30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
سیّدُنا ھشام بن حسان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْمَنَّان
ان بزرگوں میں ایک حضرت سیِّدُناہِشام بن حسان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْمَنَّان بھی ہیں جو کہ موت کے منتظر، بیدار رہنے والے اور کثیر غموں والے تھے، آپ اکثر اپنے استاذ حضرت سیِّدُناحسن بن ابو حسن یعنی حسن بصری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی کی باتین بیان کرتے ہیں جن کی صحبت میں آپ 10 سال تک رہے۔
دنیا سے بے رغبت لوگ:
(8657)…حضرت سیِّدُنا ہشام بن حسان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْمَنَّان بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضرت سیِّدُنا حسن بصری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی کو فرماتے سنا: اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی قسم! میں نے ایسے لوگوں کا زمانہ پایا ہےجن کے گھروں میں کبھی کوئی کپڑا طے کر کے نہ رکھا گیا، نہ انہوں نے کبھی اپنے گھر والوں کو کھانا تیار کرنے کا حکم دیااور نہ ہی زمین پر کبھی کوئی بستر بچھایا۔ان میں سے کوئی کہتا:”کاش! میں جو لقمہ کھاتا ہوں وہ میرے پیٹ میں پکی اینٹ بن جائے (تاکہ مزید کھانے کی حاجت نہ رہے)۔“راوی کا بیان ہے کہ حضرت سیِّدُنا حسن بصری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی نے ہمیں بتایا کہ پکی اینٹ پانی میں 300سال تک باقی رہتی ہے۔
(8658)…حضرت سیِّدُنا ہشام رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضرت سیِّدُنا حسن بصری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی کو فرماتے ہوئے سنا:خدا کی قسم! میں نے ایسے لوگوں کو دیکھا ہے کہ اگران میں سےکوئی کثیر مال و دولت کا وارث بن جاتا تو کہتا: خدا کی قسم!یہ تو بہت مَشَقَّت والی چیز ہے۔ پھر اپنے بھائی سے کہتا: اے میرے بھائی! میں جانتا ہوں کہ یہ وراثت کا مال میرے لئے حلال ہے لیکن میں خوف کرتا ہوں کہ یہ میرے دل اور عمل کو خراب کر دے گا لہٰذا یہ تو رکھ لے مجھے اس کی کوئی حاجت نہیں ، پھر وہ سارا مال اسے دے دیتا اور اپنے لئے کچھ بھی نہ رکھتا حالانکہ وہ اس کا سخت ضرورت مند ہوتا ۔
بھوک کے بغیر کھانا نہ کھاتے:
(8659)…حضرت سیِّدُنا ہشام رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت سیِّدُنا حسن بصری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی نے ارشاد فرمایا: خدا کی قسم! میں نے ایسے لوگوں کو دیکھا ہے کہ اگر وہ صبح کھانا کھا لیتے تو جب تک پیٹ بھرا رہتاوہ دوبارہ کھانا نہ کھاتے۔ مزید فرماتے ہیں : خدا کی قسم!بندہ اپنا کھانا کتے کو ڈال دےیہ اس بات سے بہتر ہے کہ وہ پیٹ بھرا ہونے کے باوجود کھانا کھائے۔
(8660)…حضرت سیِّدُنا ہشام رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ بیان کرتےہیں کہ حضرت سیِّدُنا حسن بصری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی نے فرمایا: خدا کی قسم! میں نے ایسے لوگوں کو دیکھا ہے کہ ان میں سے کوئی اپنے بھائی کو اپنے اہل کے پاس چھوڑ جاتاتو وہ 40 سال تک ان پر خرچ کرتا رہتا۔
رات عبادت میں گزارنے والے:
(8661)…حضرت سیِّدُنا حسن بصری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی نے فرمایا: اس کی قسم جس کے قبضہ میں میری جان ہے! میں نے ایسے لوگوں کو دیکھا ہے کہ انہوں نے کبھی اپنے اہل کو کھانا پکانے کا حکم نہیں دیا، اگر انہیں کھانے کو کچھ دے دیا جاتا تو کھا لیتے ورنہ خاموش رہتے، اس بات کی کوئی پروا نہ نہ کرتے کہ کھانا گرم ہے یا ٹھنڈا، انہوں نے کبھی زمین پر بستر نہیں بچھایا، اپنے ہاتھ کو تکیہ بناتے، رات میں تھوڑا سوتے اور پھر کھڑے ہوجاتےاورگردن جھکائے اللہعَزَّ وَجَلَّ کی یاد میں قیام، رکوع اور سجود میں رات گزار دیتے۔
دنیا ایک خواب ہے:
(8662)…حضرت سیِّدُنا حسن بصری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی نے فرمایا:دنیا شروع سے لےکر آخر تک اس سوتے شخص کی طرح ہے جو نیند میں اپنی پسندیدہ شے دیکھے اورپھر بیدار ہوجائے(یعنی دنیا ایک خواب ہے)۔
(8663)…حضرت سیِّدُناحسن بصری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی سے پوچھا گیا: اے ابو سعید! آپ اپنی قمیص کیوں نہیں دھوتے؟ آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے فرمایا:”موت کا معاملہ اس سے زیادہ جلدی کا ہے۔“
(8664)…حضرت سیِّدُناحسن بصری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی نےفرمایا:میں نےایسےلوگوں کودیکھاہےکہ دنیا میں سے انہیں کچھ ملتا تواس پر خوش نہ ہوتے اور دنیا کی کوئی چیز ان سے منہ پھیر لیتی تو اس پر اُداس بھی نہ ہوتے۔
دنیا ومافیہا سے بہترعمل:
(8665)…حضرت سیِّدُناحسن بصری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی فرماتےہیں :”علم کا ایک باب سیکھنا میرے نزدیک دنیا ومافیہا سے بہتر ہے۔“
(8666)…حضرت سیِّدُنا حسن بصری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی نےفرمایا: جو بھی مسلمان اپنے بستر پر اللہ عَزَّ وَجَلَّ کا ذکر کرتے ہوئے جاتا ہےتو اس کا بستر اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے لئے مسجد ہوجاتا ہے اور اسے اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے ہاں ذاکرین میں لکھا جاتا ہے۔
(8667)…حضرت سیِّدُنا حسن بصری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی نے بیان کیا کہ حضرت سیِّدُنا عبْدُاللہ بن عباس رَضِیَ
اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے ارشاد فرمایا:”اگر مجھے جنت اور دوزخ کے درمیان کھڑا کر کے اختیاردیاجائےکہ دونوں میں سے اپنے ٹھکانے کو جان لوں یا پھرمٹی ہو جاؤں تو میں ضرور مٹی ہوجانا اختیارکروں گا۔“
رات بھر کی عبادت سے بہترعمل:
(8668)…حضرت سیِّدُنا حسن بصری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی نے ارشاد فرمایا:” گھڑی بھر کا غور وفکر پوری رات عبادت کرنے سے بہتر ہے۔“
(8669)…حضرت سیِّدُناحسن بصری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی نےفرمایا:اےلوگو!تم تھوڑی سی مدت میں ہو جس میں عمل محفوظ ہورہاہے، موت تمہارےپیچھےلگی ہےاورجہنم تمہارےسامنےہے، خداکی قسم! جوکچھ تم دیکھ رہے ہو سب فانی ہے، پس ہردن رات اللہ عَزَّ وَجَلَّ کےفیصلےکےمنتظررہواورآدمی غورکرلےکہ وہ آگے کیا بھیج رہا ہے۔
کامل ایمان کب ہوتا ہے؟
(8670)…حضرت سیِّدُنا حسن بصری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی نے فرمایا: اللہعَزَّ وَجَلَّ کی قسم! بندے کاقرآن پاک پر کامل ایمان اس وقت ہوتا ہے جب وہ غمزدہ، مرجھایا ہوا، بیمار، پگھلا ہوا اور تھکا ماندہ ہوتا ہے۔
(8671)…حضرت سیِّدُنا حسن بصری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی نے فرمایا: (اے ابن آدم!) تو کب تک کہتا رہے گا: اے گھر والو! مجھے صبح کا کھانا دو، اے گھر والو! مجھے رات کا کھانا دو۔
(8672)…حضرت سیِّدُنا حسن بصری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی فرماتے ہیں : مومن صبح و شام غم کی حالت میں کرتا ہے اور اسے موت بھی غم کی حالت میں آتی ہے، اسے اتنا ہی کافی ہے جتنا بکری کے بچے کو کافی ہوتا ہے۔
پرہیز گار لوگ:
(8673)…حضرت سیِّدُنا حسن بصری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی نے فرمایا: خدا کی قسم! میں نے ایسے لوگوں کو پایا اور ایسوں کی صحبت میں رہا کہ ان میں سے کوئی شام کرتا اور اس کے پاس اتنا کھانا ہوتا جو صرف اسے ہی کافی ہوتا اور اگر وہ چاہتا تو اسے کھا لیتا لیکن وہ کہتا: خدا کی قسم! میں یہ کھانا اس وقت تک اپنے پیٹ میں نہیں ڈالوں گا جب تک اس میں سے کچھ اللہعَزَّ وَجَلَّ کی راہ میں صدقہ نہ کر دوں ۔ پھر وہ اس میں سے کچھ صدقہ کردیتا۔
مزید فرماتے ہیں : خدا کی قسم! میں نے ایسے لوگوں کو دیکھا اور ان کی صحبت میں رہا جنہیں اس بات کی کوئی پروا نہیں تھی کہ دنیا کس پر طلوع ہو رہی ہے اور کس پر غروب، اس خداکی قسم جس کے سوا کوئی معبود نہیں ! ان لوگوں کے نزدیک دنیا اس خاک سےبھی زیادہ گھٹیا تھی جس پر وہ چلتے ہیں ۔
(8674)…حضرت سیِّدُنا حسن بصری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی نے اللہعَزَّ وَجَلَّ کی قسم کھا کرفرمایا:جو شخص درہم (یعنی مالِ دنیا) کو عزت دیتا ہے اللہعَزَّ وَجَلَّ اسے ذلیل کردیتا ہے۔
ناقص علم اور کمزور رائے:
(8675)…حضرت سیِّدُنا حسن بصری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی نےفرمایا: خدا کی قسم! جس شخص کے لئے دنیا وسیع کردی جائے اور پھر بھی وہ خوف نہ کرے کہ یہ اس کے بارے میں خفیہ تدبیر بھی ہو سکتی ہے تو اس کا علم ناقص اور رائے کمزور ہے اور جس بندۂ مومن سے اللہعَزَّ وَجَلَّ دنیا روک لے اور پھر بھی وہ اپنے لئے اس کو بھلائی تصور نہ کرے تو اس کا بھی علم ناقص اور رائے کمزور ہے۔
امید سامنے اور موت پیچھے:
(8676)…حضرت سیِّدُنا حسن بصری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی نے فرمایا:جب تک حضرت سیِّدُنا آدم عَلَیْہِ السَّلَام سے سہو واقع نہ ہوا تھا تب تک موت آپ عَلَیْہِ السَّلَام کی آنکھوں کے سامنے اور امید پیٹھ پیچھے تھی اور جب سہو واقع ہوا تو امید آنکھوں کے سامنے اور موت پیٹھ پیچھے کردی گئی۔
(8677)…حضرت سیِّدُنا حسن بصری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی نےفرمایا:حضرت سیِّدُنا آدم عَلَیْہِ السَّلَام جنت میں دن کی چند گھڑیاں رہے اور وہ چند گھڑیاں دنیا کے 130 سال جتنی ہیں ۔
تین چیزوں کی حسرت:
(8678)…حضرت سیِّدُنا حسن بصری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی فرماتے ہیں :انسان جب دنیا سے جاتا ہے تو اسے تین چیزوں کی حسرت ہوتی ہے:(۱)…جو کچھ جمع کیا اس سے فائدہ نہ اٹھا سکا(۲)…اپنی خواہش پوری نہ کرسکا اور (۳)…اپنے لئے اچھا زادِ راہ آگے نہ بھیج سکا۔
بھوکوں کو بھول نہ جاؤں :
(8679)…حضرت سیِّدُنا حسن بصری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی بیان کرتے ہیں کہ حضرت سیِّدُنا یوسف عَلَیْہِ السَّلَام کی بارگاہ میں عرض کی گئی: آپ بھوکے رہتے ہیں حالانکہ دنیا کے خزانے آپ کے ہاتھ میں ہیں ۔ آپ عَلَیْہِ السَّلَام نے ارشاد فرمایا: میں خوف کرتا ہوں کہ اگر میں نے پیٹ بھر کھایا تو بھوکوں کو بھول جاؤں گا۔
باوقار اور راہ نما مجلس:
(8680)…حضرت سیِّدُنا حماد بن زید رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضرت سیِّدُناہشام بن حسان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْمَنَّان کی مجلس سے زیادہ باوقار اور راہ نمائی کرنے والی مجلس نہیں دیکھی، آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ جب حدیث بیان کرتےہوئے روتے تو چہرے پر شکنیں ڈالے بغیر آنسو آپ کی داڑھی پر بہتے۔
سیّدُنا ھِشام بن حسان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْمَنَّان کی مرویات
حضرت سیِّدُنا ہشام رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نےمشہورومعروف علمائے کرام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَام کا زمانہ پایا اور ان سے مسائل و احکام سیکھے، آپ نےحضرت سیِّدُنا محمد بن سیرین، حضرت سیِّدُنا قتادہ، حضرت سیِّدُنا عِکرمہ اور حضرت سیِّدُنا ہشام بن عُروہ رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَام سے احادیث کی سماعت کی۔
روزہ دار کااجر:
(8681)…حضرت سیِّدُنا ابو ہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ روایت کرتے ہیں کہ پیارے آقا، مدینے والے مصطفٰے صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا:”ایک نیکی10نیکیوں کے برابر ہے، ( اللہعَزَّ وَجَلَّ نے ارشاد فرمایا:) روزہ میرے لئے ہے اور اس کی جزا بھی میں ہی دوں گا کہ وہ اپنا کھانا اور پینا میرے لئے چھوڑتا ہے۔ روزہ دار کے منہ کی بو اللہعَزَّ وَجَلَّ کے نزدیک مشک کی خوشبو سے زیادہ پسندیدہ ہے(1)۔“(2)
روزہ دار بھولے سے کھا لے تو۔۔۔!
(8682)…حضرت سیِّدُنا ابو ہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ بیان کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم، نُورِ مُجَسَّم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا:” جو روزے کی حالت میں بھولے سے کھا، پی لے تو اسے چاہئے کہ اپنا روزہ پورا کرے کہ اسے اللہعَزَّ وَجَلَّ نے کھلایا اور پلایا ہے۔“(3)
(8683)…حضرت سیِّدُناابوہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ بیان کرتےہیں کہ ہم نےحضورنبی رحمت، شَفیعِ اُمَّت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کےساتھ دن کی نمازوں میں سےظہر یا عصر کی نماز پڑھی، آپ نے دو رکعت پر سلام پھیر دیا اورپھرآپ مسجدکےسامنےکی جانب رکھی ایک لکڑی کےقریب کھڑےہوئےاوراس پرہاتھ رکھ لیا، صحابَۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان میں حضرت سیِّدُنا ابوبکر اور حضرت سیِّدُنا عمر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا بھی موجود تھے ۔راوی نے اس کے بعدذوالیدین(4) والا قصہ بیان کیا(5) ۔(6)
قبولیت دعا کا وقت:
(8684)…حضرت سیِّدُنا ابو ہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ بیان کرتے ہیں کہ حضورشافع محشر، ساقی کوثر صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نےارشادفرمایا:”جمعہ کےدن ایک ساعت ایسی ہےکہ کوئی نمازی مسلمان اسےپاکر اللہعَزَّ وَجَلَّ سے بھلائی طلب کرے تو اللہعَزَّ وَجَلَّ اسے ضرور دیتا ہےوہ گھڑی مختصر ہے(7)۔“(8)
نماز کی طرف سکون سے چلو:
(8685)…حضرت سیِّدُنا ابو ہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ بیان کرتے ہیں کہ حضور نبی پاک، صاحبِ لولاک صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا:”جب نماز کی اقامت کہی جائے تو اس کی طرف دوڑتے ہوئے نہ آؤ بلکہ سکون سے چلو اور جومل جائے وہ پڑھو اور جو باقی رہ جائےوہ پوری کرو۔“(9)
(8686)…حضرت سیِّدُنا ابو ہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ بیان کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم، نُورِ مُجَسَّم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا:”(ظہر کی)نماز ٹھنڈی کر کے پڑھو کہ گرمی کی شدت جہنم کے سانس لینے سے ہے۔“یا فرمایا:”جہنم کے طبقات کے سانس لینے کی وجہ سے ہے۔“(10)
اسمائے حُسنٰی یاد کرنے کی فضیلت:
(8687)…حضرت سیِّدُنا ابو ہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ بیان کرتے ہیں کہ مکی مدنی سرکار، حبیبِ پروردگار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا:”بے شک اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے 99 نام ہیں یعنی ایک کم سو، جو ان ناموں کویاد کرلے وہ جنت میں داخل ہوگا، اللہعَزَّ وَجَلَّ وترہے(11)اوروترکوپسندکرتا ہے(12)۔“(13)
(8688)…حضرت سیِّدُناابوہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ بیان کرتےہیں کہ حضور نبیّ کریم، رَءُوْفٌ رَّحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم حضرت بلال رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کی عیادت کرنےتشریف لےگئے، حضرت بلال نےآپ کو اکھٹی کی ہوئی
کھجوریں پیش کیں تو آپ نے ارشاد فرمایا:”اےبلال!یہ کیاہے؟“عرض کی: یارسولَ اللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰ لِہٖ وَسَلَّم !
یہ کھجوریں ہیں جومیں نےاکھٹی کی ہیں ۔ارشادفرمایا:” کیاتمہیں اس بات کاخوف نہیں کہ تمہیں جہنم کی آگ سے ان کی گرمی پہنچے گی، بلال انہیں خرچ کرو اور عرش کے مالک عَزَّ وَجَلَّ سے کمی کا خوف نہ رکھو۔“(14)
اپنا مرتبہ کیسے معلوم ہو؟
(8689)…حضرت سیِّدُنا ابو ہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ بیان کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم، نُوْرِمُجَسَّمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا:جسے یہ جاننا پسند ہو کہ اس کے لیے اللہعَزَّ وَجَلَّ کے ہاں کیا ہے تووہ یہ جان لے کہ اس کے پاس اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے لیے کیا ہے۔(15)
(8690)…حضرت سیِّدُناابوہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ بیان کرتےہیں کہ حضور نبی اکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نےارشادفرمایا:بندہ کوئی گناہ کرتاہےاورپھرگناہ یادکرکےغمزدہ ہوجاتاہے، جب اللہعَزَّ وَجَلَّ اس کے غمگین ہونےکودیکھتاہےتواس کاکوئی کفارہ اداکرنےسےپہلےہی بغیرنمازروزہ کےاس کےگناہ بخش دیتا ہے۔(16)
جنتی کے مزے:
(8691)…حضرت سیِّدُنا ابو ہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ بیان کرتے ہیں کہ حضور نبی رحمت، شَفیعِ اُمَّت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نےارشادفرمایا:جو اللہعَزَّ وَجَلَّ سےڈرتاہےوہ جنت میں داخل ہوگا، وہاں خوش رہےگاکبھی غمزدہ نہ ہوگا، اس میں ہمیشہ رہےگاکبھی موت نہ آئے گی، اس کی جوانی فناہوگی نہ کبھی اس کےکپڑےبوسیدہ ہونگے۔(17)
(8692)…حضرت سیِّدُنا اَنَس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ بیان کرتے ہیں کہ قبیلہ عرینہ کے کچھ لوگ مدینہ آئے اور بیمار ہوگئے تو حضور نبی اکرم، نُوْرِمُجَسَّمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نےانہیں (صدقہ کے)اونٹوں اور ان کے چرواہے
کی طرف جانے کا حکم دیا اور فرمایا:”اونٹوں کا دودھ اور پیشاب پئیں ۔“(18)چنانچہ وہ( دودھ اورپیشاب پی کر) تندرست
اور موٹے تازے ہوگئے، پھر انہوں نے چرواہے کوقتل کردیا اوراونٹوں کو ہانک کر لے گئے۔ آپ صَلَّی اللہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نےان لوگوں کوپکڑنےکےلئےصحابہ کوبھیجا، جب انہیں لایاگیاتوان کےہاتھ اور پاؤں کاٹ کر، گرم سلائیوں سےان کی آنکھیں پھوڑدی گئیں اورانہیں دھوپ میں ڈال دیاگیاحتّٰی کہ وہ مر گئے(19)۔(20)
حضرت سیِّدُنا ہشام بن حسان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْمَنَّان سے اسی کی مثل ایک اور روایت ہے اس میں ان الفاظ کا اضافہ ہے:پھر مُثْلَہ کرنے سے منع فرما دیا۔
دو چیزیں جوان رہتی ہیں :
(8693)…حضرت سیِّدُنا اَنَس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے بیان کیا کہ حضور نبی پاک، صاحبِ لولاک صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا:”ابن آدم بوڑھا ہوجاتا ہے لیکن اس کی دوچیزیں جوان رہتی ہیں :(۱)… مال کی حرص اور (۲)… لمبی عمر کی حرص۔“(21)
(8694)…حضرت سیِّدُنا ابو ہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ بیان کرتے ہیں کہ مکی مدنی سرکار، حبیب پروردگار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نےارشادفرمایا:”جب آدمی اپنی بیوی کی چاروں شاخوں کےدرمیان بیٹھ جائے اور پھر حق
زوجیت ادا کرے تو اس پرغسل واجب ہے (22)۔“(23)
چھپ کر باتیں سننے کا عذاب:
(8695)…حضرت سیِّدُنا ابنِ عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا بیان کرتے ہیں کہ حضور نبی پاک، صاحبِ لولاک صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا:”جس نے لوگوں کی بات کان لگا کر سنی حالانکہ لوگ اسے ناپسند کرتے ہیں تو اس کے کانوں میں پگھلا ہوا سیسہ ڈالا جائے گا۔“(24)
(8696)…حضرت سیِّدُنا ابن عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا بیان کرتے ہیں کہ حضور نبی رحمت، شَفیعِ اُمَّت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا:جس طرح اللہعَزَّ وَجَلَّ کو یہ پسند ہے کہ اس کے عطا کردہ فرائض پر عمل
کیا جائے اسی طرح اسے یہ بھی پسند ہے کہ اس کی دی گئی رُخصتوں پر عمل کیا جائے۔(25)
(8697)…حضرت سیِّدُنا عبْدُاللہ بن مُغَفَّلرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ بیان کرتے ہیں کہ حضورنبیِّ کریم، رَءُوْفٌ
رَّحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے روزانہ کنگھی کرنے سے منع فرمایا ہے۔(26)
(8698)…حضرت سیِّدُناجابر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ بیان کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم، نُوْرِمُجَسَّمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا:بندے اور کفر کے مابین نماز نہ پڑھنے کا فرق ہے(27)۔ (28)
عرقُ النساء ()کا علاج:
(8700-8699)…حضرت سیِّدُنا انس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ بیان کرتے ہیں کہ حضور نبی کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سےعرقُ النساءکےبارےمیں پوچھاگیاتوآپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا:”عربی دنبے کی چکی لے لو جو نہ زیادہ بڑی ہو اور نہ ہی زیادہ چھوٹی ہو، اس کےپتلےٹکڑےکرلواوراسےپگھلالواورتین حصوں میں تقسیم کر لو، پھر ہر صبح نہار منہ اس کا ایک حصہ پی لو۔“(30)
حضرت سیِّدُناانس بن سیرین رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتےہیں کہ عرقُ النساءکے100سےزائد مریضوں نے یہ نسخہ استعمال کیا تو وہ سب ٹھیک ہوگئے۔
ایام بیض کے روزے:
(8701)…حضرت سیِّدُنا قتادہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ بیان کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم، نُوْرِ مُجَسَّم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ہمیں ایام بیض یعنی تیرہویں ، چودہویں اورپندرہویں تاریخ کاروزہ رکھنےکاحکم دیتے اور فرماتے: یہ ہمیشہ روزہ رکھنے کی طرح ہے۔(31)
شوقِ شہادت اور عمل کا جذبہ:
(8702)…حضرت سیِّدُنا ابو امامہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ بیان کرتے ہیں کہ سرکار مدینہ، راحتِ قلب وسینہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ایک غزوہ کا ارادہ فرمایا۔ میں بارگاہ رسالت میں حاضر ہوکر عرض گزار ہوا: یارسولَ اللہ
صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ! میرے لئے شہادت کی دعا فرمائیں ۔آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے یوں دعا کی: ”اے اللہ عَزَّ وَجَلَّ !مجاہدین کوسلامتی اورمال غنیمت عطا فرما۔“چنانچہ ہم سلامت رہےاورہمیں مال غنیمت حاصل ہوا۔ میں پھربارگاہ رسالت میں حاضرہوکرعرض گزارہوا: یارسولَ اللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم !مجھےکسی ایسے عمل کے بارےمیں بتائیں کہ جس کےسبب میں جنت میں پہنچ جاؤں ۔ارشادفرمایا:”روزہ رکھاکروکہ اس کی مثل کوئی عمل نہیں ۔“جب تک اللہ عَزَّ وَجَلَّ نےچاہامیں نےروزےرکھے۔میں پھربارگاہ ِ رسالت میں حاضرہوکر عرض گزار ہوا: یارسولَ اللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم !مجھےکوئی اورعمل بھی ارشادفرمادیجئے۔ارشادفرمایا:”جان لو! تم جو بھی سجدہ کرتے ہو اللہعَزَّ وَجَلَّ اس کے عوض تمہارا ایک درجہ بلند فرماتا اور ایک خطا مٹا دیتا ہے۔“(32)
(8703)…حضرت سیِّدُناعمران بن حصین رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ بیان کرتےہیں کہ حضورنبی رحمت، مالکِ کوثر وجنت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نےارشادفرمایا:” مَنْ حَلَفَ عَلَى يَمِينٍ مَصْبُورَةٍ كَاذِبًا فَلْيَتَبَوَّاْ مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ یعنی جولزومی قسم پرحلف اٹھائے(33)حالانکہ وہ اس میں جھوٹا ہو تو وہ اپنا اٹھکانا جہنم میں بنا لے۔“(34)
کبھی پیٹ بھر گندم کی روٹی نہ کھائی:
(8704)…اُمُّ المؤمنین حضرت سیِّدَتُنا عائشہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا فرماتی ہیں : میرے سرتاج، صاحبِ معراج صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم پر میرے ماں باپ قربان!آپ دنیا سے ظاہری پردہ فرماگئے مگر کبھی آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے پیٹ بھر کر گندم کی روٹی نہ کھائی۔(35)
٭…٭…٭…٭…٭…٭
1 خیال رہے کہ منہ کی وہ بو جو دانتوں کے میل وغیرہ یا بیماری سے پیدا ہو نحر کہلاتی ہے اور جو معدہ خالی ہونے کی وجہ سے پیدا ہوا سے خلوف کہتے ہیں ،دانتوں کے میل کی بو تو مسواک ومنجن سے جاسکتی ہے اور بیماری کی بو دواؤوں سے مگر خلوف معدہ کی بو صرف کھانے سے جاسکتی ہے۔(مراٰۃ المناجیح،۳/ ۱۳۶)
2 نسائی، کتاب الصیام، فضل الصیام الخ، ص۳۷۰،حدیث: ۲۲۱۲
3 مسلم، کتاب الصیام، باب اکل الناسی الخ،ص۵۸۲،حدیث: ۱۱۵۵
4 ان کانام عُمیرابنِ عَمْرو،کنیت ابومحمد،لقب خِرْباق اورحضورصَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمکاعطاکردہ خطاب ذوالیدین تھا۔(مراٰۃ المناجیح،۲/ ۱۴۷)
5 ذوالیدین کا قصہ یہ ہے جیساکہ ”مسلم شریف“میں ہے: حضرت سیِّدُنا ذوالیدینرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے عرض کی: یارسولَ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! آپ بھول گئے یا نماز کم ہوگئی؟ ارشاد فرمایا: نہ میں بھولا نہ نماز کم ہوئی پھر لوگوں کی طرف متوجہ ہوکر فرمایا: کیا ایسا ہی ہے جیسا ذوالیدین کہتے ہیں ؟ لوگوں نے عرض کی: جی ہاں ۔آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے باقی ماندہ رکعات پڑھیں اور بیٹھ کر سہو کے دو سجدے کئے۔(مسلم، کتاب المساجد ، باب السھو الخ،ص،۲۸۹حدیث: ۵۷۳)
6 مسلم،کتاب المساجد ومواضع الصلاة، باب السھو فی الصلاة الخ،ص۲۸۹،حدیث: ۵۷۳
7 اس ساعت میں مسلمان کی دعا قبول ہوتی ہےنہ کہ کافر کی۔ نمازی متقی کی دعا قبول ہوتی ہے نہ کہ فسّاق و فُجار کی جو جمعہ تک نہ پڑھیں صرف دعاؤں پر ہی زور دیں ، یُصَلِّی میں اسی جانب اشارہ ہے ورنہ نماز کی حالت میں دعا کیسے مانگی جائے گی۔(مراٰۃ المناجیح، ۱/ ۹۱۳)
8 مسلم، کتاب الجمعة، باب فی الساعة التی فی یوم الجمعة،ص۴۲۴،حدیث: ۸۵۲
9 مسلم، کتاب المساجد ومواضع الصلاة، باب استحباب اتیان الصلاة بوقار الخ،ص۳۰۳،حدیث: ۶۰۲
10 مسلم، کتاب المساجد ومواضع الصلاة، باب استحباب الابراد بالظھر الخ،ص۳۱۰،حدیث: ۶۱۵
مسند احمد، مسند ابی ھریرة،۳/۵۸۱،حدیث: ۱۰۵۹۷
11 عربی میں وتر فرد عدد کو کہتے ہیں جو تقسیم نہ ہوسکے اکیلا ہو،ربّ تعالیٰ عدد سے پاک ہے۔اس کےوترہونےکےیہ معنیٰ ہیں کہ وہ ذات و صفات اورافعال میں اکیلاہے،نہ اس کاکوئی شریک ہے،نہ اس کےصفات افعال قابل تقسیم،اسی معنیٰ سےاسےواحد اور احدکہتےہیں لہٰذاحدیث پراعتراض نہیں کہ وتروشفع ہوناعددکےحالات ہیں اللہتعالٰی عددسےپاک ہے۔(مراٰۃ المناجیح،۲/ ۲۷۵)
12 وتر نماز کو پسند کرتا ہے کہ وتر ہونے میں اسے رب تعالیٰ سے نسبت ہے،لہٰذا اس پر ثواب دے گا یا اس شخص کو پسند کرتا ہے جو دنیا سے اکیلا ہو کر رب کا ہو رہے جب رب تمہارا ہے تو تم بھی رب کے ہوجاؤ۔(مراٰۃ المناجیح،۲/ ۲۷۵)
13 مسلم، کتاب الذکر الخ،باب فی اسماء الله الخ،ص۱۴۳۹،حدیث: ۲۶۷۷
14 معجم کبیر، ۱/۳۴۲،حدیث: ۱۰۲۵
15 مسندبزار،مسند ابی ھریرة، ۱۷/۳۰۷،حدیث: ۱۰۰۶۲
16 معجم اوسط، ۱/۵۸۱،حدیث: ۲۱۳۹،موسوعة ابن ابی الدنیا، کتاب الھم والحزن،۳/۲۸۱،حدیث: ۱۱۱
17 ترمذی،کتاب صفة الجنة،باب ماجاءفی صفة الجنة ونعیمھا،۴/۲۳۶،حدیث: ۲۵۳۴
18 مفسر شہیر حکیم الامت مفتی احمد یار خان نعیمی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیفرماتے ہیں : چونکہ یہ لوگ مسافر بھی تھے غریب و مسکین بھی اس لیے ان کو صدقہ کے اونٹ کے دودھ پینے کی اجازت دے دی گئی اور چونکہ حضورصَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمنے بذریعہ وحی ☜
معلوم فرمالیا تھا کہ ان کی شفا اس دودھ و پیشاب میں ہے اس لیے انہیں پیشاب پینے کی اجازت دے دی گئی۔(اور) یہ ارشاد عالی ایک اونٹ کے چرواہے کے متعلق ہوا تھا۔حضور انور صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمنے تو ان کی شفا بذریعہ وحی یقینًا معلوم فرمالی تھی ہم کو یہ یقین کیسے میسر ہوگا۔(مراٰۃ المناجیح،۵/ ۲۶۵،ملتقطاً)
حضرت علامہ مولانا مفتی محمد امجد علی اعظمی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیبہار شریعت، حصہ16، جلد3،صفحہ506پر فرماتے ہیں : حرام چیزوں کو دوا کے طور پر بھی استعمال کرنا ناجائز ہے کہ حدیث میں ارشاد فرمایا: ”جو چیزیں حرام ہیں ان میں اللہتعالیٰ نے شفا نہیں رکھی ہے۔“(معجم کبیر،۲۳/ ۳۲۶،حدیث: ۷۴۹)
19 خیال رہے کہ اب شریعت میں مثلہ کرنا یعنی ہاتھ پاؤں کاٹ دینا آنکھیں پھوڑ دینا ممنوع ہے،حضور کا یہ عمل یا تو مثلہ کی ممانعت سے پہلے تھا بعد میں مثلہ سے منع فرمایا یا اس لیے تھا کہ ان لوگوں نے حضور کے چرواہوں کے ساتھ یہ ہی سلوک کیا تھا تو قصاصاً حضور نے بھی ان سے یہ ہی سلوک فرمایا یا اس لیے تھا کہ انہوں نے بہت جرم کیے تھے مرتد ہوجانا،چراہوں کو مار ڈالنا،مال لوٹ لینا وغیرہ لہٰذا ان کو یہ سزا دی گئی،اگر مجرم کئی قسم کے جرم کرلے تو حاکم تمام قصاصوں کو جمع کرسکتا ہے۔(مراٰۃ المناجیح،۵/ ۲۶۶،ملتقطاً)
20 مسند طیالسی، ما اسند انس بن مالک، ص۲۶۸،حدیث: ۲۰۰۲
21 مسلم، کتاب الزکاة، باب کراھیة الحرص علی الدنیا،ص۵۲۱،حدیث: ۱۰۴۷
22 اس کی شرح وہ حدیث ہے جس میں فرمایا گیا کہ جب ختنہ ختنہ میں غائب ہوجائے تو غسل واجب ہے،وہی یہاں مراد ہے یعنی جب مشتہات عورت سے صحبت کی جائے اور حشفہ غائب ہوجائے تو غسل واجب ہوگیا۔چار شانوں سے چار ہاتھ پاؤں مراد ہیں اور بیٹھنے کا ذکر اتفاقًاہے،ورنہ جس صورت سے بھی صحبت ہو غسل واجب ہے۔(مراٰۃ المناجیح،۱/ ۲۹۸)
23 بخاری، کتاب الغسل، باب اذا التقی الختانان،۱/۱۱۸،حدیث: ۲۹۱
24 بخاری، کتاب التعبیر، باب من کذب فی حلمه،۴/۴۲۲،حدیث: ۷۰۴۲
25 ابن حبان، کتاب البر والصلة،باب ما جاء فی الطاعات و ثوابھا،۱/۲۸۴،حدیث: ۳۵۵
26 ترمذی، کتاب اللباس، باب ما جاء فی النھی عن الترجل الا غبا،۳/۲۹۳،حدیث: ۱۷۶۲
27 مسلم، کتاب الایمان، باب بیان اطلاق اسم الکفر الخ،ص۵۷،حدیث: ۸۲
28 مفسر شہیر حکیم الامت مفتی احمد یار خان نعیمیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیمراٰۃ المناجیح،جلد1،صفحہ363پراس کےتحت فرماتے ہیں : بندہ مؤمن اورکفر کے درمیان نمازکی دیوارحائل ہے جو اس تک کفرکونہیں پہنچنےدیتی جب یہ آڑ ہٹ گئی تو کفر کا اس تک پہنچناآسان ہوگیا،ممکن ہےکہ آیندہ یہ شخص کفربھی کربیٹھے۔خیال رہےکہ بعض ائمہ ترکِ نمازکوکفربھی کہتے ہیں ، ☜
بعض کےنزدیک بےنمازی لائق قتل ہےاگرچہ کافرنہیں ہوتا،ہمارےامام صاحب کےنزدیک بےنمازی کومارپیٹ اورقید کیاجائےجب تک کہ وہ نمازی نہ بن جائے۔ہمارےہاں اس حدیث کامطلب یہ ہےکہ بےنمازی قریب کفرہےیااس کے کفرپرمرنےکااندیشہ ہےیاترکِ نمازسےمرادنمازکاانکارہے،یعنی نماز کا منکرکافرہے۔
29 عِرقُ النّساء کی پہچان یہ ہے کہ اِس میں چَڈھے( یعنی ران کے جوڑ) سے لےکر پاؤں کے ٹخنے تک شدید درد ہوتا ہے یہ مرض برسوں تک پیچھا نہیں چھوڑتا۔(فیضان سنت،ج۱،ص۱۰۴۳)
30 ابن ماجه، کتاب الطب، باب دواء عرق النسا،۴/۱۰۱،حدیث: ۳۴۶۳،نحوه
مستدرک، کتاب التفسیر،تفسیر سورة ال عمران،دواء وجع عرق النساء،۳/۹،حدیث: ۳۲۰۷
31 ابن ماجه، کتاب الصیام، باب ما جاء فی صیام الخ،۲/۳۲۹،حدیث: ۱۷۰۷
32 مسند احمد، مسند الانصار، حدیث ابی امامةالباھلی،۸/۲۶۹،حدیث: ۲۲۲۰۲
33 حلف کے معنیٰ ہیں یمین و قسم،صبر بمعنی روکنا،جو قسم مدعی کے دعویٰ کو روک دے،اسے جاری نہ ہونے دے وہ یمین صبر ہے یعنی دعوے کو روک دینی والی قسم۔(مراٰۃ المناجیح، ۵/ ۳۹۳)
34 ابو داود، کتاب الایمان، والنذور،باب التغلیظ فی الایمان الفاجرة،۳/۲۹۷،حدیث: ۳۲۴۲
35 مسلم،کتاب الزھدوالرقائق،ص۱۵۸۹،حدیث: ۲۹۷۰،نحوه۔اخلاق النبی واٰدابه لابی الشیخ،ذکر محبته الخ،ص۱۵۶،حدیث: ۸۱۶
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع