30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
حضرتِ سیِّدُنا عَمرو بن اَسود عَنسی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَلِی
حضرتِ سیِّدُنا عَمرو بن اسود عنسی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَ لِی تابعی بزرگ ہیں۔ آپ باوقار شخصیت کے مالک تھے۔
(6754)…حضرتِ سیِّدُنا یحییٰ بن جابر طائی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ بیان کرتے ہیں کہ حضرتِ سیِّدُنا عَمرو بن اسود عنسی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَ لِی فرمایا کرتے تھے : ”میں کبھی لباسِ شُہرت نہیں پہنوں گا اور نہ دن میں کبھی پیٹ بھرکر کھاؤں گا حتّٰی کہ اپنے رب عَزَّ وَجَلَّ سے جاملوں۔“
سیرتِ مصطفٰے کی جھلک
امیرالمؤمنین حضرتِ سیِّدُنا عمر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ فرمایا کرتے تھے : جو رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی سیرت کا مشاہدہ کرنا چاہے وہ عَمرو بن اسود کو دیکھ لے۔
(6755)…حضرتِ سیِّدُنا شُرحبیل عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَکِیْل بیان کرتے ہیں کہ حضرتِ سیِّدُنا عَمرو بن اسود عنسی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَ لِی بڑی برائی کے خوف سے اکثر پیٹ بھر کر نہیں کھاتے تھے اور جب گھر سے مسجد کی جانب روانہ ہوتے تو تکبر وخودپسندی سے بچنے کے لئے (عاجزی کرتے ہوئے) اپنا دایاں ہاتھ بائیں ہاتھ پر رکھ لیتے۔
سیِّدُنا عَمرو بن اَسود رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ سے مروی احادیث
آپ حضرتِ سیِّدُنا مُعاذ بن جبل، حضرتِ سیِّدُنا عُبادہ بن صامت، حضرتِ سیِّدُنا عَرباض بن ساریہ، حضرتِ سیِّدَتُنا اُم حرام اور حضرتِ سیِّدُنا جُنادہ بن ابواُمیّہ رِضْوَانُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِمْ اَجْمَعِیْن سے روایت کرتے ہیں۔
مخلوق میں سب سے زیادہ ناپسند
(6756)…حضرتِ سیِّدُنا مُعاذ بن جبل رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے مروی ہے کہ سرکارِ مکہ مکرمہ، سردارِ مدینہ منوَّرہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا : ”مخلوق میں اللہ عَزَّ وَجَلَّ کو سب سے زیادہ ناپسند وہ شخص ہے جو ایمان لاکر پھر کافر ہوجائے۔“(1)
جنتی گروہ
(6757)…حضرتِ سیِّدُنا عَمرو بن اَسود عَنسی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَ لِی بیان کرتے ہیں کہ ہم حمص کے ساحل پر حضرتِ سیِّدُنا عُبادہ بن صامت رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کے گھر ان کی بارگاہ میں حاضر ہوئے وہاں آپ کی زوجہ حضرتِ سیِّدَتُنا اُم حرام بنت ملحان رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا بھی تھیں۔ انہوں نے ہمیں حدیث مبارکہ بیان کی کہ حضورِ اکرم، نورِ مجسَّم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا : ”سمندری راستے جہاد کرنے والا میری اُمت کا پہلا گروہ جنتی ہے۔“میں نے عرض کی : ”یارسولَ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ! کیامیں بھی ان میں شامل ہوں گی؟“ارشاد فرمایا : ”تم بھی ان میں شامل ہو۔“پھر ارشاد فرمایا : ”قیصرکے شہر(روم) پر حملہ کرنے والا پہلا گروہ مغفرت یافتہ ہے۔(2)“میں نے
پھر پوچھا : ”یارسولَ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ! میں ان میں شامل ہوں گی؟“ارشاد فرمایا : ”نہیں۔“(3)
قیامت تک رزق دیا جاتا رہے گا
(6758)…حضرتِ سیِّدُنا عَرباض بن ساریہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے روایت ہے کہ سلطانِ دوجہاں، مالک کون ومکاں صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا : ”جب بندہ انتقال کرتا ہے تو اس کا ہرعمل اس کے ساتھ ہی ختم ہوجاتا ہے سوائے اس شخص کے جو اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی راہ میں اسلامی ملک کی سرحد کی حفاظت کرے پس بےشک اس کا عمل بڑھتا رہتا ہے اور اسے قیامت تک رزق دیا جاتا رہے گا۔“(4)
سب سے بڑا فتنہ
(6759)…حضرتِ سیِّدُنا عبادہ بن صامت رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے روایت ہے کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے حبیب، حبیب لبیب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا : ”میں نے تمہیں دجال کے متعلق خبریں دیں حتّٰی کہ مجھے اندیشہ ہوا کہ تم سمجھ نہ پائے۔ بےشک مسیح دجّال پست قد، ٹیڑھے پاؤں، گھونگریالے بال اور کانی آنکھ والا ہے وہ نہ تو اُبھری ہوئی ہے اور نہ دھنسی ہوئی ہے بہرحال اس کی دونوں آنکھیں عیب دار ہیں۔(5)اگر تمہیں شک ہو تو جان لو کہ تمہارا رب عَزَّ وَجَلَّ عیب سے پاک ہے اور تم اپنے رب کو جیتے جی نہیں دیکھ سکتے(6)۔“(7)
حضرتِ سیِّدُنا عُمَیْر بن ہانی قُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِی
حضرتِ سیِّدُنا ابوالولید عمیر بن ہانی قُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِی تابعی بزرگ ہیں۔آپ ظاہری اور پوشیدہ حالت میں خواہشات اور سستی کو ترک کرکے نیکیوں پر کمربستہ رہا کرتے تھے۔
(6760)…حضرتِ سیِّدُنا سعید بن عبدالعزیز عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْعَزِیْز بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضرتِ سیِّدُنا عمیر بن ہانی قُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِی سے کہا : ”آپ کی زبان مسلسل اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے ذکر میں مشغول رہتی ہے، دن رات میں کتنی بار ی تسبیح پڑھ لیتے ہیں؟“ فرمایا : ”ایک ہزار تسبیح مگر انگلیاں گنتی بھول جاتی ہیں۔“
فتنوں سے محفوظ بندہ
(6761)…حضرتِ سیِّدُنا عبداللہ بن عبدالرحمٰن عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰن بیان کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرتِ سیِّدُنا عمیر بن ہانی قُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِی نے فتنوں کا ذکر کیا پھر فرمایا : ”خوشخبری ہے اس مالدار کے لئے جو کسی پہاڑ میں گوشہ نشینی اختیار کرے، نماز قائم کرتا ہو، زکوٰۃ ادا کرتا ہو اور مہمان نوازی کرتا ہو۔ لوگ اسے نہیں جانتے مگر اللہ عَزَّ وَجَلَّ اس کی پرہیزگاری کے سبب اسے جانتا ہے۔ یہ بندہ فتنوں سے محفوظ ہے۔“
سیِّدُنا عمیر بن ہانی قُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِی سے مروی احادیث
سرکار کے دوست
(6762)…حضرتِ سیِّدُنا فاروق اعظم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں کہ ہم سرکارِ مدینہ، قرارِ قلب وسینہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی بارگاہ میں حاضر تھے۔ آپ نے بہت سے فتنوں کا ذکر کرتے ہوئے ”اَحْلَاس“نامی ایک فتنہ کا بھی ذکر فرمایا۔ ایک شخص عرض گزار ہوا : ”فتنہ احلاس کیا چیز ہے؟“ارشاد فرمایا : وہ لڑائی کا فتنہ ہے(جو ایک عرصہ رہے گا)۔ پھر مالداری کا فتنہ ہے جس کی ابتدا میرے اہل بیت میں سے ایک شخص کے قدموں کے نیچے سے ہوگی(یعنی وہ نسب کی بدولت لوگوں پر حکومت کرے گا)۔ وہ گمان کرے گا کہ وہ مجھ سے ہے مگر وہ مجھ سے نہیں کیونکہ میرے دوست پرہیزگار ہی ہیں۔(8)پھر لوگ ایک ایسے انسان کو چُن لیں گے جسے قوت حاصل نہ ہوگی۔ پھر سخت سیاہ فتنہ ہوگا۔ یہ اُمت میں سے ہرایک پر چھا جائے گا۔ پھر جب کہا جائے گا کہ فتنہ ختم ہوگیا تو وہ اور پھیلے گا۔ اس وقت انسان صبح ایمان کی حالت میں کرے گا اور شام کو کافر ہوگا حتّٰی کہ لوگ دو خیموں کی طرف لوٹ جائیں گے ایک خیمہ ایمان کا ہوگا جس میں نفاق نہیں اور دوسرا خیمہ نفاق کا ہوگا جس میں ایمان نہیں۔ جب یہ سب ہوجائے تو اس دن یا اس کے اگلے دن دجّال کے خروج کا انتظار کرو۔(9)
(6763)…حضرتِ سیِّدُنا عبداللہ بن عمر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے روایت ہے کہ نبیوں کے سردار، دوعالَم کے مالک ومختار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا : ”میری اُمت کے بَدتَرین لوگ جہنم میں ایسے گریں گے جیسے سالن میں مکھی گرتی ہے۔“(10)
(6764)…حضرتِ سیِّدُنا عُمیر بن ہانی قُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِی بیان کرتے ہیں : حضرتِ سیِّدُنا امیرمعاویہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے منبر پر کھڑے ہوکر فرمایا کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے محبوب، دانائے غیوب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا : ”میری اُمت میں ایک جماعت ضرور اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے حکم پر قائم رہے گی مخالفین اور رُسوا کرنے والے انہیں نقصان نہ دےپائیں گے حتّٰی کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کا حکم آجائے گا۔ یہ جماعت لوگوں پر غالب ہوگی۔“(11)
جس نیت سے جائے گا وہی پائے گا
(6765)…حضرتِ سیِّدُنا ابوہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے روایت ہے کہ حضورنبی اکرم، نُوْرِمُجَسَّم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا : ”جو شخص مسجد میں جس نیت سے جائے گا وہی پائےگا۔“(12)
قبولیت دعا کا وظیفہ
(6766)…حضرتِ سیِّدُنا عُبادہ بن صامت رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے روایت ہے کہ نبیِّ رحمت، شَفیعِ اُمت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نےارشادفرمایا : جورات جاگ کربَسرکرےاوریہ کلمات پڑھے : ”لَا اِلٰهَ اِلَّا اللهُ وَحْدَهٗ لَا شَرِيْكَ لَهٗ لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ يُحْيِيْ وَيُمِيْتُ وَهُوَ عَلٰى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيْرٌ سُبْحَانَ اللهِ وَالْحَمْدُ لِلّٰهِ وَلَا اِلٰهَ اِلَّا اللهُ وَاللهُ اَكْبَرُ وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ اِلَّا بِالله یعنی اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے سوا کوئی معبود نہیں، وہ تنہا ہے اس کا کوئی شریک نہیں، اسی کی بادشاہی ہے اور اسی کے لئے سب خوبیاں، وہی زندہ کرتا اور مارتا ہے، وہ ہر چیز پر قادر ہے، اللہ عَزَّ وَجَلَّ پاک ہے، وہی تعریف کے لائق ہے، اس کے سوا کوئی معبود نہیں، وہ سب سے بڑا ہے اور گناہ سے بچنے کی قوت اور نیکی کی طاقت اسی کی عطا سے ہے۔“ پھر کہے کہ اے اللہ عَزَّ وَجَلَّ ! مجھے بخش دے تو اسے بخش دیا جائے گا یا ارشاد فرمایا کہ پھر دعا مانگے تو اس کی دعا قبول ہوگی۔ اگر وضو کرے اور نماز پڑھے تو اس کی نماز قبول ہوگی۔(13)
(6767)…حضرتِ سیِّدُنا عبادہ بن صامت رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے روایت ہے کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے حبیب، حبیب لبیب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا : ”جو گواہی دے کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے سوا کوئی معبود نہیں، وہ تنہا ہے اس کا کوئی شریک نہیں، محمد( صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ) اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے بندے اور رسول ہیں، حضرتِ عیسٰی بن مریم اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے بندے، رسول، اس کا ایک کلمہ جو مریم کی طرف بھیجے گئے اور اس کی طرف سے روح ہیں(14)تو اللہ عَزَّ وَجَلَّ اُس کے عمل کے مطابق اُسے جنت میں داخل فرمائے گا۔“(15)
٭…٭…٭…٭…٭…٭
1 معجم کبیر، ۲۰/ ۱۱۴، حدیث : ۲۲۶
2 اس سے متعلق تفصیلی معلومات حاصل کرنے کے لئے فتاوٰی فیض الرسول، جلد2 ، صفحہ710تا712 کا مطالعہ کیجئے۔
3 بخاری، کتاب الجھاد، باب ما قیل فی قتال الروم، ۲/ ۲۸۸، حدیث : ۲۹۲۴
4 معجم کبیر، ۱۸/ ۲۵۶، حدیث : ۶۴۱
5 خیال رہے کہ انسان کی ابتدائے پیدائش سے لےکر قیامت تک دجال سے بڑا فتنہ کوئی نہیں یہ ہی انسان کے لئے بڑی آفت ہے۔ اس کی آنکھ کے متعلق احادیث میں مختلف وضاحتیں کی گئیں ہیں جن میں مقصود ان کا عیب دار ہونا بیان کرنا ہے جیساکہ مفسر شہیر حکیم الامت مفتی احمد یار خان نعیمی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی مراٰۃ المناجیح، جلد7، صفحہ285 پر شرح کرتے ہوئے فرماتے ہیں : غرضکہ کوئی آنکھ بےعیب نہ ہوگی یا یہ مطلب ہے کہ کسی کو اس کی داہنی آنکھ کانی محسوس ہوگی کسی کو بائیں آنکھ یہ فرق احساس کا ہوگا نہ کہ واقعہ کا یہ بھی ایک قدرتی کرشمہ ہوگا وہ مَردود سب کچھ کردکھائے گا مگر اپنی آنکھ نہ درست کرسکے گا۔
6 یعنی اگر تم کو اس کے کرشمے دیکھ کر دھوکا لگے کہ شاید یہ خدا ہو تو اوّلاً تو اس کا کھانا پینا سونا وغیرہ بندہ ہونے کی علامات ہیں ساتھ ہی کانے ہونے کا عیب خاص بندہ ہونے کی علامت ہے۔(مراٰۃ المناجیح ، ۷/ ۳۱۴)
7 ابو داود، کتاب الملاحم، باب ذکر خروج الدجال، ۴/ ۱۵۷، حدیث : ۴۳۲۰
مسندامام احمد، مسند الانصار، حدیث عبادة بن الصامت، ۸/ ۴۱۴، حدیث : ۲۲۸۲۸
8 مفسر شہیر حکیم الامت مفتی احمد یار خان نعیمی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی مراٰۃ المناجیح ، جلد7، صفحہ216 پر اس کے تحت فرماتے ہیں : ’’یعنی وہ شخص اپنی ان حرکتوں کے باوجود اپنے کو ”سیِّد“ ہی کہے گا اور سمجھے گا کہ میں حضور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّم کا پیارا ہوں کیونکہ ان کی اولاد سے ہوں۔ یہ واقعہ قریب قیامت ہوگا ابھی واقع نہیں ہوا، خوارج اس حدیث کو حضرت علی رَضِیَ اللہُ عَنْہ پر چسپاں کرتے ہیں کہ حضرت علی(رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ) کی خلافت میں یہ فتنہ واقع ہوچکا مگر یہ اُن کی اہل بیت دشمنی ہے، ان سرکار کو اِس سے کوئی تعلق نہیں۔‘‘مذکورہ حدیث کے آخر میں دجّال کے خروج کے انتظار کا ذکر ہے۔ اس کے تحت صفحہ217 پر فرماتے ہیں : یعنی اس فتنہ سے متصل خروجِ دجال ہوگا اس لیے معلوم ہوا کہ یہ فتنہ ابھی واقع نہیں ہوا قیامت کے قریب ہوگا۔ وہ کون سیّد ہوگا جو اس فتنہ کا موجِد ہوگا یہ رب جانے اور یہ واقعہ کب ہوگا اس کی تاریخ کا بھی پتہ نہیں۔
9 ابو داود، کتاب الفتن والملاحم، باب ذکر الفتن ودلائلھا، ۴/ ۱۲۸، حدیث : ۴۲۴۲
10 مسند شامیین، معاوية عن عمير بن هانی العنسی، ۳/ ۱۵۲، حدیث : ۱۹۷۶
11 بخاری، کتاب المناقب، باب : ۲۸، ۲/ ۵۱۲، حدیث : ۳۶۴۰، ۳۶۴۱
12 ابو داود، کتاب الصلاة، باب فى فضل القعود فى المسجد، ۱/ ۲۰۱، حدیث : ۴۷۲
13 بخاری، کتاب التھجد، باب فضل من تعار من الليل فصلى، ۱/ ۳۹۱، حدیث : ۱۱۵۴
14 عیسائی جنابِ مسیح(عَلَیْہِ السَّلَام) کو خدا کا بیٹا اور بی بی مریم(رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا) کو رب کی بیوی کہتے تھے۔ یہودی جنابِ مسیح(عَلَیْہِ السَّلَام) کی نبوت کے بھی انکاری تھے اور پاک بتول مریم(رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا) کو تہمت لگاتے تھے۔ اس ایک کلمہ میں دونوں کی نفیس تردید ہوگئی۔ زمانہ موجودہ کے قادیانی آپ کو یوسف نجار کا بیٹا کہتے ہیں اور حضرتِ مریم(رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا) کا نکاح ان سے ثابت کرتے ہیں۔ اس میں ان کی بھی اعلیٰ تردید ہے کہ اگر جنابِ مسیح(عَلَیْہِ السَّلَام) باپ کے بیٹے ہوتے تو اسی طرف آپ کی نسبت ہوتی قرآن نے بھی انہیں عیسٰی بن مریم فرمایا حالانکہ فرماتا ہے : اُدْعُوْهُمْ لِاٰبَآىٕهِمْ (پ۲۱، الاحزاب : ۵)۔(مراٰۃ المناجیح، ۱/ ۴۹)
15 مسندبزار، مسند عبادة بن الصامت، ۷/ ۱۳۰، حدیث : ۲۶۸۲
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع