تھے اور اب بڑے ہو کر بھی آپ ہی کے پاس حاضر ہوتے ہیں ۔
(9058)…حضرت سیِّدُنایوسف بن اَسباط رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں : میں دیکھ رہا ہوں کہ عنقریب حضرت سیِّدُنا سفیان ثوری رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کا زمانہ پانےوالوں کو عتاب کیا جائے گا، یوں کہ ان سے کہا جائے گا:
تمہارے درمیان حضرت سیِّدُنا سفیان رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ جیسا کوئی نہ تھا (پھر بھی تم نے ان کی قدر نہ کی)۔
سب سے بڑے فقیہ:
(9059)…حضرت سیِّدُنازائدہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نےفرمایا:حضرت سیِّدُناسفیان ثوری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَ لِی سب سے بڑے فقیہ تھے۔
(9060)…حضرت سیِّدُنا عبداللہ بن مبارک رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتےہیں :میرےعلم میں زمین پر حضرت سیِّدُنا سفیان ثوری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَ لِی سے بڑا عالِم کوئی نہیں ۔
(9061)…حضرت سیِّدُناسفیان بن عیینہ رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ فرماتےہیں :میں نےحضرت سیِّدُناسفیان ثوری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی سےافضل کوئی نہیں دیکھااورخودحضرت سیِّدُناسفیان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْمَنَّان نےبھی اپنےجیسانہیں دیکھا ہو گا۔
قرآن وسنت پر قائم رہنے والے:
(9062)…حضرت سیِّدُناامام اَوزاعی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں : اگر مجھ سے کہا جائے کہ کسی ایک شخص کو
اختیار کرو جو قرآن وسنت دونوں پر قائم ہو تو میں حضرت سیِّدُناسفیان ثوری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَ لِی کو اختیار کروں گا۔
(9063)…حضرت سیِّدُنافضیل بن عِیاض عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَہَّاب فرماتے ہیں : لوگوں نے اپنے دلوں کو امام ابو حنیفہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کی محبت کےجام پلارکھےہیں اوروہ اس میں اس حدتک آگےبڑھ گئےہیں کہ وہ کسی کو ان سےبڑاعالِم نہیں مانتےجیسےشیعہ حضرت سیِّدُناعلی المرتضٰی کَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم کی محبت میں حدسےبڑھ گئے۔ حالانکہ خداکی قسم!حضرت سیِّدُناسفیان ثوری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی امام ابو حنیفہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ سےبڑےعالِم ہیں ۔(1)
(9064)…حضرت سیِّدُناامام شُعْبَہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ سے ایک شخص نے پوچھا: اے ابو بِسْطَام! سعید بن مسروق کون ہیں ؟ فرمایا: فقیہ سفیان ثَوری کے والد ہیں ۔
سیِّدُناسفیان عَلَیْہِ الرَّحْمَہ جیسا کوئی نہ دیکھا:
(9065)…حضرت سیِّدُناابراہیم بن محمد شافعی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْکَافِی فرماتے ہیں : میں نے حضرت سیِّدُنا عبداللہ بن مبارک رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ سے کہا: میں نے حضرت سیِّدُناسفیان ثوری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَ لِی جیسے کوئی نہیں دیکھا۔ انہوں نے فرمایا: خود حضرت سیِّدُناسفیان ثوری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَ لِی نے بھی اپنے جیسا نہیں دیکھا ہوگا۔
(9066)…حضرت سیِّدُنا ابوبکربن عَیَّاش رَحْمَۃُ اللہِ تَعَا لٰی عَلَیْہ فرماتےہیں :میں نےایک شخص کودیکھاجوحضرت سیِّدُنا سفیان ثوری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَ لِی کےواسطےسےاحادیث بیان کررہاتھاچنانچہ میری نظرمیں اس کی قدربڑھ گئی۔
(9067)…حضرت سیِّدُناابو بکر بن عَیَّاش رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں : میں کسی ایسے شخص کو دیکھتا جس نے حضرت سیِّدُناسفیان ثوری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَ لِی کی صحبت اختیار کی ہو تو وہ میری نظر میں عظیم ہو جاتا۔
(9068)…حضرت سیِّدُنا عبداللہ بن مبارک رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں : جب تم حضرت سیِّدُناسفیان ثوری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَ لِی سے ملاقات کرو تو صرف ان کی رائے کے بارے میں پوچھا کرو۔
(9069)…حضرت سیِّدُنا عبداللہ بن مبارک رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ بیان کرتے ہیں کہ مجھے حضرت سیِّدُنا سفیان ثوری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَ لِی کی مجالس بہت پسند ہیں میں جب بھی انہیں دیکھنا چاہتا تو کبھی ورع وتقوٰی کی حالت میں ، کبھی نماز پڑھتے ہوئے اور کبھی فقہی مسئلے میں غور کرتے ہوئےدیکھتا جبکہ میں ایک اور مجلس میں شریک ہوتا ہوں تو میرے علم میں نہیں کہ انہوں نے اپنی مجلس میں کبھی حضور نبی کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم پر درود پڑھا ہو یہاں تک کہ وہ اپنےبحث ومباحثہ کی مجلس سے اٹھ کر چلے جاتے تھے۔
(9070)… مُؤََمَّل بن اسماعیل کا بیان ہے کہ میں نے حضرت سیِّدُناسفیان ثوری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَ لِی سے بڑھ کرکسی کو اپنے علم پر عمل کرتے نہیں دیکھا۔
تاریخی واقعات سے واقفیت:
(9071)…حضرت سیِّدُناایوب بن سوید رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں : ہم نے جب بھی حضرت سیِّدُنا سفیان ثوری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَ لِی سے کسی چیز کے بارے میں پوچھا تو ان کے پاس ماضی میں اس کی کوئی نہ کوئی مثال یا اپنے سے پہلے کسی عالم دین کا واقعہ موجودپایا۔
(9072)…حضرت سیِّدُنا عبدالرزاق عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الرَّزَّاق فرماتے ہیں : میں حضرت سیِّدُنا امام ابو حنیفہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کے ساتھ کعبہ شریف میں بیٹھا ہوا تھا کہ ایک شخص آیااور کہنے لگا: اے ابو حنیفہ! کیا میں آپ کو حضرت سفیان ثوری رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کے بارے میں تعجب خیز بات نہ بتاؤں ، میں نے انہیں صفا پر تلبیہ کہتے ہوئے دیکھا ہے۔ حضرت سیِّدُناامام ابو حنیفہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے فرمایا: تمہارا بُرا ہو! جاؤ اور ان کی پیروی کرو، ان کے پاس اس بارے میں علم ہے جب ہی وہ صفا پر تلبیہ کہہ رہے ہیں ۔ حضرت سیِّدُناعبد الرزاق عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الرَّزَّاق فرماتے ہیں :یہ جواب سن کر اسے تعجب ہوا تو میں نے کہا: کیا تم نے حضرت سیِّدُنامسروق رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کی روایت نہیں سنی کہ حضرت سیِّدُنا عبداللہ بن مسعود رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے صفا پر تلبیہ کہا ہے۔
(9073)…حضرت سیِّدُناابواُسامہ رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ فرماتےہیں :حضرت سیِّدُناسفیان ثوری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَ لِی حجت ہیں ۔
(9074)…حضرت سیِّدُنا عبداللہ بن داود خُرَیْبی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَ لِی فرماتے ہیں : میں نے حضرت سیِّدُنا سفیان ثوری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَ لِی سے افضل محدث کوئی نہیں دیکھا۔
بڑےزاہد ومتقی:
(9075)…حضرت سیِّدُنااحمدبن یونس رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتےہیں :میں نے حضرت سیِّدُنا سفیان ثوری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَ لِی سےبڑا عالم، ان سےزیادہ متقی، ان سےبڑافقیہ اوران سےبڑھ کردنیاسےبےرغبت کسی کو نہیں دیکھا۔
(9076)…حضرت سیِّدُنایحییٰ بن سعید عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْمَجِیْد فرماتے ہیں : میں نے حضرت سیِّدُناسفیان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ
الْمَنَّان کے واسطے سے حضرت سیِّدُنا امام اَعمش رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کی جو احادیث لکھی ہیں وہ مجھے ان روایات سے زیادہ پیاری ہیں جو میں نے بلا واسطہ حضرت سیِّدُناامام اعمش رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ سے سنی ہیں ۔
بے مثل وبے نظیر:
(9077)…حضرت سیِّدُناابواُسامہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں : جو تمہیں یہ کہے کہ اس کی آنکھ نے حضرت سیِّدُنا سفیان ثَوری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَ لِی جیسا کوئی دیکھا ہے تو اس کی تصدیق نہ کرو۔
(9078)…حضرت سیِّدُنا عبد الرحمٰن بن مہدی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْہَادِی فرماتے ہیں : میں نے حضرت سیِّدُناامام مالک رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ سےزیادہ عقل منداورحضرت سیِّدُنا سفیان ثوری رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ سےبڑاعالِم کوئی نہیں دیکھا۔
(9079)…حضرت سیِّدُناسہل بن عاصم رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں کہ حضرت ثابت یا حضرت اسماعیل زاہد رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِمَا کے سامنے حضرت سیِّدُنا سفیان ثوری رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کا تذکرہ ہوا تووہ فرمانے لگے: اللہ عَزَّ وَجَلَّ ابو عبداللہ سفیان ثوری پر رحم فرمائے! اے فقہا کی زینت! اے علما کے سردار! اے آنکھوں کی ٹھنڈک! آنکھیں آپ کی جُدائی پرایسےآنسوبہاتی ہیں جیسےخون کےرشتہ داروں پررویاجاتاہے۔پھرفرمایا:مسلمانوں کو امیرالمؤمنین حضرت سیِّدُناعمر فاروق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کے وصال پر بہت زیادہ صدمہ پہنچا تھا اور ہمیں اپنے زمانے میں حضرت سیِّدُناسفیان ثوری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَ لِی کی جُدائی کابے حدصدمہ ہوا ۔
مسلمانوں پر احسان:
(9080)…حضرت سیِّدُناعبد الکبیر بن مُعافی بن عمران عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْمَنَّان فرماتے ہیں : میں نے اپنےوالد سے سنا کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے حضرت سفیان ثوری رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کی صورت میں مسلمانوں پر احسان فرمایا ہے۔
(9081)…حضرت سیِّدُنایحییٰ بن سعید عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْمَجِیْد سے لوگوں نے حضرت سیِّدُنا سفیان اور حضرت سیِّدُنا شعبہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہما کے متعلق پوچھا تو انہوں نے فرمایا: بات طرف داری کی نہیں ہے اگر طرف داری کی بات ہوتی توہم حضرت شعبہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کوحضرت سفیان رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ سےمقدم رکھتے کیونکہ حضرت شعبہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ ان سے پہلےکےہیں ، حضرت سفیان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰن کتابُاللہ کی طرف رجوع کرتےہیں جبکہ
حضرت شعبہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ ایسا نہیں کرتے، ہم نے دونوں حضرات کا اختلاف بھی دیکھا مگرمعاملہ ویسا ہی ہوتا تھا جیسا حضرت سفیان رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے تھے۔
(9082)…حضرت سیِّدُنایحییٰ بن سعید عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْمَجِیْد حضرت سیِّدُناسفیان ثوری رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کے برابر کسی کو نہیں مانتے تھے۔
زمین پراللہ عَزَّ وَجَلَّ کی حجت:
(9083)…حضرت سیِّدُنا شریک رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں : اللہ عَزَّ وَجَلَّ زمین کو ایسی شخصیت سے خالی نہیں چھوڑتا جو اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی طرف سے اس کے بندوں پر حجت ہوتی ہے، ربّ عَزَّ وَجَلَّ (بروزِ قیامت اسے بطورِ حجت پیش کرکے)فرمائے گا:تمہیں اس کے جیسا ہونے سے کیا چیز روکتی ہے؟میرے خیال میں حضرت سیِّدُناسفیان ثوری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَ لِی ان ہی لوگوں میں سے ہیں جو حجت ہوتے ہیں ۔
نوجوانی میں شہرت:
(9084)…حضرت سیِّدُنا ابومُثَنّٰیرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں : میں نے مَرْو میں لوگوں کو کہتے سنا کہ ثوری آئے ہیں ۔ میں بھی ان کو دیکھنے باہر نکلا تو دیکھا کہ ایک نوجوان لڑکا ہے جس کی داڑھی ابھی نکل رہی ہے۔
(9085)…حضرت سیِّدُناایوب سَخْتِیَانی قُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِی فرماتےہیں :کوفہ سے ہمارے پاس حضرت سیِّدُنا سفیان ثَوری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَ لِی سے افضل کوئی نہیں آیا۔
رجالِ حدیث کا خوب علم رکھنے والے:
(9086)…حضرت سیِّدُنایحییٰ بن سعید عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْمَجِیْد نے حضرت سیِّدُناسفیان ثوری، حضرت سیِّدُنا شعبہ، حضرت سیِّدُناامام مالک اور حضرت سیِّدُنا عبداللہ بن مبارک عَلَیْہِمُ الرَّحْمَہ کا تذکرہ کرتے ہوئے فرمایا: حضرت سیِّدُنا سفیان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْمَنَّان ان میں سب سے زیادہ علم والے تھے۔ مزید فرمایا کہ ’’ حضرت سیِّدُنا سفیان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْمَنَّان حضرت سیِّدُناشعبہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ سے زیادہ رِجالِ حدیث کا علم رکھتے تھے۔“
(9087)…حضرت سیِّدُناعثمان بن زائدہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں : میں نے حضرت سیِّدُناسفیان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ
الْمَنَّان جیسا کبھی کوئی نہیں دیکھا، میں انہی کی پیروی کرتا ہوں اور ان کی جدائی پر روتا ہوں ۔
طلب حدیث سے قبل20سال عبادت:
(9088)…حضرت سیِّدُنا سفیان ثوری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَ لِی نے فرمایا:بندہ اس وقت تک حدیث کا طلب گار نہ بنے جب تک پہلے 20 سال عبادت نہ کر لے۔
(9089)…حضرت سیِّدُنا سفیان ثوری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَ لِی نے فرمایا: جب کوئی بندہ حدیث شریف لکھنا چاہے تو پہلے 20 سال تک ادب سیکھے اور عبادت کرے۔
(9090)…حضرت سیِّدُناابوعاصم رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتےہیں :حضرت سفیان ثوری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَ لِی نے مجھ سے اس بات کی ضمانت لی کہ بندہ اس وقت تک حدیث کا طالب نہ بنے جب تک پہلے20 سال عبادت نہ کر لے۔
(9091)…حضرت سیِّدُناسفیان ثوری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَ لِی نے فرمایا: اپنے ذریعے علم کو زینت بخشو علم کے ذریعے خود کو زینت مت دو۔
بُرے اعمال بیماری ہیں :
(9092)…حضرت سیِّدُناسفیان ثوری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَ لِی نے فرمایا: بُرے اعمال بیماری ہیں اور علما اس کی دوا ہیں ، جب علما ہی خراب ہو جائیں گے تو پھر بیماری کا علاج کون کرے گا؟
(9093)…حضرت سیِّدُناسفیان ثوری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَ لِی نے فرمایا:علم دین کا طبیب ہے اور درہم دین کی بیماری ہے، جب طبیب ہی بیماری کواپنی طرف کھینچے گا تو پھر دوسرے کا علاج کیسے کرے گا؟
(9094)…حضرت سیِّدُناسفیان ثوری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَ لِی نے فرمایا: جب تک خوفِ خدا کی شدت نہ ہو عبادت کی طاقت اور عبادت پر مضبوطی کسی کو حاصل نہیں ہو سکتی۔
علم افضل کیوں ہے؟
(9095)…حضرت سیِّدُناسفیان ثوری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَ لِی نے فرمایا: علم اس لیے حاصل کیا جاتا ہے تاکہ اس کے ذریعے اللہ عَزَّ وَجَلَّ کا ڈر وخوف اور تقوٰی حاصل ہو اسی وجہ سے علم کو فضیلت دی گئی ہے اگر ایسا نہ ہوتا تو وہ بھی
بقیہ تمام چیزوں کے طرح کوئی اہمیت نہ رکھتا۔
(9096)…حضرت سیِّدُناسفیان ثوری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَ لِی نے فرمایا: علم دیگر چیزوں پر اس لیے فضیلت رکھتا کیونکہ اس کے ذریعے اللہ عَزَّ وَجَلَّ سے ڈرا جاتا ہے۔
اچھا ادب:
(9097)…حضرت سیِّدُناسفیان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰن نےفرمایا:اچھاادب اللہ عَزَّ وَجَلَّ کےغضب کوٹھنڈاکرتا ہے۔
(9098)…حضرت سیِّدُناسفیان ثوری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَ لِی نے فرمایا: علم سیکھواور اس پر صبر وبرداشت سے کام لو اور اس کے ساتھ ہنسی کو مت ملاؤ ورنہ دل پتھر ہو جائیں گے۔
علم کے درجات:
(9099)…حضرت سیِّدُناابوبکربن عیاش رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتےہیں : میں نےحضرت سیِّدُناسفیان ثوری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَ لِی کوفرماتےسناکہ پہلےعلم کاحصول ہےپھراسےیادکرناپھراس پرعمل کرنااورپھراسےپھیلانا ہے۔ پھرحضرت سیِّدُناابوبکربن عیاش رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرمانےلگے:جوباتیں انہوں نےفرمائی ہیں وہ مجھےسناؤ۔
(9100)…حضرت سیِّدُناسفیان ثوری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَ لِی نے فرمایا: علم کا سب سے پہلا درجہ خاموشی، دوسرا توجہ سے سننا اور یاد کرنا، تیسرا اس پر عمل کرنا اور چوتھا اسے پھیلانا اور اس کی تعلیم دینا ہے۔
(9101)…حضرت سیِّدُناسفیان ثوری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَ لِی نے فرمایا:جوپوچھنے سے پہلے ہی حدیث بیان کر دے وہ ذلیل ہو جائے گا۔
(9102)…حضرت سیِّدُناسفیان ثوری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَ لِی نےفرمایا:فرائض کےبعدعلم حاصل کرنےسے افضل عمل اورکوئی نہیں ہے۔
ہمیشہ علم سیکھنے کی تمنا:
(9103)…حضرت سیِّدُناسفیان ثوری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَ لِی فرماتے ہیں : ہم ہمیشہ علم سیکھتے رہیں گے یہاں تک کہ ہمیں سکھانے والا کوئی نہ ملے ۔
(9104)…حضرت سیِّدُنا سفیان ثوری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَ لِی فرماتے ہیں : حدیث شریف سونے چاندی سے زیادہ ہے مگراِسے حاصل نہیں کیا جاتا اور حدیث کی آزمائش بھی سونے چاندی کے فتنے سے زیادہ شدید ہے۔
(9105)…حضرت سیِّدُنا سفیان ثوری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَ لِی نے فرمایا: حدیث کی آزمائش سونے چاندی کے فتنے سے زیادہ شدید ہے۔
(9106)…حضرت سیِّدُناسفیان ثوری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَ لِی نے فرمایا:جس کاعلم زیادہ ہوتاہے اسےدکھ وغم بھی زیادہ ہوتا ہے۔
(9107)…حضرت سیِّدُنا سفیان ثوری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی نےفرمایا:اگرمیں عالِم نہ ہوتاتومجھےغم سب سےکم ہوتا۔
(9-9108)…حضرت سیِّدُنا سفیان ثوری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَ لِی نے فرمایا: میں چاہتا ہوں حدیث کے معاملےسے ایسے نکل جاؤں کہ نہ میرے لیے کوئی انعام ہو نہ مجھ پر کوئی الزام ہو۔
(9110)…حضرت سیِّدُنا عبدالرحمٰن بن مہدی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْہَادِی فرماتے ہیں :ہم حضرت سیِّدُناسفیان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْمَنَّان کے پاس تھے اور وہ ہمیں حدیث شریف بیان فرما رہے تھے پھر یک دم کھڑے ہو گئے اور فرمایا: دن گزرتا جا رہا ہے۔
(9111)…حضرت سیِّدُنا سفیان ثوری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَ لِی فرماتےہیں :جوشرماتاہےاس کاعمل کم ہوجاتا ہے۔
(9112)…حضرت سیِّدُنایحییٰ بن یَمان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْمَنَّان فرماتے ہیں :میں نے حضرت سیِّدُناسفیان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّان کو کبھی بھی علم یا طالب علم کو برا کہتے نہیں سنا۔ ان سے لوگ کہتے کہ آپ کے پاس آنے والوں کی نیت علم سیکھنے کی نہیں ہے تو آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے: ان کا علم طلب کرنا ہی نیت ہے۔
روپوشی کی حالت میں وفات:
(9113)…حضرت سیِّدُناعیسٰی بن یونس رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں :حضرت سیِّدُناسفیان ثوری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَ لِی کی وفات روپوشی کے دوران ہوئی، آپ نے اپنی قمیص کو تھیلا بنا رکھا تھا جو کتابوں سے بَھرا ہواتھا۔
(9114)…حضرت سیِّدُناسفیان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْمَنَّان نےفرمایا:یہ حدیث دانی موت کی تیاری میں سےنہیں ہے۔
(9115)…حضرت سیِّدُناسفیان ثوری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَ لِی نے فرمایا: علم حدیث حاصل کرنا موت کی تیاری میں
سے نہیں ہے بلکہ یہ ایک ایسی بیماری ہے جس میں انسان مشغول رہتا ہے۔(2)
(9116)…حضرت سیِّدُناسفیان ثوری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَ لِی نے فرمایا: اگر علم میں شیطان کا حصہ نہ ہوتا تو تم ہرگز اس کے لیے جمع نہ ہوتے۔
احادیث زیادہ حاصل کرو:
(9117)…حضرت سیِّدُناسفیان ثوری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَ لِی نے فرمایا: احادیث زیادہ حاصل کرو کیونکہ یہ ہتھیار ہیں ۔
(9118)…حضرت سیِّدُناحمادبن دلیل عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَکِیْل فرماتے ہیں :ہم جب بھی حضرت سیِّدُناسفیان عَلَیْہِ
رَحْمَۃُ الْمَنَّان کے پاس جاتے تو اپنے پرانے کپڑوں میں جاتے۔
فقیروں کے لئے عزت والی مجلس:
(9119)…حضرت سیِّدُنا قبیصہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں : میں نے حضرت سیِّدُنا سفیان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْمَنَّان کی مجلس میں امیروں کوسب سے زیادہ ذلیل اور فقیروں کو سب سے زیادہ عزت والادیکھا ہے۔
(21-9120)…حضرت سیِّدُناسفیان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْمَنَّان علم حدیث حاصل کرنے والوں کو فرمایا کرتے تھے: اے کمزور لوگو! آجاؤ۔
(9122)…حضرت سیِّدُناسفیان ثوری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَ لِی سے ایک بوڑھے شخص نے حدیث مبارک پوچھی تو آپ نے اسے کوئی جواب نہ دیا، وہ بوڑھا شخص بیٹھ کر رونے لگا تو آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ اس کے پاس گئے اور فرمایا: جو کچھ میں نے 40 سال میں حاصل کیا ہے وہ تم ایک ہی دن میں حاصل کرنا چاہتے ہو؟
(9123)…حضرت سیِّدُناخلف بن تمیم رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں : مکہ مکرمہ میں حضرت سیِّدُناسفیان ثوری رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کے پاس لوگوں کی بھیڑ لگی ہوئی تھی تو میں نے آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کو فرماتے سنا: امت جب سے میری محتاج ہوئی ہے بیکار ہو گئی ہے۔
(9124)…حضرت سیِّدُنا ابو منصور رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتےہیں :حضرت سیِّدُناسفیان ثوری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَ لِی نے مجھ سے فرمایا: جب تم علم کی انتہا کو پہنچ جاؤ گے تو علم کا کیا کرو گے، سنو! تمہاری تمنا ہو گی کہ جس طرح میں اس میں داخل ہوا تھا اسی طرح اس سے نکل جاؤں ۔
(9125)…حضرت سیِّدُناسفیان ثوری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَ لِی جب کسی بوڑھےشخص سےملتےتواس سےپوچھتے: کیا تم نےکوئی علم کی بات سنی ہے؟اگروہ کہتا:نہیں ۔توآپ کہتے: اللہ عَزَّ وَجَلَّ تجھےاسلام کی طرف سےاچھابدلہ نہ دے۔
(9126)…حضرت سیِّدُناسفیان ثوری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَ لِی نے فرمایا: آدمی کو چاہیے کہ اپنی اولاد کو علم حاصل کرنے پر مجبور کرے کیونکہ اس سے اس بارے میں پوچھا جائے گا۔
علم حدیث عزت ہی عزت ہے:
(9127)…حضرت سیِّدُناسفیان ثوری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَ لِی نے فرمایا: یہ علم حدیث عزت ہی عزت ہے، جو اس
کے ذریعے دنیا چاہے گا تو دنیا ملے گی اور جو آخرت چاہے گا تو آخرت ملے گی۔
(9128)…حضرت سفیان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰن نے فرمایا:لوگوں کے لیے حدیث سےبڑھ کرنفع مندکچھ بھی نہیں ۔
(9129)…حضرت سیِّدُنا سفیان ثَوری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَ لِی نے فرمایا: مجھے کسی چیز کا خوف نہیں کہ وہ مجھے دوزخ میں داخل کروا دے گی سوائے علم حدیث کے۔
(9130)…حضرت سیِّدُناسفیان ثوری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی نے فرمایا: جب میں قرآن پاک پڑھتا ہوں تو دل چاہتا ہے یہیں ٹھہر جاؤں اور اس کے علاوہ کسی چیز کی طرف نہ بڑھوں ۔
طالبان حدیث اور سیِّدُناسفیان عَلَیْہِ الرَّحْمَہ:
(9131)…حضرت سیِّدُناسفیان ثوری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَ لِی نے فرمایا: اگر حدیث کے طالب میرے پاس نہ آتے تو میں خود ان کے گھروں میں ان کے پاس جاتا۔
(9132)…حضرت سیِّدُناسفیان ثوری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَ لِی نے فرمایا: اگر مجھے معلوم ہو جائے کہ کوئی اخلاصِ نیت کے ساتھ علم حدیث طلب کرنا چاہتا ہے تو میں ضرور اس کے گھر جا کر اسے حدیث سناؤں ۔
(9133)…حضرت سیِّدُنا زید بن حُباب عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَہَّاب فرماتے ہیں : مذکورہ بات میں نے حضرت سیِّدُنا سفیان ثوری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَ لِی سے کئی مرتبہ سنی ہے۔
(9134)…حضرت سیِّدُناعبدالرحمٰن بن مَہدی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْہَادِی فرماتےہیں :میں نےخواب میں حضرت سفیان ثوری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی کودیکھاتوپوچھا: آپ نےکس چیزکوسب سےافضل پایاہے؟فرمایا:علم حدیث کو۔
علم حدیث اور نیت:
(9135)…حضرت سیِّدُناسفیان ثوری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَ لِی نے فرمایا:حدیث شریف سیکھنے سے بڑھ کر افضل عمل کوئی نہیں بشرطیکہ نیت درست ہو۔
حضرت سیِّدُنااحمدبن ابوحَواری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْبَارِی فرماتےہیں کہ میں نےحضرت سیِّدُنامحمدبن یوسف فِرْیَابی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْہَادِی سےپوچھا:نیت کیاچیزہے؟فرمایا:تم علم حدیث سے اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی رضااورآخرت کاارادہ کرو۔
شارحِ حدیث:
(9136)…حضرت سیِّدُناسلیمان بن حَیَّان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْمَنَّان فرماتے ہیں : ہم حضرت سیِّدُناسفیان ثوری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَ لِی کی صحبت میں رہتے تھے اور ہم نے ان سے حدیث کا علم حاصل کرنے والوں کو یہ کہتے سنا ہے کہ ہم حضرت سفیان ثوری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَ لِی سے حدیث کی وضاحت وشرح سننا چاہتے ہیں ۔
(9137)…حضرت سیِّدُناعبدالرزاق عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الرَّزَاق فرماتےہیں :میں نےلوگوں کےمجمع میں حضرت سیِّدُنا سفیان ثوری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَ لِی سےکسی چیزکےمتعلق پوچھا تو آپ نےفرمایا:افسوس ہے!آپ تواہل اسنادمیں سے ہیں ۔
(9138)…حضرت سیِّدُنا سفیان ثوری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَ لِی نے فرمایا:علم تو ہمارے نزدیک پختہ علم والے سے رخصت کا ملنا ہے ورنہ سختی کرنا تو ہرانسان کو پسندہے۔
عاجزی کے پیکر:
(9139)…حضرت سیِّدُنا ابوعیسٰی حواری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْبَارِی بیان کرتےہیں کہ جب حضرت سیِّدُنا سفیان ثوری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَ لِی رَملہ یابیت المقدس آئےتوحضرت سیِّدُناابراہیم بن ادہم عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْاَکْرَم نے انہیں پیغام بھیجا کہ ہمارے پاس تشریف لائیے اور ہمیں حدیثیں بیان کیجئے۔ کسی نے حضرت سیِّدُنا ابراہیم بن ادہم عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْاَکْرَم سے کہا: اے ابواسحاق! آپ جیسا شخص انہیں یہ پیغام دے رہا ہے؟ فرمایا: ہم دیکھنا چاہتے ہیں کہ ان کی عاجزی وانکساری کیسی ہے۔ چنانچہ حضرت سیِّدُنا سفیان ثوری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَ لِی آئے اور احادیث بیان کیں ۔
(9140)…حضرت سیِّدُناسفیان ثوری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَ لِی نے فرمایا: میں جو دو رکعتیں پڑھتا ہوں مجھے علم حدیث سے زیادہ ان سے امید ہے۔
(9141)…حضرت سیِّدُنا یوسف بن اَسْبَاط عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَہَّاب بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضرت سیِّدُنا سفیان ثوری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَ لِی کو خواب میں دیکھا تو پوچھا: آپ نے کس عمل کو افضل پایا ہے؟ فرمایا: تلاوت قرآن کو۔ میں نے پوچھا: اور حدیث کو؟ تو انہوں نے اپنا منہ پھیر لیا اور گردن جھکا دی۔
صحابہ کے آثار وواقعات سیکھو:
(43-9142)…حضرت سیِّدُناسفیان ثوری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَ لِی نےفرمایا:صحابَۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان کےآثار وواقعات سیکھو اور جو اپنی رائے سے کوئی بات کہے تو کہو کہ میری رائے بھی تمہاری رائے کی طرح ہے۔
(9144)…حضرت سفیان ثوری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَ لِی نےفرمایا:علم توصحابَۂ کرام کے آثار و واقعات میں ہے۔
(9145)…حضرت سیِّدُنا سفیان ثوری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَ لِی نے فرمایا: میں نے علم حاصل کیا مگر میری کوئی نیت نہ تھی پھر اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے مجھے نیت عطا فرما دی۔
(9146)…حضرت سیِّدُنایحییٰ بن یمان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْمَنَّان بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضرت سیِّدُنا سفیان ثوری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَ لِی کو فرماتے سنا: میں 10لوگوں سے ایک ہی حدیث بیان نہیں کرتا۔ حضرت سیِّدُنایحییٰ بن یمان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْمَنَّان فرماتے ہیں : میں نے ان سے 20 ہزار حدیثیں لکھی ہیں اور مجھے حضرت اشجعی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی نے بتایا ہے کہ انہوں نے حضرت سیِّدُناسفیان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْمَنَّان سے 30ہزار حدیثیں لکھی ہیں ۔
(9147)…حضرت سیِّدُنا سفیان ثوری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَ لِی نے فرمایا: جب تم کسی شخص کو ایسا عمل کرتے دیکھو جس میں علما کا اختلاف ہو اور اس کا عمل تمہارے علم کے خلاف ہو تو تم اسے منع نہ کرو۔
بہترین حافظہ:
(49-9148)…حضرت سیِّدُنا سفیان ثوری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَ لِی نے فرمایا: میرے کانوں میں جب بھی کوئی آواز پڑی وہ مجھے یاد ہو گئی، ایک مرتبہ میں ایک جولاہے کے پاس سے گزرا تو وہ کچھ گا رہا تھا میں نے فوراً اپنے کان بند کر دیئے کہ کہیں اس کے بول مجھے یاد نہ ہو جائیں ۔
(9150)…حضرت سیِّدُناسفیان ثوری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَ لِی فرماتے ہیں :میں نے اپنے دل کو کبھی کوئی امانت نہیں دی تاکہ وہ مجھ سے خیانت نہ کرے۔
دنیا وآخرت کی بزرگی:
(9151)…حضرت سیِّدُناسفیان ثوری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَ لِی نےایک عربی شخص سےفرمایا:تمہارابُراہوعلم حاصل کروکہیں ایسانہ ہوکہ وہ تم سےنکل کرتمہارےغیروں کےپاس چلاجائے، علم حاصل کروکیونکہ یہ دنیا وآخرت میں عزت وبزرگی ہے۔
(9152)…حضرت سیِّدُناسفیان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْمَنَّان نے فرمایا: علم حاصل کرو اور جب علم حاصل کر چکو تو اس کا منہ بند کر دو اور علم کے ساتھ ہنسی اور کھیل کود مت ملاؤ ورنہ دل علم کو قبول نہیں کریں گے۔
عالم کی مثال طبیب کی طرح ہے:
(9153)…حضرت سیِّدُناسفیان ثوری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَ لِی نے فرمایا: عالم کی مثال طبیب کی طرح ہے کہ وہ بیماری کے مطابق ہی دوا دیتا ہے۔
(9154)…حضرت سیِّدُناابوعاصم رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتےہیں :میں نےحضرت سیِّدُناسفیان ثوری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَ لِی کوفرماتےسناکہ مجھےحضرت ایوب رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ پرسب سےزیادہ خوف علم حدیث کاہے۔خود حضرت ابوعاصم رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتےہیں :مجھےحضرت سفیان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰن پرسب سےزیادہ خوف علم حدیث کا ہے۔
(9155)…حضرت سفیان ثوری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَ لِی فرماتےہیں :مجھےتعجب ہوتاہےکہ علم حدیث والاآسودہ حال کیسےہوسکتاہےکیونکہ آفات بھی اس کی طرف تیزی سےبڑھتی ہیں اوروہ لوگوں کی زبانوں کانشانہ بھی بنتا ہے۔
نااہل کو علم حدیث نہ سکھاتے:
(9156)…حضرت سیِّدُنا سفیان ثوری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَ لِی نَبَطی(غیر عرب)اورگھٹیا لوگوں کو حدیث شریف نہیں سناتے تھے، جب کوئی آپ کے اس فعل کو ناپسند کرتے ہوئے آپ سے اس بارے میں بات کرتا تو آپ فرماتے: علم اہل عرب سے لیا گیا ہے جب یہ نَبَطِی یا گھٹیا لوگوں کے پاس جائے گا تو وہ علم کو بدل دیں گے۔
(9157)…حضرت سیِّدُناسفیان ثوری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَ لِی نے فرمایا: علم طلب کرنے والے دن کو ہم فضیلت میں شمار نہیں کرتے کیونکہ تمام چیزیں کم ہو رہی ہیں اور وہ بڑھتا جارہا ہے، میں چاہتا ہوں میرے علم کا معاملہ برابر برابر ہو جائے، نہ میرے لیے کوئی انعام ہو نہ مجھ پر کوئی الزام ہو۔
علم کے لیے اخلاص ضروری ہے:
(9158)…ایک شخص نے حضرت سیِّدُناسفیان ثوری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَ لِی سے عرض کی: جو علم آپ کے پاس ہے اگر آپ اسے پھیلائیں تو مجھے امید ہے اللہ عَزَّ وَجَلَّ اس کے ذریعے اپنے کچھ بندوں کو نفع پہنچائے گا اور آپ کو اس
پر اجر ملے گا۔آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے جواب دیا: خدا کی قسم! اگر مجھے معلوم ہو جائے کہ کوئی شخص صرف اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی رضا کے لیے اس علم کا طلبگار ہے تو میں خود چل کر اس کے گھر جاؤں اور یہ امید کرتے ہوئے اسے حدیثیں سناؤں کہ ان سے اللہ عَزَّ وَجَلَّ اُسے نفع عطا فرمائے گا۔
(9159)…حضرت سیِّدُنا عبدالرزاق عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الرَّزَّاق بیان کرتے ہیں کہ حضرت سیِّدُنا سفیان ثوری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَ لِی نے مجھ سے فرمایا:مجھے ڈر ہے کہ ایسا تو نہیں کہ حدیث طلب کرنا نیک اعمال میں سے نہ ہو کیونکہ ہر نیک عمل میں کمی ہوتی جارہی اور یہ عمل بڑھتا ہی جا رہا ہے۔
حکمرانی سے بہتر:
(9160)…حضرت سیِّدُنا سفیان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰن عَسْقَلان میں حدیث شریف بیان کرتے تو بعض اوقات تحدیثِ نعمت کےطورپرابتدامیں ہی لوگوں سےفرماتے:(علم کا)چشمہ پھوٹنےلگاہے، چشمہ پھوٹنےلگاہےاورکبھی کسی ایک ہی شخص کوحدیث بیان کرتےوقت فرماتے:تمہارےلیےیہ عسقلان اورصُورکی حکمرانی سےبہتر ہے۔
(9161)…حضرت سیِّدُنا وکیع عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْبَدِیْع بیان کرتے ہیں کہ میں نے دیکھا کہ حضرت سیِّدُناسفیان ثوری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَ لِی ایک شخص کو حدیث شریف لکھواتے ہوئے فرما رہے تھے:یہ تمہارے لیے ’’ رَے ‘‘ کے علاقے کی حکمرانی سے بہتر ہے۔
(9162)…حضرت سیِّدُنا عبد الرزاق عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الرَّزَّاق بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضرت سیِّدُنا سفیان ثوری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَ لِی کو یمن کے علاقے صنعاء میں ایک بچے کوحدیث لکھواتے دیکھا ہے۔
طلبِ علم تو خوف و خشیت الٰہی کا نام ہے:
(9163)…حضرت سیِّدُنا سفیان ثوری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَ لِی نے فرمایا: علم کی طلب یہ نہیں ہے کہ فلاں نے فلاں سے روایت کیا بلکہ طلبِ علم تو خوف و خشیت الٰہی کا نام ہے۔
(9164)…حضرت سیِّدُنا سفیان ثوری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَ لِی نے فرمایا: منقول ہے کہ دنیا کے حریص ہرگز مت ہونا تمہارا حافظہ مضبوط ہو جائے گا۔
روایت بالمعنٰی:
(9165)…حضرت سیِّدُنا عبدالرزاق عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الرَّ زَاق بیان کرتےہیں کہ ہمارے ایک دوست نے حضرت سیِّدُنا سفیان ثوری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَ لِی سےعرض کی:ہمیں ایسےحدیث بیان کیجئےجیسےآپ نےسنی ہے۔آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے فرمایا: خدا کی قسم! میں بالکل ویسے نہیں بیان کر سکتا، میں معنیٰ بیان کر سکتا ہوں ۔
(9166)…حضرت سیِّدُنا سفیان ثوری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَ لِی نےفرمایا:اگرمیں تم سےیہ کہوں کہ میں تمہیں ایسے حدیث بیان کر رہا ہوں جیسے میں نے سنی ہے تو میری اس بات کا اعتبار مت کرنا۔
(9167)…حضرت سیِّدُنا سفیان ثوری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَ لِی نے فرمایا: میرے خیال میں اگر کوئی شخص جھوٹ بولنے کا ارادہ کرے تو وہ اس کے چہرے سے ہی پتا چل جاتا ہے۔
علم کی برکت جلدی حاصل کر لو:
(9168)…حضرت سیِّدُنا زیدبن ابوزَرْقَاء رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ بیان کرتےہیں کہ ہم حضرت سیِّدُنا سفیان ثوری رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کےدروازےپرمختلف نسخوں کاآپس میں دورکررہےتھےکہ اتنےآپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ باہر تشریف لائے اور فرمایا: اے جوانو! اس علم کی برکت جلدی حاصل کر لو کیونکہ تم اس بات کو نہیں جانتے کہ ہو سکتا ہےتمہیں اس علم سے جو امید ہے تم وہاں تک نہ پہنچ سکو لہٰذا تمہیں چاہئے کہ ایک دوسرے کو فائدہ دو۔
(9169)…حضرت سیِّدُنا سفیان ثوری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَ لِی نے فرمایا: جب میں نے علم حاصل کرنے کا ارادہ کیا تو میں نے دعا کی: یا اللہ عَزَّ وَجَلَّ ! یہ میرے روزگار کے لیے ضروری ہے۔ پھر میں نے دیکھا کہ علم مٹتا جا رہا ہے تو میں نے خود کو طلبِ علم کے لیے فارغ کرنے کا ارادہ کر لیااوراپنے ربّ عَزَّ وَجَلَّ سے کفایت اور علم میں مصروفیت کی دعا کی اس کے بعد سے آج تک وہی ہوا جو میں چاہتا تھا۔
(9170)…حضرت سیِّدُناسفیان ثوری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَ لِی فرماتے ہیں :میں نے غَیْرُاللہ کی خاطراس علم کا ارادہ کیا تو اُس کا انجام دیکھ رہا ہوں ۔
(9171)…حضرت سیِّدُناعبدالرحمٰن بن مہدی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْہَادِی بیان کرتےہیں کہ ہم حضرت سیِّدُنا سفیان
عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْمَنَّان کے پاس ہوتےتو ایسا محسوس کرتے گویا آپ کو حساب کتاب کے لیے کھڑا کیا گیا ہے۔ ہمارے
اندر آپ سے بات کرنے کی جرأت نہ ہوتی تھی چنانچہ ہم حدیث کا ذکر کرنے لگتے تو آپ کی ڈروخوف والی حالت ختم ہو جاتی اورپھرآپ ہمیں حدیث بیان کرتے۔
قابل رشک اعمال:
(9172)…حضرت سیِّدُنا حماد بن زید رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے حضرت سیِّدُنا سفیان ثوری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَ لِی کو چارپائی پر چادر اوڑھ کر بیٹھے دیکھا تو کہا: اے سفیان! مجھے آپ کی کثرتِ حدیث پر رشک نہیں آتا بلکہ مجھے آپ کے ان نیک اعمال پر رشک آتا ہے جو آپ نے آگے بھیجے۔
(9173)…حضرت سیِّدُنا عبدالرحمٰن بن مہدی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْہَادِی بیان کرتے ہیں کہ جب حضرت سیِّدُنا سفیان ثوری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَ لِی کا وصال ہوا تو بادشاہ وقت کے خوف کی وجہ سےہم رات ہی میں انہیں وہاں سے لے کر نکل پڑے پس ہم نے رات کو دن سے الگ نہ سمجھا۔آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کو پیٹ کا مرض تھا اور میں نے اس بیماری میں آپ کو فرماتے سنا کہ ’’ رو پوشی چلی گئی رو پوشی چلی گئی۔ ‘‘
سینے پر آیت مبارکہ:
(9174)…حضرت سیِّدُنایحییٰ بن سعید عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْمَجِیْد بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضرت سیِّدُناسفیان ثوری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَ لِی کو خواب میں دیکھا تو ان کے سینے پر دو جگہ یہ آیت مبارکہ لکھی ہوئی تھی:
فَسَیَكْفِیْكَهُمُ اللّٰهُۚ- ( پ ۱ ، البقرة: ۱۳۷)
ترجمۂ کنز الایمان :عنقریب اللہ ان کی طرف سے تمہیں کفایت کرے گا۔
(9175)…حضرت سیِّدُناعبد الرحمٰن بن مہدی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْہَادِی بیان کرتے ہیں کہ جب میں نے حضرت سیِّدُناسفیان ثوری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَ لِی کو غسل دیا تو مجھے آپ کے جسم پر یہ آیت مبارکہ لکھی ہوئی نظر آئی:
فَسَیَكْفِیْكَهُمُ اللّٰهُۚ- ( پ ۱ ، البقرة: ۱۳۷)
ترجمۂ کنز الایمان :عنقریب اللہ ان کی طرف سے تمہیں کفایت کرے گا۔
وفات پر اشعار:
(9176)…حضرت سیِّدُناعبدالرحمٰن بن مہدی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْہَادِی بیان کرتےہیں کہ حضرت سیِّدُناسفیان عَلَیْہِ
رَحْمَۃُ الْمَنَّا ن کےدفن کےاگلےدن حضرت جریربن حازم اورحضرت حمادبن زید رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِمَا میرے پاس آئے اور کہا: ہمیں حضرت سیِّدُناسفیان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْمَنَّان کی قبر پرلے چلیے۔ چنانچہ ہم چلے تو راستے میں حضرت جریر بن حازم رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے یہ شعر کہا:
مَنْ كَانَ يَبْكِيْ عَلٰی حَيٍّ لِمَنْزِلَةٍ
بَكَى الْغَدَاةَ عَلَى الثَّوْرِيِّ سُفْيَانَا
ترجمہ:جو کسی زندہ پر اس کی قدر ومنزلت کی وجہ سے روئے گا وہ کل کو حضرت سفیان ثوری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْو َ لِی پر بھی روئے گا۔
اتنے کہنے کے بعد حضرت جریر رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْ ہ خاموش ہو گئے تو میں سمجھا شاید وہ اور اشعار تیار کر رہے ہیں مگر وہ خاموش رہے تو حضرت عبدالل ہ بن صَبَّاح رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے یہ شعر کہا:
اَبْكِيْ عَلَيْهِ وَقَدْ وَلَّى وَسُؤْدَدُهُ
وَفَضْلُهُ نَاضِرٌ كَالْغُصْنِ رَيَّانَا
ترجمہ:میں ان پر رو رہا ہوں یقیناً وہ چلے گئے ہیں مگر ان کی عظمت اور ان کا فضل تازہ ٹہنی کی طرح تروتازہ ہے۔
(9177)…حضرت سیِّدُناابوداود رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ بیان کرتے ہیں کہ بصرہ میں حضرت سیِّدُناسفیان ثوری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَ لِی کا وصال ہوا تو ان کا جنازہ اور کفن دفن بھی رات میں ہی ہو گیا ، ہم ان کے جنازے میں شریک نہ ہو سکے البتہ اگلے دن ہم ان کی قبر پر گئے تو ہمارے ساتھ حضرت جریر بن حازم رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ بھی تھے، آپ نے قبر کے پاس کھڑے ہو کر پہلے دعا مانگی پھر شعر کہا۔(اس سے آگےوہی ہے جو پچھلی روایت میں بیان ہوا)۔
سفیان ثوری عَلَیْہِ الرَّحْمَہ کے اشعار:
(79-9178)…حضرت سیِّدُناسفیان ثوری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَ لِی یہ اشعار کہا کرتے تھے:
اَظَرِيْفُ اِنَّ الْعَيْشَ كَدَرٌ صَفْوُهُ
ذِكْرُ الْمَنِيَّةِ وَالْقُبُورِ الْهُوَّلِ
دُنْيَا تَدَاوَلَهَا الْعِبَادُ ذَمِيْمَةً
شِيْبَتْ بَاَكْرَهَ مِنْ نَقِيعِ الْحَنْظَلِ
وَبَنَاتِ دَهْرٍ لَا تَزَالُ مُعَلَمَّهُ
وَلَهَا فَجَائِعُ مِثْلُ وَقْعِ الْجَنْدَلِ
ترجمہ:اے ہوشیار شخص! زندگی گدلی ہے اس کی صفائی موت اور قبر کی ہولناکی کو یاد کرنا ہے۔لوگوں نے سوچ بچارکے بعد دنیا کو قابل مذمت ٹھہرایا ہےجو اندارئن کے پھل کی طرح اوپر سے خوبصورت اور اندر سے انتہائی کڑوی ہے۔ زمانے کے حوادثات ہمیشہ سے اس کے ساتھ جڑے ہوئے ہیں اور اس کی مصیبتیں پتھروں پربہتے تیز پانی کی طرح ہیں ۔
(9180)…حضرت سیِّدُناسفیان ثوری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَ لِی نے یہ اشعار بھی کہے:
اِذَا اَنْتَ لَمْ تَرْحَلْ بِزَادٍ مِنَ التُّقٰى
وَلَاقَيْتَ بَعْدَ الْمَوْتِ مَنْ قَدْ تَزَ وَّدَا
نَدِمْتَ عَلَى أَنْ لَا تَكُونَ كَمِثْلِهِ
وَاَنَّكَ لَمْ تَرْصُدْ كَمَا كَانَ اَرْصَدَا
ترجمہ:جب تو دنیا سے تقوٰی کا توشہ لے کر نہیں جائے گا اور موت کے بعد ایسے شخص سے ملے گا جس نے تقوٰی کو اپنا توشہ بنایا تھا تو تجھے شرمندگی ہو گی کہ تو اس کے جیسا کیوں نہ ہوا اور تونے ویسی تیاری کیوں نہ کی جیسی اس نے کی۔
(9181)…حضرت سیِّدُناسفیان ثوری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَ لِی نے ایک موقع پر یہ شعر کہا:
يَسُرُّ الْفَتَى مَا كَانَ قَدَّمَ مِنْ تُقًى
اِذَا عَرَفَ الدَّاءَ الَّذِي هُوَ قَاتِلُهْ
ترجمہ:جب آدمی اپنی جان لیوا بیماری کو پہچان جاتا ہے تو اسے آگے بھیجے ہوئے تقوٰی سے خوشی ہوتی ہے۔
(9182)…حضرت سیِّدُناسفیان ثوری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَ لِی یہ اشعار بھی کہا کرتے تھے:
سَيَكْفِيْكَ عَمَّا أُغْلِقَ الْبَابُ دُونَهُ
وَضَنَّ بِهِ الْاَقْوَامُ مِلْحٌ وَجَرْدَقُ
وَتُشْرَبُ مِنْ مَاءٍ فُرَاتٍ وَتَغْتَدِي
تُعَارِضُ اَصْحَابَ الثَّرِيدِ الْمُلَبَّقِ
تَجَشَّى إِذَا مَا هُمْ تَجَشَّوْا كَاَنَّمَا
ظَلَلْتَ بِأَنْوَاعِ الْخَبِيْصِ تَفَتَّقُ
ترجمہ:جس چیزکودینےسےدروازےبندکئےگئےاورلوگوں نےاس میں انتہائی کنجوسی کی عنقریب تمہیں اس سے کمتر چیز یعنی نمک اورموٹی روٹی کفایت کرےگی۔ابھی تمہیں نہرفرات کاپانی پلایاجائےگااورکل تم نرم ثریدکھانےوالوں کےمقابل ہو گے۔ اُس وقت تم ڈکارلوگےجب یہ لوگ ڈکارنہ لےسکیں گےگویاتم کئی قسم کےحلوےاورمٹھائیوں سےلطف اندوزہورہےہوگے۔
تین دن کا فاقہ:
(9183)…حضرت سیِّدُنا سفیان بن عُیَیْنَہرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت سیِّدُناسفیان ثوری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَ لِی نے تین دن سے کچھ نہیں کھایا تھا اور آپ کو شدید بھوک لگی ہوئی تھی کہ آپ کا گزر ایک گھر کے پاس سے ہوا جس میں شادی ہو رہی تھی، نفس نے کہاکہ اندر چلے جاؤ مگر اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے محفوظ رکھا اور آپ اپنی بیٹی کے گھر چلے گئے، اس نے آپ کوروٹی کا ایک ٹکڑا دیا تو آپ نے وہ کھا کر پانی پیااورڈکار لی، پھر وہی اشعا پڑھے جو ماقبل روایت میں مذکور ہیں ۔
(9184)…حضرت سیِّدُنا سفیان ثوری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَ لِی یہ اشعار بھی کہا کرتے تھے:
إنْ كُنْتَ تَرْجُو اللهَ فَاقْنَعْ بِهِ
فَعِنْدَهُ الْفَضْلُ الْكَثِيرُ الْبَشِيرُ
مَنْ ذَا الَّذِي تَلْزَمُهُ فَاقَةٌ
وَذُخْرُهُ اللهُ الْعَلِيُّ الْكَبِیْرُ
ترجمہ:اگر تو اللہ عَزَّ وَجَلَّ سے امید رکھتا ہے تو اسی پر قناعت کر، اس کے پاس خوش کرنے والا بہت زیادہ فضل ہے۔ کون ہے جسے فاقوں نے گھیر لیا اور اس کا ذخیرہ سب سے بلندوبڑا اللہ عَزَّ وَجَلَّ ہو ۔
(9185)…حضرت سیِّدُنا سفیان ثوری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَ لِی ایک مرتبہ ابنِ حِطَّان کے یہ اشعار کہہ رہے تھے:
اَرَى أَشْقِيَاءَ النَّاسِ لَا يَسْاَمُوْنَهَا
عَلٰى أَنَّهُمْ فِيهَا عُرَاةٌ وَجُوَّعُ
اُرَاهَا وَاِنْ كَانَتْ قَلِيلًا كَاَنَّهَا
سَحَابَةُ صَيْفٍ عَنْ قَلِيلٍ تَقْشَعُ
ترجمہ:میں بدبخت لوگوں کو دیکھتا ہوں کہ وہ دنیا سے اس بات پر نہیں اکتاتے کہ وہ اس میں بھوکے ننگے ہیں ۔دنیا اگرچہ تھوڑی ہے مگر میں اسے دیکھتا ہوں کہ گویا وہ گرمی کے پھٹے ہوئے بادل ہیں ۔
(9186)…حضرت سیِّدُنا سالم خَوَّاص رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ بیان کرتےہیں کہ ایک شخص نےحضرت سیِّدُنا سفیان ثوری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَ لِی سےکہا:ابو عبداللہ !آپ میں ایک بڑی تعجب خیز بات ہے۔آپ رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ نے پوچھا: میرےبھتیجے!مجھ میں ایسی کونسی بات ہےجس سےتجھےتعجب ہوا؟اس نےکہا:آپ ایک شہرسےدوسرے شہر سفر کرتےرہتےہیں حالانکہ انسانوں کابلکہ جانوروں کابھی کوئی ایک ٹھکاناہوتاہےجہاں وہ ٹھہرتےہیں مگر آپ کا تو کوئی ٹھکاناہی نہیں ۔آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نےاس سےپوچھا:حضرت مغیرہ بن مِقْسَم ضَبِّیرَحْمَۃُ اللہِ تَعَا لٰی عَلَیْہ کیسےآدمی تھے؟اس نےکہا: اللہ عَزَّ وَجَلَّ سے امید تو یہی ہے کہ وہ نیک آدمی تھے۔آپ نے پوچھا:حضرت ابراہیم نَخَعِیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی کیسے آدمی تھے؟ اس نے کہا: واہ واہ! ان کی تو کیا بات ہے۔ آپ نے پوچھا: حضرت علقمہ رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ کیسے آدمی تھے؟اس نےکہا:ان کےبارےمیں توپوچھیں مت(یعنی بہت عظیم الشان تھے)۔آپ نےپوچھا: حضرت سیِّدُنا عبداللہ بن مسعود رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کیسے آدمی تھے؟ اس نے کہا: بہت سچے ، کھرے۔ پھر آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے کہا: مجھے مغیرہ بن مِقْسَم نے ابراہیم سے انہوں نے علقمہ سے اور انہوں نے حضرت سیِّدُنا عبداللہ بن مسعود رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کے حوالے سے بتایا کہ ’’ جنتیوں کے قبوں میں ایک نور داخل ہو گا اور ایسا لگے گا کہ وہ نورلوگوں کی بینائی ہی اُچک لے، وہ نور جنتی حور کے دانت کا ہو گا جو اپنے شوہر کے سامنے مسکرائی ہو گی۔ ‘‘ لہٰذاتمہاری باتوں کی وجہ سے میں اتنی بڑی بھلائی کبھی بھی نہیں چھوڑوں گا۔ پھر آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے یہ اشعار کہے:
مَا ضَرَّ مَنْ كَانَتِ الْفِرْدَوْسُ مَسْكَنُهُ
مَاذَا تَجَرَّعَ مِنْ بُؤْسٍ وَاِقْتَارِ
تَرَاهُ يَمْشِي كَئِيْبًا خَائِفًا وَجِلًا
إِلَى الْمَسَاجِدِ يَمْشِي بَيْنَ اَطْمَارِ
ترجمہ:جنت الفردوس جس کا ٹھکانا ہو اسے اس بات کی پروانہیں ہوتی کہ وہ غریبی اور تنگدستی کے گھونٹ پی رہا ہے۔ تم اسے دیکھو گے کہ وہ شکستہ حال، ڈرتا کانپتا پھٹے پرانے کپڑے پہنے مسجد جا رہا ہو گا۔
پھر اپنے نفس کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا:
يَا نَفْسُ مَا لَكِ مِنْ صَبْرٍ عَلَى النَّارِ
قَدْ حَانَ اَنْ تُقْبِلِيْ مِنْ بَعْدِ ادْبَارِ
ترجمہ:اے نفس! تو آگ برداشت نہیں کرسکتا ، عنقریب واپسی پر تجھے اس کا سامنا ہوگا۔
جنتی حور کی مسکراہٹ کا نور:
(9187)…حضرت سیِّدُنا عبداللہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سےمروی ہے کہ حضورسرورعالم، نُوْرِمُجَسَّم صَلَّی اللہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: ’’ جنت میں ایک نور پھیلے گا یہاں تک کہ وہ جنتیوں کے سروں سے بلند ہو جائے گا، وہ نور جنتی حور کے اگلے دانتوں کا ہو گا جو اپنے شوہر کے لیے مسکرائی ہو گی۔ ‘‘ (3)
حضرت سیِّدُنامحمد بن غالب رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں : جنت میں ایک بجلی سی چمکے گی تو فرشتے بتائیں گے کہ جنتی حور اپنے شوہر کے لیے مسکرائی ہے۔
(9188)…حضرت سیِّدُناسفیان بن عیینہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کی فرمائش پرحضرت سیِّدُناسَری بن حَیَّان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْمَنَّان نے یہ اشعارسنائے:
اَجَاعَتْهُمُ الدُّنْيَا فَجَاعُوا وَلَمْ يَزَلْ كَذَلِكَ ذُو التَّقْوَى عَنِ الْعَيْشِ مُلْجَمَا
اَخُو طَيِّئٍ دَاوُدُ مِنْهُمْ وَمِسْعَرٌ وَمِنْهُمْ وُهَيْبٌ وَالْغَرِيبُ ابْنُ اَدْهَمَا
وَحَسْبُكَ مِنْهُمْ بِالْفُضَيْلِ، وَبِابْنِهِ وَيوسُفَ اِذْ لَمْ يَاْلُ اَنْ يَتَسَلَّمَا
وَفِي ابْنِ سَعِيْدٍ قُدْوَةُ الْبِرِّ وَالنُّهٰى وَفِی وَارِثِ الْفَارُوْقِ صِدْقًا وَمَقْدَمَا
اُولَئِكَ اَصْحَابِي وَاَهْلُ مَوَدَّتِي فَصَلَّى عَلَيْهِمْ ذُو الْجَلَالِ وَسَلَّمَا
ترجمہ:انہیں دنیا نے بھوکا رکھا تو وہ بھوکے رہے اور متقی لوگ زندگی کو یونہی لگام ڈالے رہتے ہیں ۔ میرے بھائی داؤد طائی، مسعر، وہیب اور مسافرت میں رہنے والے ابراہیم بن ادہم رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَام یہ سب انہی میں سے ہیں ۔ان میں سے تمہیں فضیل، ان کے بیٹے اور یوسف (بن اسباط)اس معاملے میں کافی ہیں کہ انہوں نے سلامتی کے لئے کوئی کوتاہی نہ کی۔ اور ابن سعید (سفیان ثوری) کی زندگی میں بھلائی وعقلمندی اوروارثِ فاروق(عمر بن عبدالعزیز)کی حیات میں صدق وپیشوائی کی راہنمائی ہے۔یہ سب میرے دوست اور اہل محبت ہیں ، اللہ عَزَّ وَجَلَّ ان پر رحمت وسلامتی نازل فرمائے۔اٰمین
(9189)…حضرت سیِّدُناسَری بن حَیَّان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْمَنَّان حضرت سیِّدُنا سفیان ثوری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَ لِی سے بہت محبت کرتے تھے، آپ نے ان کےلیے یہ اشعار کہے:
فَمَا ضَرَّ ذَا التَّقْوٰى تَضَاؤُلُ نِسْبَةٍ
وَمَا زَالَ ذُو التَّقْوٰى اَعَزُّ وَاَكْرَمَا
وَمَا زَالَتِ التَّقْوٰى تُرِیْکَ عَلَی الْفَتٰی
اِذَا مَحَّضَ التَّقْوٰى مِنَ الْعِزِّ مِیْسَمَا
ترجمہ:نسبت کاکمتر ہونا متقی کو کوئی نقصان نہیں دیتا اور متقی شخص کا عزت واحترام بڑھتا ہی رہتا ہے اورجب تقوی برتری سے خالی ہو تو وہ ہمیشہ مرد پر ایک نشانی بن کر نظر آئے گا۔
کثرت سے عبادت کرنےوالے:
(9190)…حضرت سیِّدُناغِیَاث بن واقد عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَاحِد بیان کرتے ہیں کہ ایک رات حضرت سیِّدُنا سفیان ثوری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَ لِی نےبہت زیادہ طواف کیا پھر بہت لمبی نماز پڑھی اور پھر لیٹ گئے، میں نے کہا: ان کا آرام یہی ہے۔ پھر تھوڑی دیر میں صبح ہو گئی اور آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ اٹھ کر اس پہاڑ کی طرف چل پڑے جسے پر آپ ٹھہرتے تھے، چلتے ہوئے آپ کے پیر کے انگوٹھے پر پتھر لگا اور اس سے خون نکل آیاتو آپ وہیں لیٹ گئے اور فرمایا:اُف!یہ دنیا کتنی گدلی ہے ؟تعجب ہے اس پر جو اسے پسند کرے ۔
(9191)…حضرت سیِّدُنا غیاث بن داود رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ جو کہ اِصْطَخْر کے رہنے والے تھے اور حضرت سیِّدُنا سفیان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْمَنَّان کے ساتھیوں میں سے تھے وہ فرماتے ہیں : حضرت سیِّدُناسفیان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْمَنَّان کے وصال
کے بعد ایک شخص نے ان کامرثیہ کہتے ہوئے یہ اشعار کہے:
لَقَدْ مَاتَ سُفْيَانُ حَمِيدًا مُبَرَّرًا
عَلَى كُلِّ قَارٍ هَجَنَتْهُ الْمَطَامِعُ
جُعِلْتُمْ فِدَاءً لِلَّذِي صَانَ دِينَهُ
وَفِرْيَهُ حَتّٰى حَوَتْهُ الْمَضَاجِعُ
ترجمہ:یقیناً حضرت سیِّدُنا سفیان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْمَنَّان نے اس حال میں وصال فرمایا کہ ان کی تعریف کی جاتی اوروہ ہر اُس عبادت گزار پر فوقیت لے گئے جسے خواہشات نے بے وقعت بنا دیا۔تم سب اُن پر فدا جنہوں نے اپنے دین اور اپنی عزت کی حفاظت کی یہاں تک کہ انہیں قبر نے اپنے اندر سمو لیا۔
بادشاہوں کی دنیا سے بے پروا ہوجاؤ:
(9192)…سیِّدُنا زَکَریا بن عدی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَ لِی فرماتے ہیں :حضرت سیِّدُناسفیان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْمَنَّان نے یہ اشعار کہے:
اَرَى رِجَالًا بِدُوْنِ الدِّيْنِ قَدْ قَنَعُوْا
وَلَيْسَ فِيْ عَيْشِهِمْ يَرْضَوْنَ بِالدُّوْنِ
فَاسْتَغْنِ بِالدِّينِ عَنْ دُنْيَا الْمُلُوكِ
كَمَا استَغْنَى الْمُلُوكُ بِدُنْيَاهُمْ عَنِ الدِّينِ
ترجمہ:میں دیکھ رہا ہوں کہ لوگوں نے دین کے علاوہ پر اکتفاکرلیا اور وہ اپنی زندگی میں اس کے علاوہ پر راضی نہیں ہوتے۔پس تم دین لے کر بادشاہوں کی دنیا سے بے پروا ہوجاؤ جیسے وہ اپنی دنیا لے کر دین سے بے پروا ہوگئے۔
(94-9193)…حضرت سیِّدُناسفیان ثوری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَ لِی نے فرمایا:
اِنِّي وَجَدْتُ فَلَا تَظُّنُوا غَيْرَهُ
أَنَّ التَّنَسُّكَ عِنْدَ هَذَا الدِّرْهَمِ
اَبْلِ الرِّجَالَ اِذَا اَرَدْتَ اِخَاءَهُمْ
وَتَوَسَّمَنَّ اُمُورَهُمْ وَتَفَقَّدِ
فَاِذَا وَجَدْتَ اَخَا الْاَمَانَةِ وَالتُّقٰى
فَبِهِ الْيَدَيْنِ قَرِيرَ عَيْنٍ فَاشْدُدِ
وَدَعِ التَّخَشُّعَ وَالتَّذَلُّلَ تَبْتَغِيْ
قُرْبَ امْرِءٍ اِنْ تَدْنُ مِنْهُ يَبْعُدِ
ترجمہ:میں نے اس درہم کے پاس زُہد پایا ہے لہذا اسے زہد کا غیر مت سمجھنا۔جب تم لوگوں سے بھائی چارہ چاہو تو اُن سے تعلق قائم رکھو اور ان کے معاملات کو پہچانواور ان کاجائزہ لو۔ جب تمہیں امانت دار ومتقی شخص مل جائےتواس آنکھوں کی ٹھنڈک کو دونوں ہاتھوں کے ساتھ مضبوطی سے پکڑ لواوراگرتم کسی شخص کا قرب چاہواور وہ تمہارے قریب ہونے پر دور بھاگے تو تم اُس کے لیے گڑگڑانا اور عاجزی کرناچھوڑ دو۔
نصیحتوں بھرا مکتوب:
(9195)…حضرت سیِّدُنا سفیان ثوری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَ لِی کے بھتیجے حضرت سیِّدُنا حَفْص بن عمرو رَحْمَۃُ اللہِ تَعَا لٰی عَلَیْہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت سیِّدُنا سفیان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْمَنَّان نےحضرت سیِّدُناعَبَّادبن عَبَّاد رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کوایک مکتوب لکھا:امابعد! آپ ایسےزمانےمیں ہیں جس سےصحابَۂ کرام پناہ مانگا کرتے تھے حالانکہ ان کے پاس وہ علم تھا جو ہمارے پاس نہیں ، وہ بہترین زمانے میں تھے جبکہ ہم اس میں نہیں ہیں ، اب ہمارا کیا حال ہو گا جبکہ ہمارے پاس علم بھی کم، صبر بھی کم اور نیکی پر مدد کرنے والے بھی کم ہیں ، لوگوں میں خرابی اور دنیا میں گدلا پن آچکا ہے، آپ پہلے لوگوں کے راستے کو مضبوطی سے تھامے رکھنا اور گمنام رہنا کیونکہ یہ گمنامی ہی کا زمانہ ہے، آپ پر ضروری ہے کہ لوگوں سے ملنا جلنا کم رکھیں اور گوشہ نشینی اختیار کریں ، کیونکہ پہلے لوگ ایک دوسرے کو نفع پہنچانے کے لیے ملا کرتے تھے مگر اب وہ بات نہیں رہی، ہمارے خیال میں لوگوں کو چھوڑ دینے میں ہی بہتری وکامیابی ہے، حکمرانوں سے کبھی قریب مت ہوناکہیں ایسا نہ ہو ان کے کسی ظلم میں شریک ہو جاؤ، دھوکا کھانے سے بھی بچنا یوں کہ تمہیں کہا جائے کسی کی سفارش کر دو یامظلوم کی مدد کرو یاپھر کسی ناانصافی کو دور کردو کیونکہ یہ شیطانی دھوکا ہے، اس کوفاسق اہل علم نے سیڑھی بنایا ہوا ہے، منقول ہے کہ جاہل عابد اور گناہ گار عالم کے فتنہ سے بچو کیونکہ یہ ہرکسی کے لئے فتنہ ہے۔جب تمہیں کوئی مسئلہ اور فتوٰی معلوم ہو تو اسے غنیمت جاننا اور علما سے اس کے متعلق مقابلہ مت کرنا، اس شخص کی طرح مت ہونا جو یہ چاہتا ہے کہ اس کی بات پر عمل کیا جائے، اس کی بات پھیلے یا اس کی بات کو سنا جائے کیونکہ جب اُس کے لئے ایسا کچھ نہیں ہوتا تب اُس کی حقیقت پتا چلتی ہے۔کبھی ریاست کی چاہت مت کرنا کیونکہ آدمی کے لیے ریاست سونے چاندی سے زیادہ محبوب ہوتی ہے، یہ ایک پوشیدہ دروازہ ہے جسے باریک بین اصحابِ بصیرت علما ہی دیکھ سکتے ہیں ، اپنے نفس کو مفقود کر دو اور خالص نیت کے ساتھ عمل کرواورجان لوکہ لوگوں پر ایسا وقت آنےوالاہےجس میں آدمی مرنےکی خواہش کرےگا۔ وَالسَّلَام
حج کا خرچ 16دینار:
(9196)…حضرت سیِّدُناسفیان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْمَنَّان نے خلیفہ مہدی سےپوچھا:آپ نے حج پرکتنا خرچہ کیا؟اس
نے کہا:اتنازیادہ کہ مجھےمعلوم ہی نہیں ۔آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نےفرمایا:مگرامیرالمؤمنین حضرت سیِّدُناعمر بن خطاب رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کو معلوم تھا، انہوں نے حج پر صرف 16دینار خرچ کئے تو انہیں یہ بھی بہت زیادہ لگے ۔
حکمران وقت سے نہ ڈرنا:
(9197)…خلیفہ مہدی مکہ مکرمہ آیا اس وقت حضرت سیِّدُناسفیان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْمَنَّان بھی مکہ میں ہی تھے، خلیفہ نے آپ کو بلوایا تووہاں موجود ایک وزیر آپ پر الزام تراشی کرنے لگا ، آپ نے خلیفہ سے فرمایا:اس سے ہوشیار رہنا (یہ جھوٹا ہے)۔پھر فرمایا: اللہ عَزَّ وَجَلَّ سے ڈرو، امیرالمؤمنین حضرت سیِّدُناعمر بن خطاب رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے حج کیا تو صرف 16دینار خرچ کئے۔پھرآپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے خلیفہ کو حضرت اَیمن بن نابِل مکی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی کی روایت کردہ حدیث شریف سنائی مگر ان کا نام لینے کے بجائے ان کی کنیت ابوعمران ذکر فرمائی ۔جب ان سے عرض کی گئی :آپ نےان کا نام ”ایمن“کیوں نہیں لیاتو فرمایا:اگر ان کا نام لیتا تو ممکن تھا کہ خلیفہ انہیں بلاتا اور خوفزدہ کرتا۔
(9198)…حضرت سیِّدُنا سفیان ثوری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَ لِی فرماتے ہیں : میں خلیفہ مہدی کے پاس گیا تو میں نے اس کی حج کی تیاری دیکھ کر کہا: یہ کیا ہے؟ امیرالمؤمنین حضرت سیِّدُناعمر بن خطاب رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے حج کیا تو صرف 16 دینار خرچ کئے۔
حکمران وقت کے سامنے حق گوئی:
(9199)…حضرت سیِّدُناسفیان ثوری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَ لِی فرماتے ہیں : میں خلیفہ مہدی کے پاس گیا تو میں نے اس سے کہا: مجھ تک یہ بات پہنچی ہے کہ امیرالمؤمنین حضرت سیِّدُناعمر بن خطاب رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے اپنے حج میں صرف 12دینار خرچ کئے تھے اور تم اتنا زیادہ خرچ کرنے پر تلے ہو۔ اس کو غصہ آگیا اورکہنے لگا: آپ چاہتے ہیں میں آپ کے جیسا ہو جاؤں ؟ میں نے کہا: اگر میرے جیسے نہیں ہو سکتے تو جس حال میں ہو اس میں کچھ کمی تو کر سکتے ہو۔ اس نے کہا: اے ابو عبداللہ ! آپ کی جو بھی تحریر میرے پاس آئی میں نے اس پر عمل کیا۔ میں نے کہا: میں نےتو تمہیں کبھی کوئی تحریر بھیجی نہیں ۔
(9200)…حضرت سیِّدُناسفیان ثوری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَ لِی فرماتے ہیں کہ خلیفہ مہدی نے مجھ سے کہا: اے ابو عبداللہ ! آپ ہمارے ساتھ رہیں تاکہ ہم آپ سے حضرت سیِّدُنا صدیق اکبر و حضرت سیِّدُناعمر فاروق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا کی سیرت سیکھیں ۔ آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے فرمایا: اگر یہ لوگ تمہارے ہم نشیں ہیں تو پھر نہیں ۔ اس نے کہا: آپ ہمیں اپنی حاجتیں لکھ بھیجتے ہیں اور ہم انہیں پورا کرتے ہیں ۔آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے فرمایا: خدا کی قسم! میں نے تمہاری طرف کبھی کوئی تحریرنہیں بھیجی۔ آپ نے اس سے مزید فرمایا: اگر تم ساگ روٹی پر گزارہ کرو گے تو ان کی سیرت سے دور نہیں ہو گے۔
10 ہزار درہم قبول نہ کئے:
(9201)…خلیفہ ہارون رشید نے اپنی بیوی زبیدہ سے کہا: میں تمہارے اوپر دوسری شادی کر رہا ہوں ۔ زبیدہ نے کہا: میرے ہوتے ہوئے آپ کو دوسری شادی کرنا جائز نہیں ہے۔اس نے کہا: کیوں جائز نہیں ؟ زبیدہ نے کہا: جس سے چاہیں معلوم کر لیں ۔ ہارون رشید نے کہا: حضرت سفیان ثوری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَ لِی سے معلوم کرنے پر تم راضی ہو؟ زبیدہ نے کہا: ہاں ۔ چنانچہ خلیفہ حضرت سیِّدُناسفیان ثوری رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کے پاس آیا اور کہا: زبیدہ کا کہنا ہے کہ میں اس کے ہوتے ہوئے دوسری شادی نہیں کر سکتا حالانکہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ ارشاد فرماتا ہے:
فَانْكِحُوْا مَا طَابَ لَكُمْ مِّنَ النِّسَآءِ مَثْنٰى وَ ثُلٰثَ وَ رُبٰعَۚ- ( پ ۴ ، النسآء: ۳)
ترجمۂ کنز الایمان :تو نکاح میں لاؤ جو عورتیں تمہیں خوش آئیں دو دو اور تین تین اور چار چار۔
اتنی آیت پڑھ کرخلیفہ خاموش ہواتوآپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نےفرمایا:آیت پوری پڑھوآگےیہ بھی تو ہے:
فَاِنْ خِفْتُمْ اَلَّا تَعْدِلُوْا فَوَاحِدَةً ( پ ۴ ، النسآء: ۳)
ترجمۂ کنز الایمان :پھر اگر ڈرو کہ دو بیبیوں کو برابر نہ رکھ سکو گے تو ایک ہی کرو۔
اےخلیفہ! تم برابر نہیں رکھ سکتے۔ یہ فیصلہ سن کر خلیفہ ہارون رشید نے 10 ہزار درہم آپ کی خدمت میں پیش کئے مگر آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے لینے سے انکار کر دیا۔
پانچ عادل حکمران:
(9202)…حضرت سیِّدُناسفیان ثوری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَ لِی نے فرمایا:عدل وانصاف کرنے والے پانچ ہی حکمران
تھے: حضرت سیِّدُناابوبکر صدیق، حضرت سیِّدُناعمر فاروق اعظم، حضرت سیِّدُناعثمان غنی، حضرت سیِّدُنا علی المرتضٰی اور حضرت سیِّدُناعمر بن عبد العزیز عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان ، جس نےان کے علاوہ کسی کا کہا اس نے زیادتی کی۔
(9203)…حضرت سیِّدُناعلی بن ثابت رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضرت سیِّدُناسفیان ثوری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَ لِی کو مکہ مکرمہ کے راستے میں دیکھا تو آپ کی جوتی سمیت آپ کے جسم پر موجود ہر چیز کی قیمت کا اندازہ کیا تو وہ ایک درہم اور چار دانق کی نکلی۔
حضرت سیِّدُنامحمدبن علی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَ لِی بیان کرتےہیں کہ میں نےکبھی بھی حضرت سیِّدُناسفیان ثوری رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ کومجلس میں آگےآگےبیٹھےنہیں دیکھا، آپ دیوارکےساتھ ہوکراپنےگھٹنےسمیٹ کربیٹھا کرتے تھے۔
(9204)…حضرت سیِّدُناضمرہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضرت سیِّدُناسفیان ثوری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَ لِی سے پوچھا کہ کیا میں یہودونصاری سے مصافحہ کر سکتا ہوں ؟فرمایا: ہاں پاؤں کے ساتھ کر سکتے ہو (مطلب یہ ہے کہ ان سے مصافحہ نہیں کرسکتے)۔
(9205)…حضرت سیِّدُناضمرہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کہتے ہیں : میں نے حضرت سیِّدُناسفیان ثوری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَ لِی سے پوچھا: جب میں ناقوس کی آواز سنوں تو کیا پڑھوں ؟ فرمایا: جب تم گدھے کے رینکنے کی آواز سنتے ہو تو کیا پڑھتے ہو؟(یعنی وہی پڑھو)۔
بادشاہ کو بھلائی کا حکم کون دے؟
(9206)…حضرت سیِّدُناسفیان ثوری رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ نےفرمایا: بادشاہ کوبھلائی کاحکم وہی کرےجویہ علم رکھتا ہو کہ کس چیزکاحکم دیناہےاورکس چیزسےمنع کرناہےاورکسی بھی چیزکاحکم دینےمیں نرمی اورانصاف سےکام لے۔
(9207)…حضرت سیِّدُناخَلَف بن تمیم رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے حضرت سیِّدُناسفیان ثوری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَ لِی
سے کہا: ابو عبداللہ ! لوگ تو (گھوڑوں )پر آگے چلے گئے اور ہم زخمی پیٹھ والے گدھوں پر سوار ہیں ۔ تو آپ نے فرمایا:اگر یہ سواریاں راستے پر ہوں تو کتنی اچھی ہیں ۔
(9208)…حضرت سیِّدُناسفیان ثوری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَ لِی بیان فرماتے ہیں کہ ایک عقلمند شخص نے کہا: لوگ ہم سے سبقت کرتے ہوئےآگے نکل گئے اور ہم زخمی پیٹھ والے گدھوں پر پیچھے رہ گئے۔حضرت سیِّدُنا سفیان
ثوری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَ لِی نے اس آدمی سے فرمایا: ’’ اگر تم راستے پر رہے تو تمہارا معاملہ ٹھیک ہو گا۔ ‘‘
پختہ ارادے پر مواخذہ:
(9209)…حضرت سیِّدُنا عبداللہ بن مبارک رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتےہیں کہ میں نےحضرت سیِّدُنا سفیان ثوری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَ لِی سے پوچھا: کیا ارادے پر بھی مواخذہ ہو گا؟ فرمایا: اگر ارادہ پختہ ہوا تو ہو گا۔
(9210)…حضرت سیِّدُنا سفیان ثوری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَ لِی سے کعبہ شریف کے گرد بنی ہوئی عمارتوں کے متعلق پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا: ان کی طرف مت دیکھو یہ اسی لیے بنائی گئی تاکہ انہیں دیکھا جائے۔
اس گھر کی طرف مت دیکھو:
(9211)…حضرت سیِّدُنایحییٰ بن متوکل رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت سیِّدُناسفیان ثوری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَ لِی کے ساتھ میرا گزر ایک شخص کے پاس سے ہوا جو مضبوط اور خوبصورت گھر بنا رہا تھا، حضرت سیِّدُنا سفیان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْمَنَّان نے مجھے فرمایا: اس گھر کی طرف مت دیکھو۔ میں نے عرض کی: اے ابو عبداللہ ! آخر کیوں ؟ فرمایا: ایسے گھر اسی لیے بنائے جاتے ہیں تاکہ انہیں دیکھا جائے اگر ہر گزرنے والا انہیں دیکھنا چھوڑ دے تو پھر ایسے گھر بنائے ہی نہ جائیں ۔
(9212)…حضرت سیِّدُناسفیان ثوری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَ لِی نے فرمایا: صرف اسی کی دعوت قبول کرو جس کے بارے میں تم یہ سمجھو کہ اس کے کھانے سے تمہارے دل ٹھیک رہیں گے۔
ایک بوڑھے کاتب کو نصیحت:
(9213)…حضرت سیِّدُنااحمد بن ابو حواری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَالِی بیان کرتے ہیں کہ میرے بھائی محمد نے مجھے بتایا: ایک بوڑھا کوفی جو کہ کاتب تھا، حضرت سیِّدُنا سفیان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْمَنَّان کے پاس سے گزرا تو آپ نے فرمایا: اے بوڑھے انسان! فلاں حاکم بنا تو تم اس کے لیے لکھتے رہے پھر وہ معزول ہوا اور دوسرا حاکم بنا تو تم اس کے لیے لکھتے رہےپھر وہ معزول ہوا اور ایک اورحاکم بنا تو تم اس کے لیے لکھتے رہے یاد رکھو! قیامت کے دن تمہارا حال ان حکمرانوں سے بھی برا ہو گا، پہلے حاکم کو بلا کر پوچھ گچھ ہو گی تو اس کے ساتھ تمہیں بھی بلایا جائے گا کہ تم نے اس کے لیے کیا کیا لکھا، پھر وہ چلا جائے گا اور تم وہیں کھڑے ہو گے کہ دوسرے کو بلا کر پوچھا جائے گا اور تم سے بھی پوچھا جائے گا کہ تم نے اس کے لیے کیا کیا لکھا پھر وہ بھی چلا جائے گا اور تم وہیں کھڑے رہو گے یہاں تک کہ تیسرا خلیفہ آئے گا اس سے اس کے اعمال کے بارے میں باز پرس ہو گی اور تم سے بھی پوچھا جائے کہ تم نے اس کے لیے کیا کیا لکھا پس قیامت کے دن تمہارا حال ان سےبھی بُرا ہو گا۔اس بوڑھے نے کہا: اے ابو عبداللہ ! پھر اپنے اہل وعیال کا کیا کروں ؟ آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے فرمایا: اس کی سنو اس کے کہنے کا مطلب ہے کہ ’’ جب یہ ربّ تعالیٰ کی نافرمانی کرے گا تو اس کے عیال کو روزی دی جائے گی اور جب فرمانبرداری کرے گا تو اس کا عیال ہلاک ہو جائے گا۔ ‘‘ پھرآپ نے فرمایا:عیالدار شخص کی پیروی نہ کرو کیونکہ کسی بھی صاحب عیال کو جب عتاب کیا جائے گاتو اس کا عذر یہی ہو گا کہ میرے بیوی بچے تھے ۔
دنیا سے محبت کرنے والے کا حشر:
(9214)…حضرت سیِّدُنا بشیربن ابوسَری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَ لِی بیان کرتے ہیں کہ میں حضرت سیِّدُنا سفیان اور حضرت سیِّدُنا یحییٰ بن سُلَیْم عَلَیْہِمَا الرَّحْمَہ کے ساتھ مقام حِجْر یا پھرحطیم میں بیٹھا ہوا تھا کہ حضرت یحییٰ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے حضرت سیِّدُناسفیان رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کو حضرت سیِّدُناابنِ منکدر رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ سے مروی ایک روایت سنائی کہ
’’ اگر بندہ قیامت کے دن اس حال میں آئے کہ اس نے اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے تمام فرائض وواجبات ادا کئے ہوں مگر وہ دنیا سے محبت کرنے والا ہو تو اللہ عَزَّ وَجَلَّ ایک ندا کرنے والے کو حکم دے گا کہ تمام مخلوق کے سامنےیہ ندا کرے: سنو!یہ فلاں بن فلاں ہےاس نےاس چیزکوپسندکیاہےجسے اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے ناپسندرکھا۔ ‘‘
تجارت میں شرکت:
(9215)…حضرت سیِّدُناسفیان ثوری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَ لِی نےفرمایا:حکمرانوں کےپاس جانےوالےاکثرلوگ اپنے عیال اور ضروریات کی وجہ سے ان کے پاس جاتے ہیں ۔ آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ ایک دوست کے ساتھ تجارت میں شراکت دار تھے۔آپ یہ بھی فرمایا کرتے:اس زمانے سے بڑھ کر کسی زمانے میں مال جمع کرنا بہتر نہیں ۔
(9216)…حضرت عیسیٰ بن یونس رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ بیان کرتے ہیں میری حضرت سیِّدُناسفیان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْمَنَّان سے
ملاقات ہوئی تو انہوں نے مجھے فرمایا: کسی عیال دارسے دھوکا مت کھانا، اکثرعیال دار ملاوٹ کرتے ہیں ۔ میں نے کہا: اےابو عبداللہ !مجھے معلوم ہوا ہے کہ آپ کی ملکیت میں دوسودینار کا سامانِ تجارت ہے جس سے آپ کے لیے تجارت کی جاتی ہے پھر میں وہاں سے بندرگاہ چلا گیا اور جب میری واپسی ہوئی تو میں حضرت سیِّدُنا سفیان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْمَنَّان کے پاس بھی گیا، انہوں نے مجھے کہا:تمہیں معلوم ہے میری آنکھوں کی ٹھنڈک کاانتقال ہو چکا ہے لہٰذا مجھے راحت مل گئی ہے۔آپ کاایک بیٹاتھاجس کانام سعیدتھاآپ اسی کےانتقال کی خبر دےرہے تھے۔
(9217)…حضرت سیِّدُناسفیان ثوری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَ لِی نےفرمایا:عیالدار سےکبھی اُ کتانا نہ کبھی دھوکا کھانا۔
مال چھوڑ کرمرنا محتاجی سے بہتر:
(9218)…حضرت سیِّدُناسفیان ثوری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَ لِی نے فرمایا: لوگوں کا محتاج ہونے سے بڑھ کر مجھے یہ پسند ہے کہ میں 10 ہزار درہم وراثت میں چھوڑ جاؤں جن پر میرا حساب لیا جائے۔
(9219)…حضرت سیِّدُناسفیان ثوری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَ لِی نے فرمایا:گزشتہ زمانہ میں مال ناپسندیدہ تھامگر آج وہ مومن کی ڈھال ہے۔
سیِّدُناسفیان ثوری رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ اور درہم ودینار:
(9220)…ایک شخص حضرت سیِّدُنا سفیان ثوری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَ لِی کے پاس آیا اور کہنے لگا:اے ابو عبد اللہ ! آپ بھی اپنےپاس دیناررکھتےہیں ؟آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نےفرمایا:چپ ہوجا۔اگریہ دینارنہ ہوتےتویہ بادشاہ ہمیں اپنے ہاتھوں کا رومال بنا لیتے۔
آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے مزید فرمایا: جس کے پاس درہم ودینار ہوں وہ انہیں اور زیادہ کرے کیونکہ یہ ایسا زمانہ ہے کہ جب بندہ محتاج ہوتا ہے تو سب سے پہلے اپنا دین خرچ کرتا ہے۔
ایک شخص نے آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کے پاس حاضر ہو کر عرض کی: میں حج کا ارادہ رکھتا ہوں ۔ آپ نے
فرمایا: ایسے شخص کے ساتھ سفر مت کرنا جو تم پر احسان کرے کیونکہ اگر تم خرچ کرنے میں اس کی برابری کرو گے تو تمہیں نقصان ہو گا اور اگر اس نے تم سے زیادہ خرچ کیا تو وہ تمہیں حقیر سمجھے گا۔
حلال کماؤاور عیال پر خرچ کرو:
(9221)…حضرت سیِّدُنا سَلَّام بن سُلَیْم رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں : مجھے حضرت سیِّدُنا سفیان ثوری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَ لِی نے فرمایا: تم پر لازم ہے کہ بہادروں والا کام کروحلال کماؤ اور اپنے عیال پر خرچ کرو۔
آپ کوجب کسی کی تجارت پسندآتی توفرماتے: بہت اچھاآدمی ہےبشرطیکہ اسےجلدصلہ مل جائے۔
(9222)…حضرت سیِّدُنا سفیان ثوری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَ لِی نے فرمایا: کسی عیال دارسے دھوکانہ کھانا۔
کسب کی ترغیب:
(9223)…حضرت سیِّدُناسفیان ثوری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَ لِی فرماتے ہیں : میں بصرہ گیا تو وہاں حضرت یونس بن عبید رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کی مجلس میں جا بیٹھا۔میں نے وہاں لوگوں کو ایسے بیٹھے دیکھا گویا ان کے سروں پر پرندے ہیں تو میں نے کہا: اے قراء کےگروہ! سروں کو اٹھاؤ، راستہ بالکل واضح ہے ، کام کاج کرو اور لوگوں کے سہارے پر مت جیو۔ یہ سن کر حضرت یونس بن عبید رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے اپنا سر اٹھایا اور سب کو کہا: اٹھ جاؤ اور میرے پاس اس وقت تک کوئی بھی نہ آئے جب تک وہ خود اپنی روزی نہ کمالے۔ چنانچہ سب لوگ چلے گئے۔ حضرت سیِّدُناسفیان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْمَنَّان فرماتے ہیں : خدا کی قسم! اس کے بعد میں نے ان کے پاس لوگوں کو نہیں دیکھا۔
(9224)…حضرت سیِّدُناسفیان ثوری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَ لِی نے فرمایا: اے قراء کے گروہ! اپنے سروں کو اٹھاؤ، جتنا خشوع وخضوع دلوں میں ہے تم اس سے زیادہ عاجزی مت دکھاؤ، راستہ واضح ہے، اللہ عَزَّ وَجَلَّ سے ڈرو، میانہ روی کے ساتھ کسبِ مَعاش کرو اور مسلمانوں پر بوجھ مت بنو۔
تین باتوں کی نصیحت:
(9225)…حضرت سیِّدُناشعیب بن حَرْب رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت سیِّدُنا سفیان ثوری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَ لِی نے مجھے فرمایا: اے ابوصالح! مجھ سےتین باتیں یاد کر لو: (۱)…اگر تمہیں کھانے سے صرف پیٹ بھرنے کی حاجت ہو تو اس کے لئے سوال مت کرو (۲)…اگر تمہیں نمک کی حاجت ہو تو سوال مت کرو اور یہ جان لو کہ جو روٹی تم نے کھانی ہے نمک ملا کر اس کا آٹا گوندھ دیا گیا ہے اور (۳)…تمہیں پانی کی حاجت ہو تو
اپنے ہاتھوں کا استعمال کرو یہ پانی کے برتن کا کام دیں گے۔
(9226)…حضرت سیِّدُناسفیان ثوری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَ لِی نے فرمایا: حلال فضول خرچی کا متحمل نہیں ہو سکتا۔
خواب میں وصال کی خبر:
(9227)…حضرت سیِّدُناابواسامہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ بیان کرتےہیں کہ جب حضرت سیِّدُناسفیان ثوری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَ لِی کاوصال ہواتومیں بصرہ میں تھا، آپ کےوصال والی رات کی اگلی صبح میں حضرت یزیدبن ابراہیم رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ سےملاتوانہوں نےمجھےکہا:مجھےخواب میں کسی نےکہاکہ امیرالمؤمنین کاانتقال ہوگیاہے۔ میں نے پوچھا: کیاحضرت سیِّدُناسفیان ثوری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَ لِی کاانتقال ہواہے؟کہا:ہاں وہ رات کووصال فرماگئے۔ حضرت یزید بن ابراہیم رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں :اس خواب سے پہلے ہمیں ان کے انتقال کا علم نہیں تھا۔
(9228)…حضرت سیِّدُناعلی بن بِشْر رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت سیِّدُنا ابراہیم بن عیسٰی زاہد اَصْبَہانی قُدِّسَ سِرُّہُ السَّامِی میرے پاس آئے اور کہا: میں نے خواب میں پیارے آقا صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی زیارت کی تو آپ نے ارشاد فرمایا: سفیان کی کتاب”الجامع “ کو اپنے اوپر لازم کر لو۔
بارگاہِ رسالت سے تصدیق:
(9229)…حضرت سیِّدُنایزیدبن ابوحکیم عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْحَکِیْم بیان کرتے ہیں کہ مجھے خواب میں پیارےآقا، میٹھے مصطفٰے صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا دیدارہوا تو میں نے عرض کی: یارسولَاللہصَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم !آپ کی امت میں سفیان ثوری نامی ایک شخص ہےاس میں کوئی حرج تونہیں ؟ارشادفرمایا:ہاں ، اس میں کوئی حرج نہیں ۔میں نے عرض کی:انہوں نےآپ کےحوالےسےہمیں بتایاہےکہ آپ نےشب معراج آسمان میں اللہ عَزَّ وَجَلَّ کےنبی حضرت سیِّدُنا یوسف عَلَیْہِ السَّلَام کودیکھاہے۔آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نےارشادفرمایا:انہوں نے سچ کہا ہے۔
(9230)…حضرت سیِّدُنایزیدبن ابوحکیم عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْکَرِیْم بیان کرتےہیں کہ مجھےخواب میں پیارےآقا،
میٹھےمصطفٰے صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کادیدارہوا تو میں نے عرض کی: یارسولَاللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ! آپ کی امت میں سفیان ثوری نامی ایک شخص ہےاس میں کوئی حرج تونہیں ؟ارشادفرمایا: ہاں اس میں کوئی حرج
نہیں ۔ میں نےعرض کی: انہوں نےابوہارون سےاورابو ہارون نےابوسعیدسےہمیں حدیث معراج بیان کی ہے؟ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نےارشادفرمایا:ثوری نےسچ کہا، ابوہارون نےسچ کہااورابوسعیدنےسچ کہا۔
(9231)…حضرت سیِّدُناولید بن مسلم رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے پیارے آقا، مدینے والے مصطفٰے صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو خواب میں دیکھا تو آپ کے سامنے کئی لوگوں کا نام لیا مگر مجھے ایسا محسوس ہوا جیسے آپ انہیں ناپسند فرما رہے ہوں بالآخر میں نے عرض کی: یارسولَ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ! آپ مجھے کس کے ساتھ ہونے کا حکم دیتے ہیں ؟ ارشاد فرمایا: سفیان ثوری کو لازم پکڑ لو۔
خواب میں نصیحت:
(9232)…حضرت سیِّدُناسفیان بن عیینہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَا لٰی عَلَیْہ بیان کرتےہیں کہ میں نےخواب میں حضرت سیِّدُنا سفیان ثوری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَ لِی کو دیکھا توعرض کی: مجھے نصیحت کیجئے۔ فرمایا: لوگوں سےجان پہچان کم رکھو۔
(9233)…حضرت سیِّدُناسفیان بن عیینہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے خواب میں حضرت سیِّدُنا سفیان ثوری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَ لِی کو دیکھا توعرض کی: مجھےنصیحت کیجئے۔فرمایا:لوگوں سےمیل جول کم رکھو۔ میں نے عرض کی: مزید فرئیے۔ فرمایا:عنقریب آؤ گے تو جان لوگے۔
(9234)…حضرت سیِّدُناابراہیم بن اَعْیَن بَجَلی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضرت سیِّدُنا سفیان ثوری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَ لِی کو خواب میں دیکھا آپ کی داڑھی سرخ اورزرد تھی۔ میں نے پوچھا: آپ کے ساتھ کیا معاملہ ہوا؟ فرمایا : میں سَفَرَہ کے ساتھ ہوں ۔ میں نے پوچھا: سفرہ کیا ہے؟ فرمایا: نیک اور پاکیزہ لوگ۔
بخشش ہوگئی:
(9235)…حضرت سیِّدُنازائدہ بن ابو رُقَاد عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْجَوَاد بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضرت سیِّدُنا سفیان ثوری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَ لِی کو خواب میں دیکھ کر پوچھا: آپ کے ربّ عَزَّ وَجَلَّ نے آپ کے ساتھ کیا معاملہ کیا؟ فرمایا:اس نے مجھے جنت میں داخل کیا اور مجھ پر کشادگی فرمائی۔پھر اپنی آستین کی طرف اشارہ کر کے فرمانے لگے: میں نے لوگوں کی دنیا سے اس ٹکڑے جتنا ہی لیا ہے اور جو کچھ ہمیں ملا ہے دنیاداراس سے محروم ہیں ۔
(37-9236)…حضرت سیِّدُنا بُدیل رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضرت سیِّدُنا سفیان ثوری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَ لِی کو خواب میں دیکھا تو پوچھا: آپ کے ربّ عَزَّ وَجَلَّ نے آپ کے ساتھ کیا معاملہ فرمایا؟ کہا: مجھے معاف کر دیا یہاں تک کہ میرے طلبِ حدیث کو بھی۔
(9238)…مُؤَمَّل بن اسماعیل کابیان ہے:میں نے حضرت سیِّدُنا سفیان ثوری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَ لِی کو خواب میں دیکھ کر پوچھا: اے ابو عبداللہ ! آپ کے ربّ عَزَّ وَجَلَّ نے آپ کے ساتھ کیا معاملہ فرمایا؟ کہا: میری بخشش فرما دی۔ میں نے پوچھا: اے ابو عبداللہ !آپ حضرت سیِّدُنامحمد عربی صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اور ان کے صحابہ سے ملے ہیں ؟ کہا: ہاں ملا ہوں ۔
(9239)…حضرت سیِّدُنا عبداللہ بن مبارک رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے خواب میں حضرت سیِّدُنا سفیان ثوری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَ لِی کو دیکھا تو پوچھا: آپ کے ربّ عَزَّ وَجَلَّ نے آپ کے ساتھ کیا معاملہ فرمایا؟ کہا: میں پیارے آقا صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اور آپ کے صحابَۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان سے ملا ہوں ۔
جنت میں اڑان:
(9240)…حضرت سیِّدُناعثمان بن زائدہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ بیان کرتے ہیں کہ میں خواب میں جنت میں داخل ہوا تو دیکھا کہ حضرت سیِّدُنا سفیان ثوری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَ لِی اُڑ کر ایک درخت سے دوسرے درخت پر جارہے ہیں اور یہ آیتِ مبارکہ پڑھ رہے ہیں :
تِلْكَ الدَّارُ الْاٰخِرَةُ نَجْعَلُهَا لِلَّذِیْنَ لَا یُرِیْدُوْنَ عُلُوًّا فِی الْاَرْضِ وَ لَا فَسَادًاؕ-وَ الْعَاقِبَةُ لِلْمُتَّقِیْنَ(۸۳) ( پ ۲۰ ، القصص: ۸۳)
ترجمۂ کنز الایمان :یہ آخرت کا گھر ہم اُن کے لیے کرتے ہیں جو زمین میں تکبر نہیں چاہتے اور نہ فساد اور عاقبت پرہیزگاروں ہی کی ہے۔
(9241)…حضرت سیِّدُناحَفْص بن نُفَیل رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضرت سیِّدُناداؤد
طائی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کو خواب میں دیکھ کر پوچھا:آپ کو حضرت سیِّدُناسفیان ثوری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَ لِی کا کچھ علم ہے کہ وہ کہاں ہیں ؟ کیونکہ وہ بھلائی اور بھلائی کرنے والوں کو بہت پسند کرتے تھے۔ حضرت سیِّدُناداود طائی رَحْمَۃُ اللہِ
تَعَالٰی عَلَیْہ مسکرائے اور فرمایا: بھلائی نے انہیں بھلائی کرنے والوں کے درجات تک پہنچا دیا ہے۔
انبیا، صدیقین اور صالحین کا ساتھ:
(9242)…حضرت سیِّدُنا صَخْر بن راشد عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَاحِد بیان کرتے ہیں کہ حضرت سیِّدُنا عبداللہ بن مبارک رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کی وفات کے بعد میں نے انہیں خواب میں دیکھا تو پوچھا: کیاآپ کی وفات نہیں ہو گئی؟ انہوں نے فرمایا: ہاں کیوں نہیں ۔ میں نے کہا: آپ کے ربّ عَزَّ وَجَلَّ نے آپ کے ساتھ کیا معاملہ کیا؟ فرمایا: اس نے میرے سارے گناہ معاف فرما دیئے۔ میں نے پوچھا: حضرت سیِّدُناسفیان ثوری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَ لِی کہاں ہیں ؟ فرمایا: واہ واہ ان کی تو کیا بات ہےوہ تو ان لوگوں کے ساتھ ہیں جن پر اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے انعام فرمایا یعنی انبیائے کرام عَلَیْہِمُ السَّلَام ، صدیقین، شہداء اور صالحین کے ساتھ اوریہ لوگ بہت ہی اچھے ساتھی ہیں ۔
زبان نبوت سے تعریف:
(9243)…حضرت سیِّدُناسیف بن ہارون بُرجُمی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی بیان کرتے ہیں کہ میں نے خواب میں خود کو ایسی جگہ دیکھا جو دنیا میں سے نہیں تھی، اچانک ایک شخص نظر آیا ، اتنا خوبصورت شخص میں نے کبھی نہیں دیکھا تھا، میں نے پوچھا: اللہ عَزَّ وَجَلَّ آپ پر رحم فرمائے آپ کون ہیں ؟انہوں نے کہا: میں یوسف بن یعقوب ( عَلَیْہِمَا السَّلَام ) ہوں ۔ میں نے عرض کی: میں آپ جیسے شخص سے ملنا چاہتا تھا تاکہ کچھ پوچھ سکوں ۔ فرمایا: پوچھو۔ میں نے پوچھا: رافضی کون ہیں ؟ فرمایا: یہودی۔ میں نے پوچھا: اَباضِیہ کون ہیں ؟ فرمایا: یہودی۔ میں نے عرض کی: ہمارے ہاں کچھ لوگ ہیں جن کی ہم صحبت اختیار کرتے ہیں وہ کیسے ہیں ؟پوچھا: وہ کون ہیں ؟ میں نے کہا: حضرت سفیان ثوری اور ان کے ساتھی۔فرمایا: وہ اسی راستے پر بھیجے گئے ہیں جس راستے پر ربّ عَزَّ وَجَلَّ نے ہم گروہِ انبیاکو مبعوث فرمایا ہے۔
(9244)…حضرت سیِّدُنامُصْعَب بن مِقْدام عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْمَنَّان بیان کرتے ہیں کہ میں نے خواب میں پیارے
آقا صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو دیکھا کہ آپ حضرت سفیان ثوری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَ لِی کا ہاتھ پکڑے ہوئے ہیں ۔ یہی بات ان کے نیک ہونے کے لیے کافی ہے۔ اور آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم فرما رہے ہیں : اچھا راستہ ہے۔
(9245)…حضرت سیِّدُناحسن بن سَمَّاک عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَہَّاب بیان کرتے ہیں : میں نے حضرت سیِّدُنا سفیان ثوری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَ لِی کو خواب میں زمین وآسمان کے درمیان ایک تخت پر دیکھا تو پوچھا: اے ابو عبداللہ ! اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے آپ کے ساتھ کیا معاملہ فرمایا؟ کہا: اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے میری مغفرت فرما دی۔ میں نے پوچھا: آپ کی کوئی ایسی بات جو اسے ناپسند آئی ہو؟فرمایا: ہاں انگلیوں سے اشارہ کرنا۔حضرت سیِّدُناابو العباس رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں : یعنی لوگوں کا اشارہ کرکے یہ کہنا کہ دیکھو یہ سفیان ثوری ہیں ۔
(9246)…حضرت سیِّدُنابِشر بن مُفَضَّل رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضرت سیِّدُنا سفیان ثوری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَ لِی کو خواب میں دیکھا توکہا:اے سفیان!کیاآپ کو قدریوں کے درمیان دفن کیا گیا ہے؟چنانچہ مجھے غورکرنے پر پتا چلا کہ وہ بنوحنیفہ کی مسجد شَبَّہ کے پاس فرقہ قَدَرِیَّہ کے ایک گروہ کے بیچ مدفون ہیں ۔
مال کو مال کہنے کی وجہ:
(9247)…حضرت سیِّدُنا سفیان ثوری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَ لِی نے فرمایا: مال کو مال اسی وجہ سے کہا جاتا ہے کہ وہ دلوں کو مائل کرتا ہے۔
(9248)…حضرت سیِّدُناسفیان ثوری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَ لِی نے مکہ مکرمہ میں فرمایا:لوگوں کی رضامندی کی ایسی انتہا ہےجس تک نہیں پہنچاجاسکتااورطلبِ دنیاکی بھی ایک انتہاہےمگر اس تک بھی رسائی نہیں ہو سکتی۔
زُہد کیا ہے؟
(9249)…حضرت سیِّدُناسفیان ثوری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَ لِی نے فرمایا:دنیامیں چھوٹی امیدوالا ہونا زہد ہے، موٹی غذا کھانے اور چوغا پہننے کا نام زہد نہیں ۔
(52-9250)…حضرت سیِّدُناسفیان ثوری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَ لِی نے فرمایا: بدمزہ کھانا کھانا اور کھردرا لباس پہننا دنیا سے بے رغبتی نہیں بلکہ دنیا سے بے رغبتی تو امیدوں کا چھوٹا ہونا ہے۔
(9253)…حضرت سیِّدُناسفیان ثوری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَ لِی نے فرمایا: دنیا سے بے رغبت ہو اور سو جا۔
(9254)…حضرت سیِّدُناسفیان ثوری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَ لِی نے اپنے بھائی کو لکھا: جاہ ومنزلت کی محبت سے بچنا
کیونکہ اس سے منہ موڑنا دنیا سے منہ موڑنے سے بھی زیادہ مشکل ہے۔
(9255)…حضرت سیِّدُناسفیان ثوری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَ لِی جب موت کا تذکرہ کرتے تو کئی دن تک آپ سے علمی اسفتادہ نہ کیا جاسکتا، جب کسی چیز کے بارے میں پوچھا جاتا تو فرماتے: میں نہیں جانتا، میں نہیں جانتا۔
(9256)…حضرت سیِّدُنا سفیان ثوری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَ لِی نے فرمایا: جب تم کسی عالم کو بادشاہ کے دروازے کی پناہ لیتے دیکھو تو سمجھ جاؤ وہ چور ہے اور جب کسی عالم کو کسی امیر کے در کی پناہ لئے دیکھو تو سمجھ جاؤ وہ ریاکار ہے۔
(9257)…حضرت سیِّدُنا سفیان ثوری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَ لِی فرماتے ہیں : جب اللہ عَزَّ وَجَلَّ کسی سے اپنی نظر رحمت پھیر دیتا ہے تو اسے بادشاہوں کے درپر پھینک دیتا ہے۔
بادشاہوں سے دوری:
(9258)…حضرت سیِّدُنا سفیان ثوری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَ لِی نے فرمایا: جب بادشاہ تمہیں بلائیں کہ آکر سورۂ اخلاص ہی سنا دو تو پھر بھی ان کے پاس مت جانا۔
(9259)…حضرت سیِّدُناسفیان ثوری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَ لِی نے فرمایا: اگر مجھے اختیار دیا جائے کہ میں اپنی بینائی جانے پر راضی ہو جاؤں یا ان بادشاہوں سے اپنی آنکھوں کو خیرہ کروں تو میں بینائی چلے جانےکو اختیارکروں گا۔
(9260)…حضرت سیِّدُناوہب بن اسماعیل عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَکِیْل بیان کرتے ہیں کہ ہم حضرت سیِّدُنا سفیان ثوری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَ لِی کے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ وہاں سے ایک سپاہی گزرا، آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ اسے اور پھر ہمیں دیکھنے لگے اور فرمایا: جب کوئی بیمار، معذور یا خستہ حال شخص تمہارے سامنے سےگزرتا ہے تو تم اسے دیکھ کر اللہ عَزَّ وَجَلَّ سے عافیت مانگتے ہو حالانکہ ایسے لوگوں کو ان بلاؤں پر اجر دیا جاتا ہے اور جب اس سپاہی جیسے لوگ تمہارے سامنے سے گزرتے ہیں توتم اللہ عَزَّ وَجَلَّ سے عافیت کا سوال نہیں کرتے۔
مالدار کا زُہد:
(9261)…حضرت سیِّدُناسفیان ثوری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَ لِی سے پوچھا گیا: کیا مالدار بھی زاہد (دنیا سے بے رغبت) ہو سکتا ہے؟ فرمایا: ہاں ، جب مصیبت پر صبر کرے اور نعمت پر شکر کرے۔
(9262)…حضرت سیِّدُنا سفیان ثوری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَ لِی نے فرمایا: امیروں کا فقیروں کے پاس ذلیل ہونا کتنا اچھا ہے اور فقیروں کا امیروں کے سامنے ذلیل ہونا کتنا برا ہے۔
ہر بُرائی کی جڑ:
(9263)…حضرت سیِّدُنا سفیان ثوری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَ لِی بیان کرتے ہیں کہ حضرت سیِّدُنا عیسٰی رُوْحُاللہ عَلَیْہِ السَّلَام نے فرمایا: دنیا کی محبت ہر بُرائی کی جڑ ہے اور مال اس میں بہت بڑی بیماری ہے۔عرض کی گئی: یارُوْحَ اللہ عَلَیْہِ السَّلَام !اس کی بیماری کیا ہے؟ ارشاد فرمایا: اس کا حق ادا نہ کرنا۔ عرض کی گئی: اگر حق ادا کر دیا جائے تو؟ فرمایا: پھر بھی بندہ فخر وتکبر سے بچ نہیں سکتا۔عرض کی گئی: اگر فخر وتکبر سے بھی بچا رہے تو؟ فرمایا: مال کی طلب اسے اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی یاد سے غافل کر دے گی۔
کھانا کھلانے کی نیت خراب نہ ہوجائے:
(9264)…حضرت سیِّدُنا عیسٰی بن حازم رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت سیِّدُنا ابراہیم بن ادہم، حضرت سیِّدُنا ابراہیم بن طَہمان اورحضرت سیِّدُنا سفیان ثوری عَلَیْہِمُ الرَّحْمَہ طائف گئے تو ان کے پاس ایک توشہ دان بھی تھا، ان حضرات نے کھانا کھانے کےلیےتوشہ دان اپنےسامنےرکھاتوقریب میں چنددیہاتی نظر آئے، حضرت سیِّدُنا ابراہیم بن طہمان رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نےانہیں پکارکرکہا:بھائیو!یہاں آجاؤ۔حضرت سیِّدُنا سفیان ثوری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَ لِی نے پکارا: بھائیو! مت آنا۔پھرآپ نےحضرت ابراہیم سے کہا:اس میں سے جو بھی کھانا ہمیں پسند ہے وہ لیں اورجاکرانہیں دےدیں اگروہ کھاکرسیرہوگئےتوانہیں اللہ عَزَّ وَجَلَّ نےسیرکیا اور اگر سیرنہ ہوئے تو اللہ عَزَّ وَجَلَّ ہی سب سےبہترجانتاہے۔میں نےایسااس لیےکیاکیونکہ مجھےخوف تھاکہ اگرانہوں نےیہاں آکر ہمارا سارا کھانا کھا لیا تو کہیں ایسا نہ ہو کہ ہماری کھانا کھلانے کی نیت خراب ہو جائے اور ہمارا اجر ضائع ہو جائے۔
(9265)…حضرت سیِّدُنایوسف بن اَسْباط رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ بیان کرتے ہیں کہ میں حضرت سیِّدُناسفیان ثوری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَ لِی کے ساتھ مسجد حرام میں تھا کہ آپ نے کہا: اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی قسم جس کے سوا کوئی معبود نہیں اور اس کعبہ کے ربّ کی قسم! گوشہ نشینی جائز ہو گئی ہے۔
(9266)…حضرت سیِّدُناسفیان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْمَنَّان نےفرمایا:ہم عیالدارآدمی کی عبادت کوکسی گنتی میں نہیں لاتے۔
گمنامی کی خواہش:
(9267)…حضرت سیِّدُناسفیان ثوری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَ لِی نے فرمایا: میں چاہتا ہوں میں ایسی جگہ ہوں جہاں پہچانا جاؤں نہ رسوا کیا جاؤں ۔
(9268)…حضرت سیِّدُناسفیان ثوری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَ لِی نے فرمایا: میں چاہتا ہوں اپنی چپل اٹھاؤں اور ایسی جگہ چلا جاؤں جہاں مجھے کوئی نہ پہچانتا ہو پھر سر اٹھایا اور فرمایا:نہ ہی مجھے رسوا کیا جائے ۔
(9269)…حضرت سفیان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْمَنَّان نےفرمایا:لوگوں سے جان پہچان کم رکھو تمہاری برائی کم ہو گی۔
تین چیزیں صبر ہیں :
(9270)…حضرت سیِّدُنا سفیان ثوری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَ لِی نے فرمایا: تین چیزیں صبر ہیں :(۱)… اپنی مصیبت کو بیان مت کرو (۲)…اپنے درد کو بیان مت کرو اور (۳)…اپنی صفائی مت دو۔
(9271)…حضرت سیِّدُنایحییٰ بن ابوثابت رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ بیان کرتےہیں کہ مسجدحرام میں حضرت سیِّدُنا سفیان ثوری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَ لِی کو اہل مکہ کے(ایک پیمانہ) مُدْکی مقدار ستو کا شربت پیش کیا گیا جس میں ایک تہائی شکر اور دوتہائی ستو تھے ، آپ نے اسے نوش فرماکر اپنا ازار کچھ ڈھیلا کیااورپھر اسےمضبوطی سے باندھتے ہوئے فرمایا:”ستو نے حبشی (نفس)کوسیراب کردیا ۔“اس کے بعد آپ نے نفس کو یوں تھکایا کہ رات کی ابتدا سے لے کر صبح تک عبادت کرتے رہے۔ راوی کہتے ہیں :اہل مکہ کا مدحضورنبی کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰ لِہٖ وَسَلَّم کے مد کے مقابلے میں چار گناہ بڑا تھا۔
(9272)…حضرت سیِّدُناسفیان ثوری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَ لِی کو کھانا پیش کیا گیا تو آپ نے کھا لیا، پھر کھجور اور پنیر پیش کیےگئےتووہ بھی کھالیےپھرزوالِ شمس سےلےکرعصرتک نمازپڑھتےرہے۔پھرفرمایا:حبشی(یعنی نفس) کے ساتھ بھلا کرو اور اسے تھکا دو۔
(9273)…حضرت سیِّدُناابو منصور وَاسِطِی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت سیِّدُناسفیان ثوری عَلَیْہِ
رَحْمَۃُ اللہِ الْوَ لِی نے مقام واسط میں مجھ سے ملاقات کی تو میں نے انہیں ثرید پیش کیا جو انہوں نے کھا لیا پھر میں بھنا ہوا کھانا لایا تووہ بھی تناول فرمالیاپھر میں نے انہیں تازہ کھجوریں پیش کیں تو انہوں نے وہ بھی کھالیں ، اس کے بعدانگور دیئے و ہ بھی کھا لیے ، پھر انار پیش کیا تو وہ بھی تناول فرمالیا ، جب مجھے دیکھا کہ میں انہیں حیرت سے دیکھ رہا ہوں تو فرمایا: اےابومنصور!یہ توایک دفعہ کاکھاناہےجب میں کھاتاہوں تو سیر ہوجاتا ہوں ۔(4)
دنیا سے بے رغبتی کا فائدہ:
(9274)…حضرت سیِّدُناسفیان ثوری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَ لِی نے فرمایا: جب بندہ دنیا سے بے رغبت ہو جاتا ہے تو اللہ عَزَّ وَجَلَّ اس کے دل میں حکمت بھر دیتا ہے پھر اس حکمت کو اس کی زبان پر جاری فرماتا ہے اور اسے دنیا کے عیوب، اس کی بیماریاں اور ان بیماریوں کا علاج بھی دکھا دیتا ہے۔
(9275)…حضرت سیِّدُنایزید بن تَوبہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت سیِّدُنا سفیان ثوری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَ لِی نےمجھے فرمایا: جب رات آتی ہے تو میں خوش ہو جاتا ہوں اس وجہ سے نہیں کہ میں آرام کروں گا بلکہ اس وجہ سے کہ لوگ مجھے نہیں دیکھ سکیں گے یوں مجھے راحت مل جائے گی۔
(9276)…حضرت سیِّدُناسفیان ثوری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَ لِی نے فرمایا: جب تمہیں اپنے نفس کی پہچان ہو جائے گی تو پھر تمہیں اپنے بارے میں کی جانے والی باتیں کوئی نقصان نہیں دیں گی۔
ہر دشمنی کی جڑ:
(9277)…حضرت سیِّدُناسفیان ثوری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَ لِی نے فرمایا: کمینے لوگوں کے ساتھ بھلائی کرنے کو ہم نے ہر دشمنی کی جڑ پایا ہے۔
(9278)…حضرت سیِّدُناسفیان ثوری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَ لِی نے فرمایا:جب کسی کوامام بننے کا حریص وخواہشمند دیکھو تو اسے پیچھے کر دو۔
(9279)…حضرت سیِّدُنا سفیان ثوری رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں :اگر میں نماز میں ہوں اور میرے سامنے سے کوئی مسکین گزرے تومیں اُسے چھوڑ دوں گا اور اچھے لباس میں ملبوس کوئی چہل قدمی کرتا گزرے تو اُسے گزرنے نہیں دوں گا۔
(9280)…حضرت سیِّدُنا سفیان ثوری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَ لِی نے فرمایا: لَا تَتَكَلَّمْ بِلِسَانِكَ مَا تَكْسِرُ بِهِ اَسْنَانَكَ یعنی اپنی زبان سے ایسی بات نہ نکالو جو تمہارے دانت تڑوا دے۔
(9281)…حضرت سیِّدُناسفیان ثوری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَ لِی نے فرمایا: جو بھوکا ہوا اور اس نے کھانا نہ مانگا یہاں تک کہ بھوک کی وجہ سے مرگیا تو وہ دوزخ میں جائے گا۔ ([5])
(9282)…حضرت سیِّدُناابو شہاب عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَہَّاب بیان کرتے ہیں کہ میں مسجد میں حضرت سیِّدُنا سفیان ثوری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَ لِی کے ساتھ بیٹھا ہوا تھاپھر کھڑا ہوا اور نماز پڑھنےلگا ابھی ایک رکعت پڑھی تھی کہ حضرت سیِّدُنا سفیان رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ میری طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا: اے ابو شہاب! تمہارا کوئی اجر نہیں ہے، تم اس حال میں نماز پڑھ رہے ہو کہ لوگ تمہیں دیکھ رہے ہیں ۔
تین باتوں کا عہد:
(9283)…حضرت سیِّدُنا ابو وَہْب محمد بن مُزاحم رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت سیِّدُنا سفیان ثوری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَ لِی نے تین باتیں خود پر لازم کر رکھی تھیں : (۱)…کوئی ان کی خدمت نہیں کرے گا (۲)… ان کے لیے کپڑا نہیں بچھایا جائے گا اور (۳)… وہ کبھی اینٹ پر اینٹ نہیں رکھیں گے (یعنی گھر نہیں بنائیں گے)۔
(9284)…حضرت سیِّدُناسفیان ثوری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَ لِی نے فرمایا: یہ عُمومیت کا نہیں بلکہ خصوصیت کا زمانہ ہے بندہ خاص اپنے نفس کی طرف متوجہ ہو اور عام لوگوں کو چھوڑ دے۔
(9285)…حضرت سیِّدُناسفیان ثوری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَ لِی نے فرمایا: مجھے اپنی موت سے بڑھ کر کسی کی موت پسند نہیں اگر میرے اختیار میں ہوتا تو میں مر جاتا۔
بھائی کو نصیحتوں بھرا خط:
(9286)…حضرت سیِّدُناابوحماد مبارک رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت سیِّدُنا سفیان بن سعید رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے اپنے بھائی کو ایک خط لکھا تھاجو پندو نصائح اور دینی باتوں پر مشتمل تھا۔چنانچہ اس میں لکھا تھا: اللہ عَزَّ وَجَلَّ اپنی رحمت سے ہمیں اورتمہیں دوزخ سے بچائے، میں تمہیں اور خود کو اللہ عَزَّ وَجَلَّ سے ڈرنے کی نصیحت کرتا ہوں ، میں تمہیں علم کے بعد جہالت، بصیرت وبصارت کے بعد ہلاکت اور راستہ واضح ہو جانے کے بعد اسے چھوڑ دینے سے ڈراتا ہوں اوراس بات سے بھی ڈراتا ہوں کہ دنیا داروں کے دنیا کمانے، دنیاکی لالچ کرنے اور دنیا جمع کرنےسےدھوکامت کھاناکیونکہ ہولناکی شدیدہے، خطرہ بہت بڑاہےاور آخرت کا معاملہ قریب ہے جو ہو چکا سو ہو چکا اب خود بھی فارغ ہو جاؤ اور اپنے دل کو بھی فارغ کر لو، پھر نیکیوں میں خوب کوشش کرو، جلدی کرو جلدی کرو گناہوں سے بھاگو اور آخرت کی طرف سفر کرو اس سے قبل کہ تمہیں اٹھا کر لے جایا جائے، اپنے ربّ عَزَّ وَجَلَّ کے فرشتوں کا استقبال کرو، اپنی کمر کَس لو قبل اس کے کہ موت آئے اور تمہارے اور تمہاری چاہت کے درمیان حائل ہو جائے، میں تمہیں وہ نصیحت کر رہا ہوں جو میں نے خود کو کی ہے۔ توفیق دینے والا اللہ عَزَّ وَجَلَّ ہی ہے اور توفیق کی چابی تو دعا، عاجزی وانکساری اور اپنے گناہوں پر ندامت وشرمندگی ہے، ان رات ودن میں جو تمہارا حق ہے اسے ضائع مت کرنا، میں اللہ عَزَّ وَجَلَّ سے دعا کرتا ہوں کہ وہ تمہیں اور ہمیں ہمارے نفسوں کے حوالے نہ کرے اور ہم سے وہ کام لے جو اس نے اپنے اولیا اور دوستوں سے لیا ہے، ہاں !اس چیز سے بچنا جو تمہارے عمل کو برباد کردے اور تمہیں معلوم ہونا چاہیے کہ عمل کو برباد کرنے والی چیز ریاکاری ہے اگر یہ نہ بھی ہو تو خود پسندی عمل کو برباد کر دیتی ہے وہ اس طرح کہ تم خود کو اپنے بھائی سے افضل سمجھنے لگو گے حالانکہ ہو سکتا ہے جو نیک عمل اس نے کئے ہوں ان تک تم پہنچے بھی نہ ہو اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ وہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی حرام کردہ اشیاء سے تم سے بڑھ کر پرہیز کرنے والا اور تم سے زیادہ صاف ستھرے عمل والا ہو، اگر تم میں خود پسندی بھی نہیں ہے تو پھر لوگوں کی تعریف کے طلبگار مت ہونا اور لوگوں کی تعریف یہ ہے کہ تم ان کی طرف سے اپنے عمل پر عزت افزائی چاہو، ان کے سینوں میں اپنے لیے عزت وبزرگی اور قدرومنزلت چاہو یا پھر کئی معاملات میں تمہیں ان سے حاجت ہو کہ وہ پوری کر دیں ، تم اپنےعمل سےصرف آخرت کاارادہ کرواس کے سواکوئی ارادہ نہ کرو، دنیاسےبےرغبت اور آخرت کی رغبت پیداکرنےکےلیےموت کی یادکافی ہےاورخوفِ خدا کا کم ہونا لمبی امیدوں اور گناہوں پر دلیر بنا دیتا ہے اور جو علم تو رکھتا ہو مگر عمل نہ کرتا ہو تو اس کی سزا کے لیے بروزِ قیامت حسرت وندامت ہی کافی ہو گی۔
سب سے بڑھ کر خوف خدا رکھنے والے:
(9287)…حضرت سیِّدُنا ابو اسامہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضرت سیِّدُنا سفیان ثوری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَ لِی سے بڑھ کر خوفِ خدا رکھنے والا کوئی نہیں دیکھا۔
(9288)…حضرت ابواسامہ رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ فرماتےہیں :حضرت سیِّدُناسفیان ثوری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَ لِی حجت ہیں ۔
(9289)…حضرت سیِّدُنا سفیان ثوری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَ لِی نے فرمایا: میں نے عمارت تعمیر کرنے کے لیے کبھی ایک درہم بھی خرچ نہیں کیا۔
(9290)…حضرت سیِّدُناسفیان ثوری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَ لِی نے فرمایا کہ دورِاسلاف میں کہا جاتا تھا: اے حاملین قرآن! قرآن پاک کے نفع کی جلدی مت کرو اور اگرخواہش پوری کرنا ہی چاہو تو تھوڑی کرو۔
(9291)…سیِّدُنا عبداللہ بن یونس رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضرت سیِّدُنا سفیان ثوری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَ لِی کو بے شمار مرتبہ یہ دعا مانگتے سنا کہ ’’ اے اللہ عَزَّ وَجَلَّ !ہمیں سلامت رکھ ہمیں سلامت رکھ، اے اللہ عَزَّ وَجَلَّ ! اس دنیاسے ہمیں سلامتی کے ساتھ جنت تک لے جا، اے اللہ عَزَّ وَجَلَّ ! ہمیں دنیا وآخرت میں عافیت عطا فرما۔ ‘‘
(9292)…حضرت سیِّدُناسفیان ثوری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَ لِی بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص نے حضرت سیِّدُنا عمر بن عبد العزیز عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْعَزِیْز کو دعا دی کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ آپ کو لمبی عمر عطا فرمائے۔ آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے فرمایا: یہ مقدر ہو چکی ہے تم میرے لیے درستی کی دعا کرو۔
چوپایوں کو اگر موت کاعلم ہوتا۔۔۔!
(9293)…حضرت سیِّدُناسفیان ثوری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَ لِی نے فرمایا: جس طرح تمہیں موت کا علم ہے اگر اس طرح چوپائیوں کو بھی ہوتا تو تمہیں کوئی بھی موٹا تازہ جانور کھانےکو نہ ملتا۔
(9294)…حضرت سیِّدُناابو عِصام بن یزید عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْمَجِیْد بیان کرتے ہیں کہ بعض اوقات حضرت سیِّدُنا سفیان ثوری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَ لِی اس طرح غوروفکر میں مشغول ہو جاتے کہ دیکھنے والا آپ کو مجنون سمجھتا۔
(9295)…حضرت سیِّدُنا سفیان ثوری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَ لِی سے ابو جعفر منصور کے دور میں عرض کی گئی: اگر آپ کچھ دعائیں کر لیں تو کتنا اچھا ہو۔ فرمایا: گناہوں کو چھوڑنا ہی دعا ہے۔
(9296)…حضرت سیِّدُناسفیان ثوری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَ لِی نے فرمایا: مومن کی حفاظت اس کی قبرہی کر سکتی ہے۔
کس کی دعوت قبول نہ کریں ؟
(9297)…حضرت سیِّدُناسفیان ثوری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَ لِی نے فرمایا: جو تمہیں دعوت دے اور تمہیں خوف ہو کہ وہ تمہارے دل یا دین کو خراب کر دے گا تو اس کی دعوت قبول نہ کرو۔
(9298)…حضرت سیِّدُناسفیان ثوری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَ لِی جب کھانا کھا لیتے تو یہ دعا پڑھتے: اَلْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي كَفَانَا الْمَئُوْنَةَ وَاَوْسَعَ عَلَيْنَا فِي الرِّزْقِ یعنی تمام تعریفیں اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے لیے ہیں جس نےغذاکےمعاملےمیں ہماری کفایت فرمائی اوررزق کوہم پر کشادہ فرمادیا۔
(9299)…حضرت سیِّدُنافیضل بن عِیاض عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَہَّاب بیان کرتے ہیں کہ حضرت سیِّدُناسفیان ثوری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَ لِی نے فرمایا: میں پانی پینے کا ارادہ کروں پھر ایک شخص مجھ سے پہلے اٹھ کر جائے اور وہ پانی مجھے پلا دے تو گویا اس نے میری پسلی توڑدی کیونکہ میں اس کی اس خدمت کا بدلہ دینے کی طاقت نہیں رکھتا۔
٭…٭…٭…٭…٭…٭
مدنی آقاصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی بھوک شریف
اُمّ المؤمنین حضرت سیِّدَتُنا عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا فرماتی ہیں :”رحمتِ عالَم، نُوْرِمُجَسَّم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے کبھی بھی لگاتاردودن تک سیرہوکر جَو کی روٹی نہیں کھائی حتّٰی کہ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم وصال ظاہری فرماگئے۔“( ترمذی، کتاب الذھد، باب ما جاء فی معیشة النبی و اھلہ، ۴ / ۱۵۹ ، حدیث: ۲۳۶۴)
تَصَوُّف کی تعریفات
اِمام حافظ ابونُعَیْم اَحمدبن عبدالل ہ اصفہانی شافعی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْکَافِی کی عادتِ کریمہ ہےکہ حِلْیَۃُ الْاَوْلِیَاء میں کسی بزرگ کاتذکرہ کرتےہیں تواکثر ان کی سیرت کومدِنظررکھتےہوئےتصوُّف کی ایک تعریف بیان کرتےہیں چھٹی جلد میں بیان کردہ تمام تعریفات کو یہاں ایک فہرست میں یکجاکردیاگیاہے
نمبرشمار
تعریف
صفحہ نمبر
01
بلند مقام کے حصول کی طرف راہ نمائی کرنے اور اس میں رُکاوٹ بننے والے اُمور کی طرف اشارہ کرنے کا نام تصوف ہے۔
73
02
معاہدوں کی رعایت کرنے اورموجود شے پر قناعت کرنے کا نام تصوف ہے۔
84
03
زیادہ کی جستجو اور موجود میں دِھیان دینے کا نام تصوف ہے۔
264
04
معرفت میں کمال اور خوف خدا وندی میں بلند مقام تک پہنچنے کا نام تصوف ہے۔
494
٭…٭…٭…٭…٭…٭
قرض بہت ہی بڑا بوجھ ہے
حضرت ابو سعید خدری رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں کہ حضور نبی کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی خدمت میں نماز پڑھانے کے لئے جنازہ لایا گیا ۔ تو آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے پوچھا: اس مرنے والے پرکوئی قر ض تو نہیں ہے ؟ لوگوں نےعرض کی:ہاں ، اس پر قرض ہے ۔ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے پوچھا:اس نے کچھ مال بھی چھوڑا ہے کہ جس سے یہ قرض ادا کیاجاسکے؟ عرض کی گئی: نہیں ۔تو حضور جانِ عالم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا:تم لوگ اس کی نماز جنازہ پڑھ لو ( میں نہیں پڑھوں گا)۔ حضرت سیِّدُنا علیُّ المرتضٰی کَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم نے یہ دیکھ کر عرض کی: یارسولَ اللہ ( صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم )! میں اس کے قرض کو ادا کرنے کی ذمہ داری لیتا ہوں ۔ چنانچہ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم آگے بڑھے اور نماز جنازہ پڑھائی او ر فرمایا : اے علی ! اللہ تعالٰی تجھے جزائے خیردے ۔ او رتیری جاں بخشی ہو جیسے تو نے اپنے اس مسلمان بھائی کے قرض کی ذمہ داری لے کر اس کی جان چھڑائی۔ کوئی بھی مسلمان ایسا نہیں ہے جو اپنے مسلمان بھائی کی طر ف سے اس کا قر ضہ اداکرے مگر یہ کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ قیامت کے دن اس کو رہا ئی بخشے گا۔
( سنن کبری للبيھقی، کتاب الضمان، باب وجوب الحق بالضمان ، ۶ / ۱۲۱ ، حديث: ۱۱۳۹۸)
٭…٭…٭…٭…٭…٭
٭…حدیثِ پاک:جس شخص کو یہ بات پسند ہو کہ اللہ تعالیٰ اسے قیامت کے دن غم اور گھٹن سے بچائے تو اسے چاہيےکہ تنگدست قرضدار کو مہلت دے یا قر ض کا بو جھ اس کے اوپر سے اتاردے۔( مسلم ، کتاب المساقاة، باب فضل انظارالمعسر، ص ۸۴۵ ، حديث ۱۵۶۳)
متروکه عربي عبارات
حدثنا أبو أحمد محمد بن أحمد ثنا أحمد بن موسى العدوي ثنا إسماعيل ابن سعيد الكسائي ثنا عبدالعزيز محمد الدراوردي عن محمد بن عبدالله ابن أخي الزهري عن عمه ابن شهاب عن أبي بكر بن عبدالرحمن بن الحارث عن جزء بن جابر الخثعمي أنه سمع كعبا يقول كلم الله موسى بالألسنة كلها قبل لسانه فقال له موسى يا رب هذا كلامك فقال الله لو كلمتك بكلامي لم تكن شيئا قال موسى يا رب هل من خلقك شيء يشبه كلامك قال لا وأقرب خلقي شبها بكلامي أشد ما يسمع من الصواعق .
(7749)… حدثنا أبو بكر بن مالك ثنا عبدالله بن أحمد بن حنبل ثنا محمد عبيد ابن حساب ثنا جعفر بن سليمان ثنا أبو عمران الجوني عن نوف قال قال عزير فيما يناجي ربه عز و جل تخلق خلقا فتضل وتهدي من تشاء قال فقيل يا عزير أعرض عن هذا لتعرضن عن هذا أو لأمحونك من النبوة إني لا أسأل عما أفعل وهم يسألون .
(7754)…أخبرنا أبو أحمد محمد بن أحمد بن إبراهيم في كتابه ثنا محمد بن أيوب ثنا موسى بن إسماعيل ثنا حماد بن سلمة عن أبي عمران الجوني عن نوف أن نبيا أو صديقا ذبح عجلا بين يدي أمه فتخيل فبنا هو ذات يوم تحت شجرة وفيها وكر طائر وفيه فرخ فوقع الفرخ وفغر فاه وجعل يصي فرحمه فأعاده في وكره فأعاد الله اليه قوته .
(7988)… حدثنا سليمان بن أحمد ثنا أبو زرعة الدمشقي ثنا أبو مسهر ثنا يحيى ابن حمزة عن ثور بن يزيد عن حبيب بن عبيد عن عتبة بن عبدالسلمي قال كنت جالسا مع رسول الله صلى الله عليه و سلم فجاء أعرابي فقال يا رسول الله أسمعك تذكر شجرة في الجنة لا أعلم في الدنيا أكثر شوكا منها يعني الطلح فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم يجعل مكان كل شوكة مثل خصوة التيس الملبود يعنى الخصي فيها سبعون لونا من الطعام لا يشبه لون لون الآخر رواه عبدالله بن المبارك عن يحيى بن حمزة مثله .
(8781)… حدثنا محمد بن إسحاق بن أيوب ثنا أحمد بن زنجويه ثنا محمد بن المتوكل ثنا عبدالرزاق ثنا جعفر بن سليمان عن عوف عن أبي عثمان النهدي عن عمران بن حصين قال توفي رسول الله صلى الله عليه وسلم وهو يبغض ثلاث قبائل بني حنيفة وبني مخزوم وبني أمية غريب من حديث جعفر عن عوف عن أبي عون تفرد به عبدالرازق ورواه هشام بن حسان عن الحسن عن عمران بن حصين .
(8973)… حدثنا علي بن حميد الواسطي ثنا أسلم بن سهل ثنا محمد بن صالح بن مهران ثنا عبدالله بن محمد بن عمارة القداحي ثم السعدي قال سمعت هذا من مالك بن أنس سماعا يحدثنا به عن إسحاق بن عبدالله بن أبي طلحة عن أنس قال بعثتني أم سليم إلى رسول الله صلى الله عليه و سلم بطير مشوي ومعه أرغفة من شعير فأتيته به فوضعته بين يديه فقال يا أنس ادع لنا من يأكل معنا من هذا الطير اللهم آتنا بخير خلقك فخرجت فلم تكن لي همة إلا رجل من أهلي آتيه فأدعوه فاذا أنا بعلي بن أبي طالب فدخلت فقال أما وجدت أحدا قلت لا قال انظر فنظرت فلم أجد أحدا إلا عليا ففعلت ذلك ثلاث مرات ثم خرجت فرجعت فقلت هذا علي بن أبي طالب يا رسول الله فقال ائذن له اللهم وال اللهم وال وجعل يقول ذلك بيده وأشار بيده اليمنى يحركها غريب من حديث مالك وإسحاق رواه الجم الغفير عن أنس وحديث مالك لم نكتبه الا من حديث القداحي تفرد به .
ماٰخذ و مراجع
قرآن پاک کلام باری تعالٰی ٭…٭…?
نام کتاب مصنف / مؤلف مطبوعہ
ترجمۂ کنزالایمان اعلٰی حضرت امام احمد رضا خان رحمۃ اللّٰہ علیہ متوفّٰی ۱۳۴۰ ھـ مکتبۃ المدینۃ ۱۴۳۲ ھـ
خزائن العرفان صدر الافاضل مفتی نعیم الدین مراد آبادی رحمۃ اللّٰہ علیہ متوفّٰی۱۳۶۷ھـ مکتبۃ المدینۃ۱۴۳۲ھ
تفسیرالرازی امام فخر الدین محمد بن عمر بن حسین رازی رحمۃ اللّٰہ علیہ متوفّٰی ۶۰۶ ھـ داراحیاء التراث العربی ۱۴۲۰ ھـ
تفسیر طبری امام ابو جعفر محمد بن جریر طبری رحمۃ اللہ علیہ متوفّٰی ۳۱۰ ھـ دار الکتب العلمیۃ ۱۴۲۰ ھـ
تفسیر الثعلبی امام ابواسحاق احمد المعروف امام ثعلبی رحمۃ اللّٰہ علیہ متوفّٰی ۴۲۷ ھـ داراحیاء التراث العربی ۱۴۲۲ ھـ
تفسیر ابن رجب امام عبد الرحمٰن بن شہاب الدین ابن رجب رحمۃ اللہ علیہ متوفّٰی ۷۹۵ ھـ دار العاصمۃ ریاض ۱۴۲۲ ھـ
تفسیرنعیمی حکیم الامت مفتی احمد یار خان نعیمی رحمۃ اللّٰہ علیہ متوفّٰی۱۳۹۱ھـ مکتبہ اسلامیہ لاہورپاکستان
الاتقان فی علوم القراٰن امام جلال الدین عبدالرحمن سیوطی شافعی رحمۃ اللّٰہ علیہ متوفّٰی ۹۱۱ ھـ دارالمصطفٰی دمشق ۱۴۲۹ ھـ
صحیح البخاری امام محمد بن اسماعیل بخاری رحمۃ اللّٰہ علیہ متوفّٰی ۲۵۶ ھـ دارالکتب العلمیۃ ۱۴۱۹ ھـ
صحیح مسلم امام مسلم بن حجاج قشیری نیشاپوری رحمۃ اللّٰہ علیہ متوفّٰی ۲۶۱ ھـ دارابن حزم ۱۴۱۹ ھـ
سنن ابن ماجہ امام محمد بن یز ید القزوینی ابن ماجہ رحمۃ اللّٰہ علیہ متوفّٰی ۲۷۳ ھـ دارالمعرفۃ بیروت ۱۴۲۰ ھـ
سنن ابی داود امام ابوداود سلیمان بن اشعث سجستانی رحمۃ اللّٰہ علیہ متوفّٰی ۲۷۵ ھـ داراحیاء التراث العربی ۱۴۲۱ ھـ
سنن الترمذی امام محمد بن عیسٰی ترمذی رحمۃ اللّٰہ علیہ متوفّٰی ۲۷۹ ھـ دارالفکر بیروت ۱۴۱۴ ھـ
سنن النسائی امام احمد بن شعیب نسائی رحمۃ اللّٰہ علیہ متوفّٰی ۳۰۳ ھـ دارالکتب العلمیۃ ۱۴۲۶ ھـ
صحیح ابن خزیمۃ امام ابو بکر محمد بن اسحاق بن خزيمةشافعی رحمۃ اللّٰہ علیہ متوفّٰی ۳۱۱ ھـ المکتب الاسلامی ۱۴۱۲ ھـ
شرح معانی الآ ثار امام ابو جعفر احمد بن محمد بن سلامۃ طحاوی حنفی رحمۃ اللّٰہ علیہ متوفّٰی ۳۲۱ ھـ دارالکتب العلمیۃ ۱۴۲۲ ھـ
السنۃ امام حافظ ابو بكر احمد بن عمرو بن ابي عاصم رحمۃ اللّٰہ علیہ متوفّٰی ۲۸۷ ھـ دار ابن حزم ۱۴۲۴ ھـ
سنن کبرٰی امام احمد بن شعیب نسائی رحمۃ اللّٰہ علیہ متوفّٰی ۳۰۳ ھـ دارا لکتب العلمیۃ ۱۴۱۱ ھـ
سنن الدارمی امام عبداللّٰہ بن عبدالرحمٰن دارمی رحمۃ اللّٰہ علیہ متوفّٰی ۲۵۵ ھـ دارالکتاب العربی ۱۴۰۷ ھـ
الموطا امام مالک بن انس اصبحی حمیری رحمۃ اللّٰہ علیہ متوفّٰی ۱۷۹ ھـ دارالمعرفۃ بیروت ۱۴۲۰ ھـ
المستدرک امام ابوعبداللّٰہ محمد بن عبداللّٰہ حاکم رحمۃ اللّٰہ علیہ متوفّٰی ۴۰۵ ھـ دارالمعرفۃ بیروت ۱۴۱۸ ھـ
المسند امام ابوعبداللّٰہ احمد بن محمد بن حنبل رحمۃ اللّٰہ علیہ متوفّٰی ۲۴۱ ھـ دارالفکر بیروت ۱۴۱۴ ھـ
المسند امام حافظ سلیمان بن داود طیالسی رحمۃ اللّٰہ علیہ متوفّٰی ۲۰۴ ھـ دارالمعرفۃ بیروت
المسند امام ابویعلی احمد بن علی موصلی رحمۃ اللّٰہ علیہ متوفّٰی ۳۰۷ ھـ دارالکتب العلمیۃ ۱۴۱۸ ھـ
المسند امام ابوبکر احمد بن عمرو بزار رحمۃ اللّٰہ علیہ متوفّٰی ۲۹۲ ھـ مکتبۃ العلوم والحکم ۱۴۲۴ ھـ
المسند امام حافظ حارث بن ابی اسامہ رحمۃ اللّٰہ علیہ متوفّٰی ۲۸۲ ھـ المدینۃ المنورۃ ۱۴۱۳ ھـ
مسند الشامیین حافظ سلیمان بن احمد طبرانی رحمۃ اللّٰہ علیہ متوفّٰی ۳۶۰ ھـ مؤسسۃ الرسالۃ ۱۴۰۹ ھـ
معرفۃ السنن والآ ثار امام ابوبکر احمد بن حسین بیہقی رحمۃ اللّٰہ علیہ متوفّٰی ۴۵۸ ھـ دارالکتب العلمیۃ ۱۴۲۲ ھـ
غریب الحدیث للخطابی ابو سلیمان حمد بن محمد بن ابراہیم رحمۃ اللّٰہ علیہ متوفّٰی ۳۸۸ ھـ دارالفکر ۱۴۰۳ ھـ
صحیح ابن خزیمۃ امام ابو بکر محمد بن اسحاق بن خزيمةشافعی رحمۃ اللّٰہ علیہ متوفّٰی ۳۱۱ ھـ المکتب الاسلامی ۱۴۱۲ ھـ
مجمع الزوائد حافظ نور الدين علي بن ابي بكر هيثميرحمۃ اللّٰہ علیہ متوفّٰی ۸۰۷ ھـ دارالفکربیروت ۱۴۲۰ ھـ
الترغیب فی فضائل الاعمال امام ابو حفص عمر بن احمد بن عثمان ابن شاہین رحمۃ اللّٰہ علیہ متوفّٰی ۳۸۵ ھـ دارابن الجوزی ۱۴۱۵ ھـ
جزء من حدیث ابن شاھین امام ابو حفص عمر بن احمد بن عثمان ابن شاہین رحمۃ اللّٰہ علیہ متوفّٰی ۳۸۵ ھـ اضواء السلف ریاض ۱۴۱۸ ھـ
البعث والنشور امام ابوبکر احمد بن حسین بیہقی رحمۃ اللّٰہ علیہ متوفّٰی ۴۵۸ ھـ مركز الخدمات والابحاث الثقافية
المعجم امام حافظ ابوبکر محمد بن ابراہیم اصبہانی ابن المقریٔ رحمۃ اللّٰہ علیہ متوفّٰی ۳۸۱ ھـ دارالکتب العلمیۃ ۱۴۲۴ ھـ
معجم ابن الاعرابی امام ابو سعید احمد بن محمد بن زیاد ابن بشر رحمۃ اللّٰہ علیہ دار ابن الجوزی ۱۴۱۸ ھـ
جامع الاحادیث امام جلال الدین عبدالرحمن سیوطی شافعی رحمۃ اللّٰہ علیہ متوفّٰی ۹۱۱ ھـ دارالفکربیروت ۱۴۱۴ ھـ
الزہد امام ابوعبداللّٰہ احمد بن محمد بن حنبل رحمۃ اللّٰہ علیہ متوفّٰی ۲۴۱ ھـ دارالکتب العلمیۃ
الزہد امام ابوعبدالرحمٰن عبداللّٰہ بن مبارک رحمۃ اللّٰہ علیہ متوفّٰی ۱۸۱ ھـ دارالکتب العلمیۃ
المصنف حافظ عبداللّٰہ محمد بن ابی شیبۃ عبسی رحمۃ اللّٰہ علیہ متوفّٰی ۲۳۵ ھـ دارالفکر بیروت ۱۴۱۴ ھـ
المصنف امام حافظ ابوبکر عبدالرزاق بن ہمام رحمۃ اللّٰہ علیہ متوفّٰی ۲۱۱ ھـ دارالکتب العلمیۃ ۱۴۲۱ ھـ
المعجم الاوسط حافظ سلیمان بن احمد طبرانی رحمۃ اللّٰہ علیہ متوفّٰی ۳۶۰ ھـ دارالکتب العلمیۃ ۱۴۲۰ ھـ
المعجم الکبیر حافظ سلیمان بن احمد طبرانی رحمۃ اللّٰہ علیہ متوفّٰی ۳۶۰ ھـ داراحیاء التراث العربی ۱۴۲۲ ھـ
کنز العمال علامہ علاء الدين علي بن حسام الدين متقي هندي رحمۃ اللّٰہ علیہ متوفّٰی ۹۷۵ ھـ دارالکتب العلمیۃ ۱۴۱۹ ھـ
ابن حبان امام حافظ ابوحاتم محمد بن حبان رحمۃ اللّٰہ علیہ متوفّٰی ۳۵۴ ھـ دارالکتب العلمیۃ ۱۴۱۷ ھـ
شعب الایمان امام ابوبکر احمد بن حسین بیہقی رحمۃ اللّٰہ علیہ متوفّٰی ۴۵۸ ھـ دارالکتب العلمیۃ ۱۴۲۱ ھـ
مسند فردوس حافظ شیرویہ بن شہردار بن شیرویہ دیلمی رحمۃ اللّٰہ علیہ متوفّٰی ۵۰۹ ھـ دارالکتب العلمیۃ ۱۴۰۶ ھـ
نوادر الاصول ابوعبداللہ محمد بن علی بن حسین حکیم ترمذی رحمۃ اللّٰہ علیہ متوفّٰی ۳۶۰ ھـ مکتبۃ الامام بخاری
سنن دارمی امام عبد اللہ بن عبد الرحمٰن دارمیرحمۃ اللّٰہ علیہ متوفّٰی ۲۵۵ ھـ دار الکتاب العربی ۱۴۰۷ ھـ
کتاب الفتن حافظ ابو عبد اللہ نعیم بن حماد مروزی رحمۃ اللّٰہ علیہ متوفّٰی ۲۸۸ ھـ مکتبۃ التوحید القاھرہ ۱۴۱۲ ھـ
فتح الباری امام شہاب الدین احمد بن علی بن حجر عسقلانی رحمۃ اللّٰہ علیہ متوفّٰی ۸۵۲ ھـ دارالکتب العلمیۃ ۱۴۲۵ ھـ
اختيار الأولی امام زین الدین عبد الرحمن بن احمدابن رجب حنبلی رحمۃ اللّٰہ علیہ متوفّٰی ۷۹۵ ھـ مکتبہ دار الا قصی کویت ۱۴۰۶ ھـ
نزہۃ القاری علامہ مفتی محمد شریف الحق امجدی رحمۃ اللّٰہ علیہ متوفّٰی ۱۴۲۰ ھـ برکاتی پبلشرز کھارادر کراچی
اتحاف السادة المتقین علامہ سیدمحمدمرتضی زبیدی رحمۃ اللّٰہ علیہ متوفّٰی ۱۲۰۵ ھـ دارالکتب العلمیۃ ۲۰۰۹ء
مرقاۃ المفاتیح علامہ ملاعلی قاری رحمۃ اللّٰہ علیہ متوفّٰی ۱۰۱۴ ھـ دارالفکربیروت
الشفا قاضی ابو الفضل عیاض یحصبی رحمۃ اللّٰہ علیہ متوفّٰی ۵۴۴ ھـ مرکز اہلسنت برکات رضا
التمھید یوسف بن عبد اللہ بن محمد بن عبد البر قرطبی رحمۃ اللّٰہ علیہ متوفّٰی ۴۶۳ ھـ دارالکتب العلمیۃ ۱۴۱۹ ھـ
حدیث ابی الفضل الزھری ابو محمد حسن بن علی جوہری رحمۃ اللّٰہ علیہ متوفّٰی ۴۵۴ ھـ اضواء السلف ریاض ۱۴۱۸ ھـ
معجم الصحابہ ابوالقاسم عبداللہ بن محمد بن عبدالعزیز بغوی رحمۃ اللّٰہ علیہ متوفّٰی ۳۱۷ ھـ دارالبیان کویت
الزھد امام وکیع بن جراح رؤاسی رحمۃ اللہ علیہ متوفّٰی ۱۹۷ ھـ مکتبۃ الدار ۱۴۰۴ ھـ
الزھد الکبیر امام ابو بکر احمد بن حسین بیہقی رحمۃ اللہ علیہ متوفّٰی ۴۵۸ ھـ مؤسسۃ الکتب الثقافیہ ۱۴۱۷ ھـ
الزھد امام احمد بن ابو بکر بن عمرو بن ابی عاصم رحمۃ اللہ علیہ متوفّٰی ۲۸۷ ھـ دارالکتب العلمیۃ ۱۴۰۸ ھـ
الامالی یحیی بن حسین بن اسماعیل حسنی شجری جرجانی رحمۃ اللہ علیہ متوفّٰی ۴۹۹ ھـ دارالکتب العلمیۃ ۱۴۲۲ ھـ
بلوغ الامانی امام حافظ شمس الدین ابو عبد اللہ محمد بن احمد ذھبی شافعی رحمۃ اللّٰہ علیہ متوفّٰی ۷۴۸ ھـ المکتبۃ الاسلامی بیروت ۱۴۱۲ ھـ
الاحاد والمثانی امام احمد بن ابو بکر بن عمرو بن ابی عاصم رحمۃ اللہ علیہ متوفّٰی ۲۸۷ ھـ دار الرایۃ ۱۴۱۱ ھـ
الترغیب والترہیب امام قوام السنہ حافظ ابوالقاسم اسماعیل بن محمد اصبہانی رحمۃ اللّٰہ علیہ متوفّٰی ۵۳۵ ھـ دارالحدیث قاہرہ ۱۴۱۴ ھـ
مشکل الاثار للطحاوی ابو جعفر احمد بن محمد بن سلمہ مصری حنفی متوفّٰی ۳۲۱ ھـ دارالکتب العلمیۃ ۱۴۱۵ ھـ
شمائل ترمذی امام محمد بن عیسٰی ترمذی رحمۃ اللّٰہ علیہ متوفّٰی ۲۷۹ ھـ داراحیاء التراث العربی
العظمۃ ابومحمد عبداللہ بن محمد المعروف بابی الشیخ اصبہانی رحمۃ اللّٰہ علیہ متوفّٰی ۳۶۹ ھـ دارالکتب العلمیۃ ۱۴۱۴ ھـ
الموسوعۃ حافظ ابوبکر عبداللّٰہ بن محمد بن عبید ابن ابی الدنیارحمۃ اللّٰہ علیہ متوفّٰی ۲۸۱ ھـ المکتبۃ العصریۃ ۱۴۲۶ ھـ
مجمع الزوائد حافظ نور الدين علي بن ابي بكر هيثميرحمۃ اللّٰہ علیہ متوفّٰی ۸۰۷ ھـ دارالفکربیروت ۱۴۲۰ ھـ
الفوائد امام ابو القاسم تمام بن محمد رازی رحمۃ اللّٰہ علیہ متوفّٰی ۴۱۴ ھـ مکتبۃ الرشد ۱۴۱۲ ھـ
فیض القدیر علامہ محمد عبد الرؤوف مناوی رحمۃ اللّٰہ علیہ متوفّٰی ۱۰۳۱ ھـ دارالکتب العلمیۃ ۱۴۲۲ ھـ
عمدۃ القاری امام بدر الدین ابومحمد محمود بن احمد عینی رحمۃ اللّٰہ علیہ متوفّٰی ۸۵۵ ھـ دارالفکر بیروت ۱۴۱۸ ھـ
شرح صحیح مسلم امام محيي الدين ابو زكريا يحيى بن شرف نووی شافعي رحمۃ اللّٰہ علیہ متوفّٰی ۶۳۱ ھـ دارالکتب العلمیۃ ۱۴۰۱ ھـ
کتاب الدعاء حافظ سلیمان بن احمد طبرانی رحمۃ اللّٰہ علیہ متوفّٰی ۳۶۰ ھـ دارالکتب العلمیۃ ۱۴۲۱ ھـ
مکارم الاخلاق حافظ ابوبکر عبداللّٰہ بن محمد بن عبید ابن ابی الدنیارحمۃ اللّٰہ علیہ متوفّٰی ۲۸۱ ھـ دارالکتب العلمیۃ ۱۴۲۱ ھـ
تاریخ مدینہ دمشق حافظ ابوالقاسم علی بن حسن ابن عساکر شافعی رحمۃ اللّٰہ علیہ متوفّٰی ۵۷۱ ھـ دارالفکر بیروت ۱۴۱۶ ھـ
الکامل فی ضعفاء الرجال امام ابواحمد عبداللّٰہ بن عدی جرجانی رحمۃ اللّٰہ علیہ متوفّٰی ۳۶۵ ھـ دارالکتب العلمیۃ ۱۴۱۹ ھـ
لسان المیزان امام شہاب الدین احمد بن علی بن حجر عسقلانی منوفّٰی ۸۵۴ ھـ داراحیاء التراث العربی ۱۴۱۶ ھـ
سیراعلام النبلاء امام حافظ شمس الدین ابو عبد اللہ محمد بن احمد ذھبی شافعی رحمۃ اللّٰہ علیہ متوفّٰی ۷۴۸ ھـ دار الفکر ۱۴۱۷ ھـ
تانیب الخطیب محمد زاھد بن حسن کوثری رحمۃ اللّٰہ علیہ منوفّٰی ۱۳۷۱ ھـ ۱۴۱۰ ھـ
کتاب الضعفاء امام ابوجعفرمحمد بن عمرو بن موسی عقیلی رحمۃ اللّٰہ علیہ متوفّٰی ۳۲۲ ھـ دارالصمیعی ریاض ۱۴۲۰ ھـ
تہذیب التہذیب امام شہاب الدین احمد بن علی بن حجر عسقلانی رحمۃ اللّٰہ علیہ متوفّٰی ۸۵۲ ھـ دار الفکر بیروت ۱۴۱۷ ھـ
شرح الصدور امام جلال الدین عبدالرحمن سیوطی شافعی رحمۃ اللّٰہ علیہ متوفّٰی ۹۱۱ ھـ مرکز اہل السنۃ برکات رضا ہند
طبقات المحدثین امام ابو محمد عبد الله بن محمد المعروف بابي الشيخ اصبحاني رحمۃ اللّٰہ علیہ متوفّٰی ۳۶۹ ھـ مؤسسۃ الرسالۃ
طبقات ابن سعد محمد بن سعد ہاشمی رحمۃ اللّٰہ علیہ متوفّٰی ۹۱۱ ھـ دار الکتب العلمیۃ ۱۴۱۸ ھـ
المجروحین امام حافظ ابوحاتم محمد بن حبان رحمۃ اللّٰہ علیہ متوفّٰی ۳۵۴ ھـ دارالصمیعی ریاض ۱۴۲۰ ھـ
تاریخ بغداد حافظ احمد بن علی بن ثابت خطیب بغدادی رحمۃ اللّٰہ علیہ متوفّٰی ۴۶۳ ھـ دار الکتب العلمیۃ ۱۴۱۷ ھـ
تذکرة الحفاظ امام حافظ شمس الدین ابو عبد اللہ محمد بن احمد ذھبی شافعی رحمۃ اللّٰہ علیہ متوفّٰی ۷۴۸ ھـ دار الکتب العلمیۃ ۱۴۱۹ ھـ
تاریخ الاسلام شمس الدین محمد بن احمد عثمان ذہبی رحمۃ اللّٰہ علیہ متوفّٰی ۷۴۸ ھـ دارالكتابالعر بي، بيروت ۱۴۰۷ ھـ
الخیرات الحسان ابو العباس احمد بن محمد بن علی بن حجر ھیتمی رحمۃ اللّٰہ علیہ متوفّٰی ۹۷۴ ھـ دار الکتب العلمیۃ ۱۴۰۳ ھـ
اخبار مکۃ علامہ ابو عبد اللہ محمد بن اسحاق فاکہی رحمۃ اللّٰہ علیہ متوفّٰی بعد ۲۷۲ ھـ دارخضر بیروت ۱۴۱۹ ھـ
تاریخ المدینة المنورة ابو زید عمر بن شبہ نمیری بصری رحمۃ اللّٰہ علیہ متوفّٰی بعد ۲۶۲ ھـ دار الفکر ۱۴۱۰ ھـ
اخبار ابی حنیفة واصحابه قاضی ابو عمد اللہ حسین بن علی صیحری رحمۃ اللّٰہ علیہ متوفّٰی ۴۳۶ ھـ عالم الکتب ۱۴۰۵ ھـ
التذکرۃ علامہ ابو عبد اللہ بن احمد انصاري قرطبی رحمۃ اللّٰہ علیہ متوفّٰی ۶۷۱ ھـ دارالسلام قاہرہ ۱۴۲۹ ھـ
الزواجز ابو العباس احمد بن محمد بن علی بن حجر ھیتمی رحمۃ اللّٰہ علیہ متوفّٰی ۹۷۴ ھـ دار المعرفۃ بیروت ۱۴۱۹ ھـ
منح الروض علامہ علی بن سلطان محمد قاری رحمۃ اللّٰہ علیہ متوفّٰی ۱۰۱۴ ھـ دار البشائر الاسلامیہ ۱۴۱۹ ھـ
تعظیم قدر الصلاة امام محمد بن نصر مروزی رحمۃ اللّٰہ علیہ متوفّٰی ۳۹۴ ھـ مکتبۃ الدار ۱۴۰۶ ھـ
تنبیه الغافلین ابو اللیث نصر بن محمد بن احمد سمرقندی رحمۃ اللّٰہ علیہ متوفّٰی ۳۷۳ ھـ دار الکتاب العربی ۱۴۲۰ ھـ
اعتلال القلوب محمد بن جعفر بن خرائطی رحمۃ اللّٰہ علیہ متوفّٰی ۳۲۷ ھـ نزار مصطفٰی الباز ۱۴۲۰ ھـ
عمل الیوم واللیلۃ امام ابوبکر احمد بن محمد دینوری ابن سنی رحمۃ اللّٰہ علیہ متوفّٰی ۳۶۴ ھـ دارارقم بیروت ۱۴۱۸ ھـ
البحر المدید امام علامہ ابو العباس احمد بن محمد رحمۃ اللّٰہ علیہ متوفّٰی ۱۲۲۴ ھـ المکتبۃ التوفیقیۃ
التوحید امام ابو بسکر محمد بن اسحاق بن خزیمہ رحمۃ اللّٰہ علیہ متوفّٰی ۳۱۱ ھـ مکتبۃ الرشد ۱۴۱۴ ھـ
المتجرالرابح حافظ ابو محمد شرف الدین عبد المؤمن بن شرف دمیاطی رحمۃ اللّٰہ علیہ متوفّٰی ۷۰۵ ھـ دار خضر ۱۴۲۲ ھـ
الجليس الصالح ابو الفرج معافی بن زکریا بن یحیی المعروف ابن طرار جریری رحمۃ اللّٰہ علیہ متوفّٰی ۳۹۰ ھـ دار الکتب العلمیۃ ۱۴۲۶ ھـ
الانتقاء فی فضائل الثلاثة امام حافظ ابو عمر یوسف بن عبد البر اندلسی پروگریسو بکس
فتاوی خانیہ علامہ قاضی حسن بن منصور بن محمود اوزجندی رحمۃ اللّٰہ علیہ متوفّٰی ۵۹۲ ھـ پشاورپاکستان
بہار شریعت صدر الشریعہ مفتی محمد امجد علی اعظمی رحمۃ اللّٰہ علیہ متوفّٰی۱۳۶۷ھـ مکتبۃ المدینہ
فتاوی فیض الرسول فقیہ ملت مفتی جلال الدین احمد امجدی رحمۃ اللّٰہ علیہ رحمۃ اللّٰہ علیہ متوفّٰی۱۴۲۲ھـ شبیر برادرز لاہور
مراٰۃ المناجیح حکیم الامت مفتی احمد یار خان نعیمی رحمۃ اللّٰہ علیہ متوفّٰی۱۳۹۱ھـ ضیاء القرآن پبلی کیشنز لاہور
وقار الفتاوٰی مفتی وقار الدین قادری رحمۃ اللّٰہ علیہ ناشر بزم وقار الدین
ملفوظات اعلیٰ حضرت اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان رحمۃ اللّٰہ علیہ متوفّٰی۱۳۴۰ھـ مکتبۃ المدینہ
فیضان سنت علامہ مولاناابوبلال محمدالیاس عطارقادری رضوی مدظلہ العالی مکتبۃ المدینہ
٭…٭…٭…٭…٭…٭
دوسروں کو بدگُمانی سے بچائیے
حضور نبی کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم مسجِد میں (معتکف)تھے۔ اور آپ کے پاس ازواج مطہرات موجود تھیں وہ اپنے کمروں کو چلی گئیں تو آپ نے حضرت سیِّدتنا صفیہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا سے فرمایا:ٹھہرو میں بھی (تھوڑی دور تک )تمہارے ساتھ چلتا ہوں ۔آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ان کے ساتھ چلے تو دو اَنصاری صحابہ ملے جو آپ کو دیکھ کر آگے بڑھ گئے ۔ آپ نے ان دونوں کو بُلا کر اِرشاد فرمایا:”یہ (میری زوجہ) صفیہ بنت حیی ہے ۔“ انہوں نے عرض کی:” سُبحانَ اللہ ! یارسولَ اللہ (یعنی یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ ہم آپ سے بدگُمانی کریں ؟)۔ آپ نے ارشاد فرمایا:”شیطان ، انسان کے جسم میں خون کی طرح دوڑتا ہے تو میں نے خوف محسوس کیا کہ کہیں وہ تمہارے دِل میں کوئی وَسْوَسَہ نہ ڈال دے۔“
( بخاری ، کتاب الاعتکاف ، باب زیارة المرأة...الخ، ۱ / ۶۹۹ ، حدیث: ۲۰۳۸)
مجلس المد ینۃ العلمیہ اوردیگرمجالس کی طرف سے پیش کردہ452 کُتُب ورسائل
(شعبہ فیضانِ قراٰن)
01…تفسیرصراط الجنان جلد:1(کل صفحات:524) 02…تفسیرصراط الجنان جلد:2(کل صفحات:495)
03…تفسیرصراط الجنان جلد:3(کل صفحات:573) 04…تفسیرصراط الجنان جلد:4(کل صفحات:592)
05…تفسیرصراط الجنان جلد:5(کل صفحات:617) 06…تفسیرصراط الجنان جلد:6(کل صفحات:717)
07…تفسیرصراط الجنان جلد:7(کل صفحات:619) 08…تفسیرصراط الجنان جلد:8(کل صفحات:674)
09…تفسیرصراط الجنان جلد:9(کل صفحات:619) 10…تفسیرصراط الجنان جلد:10(کل صفحات:899)
11…معرفۃ القراٰن جلد:1(پارہ 1تا5، کل صفحات:404) 12… معرفۃ القراٰن جلد:2(پارہ6تا10، کل صفحات:376)
13… معرفۃ القراٰن جلد:3(پارہ11تا15، کل صفحات:407) 14… معرفۃ القراٰن جلد:3(پارہ11تا15، کل صفحات:407)
(شعبہ فیضانِ حدیث)
01…فیضان ریاض الصالحین جلد:1(کل صفحات:656) 02…فیضان ریاض الصالحین جلد:2(کل صفحات:688)
(شعبہ کُتُب اعلیٰ حضرت)
اُردو کُتُب:
01…راہِ خدامیں خرچ کرنے کے فضائل( رَادُّ الْقَحْطِ وَالْوَبَاء بِدَعْوَۃِ الْجِیْرَانِ وَمُوَاسَاۃِ الْفُقَرَاء )(کل صفحات:40)
02…کرنسی نوٹ کے شرعی احکامات( کِفْلُ الْفَقِیْہِ الْفَاہِم فِيْ اَحْکَامِ قِرْطَاسِ الدَّرَاہِم )(کل صفحات:199)
03…فضائل دعا( اَحْسَنُ الْوِعَاء لِاٰدَابِ الدُّعَاء مَعَہٗ ذَیْلُ الْمُدَّعَاء لِاَحْسَنِ الْوِعَاء )(کل صفحات:326)
04…عیدین میں گلے ملنا کیسا؟( وِشَاحُ الْجِیْدفِيْ تَحْلِیْلِ مُعَانَــقَۃِ الْعِیْد )(کل صفحات:55)
05…والدین، زوجین اور اساتذہ کے حقوق( اَلْحُقُوْق لِطَرْحِ الْعُقُوْق )(کل صفحات:125) 06…حدائق بخشش(کل صفحات:446)
07…معاشی ترقی کا راز(حاشیہ و تشریح تدبیر فلاح ونجات واصلاح)(کل صفحات:41) 08… اَلْوَظِیْفَۃُالْکَرِیْمَۃ (کل صفحات:46)
09…الملفوظ المعروف بہ ملفوظاتِ اعلیٰ حضرت(مکمل چار حصے)(کل صفحات:561) 10…فیضانِ خطبات رِضویہ(کل صفحات:24)
11…شریعت وطریقت( مَقَالَ الْعُرَفَاء بِاِعْزَازِ شَرْعِ وَعُلَمَاء )(کل صفحات:57) 12…بیاض پاک حُجَّۃُالْاِسْلَام (کل صفحات:37)
13…اعلیٰ حضرت سے سوال جواب( اِظْہَارُ الْحَقِّ الْجَلِي )(کل صفحات:100) 14…اعتقادالاحباب(دس عقیدے)(کل صفحات:200)
15…ولایت کا آسان راستہ(تصورِ شیخ)( اَلْیَاقُوْتَۃُ الْوَاسِطَۃ )(کل صفحات:60) 16…کنزالایمان مع خزائن العرفان(کل صفحات:1185)
17…حقوقُ العباد کیسے معاف ہوں ( اَعْجَبُ الْاِمْدَاد )(کل صفحات:47) 18…ایمان کی پہچان(حاشیہ تمہید ِ ایمان)(کل صفحات:74)
19…ثبوتِ ہلال کے طریقے( طُرُقُ اِثْبَاتِ ہِلَال )(کل صفحات:63) 20…اولاد کے حقوق( مَشْعَلَۃُ الْاِرْشَاد )(کل صفحات:31)
عربی کُتُب:
21… جَدُّالْمُمْتَار عَلٰی رَدِّالْمُحْتَار (سات جلدیں ) (کل صفحات:4000)
22… اَلزَّمْزَمَۃُ الْقُمْر ِیَّۃ (کل صفحات:93) 23… اَجْلَی الْاِعْلَام (کل صفحات:70)
24… اَلاِْجَازَاتُ الْمَتِیْنَۃ (کل صفحات:62) 25… اِقَامَۃُ الْقِیَامَۃ (کل صفحات:60) 26… کِفْلُ الْفَقِیْہِ الْفَاھِم (کل صفحات:74)
27… تَمْہِیْدُالْاِیْمَان (کل صفحات:77) 28… اَلْفَضْلُ الْمَوْھَبِی (کل صفحات:46) 29… اَلتَّعْلِیْقُ الرَّضَوِی عَلٰی صَحِیْحِ الْبُخَارِی (کل صفحات:458)
(شعبہ تراجم کُتب)
01…سایَۂ عرش کس کس کوملے گا۔۔۔؟( تَمْہِیْدُ الْفَرْش فِی الْخِصَالِ الْمُوْجِبَۃِ لِظِلِّ الْعَرْش )(کل صفحات:88)
02…مدنی آقا کے روشن فیصلے( اَلْبَاھِر فِیْ حُکْمِ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ بِالْبَاطِنِ وَالظَّاھِر )(کل صفحات:112)
03…نیکیوں کی جزائیں اور گناہوں کی سزائیں ( قُرَّۃُالْعُیُوْن وَمُفَرِّحُ الْقَلْبِ الْمَحْزُوْن )(کل صفحات:142)
04…نصیحتوں کے مدنی پھول بوسیلَۂ احادیثِ رسول( اَلْمَوَاعِظ فِی الْاَحَادِیْثِ الْقُدْسِیَّۃ )(کل صفحات:54)
05…جنت میں لے جانے والے اعمال( اَلْمَتْجَرُ الرَّابِح فِیْ ثَـوَابِ الْعَمَلِ الصَّالِح )(کل صفحات:743)
06… جہنم میں لے جانے والے اعمال(جلد:1)( اَلزَّ وَاجِرعَنِ اقْترَافِ الْکَبَائِر )(کل صفحات:853)
07… جہنم میں لے جانے والے اعمال(جلد:2)( اَلزَّ وَاجِرعَنِ اقْترَافِ الْکَبَائِر )(کل صفحات:1012)
08…امام اعظم عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْاَکْرَم کی وصیتیں ( وَصَایَااِمَامِ اَعْظَم عَلَیْہِ الرَّحْمَہ )(کل صفحات:46)
09…دین ودنیاکی انوکھی باتیں ( اَلْمُسْتَطْرَف فِیْ کُلِّ فَنٍّ مُسْتَظْرَف ، جلد:1)(کل صفحات:552)
10…اصلاحِ اعمال(جلد:1)( اَ لْحَدِیْقَۃُ النَّدِیَّۃ شَرْحُ طَرِیْقَۃِ الْمُحَمَّدِیَّۃ )(کل صفحات:866)
11…مختصرمنہاج العابدین( تَنْبِیْہُ الْغَافِلِیْن مُخْتَصَرُمِنْہَاجِ الْعَابِدِیْن )(کل صفحات:281)
12…نیکی کی دعوت کے فضائل( اَلْاَمْرُ بِالْمَعْرُوْف وَالنَّھْیُ عَنِ الْمُنْکَر )(کل صفحات:98)
13… اللہ والوں کی باتیں (جلد:1)( حِلْیَۃُالْاَوْلِیَاء وَطَبَقَاتُ الْاَصْفِیَاء )(کل صفحات:896)
14… اللہ والوں کی باتیں (جلد:2)( حِلْیَۃُالْاَوْلِیَاء وَطَبَقَاتُ الْاَصْفِیَاء )(کل صفحات:625) 15…شرحُ الصُّدُور(مترجَم) (کل صفحات:572)
16… اللہ والوں کی باتیں (جلد:3)( حِلْیَۃُالْاَوْلِیَاء وَطَبَقَاتُ الْاَصْفِیَاء )(کل صفحات:580) 17…76کبیرہ گناہ( الکبائر )(کل صفحات:264)
18… اللہ والوں کی باتیں (جلد:4)( حِلْیَۃُالْاَوْلِیَاء وَطَبَقَاتُ الْاَصْفِیَاء )(کل صفحات:510) 19…قوت القلوب(مترجم جلد:1)(کل صفحات:826)
20… اللہ والوں کی باتیں (جلد:5)( حِلْیَۃُالْاَوْلِیَاء وَطَبَقَاتُ الْاَصْفِیَاء )(کل صفحات:571) 21…قوت القلوب(مترجم جلد:2)(کل صفحات:784)
22… اللہ والوں کی باتیں (جلد:6)( حِلْیَۃُ الْاَوْلِیَا ء وَطَبَقَا تُ الْاَصْفِیَا ء )(کل صفحات:586) 23…بیٹے کو نصیحت( اَیُّھَاالْوَلَد )(کل صفحات:64)
24…فیضان مزارات ِ اولیاء( کَشْفُ النُّوْر عَنْ اَصْحَابِ الْقُبُوْر )(کل صفحات:144) 25…آنسوؤں کا دریا( بَحْرُالدُّمُوْع )(کل صفحات:300)
26…دنیاسے بے رغبتی اورامیدوں کی کمی( اَلزُّھْدوَقَصْرُالْاَمَل )(کل صفحات:85) 27…حُسنِ اَخلاق( مَکَارِمُ الْاَخْلَا ق )(کل صفحات:102)
28…عاشقانِ حدیث کی حکایات( اَ لرِّحْلَۃ فِیْ طَلَبِ الْحَدِیْث )(کل صفحات:105) 29…152رحمت بھری حکایات(کل صفحات:326)
30…احیاء العلوم(جلد:1)( اِحْیَاءُ عُلُوْمِ الدِّیْن )(کل صفحات :1124) 31…آدابِ دین( اَلْاَدَبُ فِی الدِّیْن )(کل صفحات:63)
32…احیاء العلوم(جلد:3)( اِحْیَاءُ عُلُوْمِ الدِّیْن )(کل صفحات :1290) 33…شاہراہِ اولیاء( مِنْہَاجُ الْعَارِفِیْن )(کل صفحات:36)
34…احیاء العلوم(جلد:2)( اِحْیَاءُ عُلُوْمِ الدِّیْن )(کل صفحات :1393) 35… عُیُوْنُ الْحِکَایَات (مترجم حصہ دوم)(کل صفحات:413)
36… احیاء العلوم(جلد:4)( اِحْیَاءُ عُلُوْمِ الدِّیْن )(کل صفحات:911) 37… عُیُوْنُ الْحِکَایَات (مترجم حصہ اول)(کل صفحات:412)
38… احیاء العلوم(جلد:5)( اِحْیَاءُ عُلُوْمِ الدِّیْن )(کل صفحات:814) 39…احیاء العلوم کا خلاصہ( لُبَابُ الْاِحْیَاء )(کل صفحات:641)
40…ایک چُپ سوسُکھ( حُسْنُ السَّمْت فِی الصَّمْت )(کل صفحات:37) 41…شکرکے فضائل( اَلشُّکْرُ لِلّٰہ عَزَّ وَجَلَّ )(کل صفحات:122)
42…راہِ علم( تَعْلِیْمُ الْمُتَعَلِّم طَرِیقَ التَّعَلُّم )(کل صفحات :102) 43…اچھے برے عمل( رِسَالَۃُ الْمُذَاکَرَۃ )(کل صفحات:122)
44…حکایتیں اورنصیحتیں ( اَلرَّ وْضُ الْفَائِق )(کل صفحات:649) 45…فیضانِ علم وعلما( فَضْلُ الْعِلْمِ وَ الْعُلَمَاء )(کل صفحات:38)
(شعبہ درسی کُتب)
01… دیوان المتنبی مع الحاشیۃ المفیدہ اتقان الملتقی (کل صفحات:104) 02…کتاب العقائد(کل صفحات:64)
03… الجلالین مع حاشیۃ انوارالحرمینالمجلدالاول (کل صفحات:400) 04… الحق المبین (کل صفحات:131)
05… الجلالین مع حاشیۃ انوارالحرمینالمجلدالثانی (کل صفحات:374) 06…فیضانِ سورۂ نور(کل صفحات:128)
07… ریاض الصالحین مع حاشیۃ منہاج العارفین (کل صفحات:124) 08… نصاب النحو (کل صفحات:285)
09… شرح مئۃ عامل مع حاشیۃ الفرح الکامل (کل صفحات:147) 10… فیضان تجو ید (کل صفحات:161)
11… تلخیص المفتاح مع شرحہ الجدیدتنویرالمصباح (کل صفحات:229) 12… نصاب المنطق (کل صفحات:161)
13… منتخب الابواب من احیاء علوم الدین (عربی)(کل صفحات:178) 14… نصاب الادب (کل صفحات:200)
15… دیوان الحماسۃ مع شرح اتقان الفراسۃ (کل صفحات:325) 16… انوارالحدیث (کل صفحات:466)
17… قصیدۃ البردۃ مع شرح عصیدۃ الشھدۃ (کل صفحات:317) 18… نصاب التجو ید (کل صفحات:85)
19… التعلیق الرضوی علی صحیح البخاری (کل صفحات:458) 20… تعریفاتِ نحو یۃ (کل صفحات:53)
21… مراح الارواح مع حاشیۃ ضیاء الاصباح (کل صفحات:182) 22… شرح مائۃ عامل (کل صفحات:38)
23… شرح العقائد مع حاشیۃ جمع الفرائد (کل صفحات:385) 24… نصاب الصرف (کل صفحات:352)
25… نورالایضاح مع حاشیۃ النور والضیاء (کل صفحات:392) 26…خلفائے راشدین(کل صفحات:352)
27… الاربعین النوویۃ فی الأحادیث النبو یۃ (کل صفحات:155) 28… المحادثۃ العربیۃ (کل صفحات:104)
29… شرح الجامی مع حاشیۃ الفرح النامی (کل صفحات:429) 30… نصاب اصولِ حدیث (کل صفحات:95)
31… ھدایۃ النحومع حاشیۃ عنایۃ النحو (کل صفحات:288) 32… تلخیص اصول الشاشی (کل صفحات:144)
33… اصول الشاشی مع احسن الحواشی (کل صفحات:306) 34… الکافیہ مع شرح ناجیہ (کل صفحات:259)
35…مئۃ عامل منظوم(فارسی مع ترجمہ وتشریح)(کل صفحات:28) 36… خاصیات ابواب الصرف (کل صفحات:141)
37… مقدمۃ الشیخ مع التحفۃ المرضیۃ (کل صفحات:117) 38… تیسیرمصطلح الحدیث (کل صفحات:194)
39…فیض الادب (مکمل حصہ اوّل ، دوم)(کل صفحات:228) 40…خلاصۃ النحو(حصہ اول و دوم)(کل صفحات:214)
41… دروس البلاغۃ مع شموس البراعۃ (کل صفحات:242) 42…قصیدہ بردہ سےروحانی علاج(کل صفحات:22)
43… نخبۃ الفکرمع شرح نزھۃ النظر (کل صفحات:175) 44… شرح الفقہ الاکبر ( للقاری )(کل صفحات:231)
45…صرف بہائی مع حاشیہ صرف بنائی(کل صفحات:64) 46… المرقاۃ مع حاشیۃ المشکاۃ (کل صفحات:106)
47… نحو میر مع حاشیۃ نحو منیر (کل صفحات:205)
(شعبہ فیضان مدنی مذاکرہ)
01… قسط2:مقدس تحریرات کےآداب کےبارےمیں سوال جواب(کل صفحات:48)
02… قسط8:سرکار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کااندازِتبلیغ دین(کل صفحات:32) 03…قسط16:نیکیاں چھپاؤ(کل صفحات:108)
04…قسط5:گونگےبہروں کےبارےمیں سوال جواب(کل صفحات:25) 05…قسط6:جنتیوں کی زبان(کل صفحات:31)
06…قسط18:تجدید ایمان وتجدیدِ نکاح کا آسان طریقہ(کل صفحات:27) 07…قسط10: وَلِیُّ اللہ کی پہچان(کل صفحات:36)
08…قسط1:وضوکےبارےمیں وسوسےاوران کاعلاج(کل صفحات:48) 09…قسط12:مساجدکےآداب(کل صفحات:36)
10…قسط7:اصلاحِ امت میں دعوتِ اسلامی کاکردار(کل صفحات:28) 11…قسط17:یتیم کسے کہتے ہیں ؟(کل صفحات:28)
12…قسط4:بلندآوازسےذکرکرنےمیں حکمت(کل صفحات:48) 13…قسط9:یقین کامل کی برکتیں (کل صفحات:32)
14…قسط3:پانی کےبارےمیں اہم معلومات(کل صفحات:48) 15…قسط17:یتیم کسے کہتے ہیں ؟(کل صفحات:37)
16…قسط19:پیری مریدی کی شرعی حیثیت(کل صفحات:32) 17…قسط14:تمام دنوں کاسردار(کل صفحات:32)
18…قسط20:قطب عالم کی عجیب کرامت(کل صفحات:40) 19…قسط11:نام کیسےرکھےجائیں ؟(کل صفحات:44)
20…قسط15:اپنےلئےکفن تیاررکھناکیسا؟(کل صفحات:32) 21…قسط13:ساداتِ کرام کی تعظیم(کل صفحات:30)
(شعبہ تخریج)
01…صحابَۂ کرام رِضْوَانُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِمْ اَجْمَعِیْن کا عشق رسول(کل صفحات:274)
02…فیضان یٰسٓ شریف مع دعائے نصف شعبان المعظم(کل صفحات:20) 03…تحقیقات(کل صفحات:142)
04…بہارشریعت جلدسوم(حصہ14تا20)(کل صفحات:1332) 05…فیضانِ نماز(کل صفحات:49)
06…جنت کے طلبگاروں کے لئے مدنی گلدستہ(کل صفحات:470) 07…جنتی زیور(کل صفحات:679)
08…بہارشریعت جلد دوم(حصہ7تا13)(کل صفحات:1304) 09…آئینَۂ قیامت(کل صفحات:108)
10…بہارشریعت جلد اول (حصہ 1تا6)(کل صفحات:1360) 11…علم القرآن(کل صفحات:244)
12…اُمہات المؤٔمنین رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُن (کل صفحات:59) 13…آئینَۂ عبرت(کل صفحات:133)
14…عجائب القراٰن مع غرائب القراٰن(کل صفحات:422) 15…اربعین حنفیہ(کل صفحات:112)
16…بہارشریعت(سولہواں حصہ)(کل صفحات:312) 17…سوانح کربلا(کل صفحات:192)
18…گلدستہ عقائد واعمال(کل صفحات:244) 19…منتخب حدیثیں (کل صفحات:246)
20…سیرتِ رسولِ عربی(کل صفحات:758) 21…کراماتِ صحابہ(کل صفحات:346)
22…اچھے ماحول کی برکتیں (کل صفحات:56) 23…اخلاق الصالحین(کل صفحات:78)
24…جہنم کے خطرات(کل صفحات:207) 25…19دُرُودوسلام(کل صفحات:16) 26…حق وباطل کا فرق(کل صفحات:50) 27…اسلامی زندگی(کل صفحات:170) 28…بہشت کی کنجیاں (کل صفحات:249) 29…سرمایَۂ آخرت(کل صفحات:200) 30…مکاشفۃ القلوب(کل صفحات:692) 31…سیرتِ مصطفٰی(کل صفحات:875)
(شعبہ فیضانِ صحابہ)
01…فیضانِ فاروقِ اعظم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ (جلداول)(کل صفحات:864) 02…فیضان امیرمعاویہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ (کل صفحات:288)
03…فیضانِ فاروقِ اعظم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ (جلددوم)(کل صفحات:856) 04…فیضانِ سعیدبن زید رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ (کل صفحات:32)
05…حضرت عبدالرحمٰن بن عوف رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ (کل صفحات:132) 06…حضرت ابوعبیدہ بن جراح رَضِیَ اللہُ عَنْہ (کل صفحات:60)
07…حضرت سعدبن ابی وقاص رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ (کل صفحات:89) 08…فیضانِ صدیق اکبر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ (کل صفحات:720)
09…حضرت طلحہ بن عبیداللہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ (کل صفحات:56) 10…حضرت زبیربن عوام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ (کل صفحات:72)
(شعبہ فیضانِ صحابیات)
01…بارگاہِ رسالت میں صحابیات کےنذرانے(کل صفحات:48)
02…فیضانِ حضرت آسیہ ( رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہَا ) (کل صفحات:36) 03…فیضان بی بی ام سلیم(کل صفحات:60)
04…صحابیات اورنصیحتوں کےمدنی پھول(کل صفحات:144) 05…صحابیات اورپردہ(کل صفحات:56)
06…فیضانِ بی بی مریم ( رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہَا ) (کل صفحات:91) 07…شانِ خاتونِ جنت(کل صفحات:501)
08…صحابیات اورعشق رسول(کل صفحات:64) 09…فیضانِ خدیجۃ الکبریٰ (کل صفحات:84)
10…فیضانِ امہاتُ المؤمنین(کل صفحات:367) 11…فیضانِ عائشہ صدیقہ(کل صفحات :608)
(شعبہ اصلاحی کُتب)
01…اعرابی کےسوالات عربی آقا صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کےجوابات(کل صفحات:118) 02…تکبر(کل صفحات:97)
03…حضرت سیِّدُناعمربن عبدالعزیزکی 425حکایات(کل صفحات:590) 04…حسد(کل صفحات:97)
05…غوثِ پاک رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کے حالات(کل صفحات :106) 06…بدگُمانی(کل صفحات:57)
07…40فرامین مصطفے ٰصَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم (کل صفحات :87) 08…حرص(کل صفحات:232)
09…اسلام کی بنیادی باتیں (حصہ سوم)(کل صفحات:352) 10…ریاکاری(کل صفحات:170)
11…اسلام کی بنیادی باتیں (حصہ دوم)(کل صفحات:104) 12…فکرِ مدینہ(کل صفحات:164)
13…اسلام کی بنیادی باتیں (حصہ اول) (کل صفحات:60) 14…بغض وکینہ(کل صفحات:83)
15…اعلیٰ حضرت کی انفرادی کوششیں (کل صفحات :49) 16…بدشگونی(کل صفحات:128)
17…نیک بننے اوربنانے کے طریقے(کل صفحات:696) 18…بہترکون؟(کل صفحات:139)
19…فیضانِ اسلام کورس(حصہ دوم)(کل صفحات:102) 20…فیضانِ زکوٰۃ(کل صفحات:150)
21…فیضانِ اسلام کورس(حصہ اول)(کل صفحات:79) 22…تربیت ِ اولاد(کل صفحات:187)
23…محبوبِ عطار کی 122حکایات(کل صفحات:208) 24…عشر کے احکام(کل صفحات:48)
25…نیکیاں برباد ہونے سے بچائیے(کل صفحات:103) 26…نورکاکھلونا(کل صفحات:32)
27…نماز میں لقمہ دینے کے مسائل(کل صفحات:39) 28…ٹی وی اورمُووی(کل صفحات:32)
29…چندہ کرنےکی شرعی احتیاطیں (کل صفحات:47) 30…تکلیف نہ دیجئے(کل صفحات:219)
31…اسلام کے بنیادی عقیدے(کل صفحات:122) 32…فیضان معراج(کل صفحات:134)33…امتحان کی تیاری کیسے کریں ؟(کل صفحات:32) 34…سنتیں اورآداب(کل صفحات:125)
35…قوم جِنّات اورامیراہلسنّت(کل صفحات :262) 36…انفرادی کوشش(کل صفحات:200)
37…توبہ کی روایات وحکایات(کل صفحات:124) 38…نام رکھنےکےاحکام(کل صفحات:180)
39…مزاراتِ اولیاء کی حکایات(کل صفحات:48) 40…ضیائے صدقات(کل صفحات:408)
41…قبرمیں آنے والادوست(کل صفحات:115) 42…خوف ِخدا عَزَّ وَجَلَّ (کل صفحات:160)
43…کامیاب طالب علم کون؟(کل صفحات :63) 44…شرح شجرہ قادریہ(کل صفحات:215)
45…طلاق کے آسان مسائل(کل صفحات:30) 46…کامیاب استاذ کون؟(کل صفحات:43)
47…جلدبازی کے نقصانات(کل صفحات:168) 48…جنت کی دوچابیاں (کل صفحات:152)
49…حافظہ کیسے مضبوط ہو؟(کل صفحات:200) 50…مفتی دعوتِ اسلامی(کل صفحات:96)
51…تجہیزوتکفین کاطریقہ(کل صفحات:358) 52…فیضانِ احیاء العلوم(کل صفحات:325)
53…احادیثِ مبارکہ کے انوار(کل صفحات :66) 54…تنگ دستی کے اسباب(کل صفحات:33)
55…آیاتِ قراٰنی کے انوار(کل صفحات:62) 56…حج وعمرہ کامختصرطریقہ(کل صفحات:48)
57…جیسی کرنی ویسی بھرنی(کل صفحات:110) 58…تذکرہ صدرالافاضل(کل صفحات:25)
59…فیضانِ چہل احادیث(کل صفحات :120) 60…وہ ہم میں سےنہیں (کل صفحات:112)
61…تعارف امیر اہلسنّت(کل صفحات:100) 62…آقاکاپیاراکون؟(کل صفحات:63)
(شعبہ امیراہلسنت)
01…علم وحکمت کے 125مدنی پھول(تذکرہ امیراہلسنت قسط5)(کل صفحات:102) 02…گونگا مبلغ(کل صفحات :55)
03…سرکار صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کاپیغام عطار کے نام(کل صفحات :49) 04…گمشدہ دولہا(کل صفحات:33)
05…حقوق العبادکی احتیاطیں (تذکرہ امیراہلسنت قسط 6)(کل صفحات:47) 06…خوفناک بلا(کل صفحات :33)
07…اصلاح کاراز(مدنی چینل کی بہاریں حصہ دوم)(کل صفحات :32) 08…ناکام عاشق(کل صفحات :32)
09… تذکرۂ امیراہلسنّت(قسط7)(پیکرشرم وحیا)(کل صفحات :86) 10…انوکھی کمائی(کل صفحات :32)
11…25کرسچین قیدیوں اور پادری کا قبولِ اسلام(کل صفحات :33) 12…سنگرکی توبہ(کل صفحات:32)
13…دعوتِ اسلامی کی جیل خانہ جات میں خدمات(کل صفحات :24) 14…بیٹےکی رہائی(کل صفحات :32)
15…تذکرۂ امیراہلسنّت(قسط3)(سنّتِ نکاح)(کل صفحات :86) 16…قبر کھل گئی(کل صفحات :48)
17…شادی خانہ بربادی کے اسباب اوران کا حل(کل صفحات :16) 18…نورہدایت(کل صفحات :32)
19…پانچ روپےکی برکت سےسات شادیاں (کل صفحات:32) 20…پراسرارکتا(کل صفحات :27)
21…آداب مرشدِ کامل(مکمل پانچ حصے)(کل صفحات:275) 22…اجنبی کا تحفہ(کل صفحات :32)
23…اوباش دعوتِ اسلامی میں کیسےآیا؟(کل صفحات:32) 24…چمکدارکفن(کل صفحات :32)
25…میں نے ویڈیوسینٹر کیوں بند کیا؟(کل صفحات:32) 26…کینسرکاعلاج(کل صفحات :32)
27…غریب فائدےمیں ہے(بیان 1)(کل صفحات:30) 28…روحانی منظر(کل صفحات:32)
29…دعوتِ اسلامی کی مَدَنی بہاریں (کل صفحات :220) 30…نادان عاشق(کل صفحات:32)
31…میں نے مدنی برقع کیوں پہنا؟(کل صفحات :33) 32…غافل درزی(کل صفحات :36)
33…جوانی کیسےگزاریں ؟(بیان2)(کل صفحات:32) 34…جنوں کی دنیا(کل صفحات :32)
35…اداکاری کاشوق کیسےختم ہوا؟(کل صفحات:32) 36…خوشبودارقبر(کل صفحات:32)
37…مخالفت محبت میں کیسے بدلی؟(کل صفحات:33) 38…شرابی کی توبہ(کل صفحات :33)
39…چمکتی آنکھوں والے بزرگ(کل صفحات:32) 40…بھیانک حادثہ(کل صفحات :30)
41…چل مدینہ کی سعادت مل گئی(کل صفحات :32) 42…بدنصیب دولہا(کل صفحات :32)
43…تذکرہ ٔامیراہلسنّت(قسط2)(کل صفحات:48) 44…دلوں کاچین(کل صفحات:32)
45…تذکرۂ امیراہلسنّت(قسط4)(کل صفحات :49) 46…بابرکت روٹی(کل صفحات :32)
47…نومسلم کی دردبھری داستان(کل صفحات :32) 48…مردہ بول اٹھا(کل صفحات:32)
49…والدہ کانافرمان امام کیسےبنا؟(کل صفحات :32) 50…آنکھوں کاتارا(کل صفحات :32)
51…نورانی چہرے والے بزرگ(کل صفحات :32) 52…مدینے کامسافر(کل صفحات :32)
53…بداطوارشخص عالِم کیسےبنا؟(کل صفحات:32) 54…کفن کی سلامتی(کل صفحات:32)
55…والدین کےنافرمان کی توبہ(کل صفحات:32) 56…اسلحے کا سوداگر(کل صفحات :32)
57…تذکرہ ٔامیراہلسنّت(قسط1)(کل صفحات:49) 58…باکردارعطاری(کل صفحات:32)
59…بریک ڈانسرکیسے سدھرا؟(کل صفحات:32) 60…ہیروئنچی کی توبہ(کل صفحات :32)
61…معذور بچی مبلغہ کیسے بنی؟(کل صفحات :32) 62…بدکردارکی توبہ(کل صفحات :32)
63…عطاری جن کا غُسْلِ میِّت(کل صفحات:24) 64…سینما گھر کا شیدائی(کل صفحات:32)
65…قاتل امامت کے مصلے پر(کل صفحات :32) 66…ڈاکوؤں کی واپسی(کل صفحات:32)
67…ڈانسربن گیاسنتوں کاپیکر(کل صفحات:32) 68…حیرت انگیزگلوکار(کل صفحات:32)
69…ولی سے نسبت کی برکت(کل صفحات :32) 70…بری سنگت کا وبال(کل صفحات :32)
71…اغواشدہ بچوں کی واپسی(کل صفحات :32) 72…بے قصورکی مدد(کل صفحات :32)
73…ڈانسرنعت خوان بن گیا(کل صفحات:32) 74…راہِ سنّت کامسافر(کل صفحات :32)
75…ساس بہو میں صلح کا راز(کل صفحات :32) 76…حیرت انگیزحادثہ(کل صفحات:32)
77…خوفناک دانتوں والا بچہ(کل صفحات :32) 78…میں نیک کیسے بنا؟(کل صفحات :32)
79…نشے بازکی اصلاح کاراز(کل صفحات:32) 80…عجیب الخلقت بچی(کل صفحات:32)
81…شرابی، مؤذن کیسے بنا؟(کل صفحات :32) 82…قبرستان کی چڑیل(کل صفحات :24)
83…کرسچین مسلمان ہوگیا(کل صفحات :32) 84…فلمی اداکارکی توبہ(کل صفحات :32)
85…مفلوج کی شفایابی کاراز(کل صفحات:32) 86…سینگوں والی دلہن(کل صفحات :32)
87…بدچلن کیسےتائب ہوا؟(کل صفحات:32) 88…کالے بچھوکاخوف(کل صفحات:32)
89…جرائم کی دنیاسے واپسی(کل صفحات :32) 90…عمامہ کےفضائل(کل صفحات:517)
91…جھگڑالوکیسےسدھرا؟(کل صفحات:32) 92…چندگھڑیوں کا سودا(کل صفحات :32)
93…کرسچین کاقبولِ اسلام(کل صفحات :32) 94…میوزکل شوکامتوالا(کل صفحات :32)
95…بھنگڑے بازسدھرگیا(کل صفحات :32) 96…گلوکارکیسے سدھرا؟(کل صفحات:32)
97…خوش نصیبی کی کرنیں (کل صفحات :32) 98…میں حیادار کیسے بنی؟(کل صفحات:32)
99…جواری وشرابی کی توبہ(کل صفحات:32) 100…مجوسی کاقبول اسلام(کل صفحات:62)
101…صلوٰۃوسلام کی عاشقہ(کل صفحات :33) 102…مدنی ماحول کیسےملا؟(کل صفحات:56)
103…سنّت رسول کی محبت(کل صفحات :32) 104…فیضانِ امیراہلسنّت(کل صفحات :101)
105…میٹھےبول کی برکتیں (کل صفحات:32) 106…ڈرامہ ڈائریکٹرکی توبہ(کل صفحات :32)
107…رسائل مدنی بہار(کل صفحات :368) 108…ماڈرن نوجوان کی توبہ(کل صفحات:32)
(شعبہ اولیاوعلما)
01…فیضانِ مولانا محمد عبد السلام قادری(کل صفحات:70)
02…فیضانِ بہاؤالدین ذکریاملتانی(کل صفحات:74) 03…عطارکاپیارا(کل صفحات:166)
04…فیضانِ مفتی احمد یار خان نعیمی(کل صفحات:71) 05…فیضانِ بابا بھلے شاہ(کل صفحات:75)
06…فیضانِ محدثِ اعظم پاکستان(کل صفحات:62) 07…فیضانِ حافظِ ملت(کل صفحات:32)
08…فیضانِ حضرت صابرپاک(کل صفحات:53) 09…فیضانِ علامہ کاظمی(کل صفحات:70)
10…فیضانِ سیداحمدکبیررفاعی (کل صفحات:33) 11…فیضانِ پیرمہرعلی شاہ(کل صفحات:33)
12…فیضانِ شمس العارفین(کل صفحات:79) 13…فیضانِ سلطان باہو(کل صفحات:32)
14…فیضانِ عثمان مروندی(کل صفحات:43) 15…فیضانِ داتاعلی ہجویری(کل صفحات:84)
16…فیضانِ بابافریدگنج شکر(کل صفحات:115) 17…فیضانِ خواجہ غریب نواز(کل صفحات:32)
(شعبہ بیانات دعوتِ اسلامی)
01…مجموعہ بیانات دعوت اسلامی(کل صفحات:500) 02…گلدستَۂ درودوسلام(کل صفحات:660)
03…باطنی بیماریوں کی معلومات(کل صفحات:352)
مجلس المد ینۃ العلمیہ کی معاونت سےدیگرمجالس کی کُتُب
(مجلِسِ افتاء)
01…ویلنٹائن ڈے(قرآن وحدیث کی روشنی میں )(کل صفحات:34) 02تا09…فتاوٰی اہلسنّت(آٹھ حصے)
10… فتاوٰی اہلسنّت احکام روزہ واعتکاف(کل صفحات:34) 11…عقیدۂ آخرت(کل صفحات:41)
12…مالِ وراثت میں خیانت مت کیجئے(کل صفحات:42) 13…فتاوٰی اہلسنّت احکامِ زکوٰۃ(کل صفحات:612)
14…بنیادی عقائد و معمولات اہلسنت(کل صفحات:135) 15…کرسی پرنمازپڑھنےکےاحکام(کل صفحات:34)
(مرکزی مجلِسِ شُورٰی)
01…اجتماعی سنتِ اعتکاف کا جدول(کل صفحات:195) 02…کامل مرید(کل صفحات:48)
03…مدنی کاموں کی تقسیم کےتقاضے(کل صفحات:73) 04…وقفِ مدینہ(کل صفحات:86)
05…گستاخِ رسول کاعملی بائیکاٹ(کل صفحات:52) 06…12مدنی کام(کل صفحات:72)
07… اللہ والوں کااندازِتجارت(کل صفحات:68) 08…عشق رسول(کل صفحات:54)
09…فیصلہ کرنےکےمدنی پھول(کل صفحات:56) 10…مقصدِحیات(کل صفحات:60)
11…صحابی کی انفرادی کوشش(کل صفحات:124) 12…جنت کاراستہ(کل صفحات:56)
13…یہ وقت بھی گزرجائےگا(کل صفحات:39) 14…فیضانِ مرشد(کل صفحات:46)
15…رسائل دعوت اسلامی(کل صفحات:422) 16…موت کاتصور(کل صفحات:44)
17…شوہرکوکیساہوناچاہئے؟(کل صفحات:47) 18…بیٹی کی پرورش(کل صفحات:72)
19…پیرپراعتراض منع ہے(کل صفحات:59) 20…موت کاتصور(کل صفحات:44)
21…علماپراعتراض منع ہے(کل صفحات:34) 22…پیارےمرشد(کل صفحات:48)
23…تنظیمی کاموں کی تقسیم(کل صفحات:50) 24…علم وعلماکی شان(کل صفحات:51)
25…ایک زمانہ ایساآئےگا(کل صفحات:51) 26…جامع شرائط پیر(کل صفحات:87)
27…ہمیں کیاہوگیاہے؟(کل صفحات:116) 28…صدائے مدینہ (کل صفحات:32)
29…گناہوں کی نحوست(کل صفحات:112) 30…سیرتِ ابودرداء(کل صفحات:75)
31…ایک آنکھ والاآدمی(کل صفحات:48) 32…صدقےکاانعام(کل صفحات:60)
33…سوداوراس کاعلاج(کل صفحات:92) 34…غیرت مندشوہر(کل صفحات:47)
35…احساسِ ذمہ داری(کل صفحات:50) 36…برائیوں کی ماں (کل صفحات:112)
37…چوک درس (کل صفحات:36)
٭…٭…٭…٭…٭…٭
1 یہ روایت درست نہیں اس روایت کی سند میں ایک راوی محمد بن زنبور ہے جس پر کلام ہے۔چنانچہ امام ابو احمد حاکم کبیر رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں : یہ روایت میں مضبوط نہیں ۔حضرت سیِّدُناابنِ خزیمہرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہنے اسے ترک کیا ہے۔ امام ابن حبان رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے” کتاب الثقات“میں فرمایا: یہ کبھی خطا بھی کرتا ہے۔(تھذیب التھذیب،۷/۱۵۶)
حقیقت یہ ہے کہ حضرت سیِّدُنافضیل بن عیاضرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ تو امام اعظم ابو حنیفہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہکے مداح ہیں ۔ چنانچہ حضرت سیِّدُناسعید بن منصور رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضرت سیِّدُنافضیل بن عیاض رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کو فرماتے ہوئے سنا: امام ابو حنیفہرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فقیہ تھے،فقہ میں معروف،تقوٰی وپرہیزگاری میں مشہور اور اپنے پاس رہنے والوں پر احسان کرنے میں شہرت رکھتے تھے۔علم سکھانے میں شب وروز مصروف رہنے والے،طویل خاموشی اختیار ☜
کرنے والے ،کم گو اورسلطان کے مال سے دور بھاگنے والےتھے۔جب کسی مسئلے میں کوئی صحیح حدیث ملتی تو اس کی پیروی کرتےخواہ وہ صحابہ وتابعین سے کیوں نہ ہوورنہ قیاس کرتے اور کیا ہی اچھا قیاس کرتے۔(تاریخ بغداد،۱۳/۳۴۰)
حضرت سیِّدُناامام یزید بن ہارون رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہسےپوچھا گیا: امام ابو حنیفہرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ بڑے عالم ہیں یا حضرت سفیان ثوری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی۔فرمایا: امام ابو حنیفہ ۔(تاریخ بغداد،۱۳/۳۴۲)
2 امام ذہبی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی’’تذکرۃ الحفاظ‘‘میں حضرت سیِّدُنا سفیان ثوری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی کا یہ فرمان نقل کرنے کے بعد فرماتے ہیں : خدا کی قسم! آپ نے سچ بات کہی کیونکہ طلبِ حدیث حدیث کے علاوہ چیز ہے جو عُرف میں اصل حدیث کی تحصیل سے زائد اُمُور کا نام ہے اوران اُمُور میں سے کثیر علم تک لے جاتے ہیں جبکہ اکثر وہ اُمُور ہوتے ہیں جن میں مُحدِّث انتہائی دلچسپی لیتا ہے اور ان میں اس کی نفسانی اَغراض ہوتی ہیں ،وہ رضائے الٰہی کے لیے کیے جانے والے اعمال نہیں ہوتےمثلاً نادِر نسخوں کو حاصل کرنا ،عالی سندوں کی طلب میں رہنا،زیادہ شیوخ بنانا،اپنے اَلقابات اور تعریف پر خوش ہونا،روایتِ حدیث کے لیے طویل عمر کی تمنا کرنا،منفرد ہونا وغیرہ تو جب طلبِ حدیث میں یہ آفات ہیں تو تجھےان آفات سے نجات کب ملے گی،کب تجھے اِخلاص حاصل ہوگا۔(آگے چل کر فرماتے ہیں : )حضرت سیِّدُنا سفیان ثوری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی ہی کافرمان ہے : اگر نیت دُرست ہو تو طلبِ حدیث سے افضل کوئی عمل نہیں ۔(تذکرة الحفاظ،۱/۱۵۲،جزء ۱)
امام ذہبی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی اپنی کتاب’’تاریخ الاسلام‘‘ میں اس قول کے تحت لکھتے ہیں : طلبِ حدیث طلبِ علم سے زائد مقدار کا نام ہے اوریہ عُرف میں ایسے اُمُور کا لقب ہے جن کا علم میں عمل دخل کم ہوتا ہے،جب حدیثِ نبوی کے علم سے شمار ہونے والے فنون کا یہ عالم ہے تو جدل،عقلیات اور یونانی منطق کا علم حاصل کرنے سے متعلق تمہارا کیا خیال ہے؟آہ،واحسرتا ایسے لوگوں کی قلت پر جو دین اسلام کی کما حقّہ معرفت رکھتے ہیں ،ہائے حسرت کہ یہ مخصوص قلیل لوگ بھی ختم ہوتے جا رہے ہیں ،جب حضرت سیِّدُناسفیان ثوری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیجیسا شخص علمِ حدیث کو بقدر ضرورت حاصل کرکے اس سے بچنے کی تمنا کر رہا ہے تو ہم کیا کہہ سکتے ہیں ؟ واغوثاہ۔(تاریخ الاسلام للذھبی،۱۰/۲۳۳،دار الكتاب العربي، بيروت)
نیز اپنی کتاب ’’سیراعلام النبلاء‘‘ میں فرماتے ہیں : خاص حدیث سے محبت کرنا اور اس پر رضائے الٰہی کے لیے عمل کرنا مطلوب شریعت اور توشَۂ آخرت سے ہے لیکن اس کی روایت اور اس کی عالی سندوں سے محبت کرنا اور اس کی فہم و معرفت پر اِترانا قابل مَذمّت اورخطرناک ہےاوریہی وہ چیزہےجس سےحضرت سیِّدُناسفیان ثوری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیاورحضرت سیِّدُنایحییٰ بن سعیدقطا نعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰن اور اہل مُراقَبہ بزرگوں نے خوف کیا کیونکہ طلبِ حدیث میں کثیر ایسے اُمُور ہیں جومُحدِّث پر وَبال ہیں ۔ (سیر اعلام النبلاء،۷/۱۹۴)
3 تاریخ بغداد،رقم۴۳۵۴،ابو احمد حبیب بن نصر المھلبی ،۸/ ۲۴۷
4 آپرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کی پیٹ بھر کر کھانے میں عبادت کی نیت ہوتی تھی،چنانچہ جب آپ رات کو پیٹ بھر کر کھاتے تو شب بیداری فرماتے اور دن میں سیر ہو کر کھاتے تو اس کے بعد نمازیں پڑھتے اور ذکر و اذکار کرتے جیسا کہ دعوتِ اسلامی کے اشاعتی ادارے مکتبۃ المدینہ کی مطبوعہ احیاء العلوم جلد3،صفحہ293میں مذکور ہے۔
5 دعوتِ اسلامی کے اشاعتی ادارے مکتبۃ المدینہ کی مطبوعہ بہارِ شریعت،حصہ16،جلد3،صفحہ373 پر ہے: بعض صورت میں کھانا فرض ہے کہ کھانے پر ثواب ہے اور نہ کھانے میں عذاب۔ اگر بھوک کا اتنا غلبہ ہو کہ جانتا ہو کہ نہ کھانے سے مرجائے گا تو اتنا کھالینا جس سے جان بچ جائے فرض ہے اور اس صورت میں اگر نہیں کھایا یہاں تک کہ مر گیا تو گنہگار ہوا۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع