30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
کوفہ کے تبع تابعین رَحِمَہُمُ اللہُ الْمُبِیْن کا تذکرہ
کوفہ کے تبع تابعین رَحِمَہُمُ اللہُ الْمُبِیْن کا تذکرہ
حضرتِ سیِّدُنا کُرز بن وَبَرہ حارِثی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَ لِیتبع تابعی بزرگ ہیں۔ وطن اصلی کوفہ تھا مگر رہائش پذیر جرجان میں تھے، بہت شہرت یافتہ تھے، عبادت وریاضت میں آپ کا مقام بہت بلند تھا، جب آپ پر محبتِ الٰہی اور کشف کی کیفیت غالب آتی تو بہت سی لطیف باتوں کا مشاہدہ کرتے اور پوشیدہ راز آپ پر ظاہر ہوجاتے۔
عُلَمائےتصوف فرماتےہیں : دنیا سے کنارہ کش ہونا اور تنہائی اختیار کرناتَصَوُّف ہے۔
کثرتِ عبادت اور تلاوتِ قرآن کاذوق
(6439)…حضرتِ سیِّدُنافُضیل بن غَزوَان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰن بیان کرتے ہیں : میں حضرتِ سیِّدُنا کُرز بن وَبَرہ حارثی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَ لِی کے گھر آیا تو میں نے دیکھا کہ طویل قیام کی وجہ سے نماز پڑھنے کی جگہ پر گڑھا بن گیا ہے جسے آپرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے بھو سا بھر کے چادر سے چھپایا ہوا تھا۔ آپ دن اور رات میں تین مرتبہ قران پاک ختم کیا کرتے تھے۔
(6440)…مروی ہےکہ حضرتِ سیِّدُنا کرز بن وبرہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ روزانہ تین مرتبہ قران پاک ختم کیا کرتے تھے۔
اسم اعظم کا سوال
(6441)…حضرتِ سیِّدُناابن شُبرُمہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ بیان کرتے ہیں : حضرتِ سیِّدُنا کرز بن وبرہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے اللہ عَزَّ وَجَلَّ سےا سم اعظم(1) کا سوال اس شرط کے ساتھ کیا کہ وہ اس سے کوئی بھی دنیاوی چیز نہ مانگیں گے۔ اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے انہیں اسم اعظم عطا کردیا تو انہوں نے روزانہ تین مرتبہ ختم قران کرنے پر قدرت حاصل ہونے کا سوال کیا۔
(6442)…حضرتِ سیِّدُناابوشبرمہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ بیان کرتے ہیں کہ میں حضرتِ سیِّدُنا کرز بن وبرہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کے ساتھ شریک سفر تھا۔ آپ جب بھی کسی پاک جگہ سے گزرتے تو سواری سے اُتر کر نماز ادا کرتے۔
نیکی چھوٹ جانے پر ملامت
(6443)…حضرتِ سیِّدُناابوداؤد حَفَری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی بیان کرتے ہیں : میں حضرتِ سیِّدُنا کرز بن وبرہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کے پاس آیا۔ انہیں روتا ہوا پایا تو پوچھا : ”آپ کیوں رو رہے ہیں؟“فرمایا : ”میرا دروازہ بند تھا، پردہ لٹکا ہوا تھا، میں گزشتہ رات تلاوتِ قرآن کا ہدف پورا کرنے سے رہ گیا اور یہ میرے گناہوں کی وجہ سے ہوا ہے۔“
(6444)…حضرتِ سیِّدُنا عبداللہبن مبارک رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے ایک مرتبہ حضرت کرز بن وبرہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کو یہ کہتے سنا : میں گزشتہ رات مطلوبہ مقدار میں تلاوتِ قرآن نہ کرسکا۔شاید!یہ میرے کسی گناہ کے سبب ہوا ہے مگر مجھے اس گناہ کا علم نہیں ۔
(6445)…حضرتِ سیِّدُنافضیل بن غزوانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰن بیان کرتے ہیں : حضرتِ سیِّدُناکرز بن وبرہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کے لئے محراب میں ایک لکڑی اس لئے رکھی رہتی تھی کہ جب آپ کو (دورانِ نماز)ا ونگھ آئے تو اس سے سہارا لے سکیں۔
لُعاب میں شفا
(6446)…حضرتِ سیِّدُنافُضیل بن غَزوَان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰن بیان کرتے ہیں : حضرتِ سیِّدُناابن شُبرُمہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ بِرسام(پھیپھڑے کی سوزش)میں مبتلا تھے، حضرتِ سیِّدُناکرزبن وبرہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ ان کی عیادت کرنے آئے۔ آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نےان کےکان میں اپنالعاب ڈال دیا (اس کی برکت سے) وہ شفایاب ہوگئے۔
نیکی کی دعوت کاجذبہ
(6447)…مروی ہےکہ حضرتِ سیِّدُنا کُرز بن وَبَرہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ لوگوں کو نیکی کی دعوت دینے جاتے تھے تو وہ آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کو اس قدر مارتے کہ آپ بےہوش ہوجاتے۔
(6448)…حضرتِ سیِّدُناابوطیبہ جُرجانی قُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِی سے روایت ہے کہ ہم نے حضرتِ سیِّدُناکرز بن وبرہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ سے پوچھا : ”ایساکون ہےجسےنیکوکاربھی ناپسندکرتےہیں اور بدکار بھی؟“فرمایا : ”وہ بندہ جو آخرت کا طالب ہوتا ہے پھر دنیا کا طالب بن جاتا ہے۔“
نماز کا شوق
(6449)…حضرتِ سیِّدُنا خَلَف بن تَمیمرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کے والد صاحب کا بیان ہےکہ حضرتِ سیِّدُنا کرز بن وبرہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ ہمارے پاس جرجان سے آئے تو کوفہ کےعلما جمع ہوگئے، میں بھی ان میں شامل تھا لیکن میں ان کی صرف دوہی باتیں سن سکا۔ ایک یہ کہ حضور نبیِّ کریم، رَءُوْفٌ رَّحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ پر درود بھیجو کیونکہ تمہارا درود اُن پر پیش کیا جاتا ہے اور دوسری بات یہ کہ اے اللہ عَزَّ وَجَلَّ !ہمارا خاتمہ اچھا فرما۔
راوی کا بیان ہے : میں نے اس امت میں ان سےبڑا عابد نہیں دیکھا، آپ کجاوے میں بھی نماز پڑھتے رہتے تھے اور اس سے اُترتے تو پھر نماز شروع کردیتے۔
تپتی دھوپ میں سر پر بادل
(6450)…حضرتِ سیِّدُنا ابوسُلیمان مکتب رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ بیان کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ مکَّۂ مکرَّمہ کی طرف جاتے ہوئے میں حضرتِ سیِّدُنا کُرز رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کا شریک سفر تھا۔ آپ کا معمول تھاکہ قافلہ جب بھی کسی مقام
پر پڑاؤ ڈالتا تو اپنے اضافی کپڑے اُتار کر کجاوے میں ڈال دیتے اور نماز کے لئے علیحدہ جگہ پر تشریف لےجاتے۔ جب اونٹوں کا شور سنتے تو واپس آجاتے۔ ایک دن آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کو آنے میں تاخیر ہوگئی۔ شرکائے قافلہ آپ کی تلاش میں نکل پڑے۔ میں بھی ان میں شامل تھا۔ میں نے دیکھا کہ آپ سخت دھوپ میں وادیوں کے بیچ ایک کھلے میدان میں نماز پڑھ رہے تھے اور بادل آپ پر سایہ کئے ہوئے تھا۔ نماز سے فارغ ہوکر جب آپ نے مجھے دیکھا تو قریب آکر کہنے لگے : ”ابوسُلیمان!تم سے ایک کام ہے۔“میں نے پوچھا : ”ابوعبداللہ!کیا کام ہے؟“فرمایا : ”میں چاہتا ہوں کہ تم نے یہاں جو کچھ دیکھا اسے پوشیدہ رکھو۔“میں نے کہا : ”آپ کی یہ بات پوشیدہ رہے گی۔“آپ نے کہا : ”وعدہ کرو۔“میں نے قسم کھاکر کہا : ”آپ کی زندگی میں یہ بات کسی کو نہیں بتاؤں گا۔“
(6451)…حضرتِ سیِّدُنااحمدبن کثیر رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے حضرتِ سیِّدُنا کرز رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کی باندی سے پوچھا : ”ان کا گزارا کہاں سے ہوتا تھا؟“اس نے جواب دیا کہ انہوں نے مجھ سے کہاتھا”اے روضہ!تمہیں جب بھی کچھ چاہئے ہوتو اس طاق سے لےلیاکرو۔“لہٰذا جب مجھے کچھ چاہئے ہوتا وہاں سےلے لیتی تھی۔
40 سال آسمان کی طرف نہ دیکھا
(6452)…حضرتِ سیِّدُنافُضیل رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ بیان کرتےہیں : حضرتِ سیِّدُناکرز رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے 40سال اپنا سر آسمان کی طرف نہیں اٹھایا۔
قبرستان والے آمد کے منتظر
(6453)…حضرتِ سیِّدُنا عَمرو بن حُمید ابوسعید عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْمَجِیْد بیان کرتے ہیں : جُرجان کے رہنے والے ایک شخص نے بتایا کہ جب حضرتِ سیِّدُناکُرز رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کا وصال ہوا تو کسی نے خواب دیکھا : مردے نئے کپڑے پہن کر اپنی قبروں کے پاس بیٹھےہیں۔کسی نےان سےپوچھا : ”یہ کیاماجراہے؟“تو وہ کہنے لگے : ”قبروالوں کو نئے کپڑے اس لئے پہنائے گئےہیں کہ ان میں حضرتِ سیِّدُنا کرز رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ تشریف لانے والے ہیں۔“
روزانہ70 مرتبہ طواف
(6454)…حضرتِ سیِّدُناابن شُبرُمہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتےہیں :
لَوْ شِئْتُ كُنْتُ كَكُرْزٍ فِی تَعَبُّدِهٖ اَوْ كَاِبْنِ طَارِقٍ حَوْلَ الْبَـيْتِ فِی الْحَرَمِ
قَدْ حَالَ دُوۡنَ لَذِيذِ الْعَيْشِ خَوْفُهُمَا وَسَارَعَا فِی طِلَابِ الْفَوْزِ وَالْكَرَمِ
ترجمہ : (۱)…میں چاہتا ہوں کہ حضرتِ سیِّدُناکرز رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کی طرح اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی عبادت کرنے والا یا حضرتِ سیِّدُنامحمد بن طارق رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کی طرح بیتُ اللہ کا طواف کرنے والابن جاؤں۔
(۲)…رنگین زندگی کے آگے ان حضرات کا خوف حائل ہوگیا اور یہ لوگ فلاح و کامرانی کے حصول میں کوشاں ہوگئے۔
حضرتِ سیِّدُنامحمد بن طارق رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ طواف کے سات چکر روزانہ 70مرتبہ لگایا کرتے تھے اور حضرتِ سیِّدُنا کُرز رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ روزانہ تین مرتبہ قرآنِ مجید کا ختم کیا کرتے تھے۔
ایک مٹھی ہی کافی ہوتی
(6455)…حضرتِ سیِّدُناابن شُبرُمہرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضرتِ سیِّدُناابن ہُبیرہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کو یہ اشعارسنائے :
لَوْ شِئْتُ كُنْتُ كَكُرْزٍ فِی تَعَبُّدِهٖ اَوْ كَاِبْنِ طَارِقٍ حَوْلَ الْبَـيْتِ فِی الْحَرَمِ
قَدْ حَالَ دُوۡنَ لَذِيذِ الْعَيْشِ خَوْفُهُمَا وَسَارَعَا فِی طِلَابِ الْفَوْزِ وَالْكَرَمِ
ترجمہ : (۱)…میں چاہتا ہوں کہ حضرتِ سیِّدُناکرز رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کی طرح اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی عبادت کرنے والا یا حضرتِ سیِّدُنامحمد بن طارق رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کی طرح بیتُ اللہ کا طواف کرنے والابن جاؤں۔
(۲)…رنگین زندگی کے آگے ان حضرات کا خوف حائل ہوگیا اور یہ لوگ فلاح و کامرانی کے حصول میں کوشاں ہوگئے۔
تو انہوں نے پوچھا : ”کُرزاورابن طارق (رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِمَا) کون ہیں؟“میں نےکہا : ”حضرتِ سیِّدُنا کرز رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ وہ ہیں کہ جب بھی قافلے والے کہیں پڑاؤ ڈالتے تو یہ نماز کےلئےالگ جگہ چلے جاتے اور حضرتِ سیِّدُنا ابن طارق رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ وہ ہیں کہ اگر کسی کو مَٹی کافی ہوتی تو انہیں ایک مٹھی ہی کافی ہوتی (یعنی معمولی مقدار پر گزارا کرلیتے)۔“حضرتِ سیِّدُناابوحَفْص رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں : ”لوگوں نےایک دن حضرت سیِّدُناابن طارق رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کےطواف کی مُسافت کو شمار کیا تو اسے10 فرسخ(2)پایا۔“
دورانِ طواف10فرسخ کی مسافت
(6456)…محمدبن فُضیل کابیان ہے : میں نے دیکھاکہ لوگوں نے طواف کے دوران حضرتِ سیِّدُنا ابن طارق رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کےلئے جگہ کشادہ کی ہوئی تھی۔ آپ نےچپلیں پہنی ہوئی تھیں جو کثرتِ طواف کے باعث گھس چکی تھیں۔ لوگوں نےاس وقت ان کے طواف کو شمار کیا تو معلوم ہوا کہ اس دن اور رات میں وہ دورانِ طواف دس فرسخ مسافت کی مقدار چلے تھے۔
سیِّدُنا کُر ز بن وَبَره حارثی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَلِی کی مرویات
حضرتِ سیِّدُناکرز رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے حضرتِ سیِّدُنا طاؤس، حضرتِ سیِّدُناعطا٫، حضرتِ سیِّدُنا ربیع بن خیثم اور حضرتِ سیِّدُنامحمد بن کعب قُرظِی رَحِمَہُمُ اللہُ تَعَالٰی اور دیگر سے احادیث روایت کی ہیں۔
رکنِ یمانی کے قریب یہ دعا کیجئے
(6457)…حضرتِ سیِّدُنا عبداللہ بن عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے روایت ہےکہ تاجدارِ رسالت، شہنشاہِ نبوت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا : اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے زمین وآسمان کی پیدائش کے وقت سے رکْنِ یمانی پر ایک فرشتہ مقرر کر رکھا ہے۔ جب تم وہاں سے گزرو تو یہ دعاکیاکرو کیونکہ وہ فرشتہ اٰمین کہتا ہے : ”رَبَّنَا اٰتِنَا فِی الدُّنْيَا حَسَنَةً وَّفِی الْاٰخِرَةِ حَسَنَةً وَّقِنَا عَذَابَ النَّار یعنی اے ہمارے رب عَزَّ وَجَلَّ! ہمیں دنیا میں بھی بھلائی عطافرمااورآخرت میں بھی بھلائی عطا فرمااور ہمیں آگ کے عذاب سے بچا۔“
حضرتِ سیِّدُنا کرزرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے فرمایا : جب تم حجر ِاسود کے پاس سے گزرو تو تکبیر کہو اور سرورِ کائنات صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ پر درود ِ پاک پڑھو پھر کہو : اے اللہ عَزَّ وَجَلَّ ! ہم نے تیری کتاب کی تصدیق کی اور تیرے نبی کی سنت کو اپنالیا۔
حاجیوں کے لئے خوشخبری
(6458)…حضرتِ سیِّدُناعبداللہ بن عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں کہ یوم ِعرفہ کی صبح جب منٰی والے اپنے خیمے اٹھا کر میدانِ عرفات کی طرف کوچ کرتے ہیں تو حضرت سیِّدُنا جبرئیل عَلَیْہِ السَّلَام ندا دیتے ہیں : ”سنو!
تمہیں بخش دیا گیا ہے، تمہارا اَجر لکھ دیا گیا ہے۔“یہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی طرف سے انعام ہے۔ اس نداکو انسانوں اورجنوں کے علاوہ تمام زمین وآسمان والے سنتےہیں۔
(6459)…حضرتِ سیِّدُنا عبداللہ بن عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ بیان کرتےہیں : ایک مرتبہ میں بارگاہِ رسالت میں حاضر ہوا تو آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ حالتِ احتباء میں نماز ادا فرمارہے تھے۔(3)
(6460)…حضرتِ سیِّدُناابوہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے روایت ہےکہ ایک دن تاجدارِانبیا، محبوبِ کبریا صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا : ”نماز کی زینت کو اپناؤ۔“عرض کی گئی : ”نماز کی زینت کیا ہے؟“ارشاد فرمایا : ”جوتے پہن کر نماز پڑھو(4)۔“(5)
(6461)…حضرتِ سیِّدُنا عبداللہ بن مسعودرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے روایت ہےکہ نبیِّ اکرم، نُوْرِمُجَسَّم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نےارشادفرمایا : روزےدارکاسوناعبادت ہے، سانس لیناتسبیح اوراس کی دعامقبول ہے۔(6)
(6462)…حضرتِ سیِّدُنا عبداللہبن عمر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے فرمایا : قدریہ(7) پر 70انبیائے کرامعَلَیْہِمُ السَّلَام کی طرف سے لعنت فرمائی گئی ان میں رسولُاللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ بھی شامل ہیں۔ جب قیامت کا دن ہوگا اور اللہ عَزَّ وَجَلَّ تمام مخلوق کو ایک جگہ جمع فرمائے گا اس وقت ایک منادی ندا کرےگا جسے اوّلین وآخرین سب سنیں گے : ” اللہ عَزَّ وَجَلَّ سے جھگڑا کرنے والے کہاں ہیں؟“ تو قدریہ کھڑے ہو جائیں گے۔
٭…٭…٭…٭…٭…٭
1 اسم اعظم کے متعلق مختلف روایات ہیں۔ دعوتِ اسلامی کے اشاعتی ادارے مکتبۃ المدینہ کی مطبوعہ 318صفحات پر مشتمل کتاب ”فضائِلِ دُعا“میں اسم اعظم کے متعلق بیس بشارتیں منقول ہیں۔ اسی میں صفحہ149 پر ہے : جمہور علماءفرماتے ہیں کہ ”اللہ“اسمِ اعظم ہے۔ اگلے صفحے پر ہے : بعض علماء نے ”بسم اللہ“ شریف کو اسم اعظم کہا۔
اسم اعظم کے متعلق تفصیلی معلومات حاصل کرنے کے لئے اسی کتاب کے صفحہ143تا152 کا مطالعہ کیجئے۔
مفسر شہیر حکیمُ الاُمت مفتی احمد یار خان نعیمی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی مراٰۃ المناجیح ، جلد3، صفحہ334 پر فرماتے ہیں : خیال رہے کہ اللہ تَعَالٰی ٰ کے سارے ہی نام عظیم ہیں کوئی ناقص نہیں مگر بعض نام اعظم یعنی بہت بڑے ثواب وتاثیروالے ہیں۔ بعض صوفیاء نے فرمایا کہ جو نام خلوص دل اور عشق ومحبت سے لیا جائے وہی اسمِ اعظم ہے۔ یہ ہی امام جعفر صادق کا قول ہے۔
2 ایک فَرسَخ تین میل کے برابر ہوتا ہے اور ایک میل سوا کلو میٹر کے برابر یعنی دورانِ طواف آپ نے جو مسافت طے کی اس کی مقدار تقریباً 38کلومیٹر بنتی ہے۔
3 احتباء یہ ہے کہ آدمی سرین کو زمین پر رکھ دے اور گھٹنے کھڑے کرکے دونوں ہاتھوں سے گھیرلے اور ایک ہاتھ کو دوسرے سے پکڑ لے۔ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا اس طرح نماز پڑھنا کسی عذر کی بنا پر تھا۔
4 عہدرسالت میں جوتےپہن کرنمازجائزاورموافق ادب تھا۔مگراب لوگوں کاعرف اورحال بدل جانے کی وجہ سے ممنوع اورخلافِ ادب ہے کہ فتاوٰی رضویہ میں ردالمحتارکےحوالےسےہے : ’’مسجدمیں جوتاپہن کرجاناخلافِ ادب ہے۔‘‘(ماخوذازفقہ حنفی میں حالات زمانہ کی رعایت، ص۳۰، ۳۱)
5 الکامل لابن عدی، ۷/ ۳۵۴، الرقم : ۱۶۵۰، محمد بن فضل خراسانی
6 فردوس الاخبار، ۱/ ۳۳۷، حدیث : ۲۴۶۷ شعب الایمان، باب فی الصیام، ۳/ ۴۱۶، حدیث : ۳۹۴۲، بتغیرقلیل
الترغیب فی فضائل الاعمال لابن شاھین، باب مختلط من فضائل الصیام الخ، الجزء الاول، ص۱۷۹، حدیث : ۱۴۱
7 ایک فرقہ جو تقدیر کا اِنکار کرتا ہے۔(شرح النووی علی المسلم، کتاب الایمان، باب بیان الایمان والاسلام والاحسان، ۱/ ۱۵۴)
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع