30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
حضرت سیِّدُنا حبیب بن عبید رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ
حضرت سیِّدُناحبیب بن عبید رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ بھی شامی تابعی بزرگ ہیں ۔
علم حاصل کرنے کی ترغیب:
(7983)…حضرت سیِّدُناحبیب بن عبید رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ ارشاد فرماتے ہیں : علم سیکھو، اسےسمجھو اوراس سے نفع حاصل کرو۔علم اس لئے حاصل مت کروکہ اس کے ذریعے آرائش اختیارکروکیونکہ قریب ہے کہ تمہاری زندگی طویل ہوتو تم دیکھوگےکہ علم کےذریعےاسی طرح آرائش اختیارکی جارہی ہوگی جس طرح کوئی اپنے لباس کےذریعے آرائش و زیبائش اختیارکرتا ہے۔
(7984)…حضرت سیِّدُنا ابنِ ابی مریم رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ بیان کرتے ہیں کہ مجھے حضرت سیِّدُناحبیب بن عبید رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے بتایا:حضرت سیِّدُنا دُلَیْجَہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ جب چلتے تو ان کے قدم کثرت عبادت کے سبب ڈگمگانے لگتے۔ان سے کہا گیا :آپ کو کیا ہوگیا ہے؟فرمایا:شوق۔ان سے کہا گیا کہ خوش ہوجایئے !امیر نے مسلمانوں کے لئے ان کی چراگاہ کو مُباح کردیا ہے ۔حضرت سیِّدُنا دُلَیْجَہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے فرمایا:میرے شوق سے یہ شوق مراد نہیں بلکہ اس کی طرف شوق ہے جوا س پر ابھارتا ہے۔
سیِّدُناحَبیب بن عُبید رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ کی مرویات
حضرت سیِّدُناحَبیب بن عُبید رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے حضرت سیِّدُنامُعاذ بن جَبَل، حضرت سیِّدُنا عمرو بن عَبَسَہ، حضرت سیِّدُنا ابو امامہ، حضرت سیِّدُناابودرداء، حضرت سیِّدُنا مقدام، حضرت سیِّدُناعرباض اور اُمُّ المؤمنین حضرت سیِّدَتُناعائشہ صدیقہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمْ سے احادیث روایت کیں ۔
ظاہر میں دوست اور باطن میں دشمن:
(7985)…حضرت سیِّدُنامُعاذبن جَبَل رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ بیان کرتے ہیں کہ سرکارِ مدینہ، قرارِ قلب وسینہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نےارشادفرمایا:آخری زمانہ میں ایسی قومیں ہوں گی جو ظاہرمیں دوست اورباطن میں دشمن ہوں گی۔(1)پوچھا گیا: یارسولَ اللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم !وہ کیسے؟ارشادفرمایا:ایسابعضوں سے رغبت رکھنے اوربعضوں سے خوف رکھنے کی وجہ سے ہوگا(2)۔(3)
(7986)…حضرت سیِّدُنامُعاذبن جَبَل رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ بیان کرتے ہیں کہ مُحسن کائنات، فخر موجودات صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشادفرمایا:لوگوں پرایک زمانہ ایساآئے گاکہ جس کے پاس سوناچاندی نہ ہوگااس کی زندگی بے لُطف ہوگی ۔(4)
بینائی چلی جانے پر عظیم اجر:
(7987)…حضرت سیِّدُناعرباض بن سارِیَہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ بیان کرتے ہیں کہ نورکے پیکر، تمام نبیوں کے سَروَر صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نےارشادفرمایا کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ ارشادفرماتاہے:”جب میں اپنے بندے سے اس کی محبوب شے (آنکھیں ) لے لوں تو میں اس کے لئے جنت کے علاوہ کوئی اجر پسند نہیں کرتا جبکہ وہ ان دونوں پر میری حمد کرے۔(5)
(7988)…(6)
بداخلاقی نُحوست ہے:
(7989)…اُمُّ المؤمنین حضرت سیِّدَتُناعائشہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا بیان کرتی ہیں کہ میرےسرتاج، صاحبِ معراج صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشادفرمایا:بداخلاقی نُحوست ہے۔(7)
٭…٭…٭…٭…٭…٭
1 یعنی قریب قیامت ایسے لوگ ہوں گے جو اپنی نیکیاں علانیہ پسند کریں گے تاکہ لوگ ان کی واہ واہ کریں ،تنہائی میں یا تو اعمال کریں گے ہی نہیں یا کریں گے تو معمولی طریقہ سے۔(مراٰۃ المناجیح،۷/۱۴۰)
2 یعنی ان لوگوں کے دلوں میں اللہ کا خوف اللہ سے امید نہ ہوگی یا کم ہو گی،لوگوں کا خوف لوگوں سے اُمید ان پر غالب ہوگی۔ اس فرمان عالی میں علماء،عابدین، زاہدین ،سخی،مُجاہد وغیر ہ سب ہی داخل ہیں ،ہر عمل اخلاص سے قبول ہوتا ہے۔ یہاں اشعۃ اللمعات میں ہے کہ اس میں وہ بھی داخل ہیں جو لوگوں سے ظاہری محبت کریں وہ بھی غرض کے لیے جب غرض نکل جاوے دوستی بھی ختم ہوجاوے۔(مراٰۃ المناجیح،۷/۱۴۰)
3 مسند احمد،مسند الانصار،حدیث معاذ بن جبل،۸/۲۴۴،حدیث: ۲۲۱۱۶
4 معجم کبیر،۲۰/۲۷۸،حدیث: ۶۵۹عن مقدام بن معدیکرب
5 معجم کبیر،۱۸/۲۵۴،حدیث: ۶۳۴۔ابن حبان ،کتاب الجنائز، باب ما جاء فی الصبر وثواب الخ ،۴/۲۵۶،حدیث: ۲۹۲۰
6 اس روایت کا عربی متن کتاب کے آخر میں دے دیا گیا ہے علمائے کرام وہاں سے رجوع کریں ۔
7 مسند احمد،مسند السیدة عائشة ،۹/۳۶۹،حدیث: ۲۴۶۰۱
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع