دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

ALLAH Walon Ki Baatein Jild 10 | اللہ والوں کی باتیں (جلد:10)

book_icon
اللہ والوں کی باتیں (جلد:10)
            

جنتی تحفے:

(15332)…حضرت سیِّدُنا ابو العباس بن عطاء رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ فرماتے ہیں: تمہارا نفس تمہارے دل پر نگاہ نہ رکھتا ہو تو حکمت والوں کی صحبت اپنا کر نَفْس کو ادب سکھاؤ۔ جو حکمت کے نور سے روشن ہونا چاہے وہ اپنے نفس کو لے کر عَقْل ودانش والوں سے ملاقات کرے۔اورفرماتے ہیں: دل کو جنّت کا اشتیاق ہوتا ہے تو جنّت کے تحفے اس کی طرف لپک کے آتے ہیں اور وہ تحفے دنیا کی تکلیفیں ہیں، کیوں کہ تکلیفیں سچ والوں کے جسموں کے لیے جنتی تحفے ہیں، جو اپنے نفس کو تکلیفوں کے قلعے تک پہنچادے اس کے دل سے لالچ بھری خواہشیں کوچ کرجاتی ہیں۔مزیدفرماتے ہیں: سچائی کی نشانی یہ ہے کہ تکلیف آنے پر بھی دل راضی رہے۔ (15333)…حضرت سیِّدُنا ابو العباس بن عطاء رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ فرماتے ہیں: جو نیک لوگوں کے طور طریقے اپناتا ہے وہ عزت کی محفل کے لائق ہوجاتا ہے، جو اولیائے کرام کے طور طریقے اپناتا ہے وہ قُرب کی محفل کے لائق ہوجاتا ہے اور جو انبیائے کرام عَلَیْہِمُ السَّلَام کے طور طریقوں پر چلے وہ انس وانبساط کی محفل کے لائق ہوجاتا ہے۔

شفقت اور غفلت:

(15334)…حضرت سیِّدُنا ابو العباس بن عطاء رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ فرماتے ہیں: بندۂ مومن کے ساتھ شفقت وابستہ رہی یہاں تک کہ اسے بہترین حال تک پہنچادیا، گنہگار بندے کے ساتھ غفلت وابستہ رہی یہاں تک کہ اسے بدترین حال تک لے گئی۔ (15335)…حضرت سیِّدُنا ابو العباس بن عطاء رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ فرماتے ہیں: اپنے دل کو ذِکْر والوں کی محفل سے اس اُمید پر قریب رکھو کہ غفلت سے بیدار ہوجائیں، خود کو نیکوں کی خدمت میں اس امید پر لگائے رکھو کہ اس کی برکت سے ربِّ کریم کی فرماں برداری کے عادی بن جاؤ۔

غضب الٰہی کو قریب کرنے والی چیز:

(15336)…حضرت سیِّدُنا محمد بن علی بن حُبَـیْش رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ بیان کرتے ہیں: میں حضرت سیِّدُنا ابو العباس بن عطاء رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ کے پاس حاضر تھا۔ کسی نے آپ سے پوچھا: کون سی چیز ہے جو مَعَاذَاللہ غَضبِ الٰہی کو قریب کردیتی ہے؟ فرمایا: اپنے نفس کو اور نفسانی کاموں کو اچھی نظر سے دیکھنااور اس سے زیادہ بھاری چیز یہ ہے کہ ان نفسانی کاموں کا بدلہ بھی چاہتا ہو۔

اولیائے کرام کی چار نشانیاں:

(15337)…حضرت سیِّدُنا ابو العباس بن عطاء رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ فرماتے ہیں کہ چار چیزیں اولیائے کرام رَحِمَہُمُ اللہ کی نشانیوں میں سے ہیں: (1)…اپنا بارگاہِ الٰہی کے ساتھ جو پوشیدہ حال ہے اسے چھپائے رکھنا، (2)…حقوقِ الٰہی کے مُعاملے میں اپنے اعضاء کی حفاظت کرنا، (3)…خَلْقِ خدا کی طرف سے جو تکلیفیں پہنچیں انہیں صَبْر کے ساتھ برداشت کر لینا اور (4)…لوگوں کی کم زیادہ عقل کا لحاظ کرتے ہوئے ان کے ساتھ نرمی سے پیش آنا۔ (15338)…حضرت سیِّدُنا ابو العباس بن عطاء رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ فرماتے ہیں: جو حقانیت سے مشاہدۂ حق کرے سب واسطے اس سے کٹ کر رہ جاتے ہیں۔ جب تک بندہ کسی چیز کی طرف توجہ رکھتا ہے تب تک وہ حقیقی مشاہدۂ حق میں نہیں ہوتا، یہ اس کا مقام ہے جس کے لیے ولایت کی مَسْنَد بچھادی گئی اور انتہا وغایت اس سے اوجھل نہیں ہوئی۔

آیت مبارکہ کی تفسیر:

(15339)…فرمانِ باری تعالیٰ ہے: تَتَجَافٰى جُنُوْبُهُمْ عَنِ الْمَضَاجِعِ (پ۲۱،السجدة:۱۶) ترجمۂ کنز الایمان : ان کی کروٹیں جدا ہوتی ہیں خواب گاہوں سے۔ حضرت سیِّدُنا ابو العباس بن عطاء رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ فرماتے ہیں کہ لیٹنے والے کئی طرح کے ہیں: (1)…اپنے بستر پر لیٹنے والا، (2)…اپنی ذات کے مُعاملے میں پڑا رہنے والا اور (3)…اپنی دنیا کے مُعاملے میں پڑا رہنے والا۔

مذکورہ تفسیر کی تفصیل:

6اپنے بستر پر سونے والا: وہ ہے جو (گناہ کرکے خود پر) ظلم کرتا ہے، جب کبھی خوابِ غفلت سے جاگتا تو خدا کو یاد کرتا ہے، ربِّ کریم اُسے 10گنا ثواب عطا فرماتا ہے۔6اپنی دنیا کے مُعاملے میں پڑا رہنے والا: وہ ہے جو درمیانی راہ چلتا ہے، جب کبھی آنکھ کھلتی ہے تو دنیا میں مگن رہنے سے ڈرجاتا اور توبہ واستغفار کرتا ہے، اسے سات سو گنا ثواب عطا کیا جاتا ہے۔6اپنی ذات کے مُعاملے میں پڑا رہنے والا: وہ سبقت لے جانے والا ہے جو اپنی ذات پر نظر کرتا اور اپنی بے راہی دیکھتا ہے تو کہتا ہے میں ضرور ہلاکت والوں میں ہوں۔ جب اپنے نفس سے چھٹکارے کی طلب کے لیے بارگاہِ الٰہی میں اپنی فریاد کرتا ہے تو ان لوگوں میں سے ہوجاتا ہے جن کا ثواب یہ ہے: فَلَا تَعْلَمُ نَفْسٌ مَّاۤ اُخْفِیَ لَهُمْ مِّنْ قُرَّةِ اَعْیُنٍۚ (پ۲۱،السجدة:۱۷) ترجمۂ کنز الایمان : تو کسی جی کو نہیں معلوم جو آنکھ کی ٹھنڈک ان کے لیے چھپا رکھی ہے۔ حضرت سیِّدُنا ابو العباس بن عطاء رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ فرماتے ہیں: یادِ الٰہی سے منہ موڑ کر ثواب یاد کرنا بھی درحقیقت بارگاہِ الٰہی سے غافل ہونا ہے۔ (15340)…حضرت سیِّدُنا محمد بن علی بنحُبَـیْش رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت سیِّدُنا ابو العباس بن عطاء رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ نے مجھے یہ اشعار سُنائے: بِاللہِ اَبْلُغُ مَا اَسْعٰی وَاُدْرِکُہٗ لَا بِیْ وَلَا بِشَفِیْعٍ لِّیْ اِلَی النَّاسِ اِذَا یَـئِسْتُ وَکَادَ الْیَاْسُ یَقْتُلُنِیْ جَاءَ الْغِنٰی عَجَبًا مِّنْ جَانِبِ الْیَاْسِ ترجمہ: میں جس چیز کی طلب میں ہوتا ہوں تو اپنی یا کسی سِفارشی کی وجہ سے اس تک نہیں پہنچتا بلکہ ربِّ کریم کے فَضْل وکرم سے ہی وہ چیز عطا ہوتی ہے۔ جب میں نا امید ہوتا ہوں اور نا امیدی میری جان لینے لگتی ہے تو حیرت انگیز طور پر اسی ناامیدی کے ایک گوشے سے بے نیازی آجاتی ہے۔ حضرت سیِّدُنا محمد بن علی بن حُبَـیْش رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ فرماتے ہیں: میں نے ان کے سامنے تیسرے شعر کا اضافہ کردیا: اَعُوْدُ فِیْ کُلِّ اَمْرٍ جَلَّ مَطْلَبُہٗ عِنْدِیْ اِلٰی کَاشِفِ الضَّرَّاءِ وَالْبَاْسِ ترجمہ: ہر وہ مقصد جس کی مجھے بڑی طلب ہو اسے پورا کرنے کے لیے میں سختی ومصیبت دُور کرنے والے ربِّ کریم کی بارگاہ کا رُخ کرنے کا عادی ہوں۔ حضرت سیِّدُنا محمد بن علی بنحُبَـیْش رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت سیِّدُنا ابو العباس بن عطاء رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ نے مجھے یہ اَشعار سُنائے: دَبُّـوْا اِلَی الْمَجْدِ وَالسَّاعُوْنَ قَدْ بَلَغُوْا جَہْدَ النُّفُوْسِ وَشَدُّوْا نَحْوَہٗ الْاِزْرَ وَسَاوَرُوا الْمَجْدَ حَتّٰی مَلَّ اَکْثَرُہُمْ وَعَانَقَ الْمَجْدَ مَنْ وَّافٰی وَمَنْ صَبَـرَ لَا تَحْسَبِ الْمَجْدَ تَمْرًا اَنْتَ تَاْکُـلُہٗ لَنْ تَبْلُغَ الْمَجْدَ حَتّٰی تَلْعَقَ الصَّبْـرَ ترجمہ: وہ بُزرگی کی طرف رینگتے ہوئے چلے جبکہ دوڑنے والے پوری کوشش کرکے اور کمر کَس کے پہنچ چکے ہیں۔ وہ بزرگی کے حُصُول کے لیے ایک دوسرے سے آگے بڑھتے رہے، بالآخر ان میں سے اکثر اُکتا گئے، جس نے پورا کام کیا اور صَبْر سے کام لیا اسے بزرگی نصیب ہوئی۔ بزرگی کو کوئی کھجور نہ سمجھو جسے اٹھایا اور کھاگئے۔ کڑوے ایلوے کو چاٹے بغیر تم بزرگی تک نہیں پہنچ سکوگے۔ حضرت سیِّدُنا ابو العباس بن عطاء رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ کے کہے ہوئے مزید اشعار: ذِکْرُکَ لِیْ مُؤْنِسٌ یُّعَارِضُنِیْ یُوْعِدُنِیْ عَنْکَ مِنْکَ بِالظَّفَرِ فَکَیْفَ اَنْسَاکَ یَا مَدَی ہِمَّتِیْ وَاَنْتَ مِنِّیْ بِمَوْضِعِ النَّظَرِ ترجمہ:تیری یاد سے میرا دل بہلتا ہے، تیری یاد میرے سامنے آتی اور مجھے تیری طرف سے کامیابی کی نوید سُناتی ہے۔ میں تجھے کیسے بھول سکتا ہوں اے وہ ذات جس کی بارگاہ میرے حوصلوں کی انتہا پر ہے جبکہ تیری قُدْرت میری نگاہ کے بالکل سامنے ہے۔

بندگی کیا ہے؟

(15341)…حضرت سیِّدُنا ابو العباس بن عطاء رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ سے پوچھا گیا: بندگی کیا ہے؟ فرمایا: اپنے اختیار کو چھوڑ دینا اور (بارگاہِ الٰہی کی) محتاجی کو تھامے رہنا بندگی ہے۔ (15342)…حضرت سیِّدُنا ابو العباس بن عطاء رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ فرماتے ہیں: خبردار! جب تمہیں مُشاہدۂ ربّانی کا راستہ مل رہا ہو تو مخلوق کی طرف آنکھ اٹھاکر نہ دیکھنا۔

سیّدُنا ابو العباس بن عطاء رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ کی مرویات

مُصَنِّفِ کتاب فرماتے ہیں: حضرت سیِّدُنا ابو العباس بن عطاء رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ بہت حدیثیں بیان فرمایا کرتے تھے۔

غلامِ نبی کی شان و عظمت:

(15343)…حضرت سیِّدُنا واثِلَہ بن اَسْقَع رَضِیَ اللہُ عَنْہ سے روایت ہے کہ پیارے آقا صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا:میری امت کے ایک شخص کی شفاعت سے قبیلَۂ بنو تمیم سے زیادہ لوگ جنّت میں داخل ہوں گے۔(1) (15344)…حضرت سیِّدُنا عبداللہ بن عباس رَضِیَ اللہُ عَنْہُمَا فرماتے ہیں: لوگوں کے ساتھ مل کر نمک کھانا مجھے اکیلے فالودہ کھانے سے زیادہ پسند ہے۔

بغداد کے مشہور بُزرگوں میں سے چند کا تذکرہ

حضرت سیِّدُناشیخ حافظ ابو نُعَیْم احمد بن عبداللہ اَصفہانی شافعی رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ فرماتے ہیں: یہ بغداد کے اُن مشہور بزرگوں کا تذکرہ ہے کہ جب آزمائشیں اور مصیبتیں اُترتی تھیں تو ان کے بےغُبار احوال اور کامل اقوال کے باعث لوگ ان کی دُعاؤں کی پناہ لیتے تھے، قبولیت کے متعلق ان کے واقعات مشہور تھے، ان کے اوقات مشاہدۂ ربّانی اور مُناجاتِ الٰہی سے آباد ہوتے تھے،حضرت سیِّدُنا بِشرِ حافی اور حضرت سیِّدُنا معروف کَرخی رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہِمَا کے اصحاب کی صحبت میں رہے، حق تعالیٰ نے اُنہیں بدلنے سے بچائے رکھا، ذِکر وشہرت کی گوشہ نشینی سے انہیں آراستہ کیا۔ ہم نے ان کے اصحاب سے ملاقات کی ہے وہ اپنی علامتوں کے ساتھ مشہور تھے، ذِکْر کے گواہ تھے اور اسے غنیمت جانتے تھے نیز وقت کے مجاہد تھے۔ان حضرات میں سے حضرت سیِّدُنا ابراہیم بن سَرِی سَقَطِی، حضرت سیِّدُنا بَدْر بن مُنذِر مَغَازِلی، حضرت سیِّدُنا ابو احمد قَلانِسی، حضرت سیِّدُنا خَیْرُ النَّسَّاج اور حضرت سیِّدُنا ابو بکر بن مسلم بن حمزہ بصری رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہِمْ بھی ہیں۔ ان کا شمار بغدادیوں میں ہے۔

حضرت سیّدُنا ابراہیم بن سَرِی رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ

(15345)…حضرت سیِّدُنا ابراہیم بن سَری سَقَطِی رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے اپنے والدِ گرامی حضرت سیِّدُنا سری سقطی رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ کو فرماتے سُنا: مجھے اُس پر حیرت ہے جو نفع کی طلب میں گھومتا پھرتا ہے جبکہ وہ اپنے نفس کی مانند واویلا کرتا ہے وہ کبھی نفع حاصل نہیں کرے گا۔ (15346)…حضرت سیِّدُناابراہیم بن سری سقطی رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے اپنے والدِ گرامی حضرت سیِّدُنا سری سقطی رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ کو فرماتے سُنا: اگر لوگ اپنے بدنوں پر ایسے رحم کھائیں جیسے اپنے بچوں پر رحم کھاتے ہیں تو آخرت میں خوشی پائیں۔

حضرت سیّدُنا بَدْر مَغَازِلی رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ

حنبلی بُزرگانِ دین ومُحدِّثِینِ کرام رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہِمْ کا مُتَّفَقَہ قول ہے کہ حضرت سیِّدُنا بَدْر مَغازِلی رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ کا شمار اَبدالوں میں ہوتا ہے۔ آپ رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ کے انوکھے واقعات معروف ہیں۔

سیّدُنا بَدْر مَغَازِلی رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ سے مروی حدیث پاک

محبوب الٰہی کی شان:

(15347)…حضرت سیِّدُنا ابو ہریرہ رَضِیَ اللہُ عَنْہ سے روایت ہے کہ حُضُورِ اقدس صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: ” اللہ پاک بندے سے محبّت فرماتا ہے تو حضرت جبریل عَلَیْہِ السَّلَامسے ارشاد فرماتا ہے: میں فُلاں سے محبّت کرتا ہوں تم بھی اسے محبوب رکھو۔ چنانچہ حضرت جبریل عَلَیْہِ السَّلَاماس سے محبت کرنے لگتے ہیں پھر آسمان والوں سے کہتے ہیں: اللہ پاک اپنے فلاں بندے سے محبّت فرماتا ہے لہٰذا اُس سے محبّت کرو۔ چنانچہ آسمان والے اس سے محبّت کرنے لگتے ہیں۔ پھر اس بندے کے لیے مقبولیت رکھ دی جاتی ہے۔“(2) حضرت سیِّدُنا علاء بن مُسَیَّب رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضرت سیِّدُنا سہیل بن ابو صالح رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ سے پوچھا: مقبولیت کیا ہے؟ فرمایا: زمین میں محبوبیت(یعنی لوگوں کے درمیان محبوب ہونا)۔

حضرت سیّدُنا ابو احمد قَلَانِسی رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ

حضرت سیِّدُنا ابو احمد قلانسی رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ عاجزی، جواں مردی، بُردباری، پاکیزہ قلبی اور سخاوت جیسے اخلاق کے مالک تھے۔ آپ رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ حضرت سیِّدُنا ابو حمزہ رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ کی صحبت سے فیض یاب ہوئے اور ان سے علم حاصل کیا۔ (15348)…حضرت سیِّدُنا یحییٰ بن حسن قَلانِسی رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ فرماتے ہیں: میں خواب میں ربِّ کریم کےدیدار سے مُشَرَّف ہوا، میں نے بارگاہِ الٰہی میں عَرض کی: اے میرے ربّ! میرے سب پچھلے گناہ بخش دے۔ ارشاد فرمایا: اگر تُو چاہتا ہے کہ میں تیرےپچھلے گناہ بخش دوں تو جو دن بچ گئے ہیں اُنہیں ٹھیک رکھ۔ میں نے عرض کی: اے میرے ربّ! اس میں میری مدد فرما۔

کھانے میں ایثار:

(15349)…حضرت سیِّدُنا مُنَبِّہبصری رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ بیان کرتے ہیں:میں حضرت سیِّدُنا ابو احمد قلانسی رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ کے ساتھ سفر میں تھا، ہمیں بہت بھوک لگی،کھانے کی کوئی چیز مُیَسَّر آئی تو آپ رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ نے ایثار کرتے ہوئے وہ چیز مجھے عطا فرمادی۔ ہمارے پاس ستّو بھی تھا۔ مجھ سے مِزاحًا فرمانے لگے: میرے اونٹ بنو گے؟ میں نے کہا: کیوں نہیں۔ چنانچہ آپ ستّو مجھے کھلادیتےاور اس حِکمتِ عملی سے ایثار فرماتے۔ حضرت سیِّدُنا ابو احمد قلانسی رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ حضرت سیِّدُنا ابو محمد رِباطی مَروَزِی رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ کی بابرکت صحبت میں رہے ہیں اور ان کے ساتھ جنگلات طے کیے۔ آپ رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ نے حضرت سیِّدُنا ابو محمد رباطی مروزی رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ سے ہی یہ اچھے اخلاق سیکھے ہیں۔ واقعہ یہ تھا کہ حضرت سیِّدُنا ابو محمد رباطی مروزی رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ نے یہ شرط رکھ دی تھی کہ سفر میں امِیرِ قافلہ میں ہی بنوں گا۔ چنانچہ بیان کیا جاتا ہے کہ حضرت سیِّدُنا ابو محمد رباطی مروزی رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ خود بھوکے پیاسے رہتے حضرت سیِّدُنا ابو احمد قلانسی رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ کو کھلاتے پلاتے تھے اور ایثار کرکے آسائش کا سب سامان انہیں عطا فرماتے تھے۔

امیر قافلہ ہو تو ایسا:

ایک مرتبہ دونوں حضرات جنگل میں تھے۔ بادل گھر آئے، گھپ اندھیرا چھاگیا اور تیز آندھی کے ساتھ طوفانی بارش ہونے لگی۔ حضرت سیِّدُنا ابو محمد رِباطی مَروَزِی رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ نے حضرت سیِّدُنا ابو احمد قلانسی رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ سے فرمایا: احمد! درخت کی جُھکی شاخ کی طرف بڑھو۔ حضرت سیِّدُنا ابو احمد قلانسی رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ بیان کرتے ہیں: ہم اس طرف بڑھے تو حضرت نے مجھے اس درخت کے تنے کے پاس بٹھادیا، خود کھڑے رہے، اپنے ہاتھ میرے اوپر رکھے، اپنی چادر اپنی پیٹھ اور سر کے سہارے رکھ کر مجھ پر وہ چادر تانے رکھی اور مجھے بارش سے یوں بچایا کہ معلوم ہوتا تھا کسی گھر میں ہوں جہاں بارش کا اثر ہے نہ آندھی کا۔ میں جب بھی کچھ کہتا تو فرماتے: میں امِیرِ قافلہ ہوں لہٰذا میرے کسی کام پر انگلی مت اٹھاؤ۔ حضرت سیِّدُنا ابو حمزہ، حضرت سیِّدُنا ابنِ وہب اور دیگر بہت مشائِخِ کرام رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہِم ان کی تعظیم کرتے اور انہیں دوسروں پر فوقیت دیتے تھے۔

مذہَبِ صوفیاکی بنیادی شرائط:

حضرت سیِّدُنا ابو سعید بن اَعرابی رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ فرماتے ہیں: میں حضرت سیِّدُنا ابو احمد قلانسی رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ کے وصال تک آپ کی صحبت میں رہا، میں نے کبھی انہیں سونا چاندی ملکیت میں ہوتے ہوئے رات گزارتے نہیں دیکھا، رات کو ہی وہ (صَدَقہ وخیرات کرکے) خرچ فرمادیتے تھے اور ربِّ کریم پر بھروسا رکھنے کے مُعاملے میں حضرت سیِّدُنا شقیق بلخی رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ کے نقشِ قدم پر تھے۔ آپ رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ فرمایا کرتے تھے کہ ہمارے مذہب کی بنیاد تین شرطوں پر ہے: (1)…ہم کسی سے اپنا حق طلب نہیں کریں گے،(2)…اپنے آپ سے لوگوں کے حُقُوق کا مطالبہ ضرور کریں گے اور(3)…اپنے ہر معاملے میں اپنی کوتاہی مانیں گے۔

حضرت سیِّدُنا خَیْرُ النَّسَّاج رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہِ

حضرت سیِّدُنا ابو الحسن خیْرُ النَسَّاج رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ سامِرا کے باشندے ہیں۔آپ بغداد میں رہائش پذیر ہوگئے تھے۔حضرت سیِّدُنا ابو حمزہ اور حضرت سیِّدُنا سَرِی سَقَطِی رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ کی صحبت سے فیض یاب ہوئے اور آپ کی بہت سی کرامات ہیں۔

انتقال سے پہلے نماز:

(15350)…حضرت سیِّدُنا خَیْرُ النَّسَّاج رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ کے جو ارادت مند آپ کے وِصال کے وقت حاضر تھے ان میں سے کئی اصحاب بیان کرتے ہیں کہ نمازِ مغرب کے وقت آپ پر بے ہوشی طاری ہوگئی، کچھ دیربعد اِفاقہ ہوا تو گھر کے دروازے کی طرف دیکھ کر کہنے لگے: ٹھہر جاؤ! خُدا تمہیں عافیت میں رکھے، بلاشبہ تم حکم پر مامور ہو، تمہیں جس بات کا حکم ہے وہ تمہارے ہاتھ سے نہیں نکلے گا لیکن مجھے جس چیز کا حکم دیا گیا ہے وہ مجھ سےرہ سکتی ہے لہٰذا مجھے وہ کام کرنے دو جس کا مجھے حکم ہے پھر تم وہ کرنا جس کا تمہیں حکم دیا گیا ہے اس کے بعد انہوں نے پانی منگوایا ، وضو کرکے نماز پڑھی پھرسیدھے لیٹ کر آنکھیں بند کرلیں اور کلمہِ شہادت پڑھتے ہوئے انتقال فرما گئے۔ انتقال کے بعد آپ کے کسی ارادت مند نےآپ کو خواب میں دیکھاتو پوچھا: اللہ پاک نے آپ کے ساتھ کیا مُعاملہ فرمایا ؟ کہنے لگے: اس بارے میں مجھ سے نہ پوچھو لیکن میں نے تمہاری عیب دار دنیا سے راحت حاصل کرلی ہے۔

نَسَّاج کہنے کی وجہ:

(15351)…حضرت سیِّدُنا جعفرخُلدی رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ فرماتےہیں:میں نے حضرت سیِّدُنا خَیْرُ النَّسَّاج رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ سے پوچھا کیا نسْج (کپڑے بُننا) آپ کا پیشہ تھا؟فرمایا:نہیں۔ میں نے پوچھا پھر آپ کا یہ نام کیسے پڑگیا؟فرمایا: میں نےاللہ پاک سے یہ عہدو پیماں کیا تھا کہ میں کبھی بھی تازہ کھجوریں نہیں کھاؤں گا۔ لیکن ایک دن میرا نفس مجھ پر غالب آگیا اور میں نے آدھی رِطْل تازہ کھجوریں خرید کر اس میں سے ایک کھجور ہی کھائی تھی کہ اچانک ایک شخص نے میری طرف دیکھتے ہوئے کہا:اےخیر!اے بھگوڑے!مجھ سے بھاگتے ہو؟اس شخص کاخیر نامی ایک غلام تھا جو کہ بھاگ گیا تھا۔چنانچہ مجھ پر اس کی شکل و شَباہت طاری ہوگئی تو اس نے مجھے اپنا غلام سمجھ لیا اور میرا گلا گھوٹنے لگا ۔ اس دوران لوگ بھی جمع ہوگئے اور کہنے لگے: خُدا کی قسم یہی تیرا غلام خیرہے۔میں بڑا حیران ہوا اور سمجھ گیا کہ مجھے کس سبب سے پکڑا گیا اور مجھ سے کیا جرم ہوا ہے؟ وہ شخص مجھے اپنے کارخانے لے گیا جہاں اس کےاور بھی بہت سے غلام کپڑے بُن رہے تھے۔انہوں نے مجھ سے کہا: اے نافرمان غلام! اپنے آقاسے بھاگتا ہے؟اندر آجاؤ اور وہ کام کرو جو کیا کرتے تھے اور مجھے ایک موٹا کپڑا بُننے کو کہا۔ میں نے کام کرنے کے لئے اپنے پاؤں لٹکائے ، کپڑے بننے کے اوزار کو اٹھا یا اور کام کرنے لگا ،یوں لگا گویا کہ میں کئی سالوں سے یہ کام کررہا ہوں ۔ ایک مہینے تک اس شخص کے لئے کپڑے بُننے کا کام کرتا رہا، ایک رات میں اُٹھا اور غسل کرکے نماز کے لئے کھڑا ہوگیا اور سجدے میں روتے ہوئے عرض کی: اے میرے رب ! جو کام(عہد شکنی)مجھ سے سَرزَد ہوگیا ہے میں دوبارہ کبھی وہ کام نہیں کروں گا۔ جب صبح ہوئی تو میری وہ شکل و شباہت جو مجھ سے دور ہوگئی تھی لَوٹ آئی اور میں آزاد ہو گیا مگر میرا نام( نَسَّاج یعنی کپڑا بننے والا)اب تک باقی ہے۔تو کپڑے بُننے کا سبب اپنی خواہش کی پیروی کرنا تھی میں نے اللہ پاک سے وعدہ کیا تھا کہ میں تازہ کھجوریں نہیں کھاؤں گا تو اللہ پاک نے میری پکڑ فرمائی جو تم نے سُن لی۔

مخلوق ہر سانس میں ربِّ کریم کی محتاج ہے:

حضرت سیِّدُنا خَیْرُ النَّسَّاج رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہفرمایا کرتے تھے کہ جسے اللہ پاک نے اپنے دسْتِ قُدرت سے بنایا ہو اور اس نے کبھی اپنے رب کی نافرمانی نہیں کی تو اس سے اشرف کوئی اور نسب نہیں ، جسے اللہ پاک نے تمام اَسما کا علم عطا فرمایاہو اور وہی علم ارفع و اعلیٰ ہے جو قدرتِ الٰہی کے مقابلے میں نہ آئے اور کسی کی عبادت بظاہر ابلیس کی عبادت سے زیادہ نہیں ہے لیکن وہ اسےاس انجام سے نہ بچاسکی جو بارگاہِ الٰہی میں پہلے ہی لکھا جاچکا تھا اور فرمایا:تمام مخلوق کی توحید ناقص ہے اپنے غیر کے ساتھ قائم اور غیر کی طرف محتاج ہونے کی وجہ سے۔ اللہ پاک ارشاد فرماتا ہے: یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ اَنْتُمُ الْفُقَرَآءُ اِلَى اللّٰهِۚ-وَ اللّٰهُ هُوَ الْغَنِیُّ الْحَمِیْدُ(۱۵) (پ۲۲،الفاطر:۱۵) ترجمۂ کنز الایمان : اے لوگو! تم سب اللہ کے محتاج اور اللہ ہی بے نیاز ہے سب خوبیوں سراہا۔ تمام مخلوق ہر ہر سانس میں اس کی طرف محتاج ہے، وہ بے نیاز ہے تم سے، تمہاری توحید سے اور تمہارے افعال سے، وہ تم سے وہ چیز قبول فرما لیتا ہے جس کی اسے کوئی حاجت نہیں اور تمہیں وہ بدلہ عطا فرماتا ہے جس کی تمہیں حاجت ہے۔

دریا ئے دِجْلہ سے مال حاصل کرنا:

(15352)…حضرت سیِّدُنا ابو الخیر دَیْلَمِی رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ کہتے ہیں کہ میں حضرت سیِّدُنا خَیْرُ النَّسَّاج رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ کے پاس بیٹھا ہوا تھا اتنے میں ایک عورت آئی اور ان سے کہنے لگی: مجھے وہ رومال دیں جو میں نے آپ کو دیا تھا۔ انہوں نے وہ رومال دے دیا، عورت نے کہا: اس کی اُجرت کتنی ہے؟آپ رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ نے فرمایا :دو درہم۔ عورت کہنے لگی: اس وقت تو میرے پاس کچھ بھی نہیں ہے میں پہلے کئی با ر آپ کے پاس آئی لیکن میں نے آپ کو نہیں پایا،کل اِن شَآ ءَاللہ دو درہم لاکر دے دوں گی۔فرمایا:اگر تم کل دو درہم لے کر آؤ اور مجھے نہ پاؤ تو اسے دریائے دِجلہ میں پھینک دینا جب میں واپس آؤں گا تو لے لوں گا، عورت پوچھنے لگی: آپ وہاں سے کیسے لیں گے؟آپ رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ نے فرمایا: اس کی جانچ تمہارے لئے بے فائدہ ہے جو میں نے کہا ہے وہ کر دینا، عورت اِن شَآ ءَاللہ کہتی ہوئی چلی گئی ۔ حضرت سیِّدُنا ابو الخیر دَیْلَمِی رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ کہتے ہیں: میں اگلے دن آیا تو حضرت سیِّدُنا خَیْرُ النَّسَّاج رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ موجود نہیں تھے،اتنے میں وہ عورت آگئی اور اس کے ہاتھ میں ایک کپڑا تھاجس میں دو درہم تھے، اس نےحضرت سیِّدُنا خَیْرُ النَّسّاج رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ کو نہ پایا تو کچھ دیر بیٹھ گئی اور پھر اس کپڑے کو دریائے دِجْلہ میں ڈال دیا۔ اچانک دریا سے ایک کیکڑا نمودار ہوا اور اس کپڑے کو لے کر دوبارہ غوطہ زن ہوگیا ، کچھ دیر بعد حضرت سیِّدُنا خَیْرُ النَّسّاج رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ نے آکر اپنی دکان کھولی اور پھر وضو کرنے کے لئے دریا کے کنارے بیٹھ گئے اچانک وہی کیکڑا پانی سے نکل کر ان کی طرف بڑھنے لگا اس حال میں کہ وہ کپڑا اس کی پیٹھ پر تھا ، جب وہ ان کے قریب ہوا تو آپ رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ نے وہ کپڑا لے لیا۔ حضرت سیِّدُنا ابو الخیردَیْلَمِی رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ ان سے کہنے لگے کہ میں نے یہ واقعہ دیکھ لیا ہے تو انہوں نے فرمایا: میں اس بات کو پسند کرتا ہوں کہ تم میری زندگی میں اس واقعہ کو کسی پر ظاہر نہ کرنا۔

حضرت سیِّدُنا ابوبکر بن مسلم رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہِ

حضرت سیِّدُنا ابو بکر بن مسلم رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ بارگاہِ الٰہی سے دِل لگانے والوں میں سے تھے، آپ مُشاہدۂ حق ویادِ الٰہی میں ہی مُسْتَغْرَق رہتے تھے۔ حضرت سیِّدُنا جنید بغدادی رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ آپ کے شاگرد ہیں۔ (15353)…حضرت سیِّدُنا جعفرخُلدی رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ فرماتےہیں:میں نے حضرت سیِّدُنا جنید بغدادی رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ کو فرماتے سنا :میں ایک دن نصف النہار کے وقت حضرت سیِّدُنا ابو بکر بن مسلم رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ کے پاس گیا تو انہوں نے مجھ سے فرمایا:اس وقت تمہارے پاس کوئی کام نہیں تھا جو تمہیں میرے پاس آنے سے روکتا؟میں نے کہا : میرا آپ کے پاس آنا ہی ایک کام ہے تو پھر میں اور کیا کام کروں؟ (15354)…حضرت سیِّدُنا حسن بن علی بن خلف بَرْبَہاری رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ فرماتے ہیں:حضرت سیِّدُنا ابو بکر بن مسلم رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ بیمار ہوگئے تو حضرت سیِّدُنا مَروَزِی رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ نے لوگوں کی ایک جماعت کے ہمراہ ان کی عیادت کی۔ شاید لوگوں کی جماعت کی وجہ سےانہوں نے اس عمل کو ناپسند کیا تو آپ نے ان کی سَرزَنِش کرتے ہوئے انہیں خط لکھا جس کے آخر میں یہ اشعار تھے : یَا مَنْ یُّرِیْدُ بِزَعْمِہِ الْاِجْمَالَ اِنْ کَانَ حَـقًّا فَاسْتَعِدَّ خِصَالَا اُتْرُکِ التَّذَاکُرَ وَالْمَجَالِسَ کُـلَّہَا وَاجْعَلْ خُرُوْجَکَ لِلصَّلٰوۃِ خَیَالَا بَلْ کُنْ بِہَا حَیًّا کَاَنَّکَ مَیِّتٌ لَّا تَرْتَجِیْ عِنْدَ الْقَرِیْبِ وِصَالَا وَاْنَسْ بِرَبِّکَ وَاعْلَمَنَّ بِاَنَّہٗ عَوْنُ الْمُرِیْدِ یُسَدِّدُ الْعُمَّالَا مَنْ ذَا یُرِیْدُ مَعَ الْحَبِیْبِ مُؤَانِسًا مَّنْ ذَا یُرِیْدُ بِغَیْرِہٖ اَشْغَالَا لَا تَاْنَسَنَّ مَعَ الْحَیَاۃِ بِغَیْرِہٖ وَابْذُلْ قِوَاکَ وَقَطِّعِ الْاَوْصَالَا فَلَئِنْ سَلِمْتَ لَاَنْتَ اَکْرَمُ مَنْ یَّشَا وَلَئِنْ ہَلَکْتَ فَمَا ظُلِمْتَ خِلَالَا مَنْ ذَاقَ کَاْسَ الْخَوْفِ ضَاقَ بِذَرْعِہٖ حَتّٰی یَنَالَ مُرَادَہٗ اِنْ نَالَا حَاشَا مُؤَمِّلِ سَیِّدِیْ مِنْ بَخْسِہٖ جَلَّ الْجَوَادُ اِلٰہُنَا وَتَعَالٰی ترجمہ: (1)…اے وہ شخص جو اپنے خیال سے بہتری لانا چاہتا ہے، اگر واقعی یہ تمہاری چاہت ہے تو کچھ عادتیں اپنا لو۔ (2)…ہر بیٹھک اور چوپال کو خیر باد کہہ دو، نماز کے لیے نکلنا لازم سمجھو۔(3)…بلکہ نماز کو ہی اپنی زندگی سمجھو، گویا (نماز کے بغیر) تم میں زندگی کی رَمَق ہی نہیں ہے۔ کسی رشتے دار سے ملنے ملانے کی آس نہ رکھو(4)…بلکہ اپنے ربِّ کریم سے ہی اُنس حاصل کرو اور یاد رکھو کہ جو بارگاہِ الٰہی کی طرف بڑھے ربِّ کریم اس کی مدد فرماتا اور عمل والوں کو دُرُستی سے نوازتا ہے۔(5)…بھلا کون ہو گا جو محبوب کے ہوتے ہوئے کوئی اور دل بہلانے والا چاہے اور بھلا کون ہوگا جو محبوب کے علاوہ دیگر چیزوں میں مشغولیت چاہے۔(6)…جب تک زندہ ہو ہرگز خُدا کے سوا کسی سے دل نہ لگانا، محبَّتِ الٰہی میں ہی اپنی توانائیاں لگاؤ اور باقی سب سے ناتا توڑ لو۔(7)…اگر تم بچ گئے تو ارادے والوں میں سب سے مُعَزز ہوگے اور اگر تمہاری جان چلی گئی تو تم پر تنکے برابر ظلم نہ ہوا۔(8)…جو خوف کا جام پیے اس کا دل تنگ رہتا ہے یہاں تک کہ وہ اپنی مراد پالے اگر پالے۔(9)…میرے آقا ومولیٰ سے امید باندھنے والے پر (بلکہ کسی پر) کبھی میرا مولیٰ ظلم نہیں کرتا، ہمارا جُود وکرم فرمانے والا خُدا بلند وبزرگ تر ہے۔

حضرت سیِّدُنا سَمْنُون بن حمزہ رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہِ

ان بغداد کے اکابرین میں سے ایک حضرت سیِّدُنا سَمْنُون بن حمزہ رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ بھی ہیں۔ آپ کا لقب وکنیت ایک قول کے مطابق ابو الحسن خوّاص اورایک قول کے مطابق ابو بکر بصری ہے۔ آپ نے بغداد میں رہائش اختیار کی، آپ کا انتقال حضرت سیِّدُنا جنید بغدادی رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ سے پہلے ہوا، آپ نے خود کو ”جھوٹا سمنون“ نام دیا تھا، اس کی وجہ یہ شعر تھا: فَلَیْسَ لِیْ فِیْ سِوَاکَ حَظٌّ فَکَیْفَ مَا شِئْتَ فَامْتَحِنِّیْ ترجمہ:مجھے تیری ذات کے سوا کہیں رغبت نہیں، تَو تُو جیسے چاہے مجھے آزمالے۔ یہ شعر کہتے ہی اُن کا پیشاپ بند ہوگیا (اور آپ سخت آزمائش میں پڑگئے)۔چنانچہ آپ نے خود کو ”جھوٹا سمنون“ کہنا شروع کردیا۔

سیِّدُنا سمنون عَلَیْہِ الرَّحْمَہ کے اشعار:

(15355)…حضرت سیِّدُناسَمْنُون رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ نے بارگاہِ الٰہی میں عَرض کی:اے اللہ ! میں تیرے ہر اس فیصلے سے راضی ہوں جو میرے خلاف ہے۔اس کے بعد 14دن تک ان کا پیشاب نہیں اُترتا تھا جس کی تکلیف سے وہ ایسے تڑپتے تھے جیسے سانپ کنکریوں پر دائیں بائیں لوٹ کر تڑپتا ہے۔ پھر جب ان کی یہ تکلیف دور ہو گئی تو انہوں نے فرمایا:اے میرے ربّ! میں تیری بارگاہ میں توبہ کرتا ہوں(اور یہ اشعار کہے): اَنَا رَاضٍ بِطُوْلِ صَدِّکَ عَنِّیْ لَیْسَ اِلَّا لِاَنَّ ذَاکَ ہَوَاکَا فَامْتَحِنْ بِالْجَفَاءِ صَبْرِیْ عَلَی الْوُدِّ وَدَعْنِیْ مُعَلَّقًا بِرَجَاکَا ترجمہ: تُو مجھے اپنے کَرم سے کتنا ہی دُور رکھے میں تیری رضا پر راضی ہوں، وجہ یہی ہے کہ یہ تیری چاہت ہے، لہٰذا تُو مجھے اپنی نَظرِ عنایت سے دُور رکھ کے میرا محبّت پر صبر کرنا آزمالے اور مجھے اپنی امید سے ہی پیوستہ رہنے دے۔ اور ان کے ایسے اشعار بھی ہیں جس میں وہ آزمائے گئے ۔ (15356)…حضرت سیِّدُنا علی بن غِیاث بَزَّازرَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہکہتے ہیں کہ ہمیں حضرت سیِّدُناابو الحسن یا ابو بکر بصری سَمْنُون رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ نےیہ اشعار سُنائے: اَفْدِیْکَ بَلْ قَلَّ اَنْ یَفْدِیَکَ ذُوْ دَنَفٍ ہَلْ فِی الْمَذَلَّۃِ لِلْمُشْتَاقِ مِنْ عَارِ بِیْ مِنْکَ شَوْقٌ لَّوْ اَنَّ الصَّخْرَ یَحْمِلُہٗ تَفَطَّرَ الصَّخْرُ عَنْ مُّسْتَوْقَدِ النَّارِ قَدْ دَبَّ حُبُّکَ فِی الْاَعْضَاءِ مِنْ جَسَدِیْ دَبِیْبَ لَفْظِیْ مِنْ رُّوْحِیْ وَاِضْمَارِیْ وَلَا تَنَفَّسْتُ اِلَّا کُنْتَ مَعَ نَفَسِیْ وَکُلُّ جَارِحَۃٍ مِّنْ خَاطِرِیْ جَارِیْ ترجمہ: میں تجھ پر قربان جاؤں، ہاں کوئی کم ہی جاں بلب ہوگا جو تجھ پر قربان جائے، کیا سر جھکانا اشتیاق والے کے لیے کوئی شرم کی بات ہے؟! مجھے تیرا ایسا اشتیاق ہے کہ اگر کسی چٹان پر رکھ دیا جائے تو جلے ہوئے ایندھن کی طرح ریزہ ریزہ ہوجائے۔ تیری محبّت میرے اندر یوں سرائیت کرگئی ہے جیسے میرے لفظ میرے روح ودل میں۔ میری ہر سانس میں تیری یاد ہے اور میرے دل کا ہر ٹکڑا میرا ہم نوا ہے۔ (15357)… حضرت سیِّدُنا علی بن غِیاث بَزَّازرَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ کہتے ہیں کہ حضرت سیِّدُنا سَمْنُون رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ نے ہمیں یہ اَشعار بھی سنائے: شَغَلْتُ قَلْبِیْ عَنِ الدُّنْیَا وَلَذَّتِہَا فَاَنْتَ وَالْقَلْبُ شَیْءٌ غَیْرُ مُفْتَرِق وَمَا تَطَابَـقَتِ الْاَحْدَاقُ مِنْ سِنَۃٍ اِلَّا وَجَدْتُکَ بَیْنَ الْجَفْنِ وَالْحَدَق ترجمہ: میں نے اپنے دل کو دنیا سے اور دنیا کی لذّتوں سے پھیر دیا، اب دل تمہاری یاد سے کبھی الگ نہیں ہوتا، آنکھیں جب کبھی نیند سے بوجھل ہوتی ہیں تو پلکوں کے پیچھے تیرا ہی دیدار ہوتا ہے۔ (15358)…حضرت سیِّدُنا سمنون رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ نےیہ اشعار کہے: وَلَوْ قِیْلَ طَاْ فِی النَّارِ اَعْلَمُ اَنَّہٗ رِضًا لَّکَ اَوْ مُدْنٍ لَّنَا مِنْ وِّصَالِکَا لَقَدَّمْتُ رِجْلَیَّ نَحْوَہَا فَوَطِئْتُہَا سُرُوْرًا لِّاَنِّیْ قَدْ خَطَرْتُ بِبَالِکَا ترجمہ: اگر مجھے کہا جائے کہ آگ میں چلے جاؤ اور مجھے یقین ہو کہ یہ تیری رِضا ہے یا تیری ملاقات سے ہمیں قریب کردے گا تو میں قدم بڑھاؤں اور اس لیے خوشی خوشی آگ میں چلا جاؤں کہ تُو نے مجھے یاد کیا ہے۔ (15359)…حضرت سیِّدُنا محمد بن حمدان رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت سیِّدُنا سَمْنُون رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ کو دیکھا کہ اپنےسر کو مشک دان میں داخل کیا ، اس وقت آپ نے چمڑے کا گریبان والا لباس پہنا ہوا تھا،پھر کچھ دیر کے بعد اپنا سر باہر نکالا اورلمبا سانس لے کر فرمایا: تَرَکْتُ الْفُؤَادَ عَلِیْلًا یُّعَادُ وَشَرَّدْتَ نَوْمِیْ فَمَا لِیْ رُقَادٌ ترجمہ: میں نے اپنے دِل کو ایسا بیمار رہنے دیا کہ لوگ مزاج پوچھنے کو آتے اور اپنی نیند کو بھگادیا اب مجھے سونا نہیں ملتا ہے۔ (15360)…حضرت ضححسیِّدُنا ابو جعفر فرغانی رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ کہتے ہیں کہ حضرت سیِّدُنا سمنون بصری رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ نے یہ اَشعار کہے: اَحِنُّ بِاَطْرَافِ النَّہَارِ صَبَابَۃً وَّبِاللَّیْلِ یَدْعُوْنِی الْہَوٰی فَاُجِیْبُ وَاَیَّامُنَا تَفْنٰی وَشَوْقِیْ زَائِدٌ کَاَنَّ زَمَانَ الشَّوْقِ لَیْسَ یَغِیْبُ ترجمہ: میں دن کے گوشوں میں عشق کی وادیوں میں آہیں بھرتا ہوں، رات ہوتی ہے تو محبّت مجھے بُلاتی ہے اور میں لبَّیْک کہتا ہوں، دن گُزر جاتے ہیں لیکن میرا شوق بڑھتا جاتا ہے گویا شوق کا زمانہ کبھی گزرتا ہی نہیں ہے۔

ربّ کریم کا جود وکرم:

(15361)…حضرت سیِّدُنا ابوبکرعَجَّان رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ فرماتے ہیں کہ میں نےحضرت سیِّدُنا سمنون رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ كو فرماتے سنا:جب ربِّ جلیل کل بُزرگی کی چادرپھیلائے گا تو اس چادر کےکونوں میں سے کسی کونے میں اولین و آخرین کے گناہ داخل ہوجائیں گے اور جب وہ ربِ جلیل جُود وکَرم کے چشموں میں سے ایک چشمہ ظاہر فرمائے گا تو بُروں کو بھی اچھوں میں داخل فرمادے گا۔ (15362)…حضرت سیِّدُنا ابو القاسم ہاشمی رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ کہتے ہیں : میں سخت سردی کے زمانے میں بیْتُ المقدس میں تھا اور مجھ پر ایک قمیص اور ایک چادر تھی،سردی اور برف باری بھی مسلسل جاری تھی۔اسی دوران میں نے ایک نوجوان کو دیکھا جو جنگل میں چل رہا تھا اور اس پر دو بوسیدہ کپڑوں کے ٹکڑے تھے، میں نے اس سے کہا: اے میرے دوست! اگر تم یہاں کسی خیمے میں آجاؤتو سردی سے بچ جاؤ گے، اس نے کہا :میرے بھائی سمنون : وَیُحْسِنُ ظَنِّیْ اَنَّنِیْ فِیْ فِنَائِہٖ وَہَلْ اَحَدٌ فِیْ کَنِّہٖ یَجِدُ الْقَرَّا ترجمہ: میرا گمان کتنا اچھا ہے کہ میں بارگاہِ الٰہی کے صحن میں ہوں بھلا خدا کی پناہ میں بھی کسی کو ٹھنڈ لگ سکتی ہے۔

40ہزار کعتیں:

(15363)…حضرت سیِّدُنا ابو احمد قلانِسی رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ فرماتے ہیں:بغداد میں ایک شخص نے غریبوں میں 40ہزار درہم تقسیم کئے تو حضرت سیِّدُنا سَمْنُون رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ نے مجھ سے کہا :اے ابو احمد! تم نے اس کے خَرچ اور اس کے عمل کو دیکھا۔ ہم تو کچھ بھی خرچ کرنے کے اہل نہیں ہیں چلو ہم کسی جگہ جا کر اس کے ایک درہم کے بدلے ایک رکعت ادا کریں۔چنانچہ ہم مدائن کی طرف چل دیئے اور وہاں ہم نے40ہزار رکعت نمازیں پڑھیں اورحضرت سیِّدُنا سلمان فارسی رَضِیَ اللہُ عَنْہ کے مزارکی زیارت کی اور واپس لوٹ آئے۔

حق تعالیٰ سے وصل و فُرقت کی پہلی منزل:

حضرت سیِّدُنا سمنون رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ اکثر فرمایا کرتے تھے: بندے کے وَصْل کی پہلی منزل اپنے نَفْس کی خواہش کو چھوڑنا اور حق تعالیٰ سے دوری کی پہلی منزل اپنے نفس سے تعلق قائم کرنا ہے اور فرماتے کہ وقت گزر گیا اور وہ وقت ناپسندیدہ ہو گیا، تیرا وقت برباد ہوگیا اور تیرا دل محراب میں ہےاور جس کی عبادت پُر مشقت ہوگی تو اس کا بدلہ بھی عظیم ہوگا۔ بغداد کے ان اکابرین میں سےکچھ ہستیاں وہ ہیں جو عبادت وریاضت میں مشہور ہیں، وہ اپنے اُن عبادت گزار بُزرگوں کے راستے پر چلے جنہوں نے حق پرستوں سے عِلم حاصل کیا اور مُتَّقِی عُلَمائے کرام کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے مجاہدات کیے،مثلاًحضرت سیِّدُناعلی بن مُوَفّق، حضرت سیِّدُنا ابو عثمان وَرّاق، حضرت سیِّدُنا ایّوب حَمّال اور حضرت سیِّدُنا ابو عبْدُ اللہ جَلّاء رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہِم۔ان کے دل مُشاہدۂ ربّانی سے آباداور ان کے ظاہر آپسی مباحثے سے پاک تھے۔ چنانچہ ان کے پُراثروپُرحکمت احوال ہی آگے پہنچے۔

حضرت سیِّدُنا علی بن مُوَفَّق رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہِ

تم مجھ پر سخاوت کرتے ہو۔۔۔!

(15364)…حضرت سیِّدُنا ابو القاسم بَزَّاز رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ کہتے ہیں کہ حضرت سیِّدُنا علی بن مُوَفَّق رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ نے مجھ سے کہا:میں نے50سے زائد حج کئےاور ان تمام حج کا ثواب رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم،حضرت سیِّدُنا ابو بکر، حضرت سیِّدُنا عُمَر،حضرت سیِّدُنا عثمان، حضرت سیِّدُنا علی رَضِیَ اللہُ عَنْہُماور اپنے والدین کو ایصال کردیااور جب میں نے میدان عَرفات میں وُقُوف کرنے والوں کو دیکھا اور ان کی آہ و بُکا سنی تو بقیہ ایک حج کا ثواب بھی یہ کہتے ہوئے ایصال کردیا کہ اے اللہ !اگر اہْلِ عرفات میں سے کسی کا حج تیری بارگاہ میں مقبول نہ ہو تو یہ اس کے لئے میری طرف سے ہبہ ہے تاکہ اس کا ثواب اسے دے دیا جائے۔ آپ رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ کہتے ہیں:میں نے وہ رات مُزدَلِفَہ میں گُزاری تو خواب میں اپنے ربِّ کریم کے دیدار سے مشرف ہوا، ربِّ کریم نے مجھ سے ارشاد فرمایا: اے علی بن مُوَفّق!کیا تم مجھ پر سخاوت کرتے ہو ؟ میں نے تمام وُقوف کرنے والوں کی، ان کی مثل اور ان کے بھی دگنا لوگوں کی مغفرت فرمادی اور میں نے ان میں سے ہر ایک کی شفاعت ان کے گھر والوں ، ان کے پیاروں اور ان کے پڑوسیوں کے حق میں قبول فرمالی اور مجھے ہی شایاں ہے کہ مجھ سے ڈرا جائے اور مغفرت فرمانا میری ہی شان ہے ۔ (15365)…حضرت سیِّدُنا اَبُوْ عَبْدُاللہخوَّاص مِصری رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت سیِّدُنا علی بن مُوَفَّق رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ کو فرماتے سنا:میں جمعہ کے دن رواح کی طرف نکلنے لگاتو میری اہلیہ نے مجھ سے کچھ مانگ لیا، میں گھر سے نکل گیا مگر اس چیز کے متعلق فکر مند تھا، مجھے غیب سے ندا دینے والے نے ندا دی: اے ابنِ مُوَفَّق!تو غمگین ہے حالانکہ میں تیرا ہوں۔

حج کے لئے پیدل جانے کی فضیلت:

(15366)…حضرت سیِّدُنا عباس بن یُوسُف شِکْلی رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ فرماتے ہیں:میں نےحضرت سیِّدُنا علی بن مُوَفَّق رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ کو کہتے سنا:میں ایک سال اُونٹ کی پالکی میں بیٹھ کر حج کےسفر پر روانہ ہوا،راستے میں حاجیوں کے پیدل دستے کو دیکھاتو اس بات کو اچھا جاناکہ میں بھی ان کے ساتھ پیدل چلوں ۔چنانچہ میں نیچے اتر گیا اور ایک شخص کو پالکی میں بٹھا دیااور قافلے کے ساتھ پیدل چلنے لگایہاں تک کہ ہم ایک منزل پر جاپہنچے۔ اس کے بعد میں نے سفر کے لئےدوسرا راستہ ختیار کرلیا، دورانِ سفر جب میں سویا تو خواب میں دیکھا کہ جنتی حوروں نے سونے کےتھال اور چاندی کے برتن لئے ہوئے ہیں اور حج کے لئےپیدل چلنے والوں کے پیروں کو دُھلا رہی ہیں۔ انہوں نے سب کےپیروں کو دھلا دیا صرف میں باقی رہ گیا تو ان میں ایک نے دوسرے سے کہا :یہ شخص ان میں سے نہیں ہے بلکہ اس کی اپنی سواری ہے ۔ دوسری نے کہا : یہ ان ہی میں سے ہے کیونکہ اس نے ان کے ساتھ پیدل چلنے کو پسند کیا تھا ۔ یہ کہہ کر انہوں نے میرے پاؤں بھی دھوئےجس سے میری تھکاوٹ دور ہوگئی جو پیدل چلنے کے سبب ہوئی تھی۔

حضرت سیِّدُنا ابو عثمان وَرَّاق رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہِ

حضرت سیِّدُنا ابو عثمان ورّاق رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ مشہور عبادت گُزار بزرگ ہیں۔ حضرت سیِّدُنا امام احمد بن حنبل رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ بھی آپ کی تعریف فرمایا کرتے تھے۔ حضرت سیِّدُنا ابو عثمان ورّاق رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ نے فَقْر کو گلے لگایا ہوا تھا،مال روکنے اور ذخیرہ کرنے کے قائل نہ تھے۔اکابرین اہْلِ صُفّہ وصحابَۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان کے طریقے پر چلتے تھے۔ ایثار وغم خواری کے قائل تھے، بغداد کے کئی بزرگانِ دین رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہِمْ نے آپ سے فیض حاصل کیا۔ اُنہوں نے آپ سے گوشہ نشینی، تدبیر وریاضَتِ نَفْس سیکھی۔ آپ عبادت گُزاروں کو اپنی مسجد میں جمع فرماتے، انہیں قرآنِ کریم پڑھاتے، شریعت کے احکام سِکھاتے،پرہیزگاری اور تھوڑے پر قناعت کی ترغیب دِلاتے، اپنے ارادت مندوں کے بیچ بھائی چارہ قائم فرماتے۔چنانچہ جو کمزور ہوتا اُسے طاقتور کا مہمان بناتے، جو کمانے والا ہوتا اس کا بے روزگار کے ساتھ بھائی چارہ قائم فرمادیتے، نابینا کو انکھیارے کے ساتھ کردیتے، جسے پڑھنا نہ آتا اُسے اس کے ساتھ کر دیتے جسے پڑھنا آتا ہو۔ کسی کمانے والے کو کمانے سے روکتے نہ تھے۔ جب رات ہوتی تو سب مریدین کو ایک جگہ جمع فرماتے، ایک ساتھ بیٹھ کر کھانا کھاتے، آپ اُن میں گُھل مِل کر رہتے تھے، آپ کے پاس کھانے کی جو چیز موجود ہوتی وہ بھی پیش فرماتے، آپ کے پاس رات گزارنے کے لیے کوئی گھر نہیں تھا، جب اپنے مریدین کے ساتھ سفرِ جہاد پر ہوتے تو مسجدوں میں پڑاؤ ڈالتے، دعوتوں اور جلسوں میں نہ جاتے، ہاں مسجد میں کوئی کچھ پیش کرتا تو اُسے قبول کرتے اوراستعمال فرمالیتے تھے۔ آپ اپنے ارادت مندوں کو کسی سے مانگنے اور ہاتھ پھیلانے سے منع فرماتے تھے، اگر کسی ایسے کی طرف سے نذرانہ آتا جس سے دل مطمئن ہوتا تو اپنے ارادت مندوں کے لیے اُسے قبول فرمالیتے۔آپ رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ بُزرگوں کے پسندیدہ طریقے پر گامزن تھے۔

حضرت سیِّدُنا ابو اَیُّوب حَمَّال رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہِ

حضرت سیِّدُنا ابو ایُّوب حمّال رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ بہت عبادت ورِیاضت اور سخاوت والے بزرگوں میں سے ہیں، آپ کی انوکھی کرامات ہیں۔

انوکھی چڑیا:

(15367)…حضرت سیِّدُنا محمد بن وَہْب رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ نے حضرت سیِّدُنا ابو ایوب حَمَّال رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ کے ایک ساتھی کے حوالے سے بیان کرتے ہیں کہ ہم نے حضرت سیِّدُنا ابو ایوب حَمّال رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ کے ساتھ حج کیاجب ہم صحرا میں داخل ہوئے اور اپنی منزل کی طرف چلنے لگے تو اچانک ایک چڑیا ہمارے گرد چکر لگانے لگی،حضرت سیِّدُنا ابوایُّوب حمّال رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ نے نگاہ اٹھا کر اس کی طرف دیکھا اوراس سے فرمایا: تُو یہاں تک آگئی؟پھر انہوں نے روٹی کا ایک ٹکڑا لیا اور اسے ہتھیلی میں لے کر چُور دیا تو وہ چڑیا نیچے آئی اور ان کی ہتھیلی پر بیٹھ کر اس میں سے کھانے لگی پھر انہوں نے پانی ڈالا جو اس نے پی لیا پھر فرمایا: اب تم جاؤ، تو وہ چڑیا اُڑ گئی۔ اگلے دن دوبارہ چڑیا آئی تو آپ نے وہی مُعاملہ کیا جو گزشتہ روز کیا تھا حتّٰی کہ یہی سلسلہ سفر کے آخری دن تک چلتا رہا۔حضرت سیِّدُنا ابو ایُّوب حمّال رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ نے اپنےساتھی سے فرمایا: کیا تم جانتے ہو اس چڑیا کے قصے کو ؟ پھر خود ہی بیان کرنے لگے کہ یہ چڑیا روزانہ میرے گھر آیا کرتی تھی اور میں وہی کرتا جو تم نے دیکھا۔ جب ہم سفر کے لئے نکلے تو یہ ہمارے پیچھے اس بات کا تقاضا کرتے ہوئے آگئی جو میں اس کے ساتھ گھر میں رہتے ہوئے کرتا تھا۔ (15368)…حضرت سیِّدُنا محمد بن خالدرَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضرت سیِّدُنا ابو ایوب حَمَّال رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ کوفرماتےسنا: میں نے دل میں اس بات کا ارادہ کیا کہ میں غافل ہوکر نہیں چلوں گا بلکہ ذکر کرتا رہوں گا، ایک مرتبہ میں غافل ہوکر چلنے لگا تو مجھے لنگڑے پن نے آلیا۔میں اس کے سبب کو جان گیااور میں نے رو کر اللہ پاک سےمدد مانگی ا ور توبہ کی تو میرا لنگڑا پن جاتا رہالہٰذا میں اس جگہ پر واپس گیا جہاں سے میں نے غفلت کے ساتھ چلنا شروع کیا تھا اور ذکر کرتے ہوئے صحیح سالم چل پڑا۔

حضرت سیِّدُنا ابو عبد اللہ جَلَّاء رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہِ

حضرت سیِّدُنا اَبُوْعبْدُاللہاحمد بن یحییٰ جلّاء رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ بغداد سے تعلق رکھتے تھے۔ آپ نے رَمْلَہ میں رہائش اختیار کرلی تھی۔ آپ حضرت سیِّدُنا ذُو النُّون مِصری اور حضرت سیِّدُنا ابو تُراب نخشبی رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہِمَا کی صحبت سے فیض یاب ہوئے اور اپنے والدِ گرامی حضرت سیِّدُنا یحییٰ جلّاء رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ سے بھی فیض حاصل کرتے رہے۔ آپ کی عُمدہ باتیں ملتی ہیں۔ پیشوایانِ قوم سے ہیں۔ آپ کے زمانے میں مُلکِ شام میں آپ جیسی مشہور ہستی کوئی نہ تھی، کئی اونچی ہستیوں نے آپ سے فیض حاصل کیا۔

زاہد،عابد اور مُوَحِّد:

(15369)…حضرت سیِّدُنا اَبُوْعبْدُاللہ جَلَّاء رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ فرمایا کرتے تھے کہ انسان ہمیشہ ایسی چیز کا محتاج رہے گا جس کے ذریعے وہ سب کچھ جان سکے۔یہ بھی فرمایا کرتے تھے کہ جس کے لیے اپنی تعریف اور مَذمَّت دونوں برابر ہوں تو ایسا شخص زاہد ہے، جس نے اول وقت میں فرائض کی ادائیگی پر ہمیشگی اختیار کی تو ایسا شخص عابد ہے اور جس نے تمام اَفعال کے بارے میں یہ عقیدہ رکھا کہ وہ اللہ پاک کی جانب سے ہیں تو وہ شخص موحِّد ہے۔

اہْلِ حق مَردوں کا عمل:

(15370)…حضرت سیِّدُنا محمد بن حسن بن علی یَقْطِیْنی رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ فرماتے ہیں:میں حضرت سیِّدُنا اَبُوْ عَبْدُاللہ جَلَّاء رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ کے پاس آیا تو کسی نے ان سے کہا:یہ وہ لوگ ہیں جو جنگل میں بے ساز و سامان داخل ہوجاتے اور گمان کرتے ہیں کہ وہ اللہ پاک پر توکل کرنے والے ہیں پھر جنگل میں انتقال کرجاتے ہیں۔حضرت سیِّدُنااَبُوْ عَبْدُ اللہ جَلَّاء رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ نے فرمایا:یہ تو اہْلِ حق مَردوں کا عمل ہے، اگر یہ مر جائیں تو ان کی دِیت(صلہ) موت دینے والے (ربّ) پر ہے۔ (15371)…حضرت سیِّدُنا اَبو عبْدُ اللہ جلّاء رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ سے ذاتِ خُداوندی کے متعلق پوچھا گیا تو فرمایا: جب حق تعالیٰ ایک ہے تو طالِبِ حق کو بھی بس خُدا کا ہی ہونا چاہیے۔فرماتے ہیں: راہِ خُدا کے مُتلاشیوں کے حوصلے تلاشِ حق کے راستے میں اونچے ہوئے اور اس تلاش میں اپنی جانیں وار دِیں۔ مَعْرِفَت والوں کے حوصلےاپنے آقا ومولیٰ کی بارگاہ میں بلند ہوئے۔ چنانچہ وہ اپنے مولیٰ کے سوا کسی کے طرف نہ جُھکے۔

اکابر کا مقام طلب کرنے سے بچو:

(15372)…حضرت سیِّدُنا ابو عَمْرو دِمَشْقِی رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت سیِّدُنا ابو عبْدُ اللہ جلّاء رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ سے سنا:حق تعالیٰ نے کچھ لوگوں کو کلام کے لیے منتخب فرمایا اور کچھ کو اپنی دوستی کے لیے،جسے حق تعالیٰ کسی اور مقصد کے لیے منتخب فرمائے تو اسے مختلف آزمائشوں میں مبتلا فرما دیتا ہے لہٰذا تمہیں چاہیے کے تم اکابر کے مقام کو طلب کرنے سے بچو۔ (15373)…حضرت سیِّدُنا ابو عبداللہ جلّاء رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ فرمایا کرتے تھے کہ جو کوئی از خود کسی مقام پر پہنچنے لگتا ہے تو اس مقام سے گر جاتا ہے اور جسے پہنچایا جائے تو وہ اس پر قائم رہتا ہے۔ (15374)…حضرت سیِّدُنا ابو عبداللہ جلّاء رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ سے محبت کے متعلق پوچھاجاتا تو فرماتے: میرا محبت سے کیا واسطہ؟ میں تو بس توبہ کے آداب سیکھنا چاہتا ہوں۔ (15375)…حضرت سیِّدُنا ابو عبداللہ جلّاء رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ سے پوچھا گیا:محبت کرنے والوں کی راتیں کیسی ہوتی ہیں؟تو آپ نے فرمایا: مَنْ لَّمْ یَـبِتْ وَالْحُبُّ حَشْوُ فُؤادِہٖ لَمْ یَدْرِ کَـیْفَ تَفَتُّتُ الْاَکْبَادِ ترجمہ: جس کی کوئی رات محبت سے چھلکتے دل کے ساتھ نہ گُزری ہو اُسے کیا پتا کہ جگر ٹکڑے ٹکڑے کیسے ہوتا ہے؟

ہم راہِ خدا میں دی گئی چیز واپس نہیں لیتے:

(15376)…حضرت سیِّدُنا ابو عَمْرو دِمَشْقِی رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ کہتے ہیں:میں نے حضرت سیِّدُنا ابو عبْدُ اللہ جلّاء رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ کو فرماتے سنا کہ میں نے اپنے والدین سے کہا: مجھے یہ پسند ہے کہ آپ دونوں مجھے اللہ پاک کی راہ میں دے دیں تو انہوں نے کہا :ہم نے تجھے اللہ پاک کی راہ میں دیا۔میں ایک مدت تک غائب رہنے کے بعدتیز بارش کی رات ان دونوں سے ملنے آیا اور دروازہ کھٹکھٹایاتو انہوں نے پوچھا: کون ہے ؟ میں نے جواب دیا :آپ کا بیٹا۔ انہوں نے کہا: ہمارا ایک بیٹا تھا جسے ہم نے اللہ پاک کی راہ میں دے دیا تھااور ہم عربی ہیں دی ہوئی چیز واپس نہیں لیتے ۔چنانچہ انہوں نے میرے لئے دروازہ نہ کھولا۔

حضرت سیِّدُنا محمد بن محمد بن اَبُو الْوَرْد رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہِ

حضرت سیِّدُنا محمد بن محمد بن اَبُو الْوَرْد رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ بڑے اور عظیم مشائِخِ کرام میں سے ہیں۔ ایک قول یہ ہے کہ آپ کا نام ”احمد“ ہے۔ آپ حضرت سیِّدُنا بِشْر حافی، حضرت سیِّدُنا حارِث بن اَسَد مُحاسِبِی اور حضرت سیِّدُنا سَرِی سَقَطِی رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہِم کی صحبت سے فیض یاب ہوئے۔ پرہیزگاری میں آپکا اپنے مشائخ جیسا ہی اونچا مقام ہے۔ (15377)…حضرت سیِّدُنا ابنِ اَبُو الْوَرْد رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ فرماتے ہیں: اولیائے کرام کے لیے بُزرگی کا قالین بچھایا گیا کہ ان کا دل بہلے اور براہِ راست مُشاہدے کا رُعب زائل ہو۔ دشمنوں کے لیے ہیبت کا فرش بچھایا گیا تاکہ وہ اپنے بُرے کاموں سے وحشت میں ہی رہیں اور بلند بارگاہ کے وہ نظارے نہ دیکھ سکیں جن سے آرام پائیں۔

پانچ چیزوں کے سبب وصال کی دولت:

(15378)…حضرت سیِّدُنا ابنِ اَبُوالْوَرْد رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ فرماتے ہیں کہ پانچ چیزوں کے سبب لوگوں کو وِصال کی دولت ملی: (1)…بارگاہ الٰہی میں پڑے رہنے کے سبب (2)…نافرمانی چھوڑنے کی وجہ سے (3)…عبادتِ الٰہی کو بجالانے کی وجہ سے(4)…مصیبتوں پر صَبْر کرنے کی وجہ سے اور(5)… وقار کی حفاظت کی وجہ سے۔
1…ترمذی، کتاب صفة القیامة، باب ما جاء فی الشفاعة، ۴/۱۹۹،حدیث: ۲۴۴۶ 2…مسلم، کتاب البر والصلة والاداب، باب اذا احب الله عبداحببه الی عباده،ص۱۰۸۶،حدیث:۶۷۰۵

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن