30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
حضرت سیّدُنا عمران قَصیر عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَدِیْر
ان عبادت گزار بزرگوں میں سے ایک صاحب بصیرت واعظ، لوگوں کو راہِ حق پر گامزن کر کے آخرت کی تیاری پر اُبھارنے والے حضرت سیِّدُنا ابو بکر عمران قَصیر عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَدِیْر بھی ہیں ۔آپ اپنے معاملے میں احتیاط کرنے والے اورتُہمت کی جگہوں سے ہوشیار رہنے والے تھے۔
(8253)…ایک شخص کا بیان ہے کہ حضرت سیِّدُنا عمران قَصیر عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَدِیْر فرمایا کرتے:کیاکوئی ایسا آزاد شریف شخص نہیں جو زندگی کے تھوڑے دنوں پر صبر کرنے والا ہو؟
ایمان کا ذائقہ:
(8254)…حضرت سیِّدُنا عمران قَصیر عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَدِیْر فرماتے ہیں :اے زندگی کے تھوڑے دنوں پر صبر کرنے والے کریم شخص!تمہارے دلوں پر حرام ہے کہ ایمان کا ذائقہ پائیں حتّٰی کہ دنیا میں زہد اختیار کر لیں ۔
(8255)…حضرت سیِّدُناعمران قَصیر عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَدِیْر بیان کرتےہیں :حضرت سیِّدُناموسٰی عَلَیْہِ السَّلَام نے بارگاہِ الٰہی میں عرض کی:اےمیرےرب عَزَّ وَجَلَّ !تجھےکہاں تلاش کروں ؟ اللہعَزَّ وَجَلَّ نےارشادفرمایا:مجھے ٹوٹے دل والےلوگوں کےپاس تلاش کروکہ میری رحمت ہرروزدونوں بازوؤں کےپھیلاؤکےبقدران کے قریب ہوتی ہے، اگرنہ ہو تووہ گِر جائیں گے۔
بہتر کون؟
(8256)…حضرت سیِّدُنازُہَیْرسَلُولی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی بیان کرتے ہیں کہ میں حضرت سیِّدُنا ہارون بن رَباب عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَہَّاب اور ان جیسے دیگر مَشائخ کے ساتھ حضرت سیِّدُنا عمران قَصیر عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَدِیْر کی مجلس میں حاضر ہوا جبکہ وہ بیان فرما رہے تھے۔ ان کی مجلس میں دو نوجوان لڑکے بھی بیٹھے تھے، انہوں نے رونا شروع کر دیا جبکہ مشائخ نہ روئے۔ میں نے اپنے دل میں کہا: ان بزرگوں سے تو یہ لڑکے بہتر ہیں ۔جب مجلس ختم ہوگئی تو لڑکے باہر نکلے اور ایک دوسرے سے باتیں اور ہنسی مذاق کرنے لگے جبکہ وہ مشائخ اس حال میں باہر آئے جس حال میں وہ تھے گویاکہ ان کے سروں پر پرندے بیٹھے ہوں ۔
صالح دل اور کثرتِ تلاوت:
(8257)…حضرت سیِّدُنا عمران قصیر عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَدِیْر کی صاحبزادی بیان کرتی ہیں کہ میرے والد ماجد نے اللہ عَزَّ وَجَلَّ سے عہد کیا ہوا تھا کہ وہ رات میں کبھی نہ سوئیں گےمگر یہ کہ نیند غالب آجائے۔ میرے والد فرماتے ہیں : میں ایک لمبے عرصےسے اللہعَزَّ وَجَلَّ کی اطاعت میں مشغول ہوں اگر رکوع، سجود اورتلاوتِ قرآن نہ ہوتے تو میں
دنیا کی زندگی میں سانس لینا بھی گوارا نہ کرتا۔ آپ نے اپنے معاملات میں مَشَقَّت کو جاری رکھا حتّٰی کہ آپ کا انتقال ہوگیا۔ آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کی صاحبزادی مزید بیان کرتی ہیں کہ میں نے خواب میں اپنے والد ماجد کو دیکھا تو ان سے پوچھا: اے ابا جان! جب سے آپ ہم سے جُدا ہوئے ہیں اب تو کوئی عہد نہ رہا۔ آپ نے فرمایا: اے بیٹی! جو زندگی سے جُدا ہو کر تنگ وتاریک قبر میں آگیا ہے اس سے کیسے عہد کی بات کرتی ہو۔ میں نے پوچھا: ابا جان! ہم سے جُدا ہوکر آپ کا کیا حال ہے؟ فرمایا: اے بیٹی! میں بہت اچھے حال میں ہوں ، ہمارے لئے گھر بنائے گئے، بستر بچھائے گئے اور ہم صبح وشام جنت کا کھانا کھاتے ہیں ۔میں نے پوچھا:آپ اس مقام پرکیسےپہنچے؟آپ نے جواب دیا: صالح دل اور قرآن پاک کی کثرت سے تلاوت کرنے کے سبب۔
(8258)…حضرت سیِّدُنا عمران قَصیر عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَدِیْر فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت سیِّدُنا ابو رجاء رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کو فرماتے ہوئے سنا کہ حضرت سیِّدُنا ابو دَرداء رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں : مجھے 100 دینار صدقہ کرنے سے 100 مرتبہ اللہ اَکْبَر کہنا زیادہ پسند ہے۔
فقیہ کون؟
(8259)…حضرت سیِّدُنا عمران قَصیر عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَدِیْر فرماتے ہیں کہ ایک شخص نے حضرت سیِّدُنا حسن بصری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی سے ایک مسئلے میں گفتگو کی اورکہا:”میں نے ایک فقیہ سے بھی پوچھا تھا۔“ توآپ نے فرمایا: کمال ہے! تو نے کبھی فقیہ کو دیکھا بھی ہے؟ فقیہ تو وہ ہوتا ہے جو دنیا سے بے رغبت ہو، دینی معاملات میں کامل بصیرت رکھتا ہواور اپنے رب کی عبادت کرنے کا پابند ہو۔
اہل وعیال کے خرچ میں تنگی نہ کرو:
(8260)…حضرت سیِّدُنا عمران قَصیر عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَدِیْر بیان کرتے ہیں کہ حضرت سیِّدُنا حسن بصری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی نے فرمایا: جب تم دیکھو کہ کوئی شخص اپنے اہل و عیال پر رزق کی تنگی کرتا ہے تو اس کا یہ عمل اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی بارگاہ میں انتہائی خبیث ہے۔
(8261)…سیِّدُنا عمران قصیر عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَدِیْر بیان کرتے ہیں کہ حضرت سیِّدُنا جعفر بن زید رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرمایا کرتے:(الٰہی!) نیکو کاروں کے منہ سے تیرا ذکر بڑا ہی میٹھا ہے اور مومنین کے دلوں میں تیری بڑی عظمت ہے۔
سیِّدُنا عمران قَصیر عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَدِیْر کی مرویات
حضرت سیِّدُنا عمران قصیر عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَدِیْر نے حضرت سیِّدُنا اَنَس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے ملاقات بھی کی اور ان سےاحادیث روایت بھی کیں ۔اس کے علاوہ آپ نے حضرت سیِّدُنا عطا بن ابو رباح، حضرت سیِّدُنا رجاء عُطَارِدِی، حضرت سیِّدُنا حسن بصری، حضرت سیِّدُنامحمد بن سیرین اور ان کے بھائی حضرت سیِّدُنا اَنس، حضرت سیِّدُنا قیس بن سعد، حضرت سیِّدُنا عبْدُاللہ بن دینار، حضرت سیِّدُنا امام نافِع، حضرت سیِّدُنا ابو غالِب، حضرت سیِّدُنا عبْدُاللہ بن ابو قَلُوص اور حضرت سیِّدُنا ابنِ ابو نَجِیحرَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَام سے احادیث روایت کیں ۔
آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ سے احادیث روایت کرنے والوں میں حضرت سیِّدُنا امام سفیان ثَوری اور حضرت سیِّدُنا امام شُعبہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِمَا شامل ہیں ۔
(8262)…حضرت سیِّدُنا اَنَس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں کہ حُضور نبی کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ، امیرالمؤمنین حضرت سیِّدُنا ابو بکر اور امیرالمؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا (نماز میں )آہستہ آواز میں بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْم پڑھا کرتے تھے۔(1)
بارگاہِ رسالت میں اعمال کی پیشی:
(8263)…حضرت سیِّدُنا اَنَس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ بیان کرتے ہیں کہ حُضور نبی اکرم، شاہِ بنی آدم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: میری اُمَّت کے اعمال ہر جمعہ کے دن مجھ پر پیش کئے جاتے ہیں اور اللہعَزَّ وَجَلَّ زانیوں پر شدید غضب فرماتا ہے۔(2)
علِم نافع کی دعا:
(8264)…حضرت سیِّدُنا انس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ بیان کرتے ہیں کہ حُضور ساقی کوثر، شافع محشر صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم یہ دعا کیا کرتے:” اَللّٰهُمَّ اِنِّي اَسْئَلُكَ اِيْمَانًا دَائِمًا وَهَدْيًا قَيِّماً وَعِلْمًا نَافِعًا یعنی اے اللہ عَزَّ وَجَلَّ ! میں تجھ سے دائمی ایمان، درست راستےاور نفع دینے والے علم کا سوال کرتا ہوں ۔“(3)
(8265)…حضرت سیِّدُنا انس بن مالک رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ بیان کرتے ہیں کہ میں حضور نبی رحمت، مالک جنت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی خدمت میں 10سال رہا۔ آپ نے مجھے جب بھی کسی کام کے لئے بھیجااور وہ کام ٹھیک نہ ہواتو( مجھےکبھی ڈانٹا نہیں )فقط اتنا فرمایا:اگر ہونا ہوتا تو ہوجاتا یا فرمایا: اگر مُقَدَّر میں ہوتا تو ہوجاتا۔(4)
سواری پر نفل نماز:
(8266)…حضرت سیِّدُنا انس بن مالک رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضور نبیّ کریم، رَءُوْفٌ رَّحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کوسواری پر اسی رخ میں نفل نماز پڑھتے دیکھا جس رخ پر سواری جارہی تھی(5)۔(6)
جنت عطا فرما دی:
(8267)…حضرت سیِّدُنا عطا بن ابو رَباح رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں کہ حضرت سیِّدُنا ابنِ عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا نے مجھ سے فرمایا:کیا میں تمہیں جنتی عورت نہ دکھاؤں ؟ میں نے عرض کی: کیوں نہیں ۔ فرمایا: یہ سیاہ عورت، اس نے حُضور اکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی بارگاہ میں حاضر ہو کر عرض کی:مجھے مِرگی کے دورے پڑتے ہیں اور میں بے پردہ ہوجاتی ہوں ، آپ میرے لئے دعا فرمائیں ۔ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: اگر تو چاہے تو صبر کر تیرے لئے جنت ہےاور اگر چاہےتو اللہعَزَّ وَجَلَّ سے دعا کرتا ہوں کہ تجھے شفا عطا کرے۔ عورت نے عرض کی: نہیں میں صبر کروں گی، آپ دعا فرما دیجئے کہ میں بے پردہ نہ ہوں یا عرض کی: مجھ سے پردہ زائل نہ ہو۔ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اس کے لئے دعا فرما دی۔(7)
حج تمتع:
(8268)…حضرت سیِّدُنا عمران بن حصین رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں :قرآن پاک میں حج تَمَتُّع (8) کےمتعلق آیت نازل ہوئی(9) اور ہم نے اسے حضور نبی پاک، صاحب لولاک صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے ساتھ ادا کیا(10)، ایسی کوئی آیت نازل نہیں ہوئی جس نے حج تَمَتُّع کو مَنْسُوخ کیا ہواور نہ ہی حضور نبی کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰ لِہٖ وَسَلَّم نے اس سے کبھی منع فرمایا حتّٰی کہ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ظاہری پردہ فرما گئے۔(11)
صدقہ کرنے سے زیادہ پسندیدہ:
(8269)…حضرت سیِّدُنا عمران قَصیر عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَدِیْر بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضرت سیِّدُنا ابو رَجاء رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کو فرماتے ہوئے سنا کہ حضرت سیِّدُنا ابو درداء رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں : مجھے سو دینار صدقہ کرنے سے سو مرتبہ اللہ اَکْبَر کہنا زیادہ پسند ہے۔(12)
(8270)…حضرت سیِّدُنا ابو ہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ روایت کرتے ہیں کہ حضور نبی رحمت، شفیع اُمَّت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا:بندہ جب تک اپنی نماز پڑھنے کی جگہ باوضو بیٹھا رہتا ہے تو فرشتے اس کے لئے یوں دعا کرتے رہتے ہیں : اے اللہ ! اس کی مغفرت فرما۔ اے اللہ ! اس پر رَحم فرما۔(13)
تعارف سے محبت بڑھتی ہے:
(8271)…حضرت سیِّدُنا یزید بن نَعامہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں کہ حضور نبی پاک، صاحبِ لولاک صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا:”جب کوئی شخص کسی سے بھائی چارہ قائم کرے تو اس کا نام، اس کے باپ کا نام اور اس کے قبیلے کا نام پوچھ لے کہ اس سے دوستی مضبوط ہوتی ہے۔“(14)
نبی کریم صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم رات میں یوں دعا کرتے:
(8272)…حضرت سیِّدُنا ابنِ عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا فرماتے ہیں کہ حضور نبی اکرم، نُورِ مُجَسَّم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰ لِہٖ وَسَلَّم جب رات میں تَہَجُّد پڑھنے اٹھتے تو اللہ اَکْبَر کہتے پھر فرماتے:” اَللّٰهُمَّ لَكَ الْحَمْدُ اَنْتَ قَيِّمُ السَّمٰوَاتِ وَالْاَ رْضِ وَلَكَ الْحَمْدُ اَنْتَ نُورُ السَّمٰوَاتِ وَالْاَرْضِ وَلَكَ الْحَمْدُ اَنْتَ رَبُّ السَّمٰوَاتِ وَالْاَرْضِ وَمَنْ فِيهِنَّ اَنْتَ الْحَقُّ وَقَوْلُكَ الْحَقُّ وَوَعْدُكَ الْحَقُّ وَلِقَاؤُكَ حَقٌّ وَالْجَنَّةُ حَقٌّ وَالنَّارُ حَقٌّ وَالشَّفَاعَةُ حَقٌّ اَللّٰهُمَّ لَكَ اَسْلَمْتُ وَبِكَ اٰمَنْتُ وَعَلَيْكَ تَوَكَّلْتُ وَاِلَيْكَ اَنَبْتُ وَبِكَ خَاصَمْتُ وَاِلَيْكَ حَاكَمْتُ اَنْتَ رَبُّنَا وَاِلَيْكَ الْمَصِيرُ رَبِّ اغْفِرْ لِيْ مَا اَسْرَرْتُ وَمَا اَعْلَنْتُ وَمَا قَدَّمْتُ وَمَا اَخَّرْتُ اَنْتَ اِلٰهِي لَا اِلٰهَ اِلَّا اَنْتَ یعنی اے اللہ ! تیرے لئے حمد ہے، تو ہی آسمانوں اور زمین کو قائم رکھنے والا ہے، تیرے لئے حمد ہے تو ہی آسمانوں اور زمین کا نور ہے، تیرے لئے حمد ہے تو ہی آسمانوں ، زمین اور جو کچھ اس میں ہے سب کا ربّ ہے، تو حق ہے، تیرا قول حق ہے، تیرا وعدہ حق ہے، تجھ سے ملنا حق ہے، جنت حق ہے، جہنم حق ہے، شفاعت حق ہے۔ اے اللہ ! میں نے تیرے حضور گردن جھکا دی، تجھ پر ایمان لایا، تجھ پر بھروسا کیا، تیری طرف متوجہ ہوا، تیرے بھروسے پر میں ( کفار سے) لڑتا ہوں اور تجھ سے فیصلہ چاہتا ہوں ، تو ہمارا ربّ ہے اور تیری طرف ہی لوٹنا ہے، اے میرے رب! میرےچھپے کھلےاگلے پچھلے بخش دے(15)، تو میرا مولیٰ ہے اور تیرے سوا کوئی معبود نہیں ۔“(16)
#**ذِکْرُاللہ کرنے والوں کی مثال:
**#
(8273)…حضرت سیِّدُنا ابنِ عمر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا روایت کرتے ہیں کہ حضورشافع محشر، مالکِ جنت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ارشاد فرماتے ہیں :غافلوں میں ذِکْرُاللہ کرنے والا ایساہے جیسے جنگ سے بھاگنے والوں میں جہاد کرنے والا، غافلوں میں ذِکْرُاللہ کرنے والا اندھیرے گھر میں چراغ کی مثل ہے، غافلوں میں ذِکْرُاللہ کرنے والا سوکھے درخت میں ہری شاخ کی مثل ہے، غافلوں میں ذِکْرُاللہ کرنے والے کو اللہ عَزَّ وَجَلَّ جنت میں اس کا ٹھکانا بتا دیتا ہے، غافلوں میں ذِکْرُاللہ کرنے والے کی اللہ عَزَّ وَجَلَّ تمام فصیح اور تمام عجمیوں کی تعداد کے برابر مغفرت فرماتا ہے، اولاد آدم فصیح ہے اور جانور عجمی ہیں ۔ (17)
تقدیر کے بارے میں کلام نہ کرو:
(8274)…حضرت سیِّدُناابنِ عمر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا روایت کرتےہیں کہ حضورنبی پاک، صاحبِ لولاک صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم نےارشادفرمایا:تقدیرکےبارےمیں کلام نہ کروکہ یہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کارازہےتو اللہ عَزَّ وَجَلَّ کارازافشانہ کرو۔(18)
سب سے بُرے مقتول:
(8275)…حضرت سیِّدُنا ابو غالب عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَاحِد بیان کرتے ہیں کہ حضرت سیِّدُنا ابو اسامہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے خوارج کے سروں کو (لٹکے ہوئے)دیکھا تو فرمایا:آسمان کے نیچے قتل ہونے والے سب سے بُرے مقتول۔ میں نے عرض کی: آپ یہ بات اپنی رائے سے فرما رہے ہیں یا آپ نے حضور نبی کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے اس بارے میں کچھ سنا ہے؟آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے فرمایا: جو بات میں بیان کر رہا ہوں یہ میں نے حضور نبی پاک، صاحبِ لولاک صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے ایک مرتبہ نہیں ، دو مرتبہ نہیں ، تین مرتبہ نہیں حتّٰی کہ سات مرتبہ شمار کرتے ہوئے فرمایا:نہ سنی ہوتی تو اسے بیان نہ کرتا۔(19)
(8276)…حضرت سیِّدُنا عمران بن حصین رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں : کیا میں تمہیں ایسی حدیث نہ سناؤں جو میں نے حضور نبی کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے سننے کے بعد سے آج تک کسی کو نہ سنائی اس خوف سے کہ لوگ اسی پر بھروسا کر لیں گے، میں نے حُضور نبی پاک، صاحبِ لولاک صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو ارشاد فرماتےسنا:”جو صدق دل سے یہ یقین کر لے کہ اللہعَزَّ وَجَلَّ اس کا ربّ ہے اور میں اللہعَزَّ وَجَلَّ کا نبی ہوں ۔“تو آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اپنے دست مبارک سے اپنی کھال اور سینے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا:” اللہ عَزَّ وَجَلَّ اس کے گوشت کو جہنم پر حرام فرما دے گا۔“(20)
توبہ کا دروازہ:
(8277)…سیِّدُنا صَفْوَان بن عَسَّال رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں :توبہ کے دروازے کی چوڑائی 70 سال کی مَسَافَت ہے یا فرمایا:40 سال کی مَسَافَت ہے، یہ اس وقت تک بند نہیں ہوگا جب تک کہ سورج مغرب سے طلوع نہ ہو۔“(21)
٭…٭…٭…٭…٭…٭
1 معجم کبیر، ۱/۲۵۵،حدیث: ۷۳۹
2 تفسیر الثعلبی،پ۱۸، النور،تحت الآیة: ۲، ۷/۶۵
3 مصنف ابن ابی شیبة، کتاب الایمان والرؤیا، باب: ۶، ۷/۲۱۸،حدیث: ۱۳ موقوفا عن ابی درداء
4 الضعفاء للعقیلی،رقم۱۳۱۸،عمران القصیر ، ۳/۱۰۱۹
5 احناف کے نزدیک: سواری پر نفل نما زبیرونِ شہر(یعنی وہ جگہ جہاں سےمسافر پر قَصْر واجب ہوتاہےوہاں )پڑھ سکتاہےاور اس صورت میں استقبالِ قبلہ شرط نہیں بلکہ سواری جس رخ کوجاررہی ہوادھرہی منھ ہواوراگرادھرمنھ نہ ہوتو نمازجائز نہیں اورشروع کرتےوقت بھی قبلہ کی طرف منھ ہوناشرط نہیں بلکہ سواری جدھرجارہی ہےاس طرف ہواوررکوع وسجود اشارہ سےکرےاورسجدےکااشارہ بہ نسبت رکوع کےپست ہو۔(بہارشریعت،حصہ۴، ۱/ ۶۷۱)
6 مسلم،کتاب صلاة المسافرین،باب جوازصلاة النافلة الخ،ص۳۵۴،حدیث: ۷۰۲،نحوه۔معجم اوسط،۶/۱۳۷، حدیث: ۸۲۷۸
7 مسلم، کتاب البر والصلة، باب ثواب المؤمن فیما یصیبه الخ،ص۱۳۹۲،حدیث: ۲۵۷۶
8 تَمَتُّعاسےکہتےہیں کہ حج کےمہینےمیں عمرہ کرےپھراسی سال حج کااحرام باندھےیاپوراعمرہ نہ کیاصرف چارپھیرے کیےپھرحج کااحرام باندھا۔(بہارشریعت،حصہ۶، ۱/۱۱۵۷)
9 (پ۲،البقرة: ۱۹۶)
10 حضور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نےحج قران کیاتھانہ کہ تمتع یاافرادجیسا کہ مراٰۃ المناجیح،جلد4،صفحہ104پر ہے: بعض راویوں نےحضور(صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم) سے صرف عمرہ کی روایت کی ہے بعض نے صرف حج کی،بعض نے حج و عمرہ دونوں کی، حضرت اُمُّ المؤمنین(سیِّدَتُنا عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا)نےیہاں صرف حج کی روایت کی،وجہ یہ ہے کہ حضور انور(صَلَّی اللہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰ لِہٖ وَسَلَّم)نے قِران کیا تھا لہٰذاآپ تلبیہ میں کبھی صرف حج کانام لیتےتھےکبھی صرف عمرہ کااورکبھی حج و عمرہ دونوں کا جیساکہ قارن کواختیارہے،ہر راوی نےجو سنااسی کی روایت کی لہٰذااحادیث میں تعارض نہیں ۔
11 مسلم، کتاب الحج، باب جواز التمتع،ص۶۴۳،حدیث: ۱۲۲۶
12 الزھد لاحمد، زھد ابی الدرداء،ص۱۶۲،حدیث: ۷۳۳
13 مسلم، کتاب المساجد ومواضع الصلاة،باب فضل صلاة ...الخ،ص۳۳۳،حدیث: ۶۴۹۔الزھد لاحمد ،ص۵۱،حدیث: ۱۱۲
14 ترمذی، کتاب الزھد، باب ما جاء فی اعلام الحب،۴/۱۷۶،حدیث: ۲۴۰۰
15 نہایت جامع اِسْتِغْفَار ہے جس میں ہر قسم کی غلطیوں گناہوں کا ذکر آگیا،یہ سب کچھ ہماری تعلیم کے لیے ہے ورنہ حضور صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم تک گناہوں کی رَسائی نہیں وہ گناہ کرنے کے لئے پید ا نہیں ہوئے بلکہ گنہگاروں کی دستگیری کرنے کے لیے تشریف لائے۔(مراٰۃ المناجیح،۲/۲۴۸)
16 مسلم، کتاب صلاة المسافرین وقصرھا، باب الدعاء فی صلاة اللیل وقیامه،ص۳۸۹،حدیث: ۷۶۹،بدون: والشفاعة حق معجم کبیر، ۱۱/۴۲،حدیث: ۱۱۰۱۲ ،بدون: والشفاعة حق
17 الترغیب فی فضائل الاعمال ، باب مختصر من فضل الذکر لله،ص۶۰،حدیث: ۱۶۷
18 المجروحین،رقم۱۱۵۷،الھیثم بن جماز،۲/۴۴۰۔الکامل لابن عدی،رقم۲۰۱۸، الھیثم بن جماز، ۸/۳۹۷
19 ترمذی، کتاب التفسیر، باب ومن سورة اٰل عمران،۵/۷،حدیث: ۳۰۱۱
20 التوحید لابن خزیمة،باب ذکر البیان ان النار الخ،۲/۸۲۲،حدیث: ۷۲
21 ترمذی، کتاب الدعوات،باب فی فضل التوبة الخ،۵/۳۱۵،حدیث: ۳۵۴۶ الزھد لابن المبارک، باب فضل ذکر الله،ص۳۸۷،حدیث: ۱۰۹۶
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع