30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اوربکے ہوئے وقت میں اپنا کام کرنا بھی حرام ہے اور ناقص کام کرکے پوری تنخواہ لینا بھی حرام ہے۔ ‘‘ ([1])
4- گورنمنٹ کے اِدارے کا افسر دیر سے آتا ہواور اس کی کوتاہی کے سبب دفتر دیر سے کھلتا ہو تب بھی ہر ملازِم پر لازم ہے کہ طے شدہ وقت پر پہنچ جائے اگرچہ باہر بیٹھ کر انتظار کرنا پڑے۔ خائن و غیر مختار افسر کا ملازِم کو دیر سے آنے یاجلد ی چلے جانے کا کہنا یا اجازت دے دینابھی ناجائز کوجائز نہیں کر سکتا۔وقت کی پابندی سبھی پر ضروری ہی رہے گی۔
5- ملازِم دفتر یادکان پر آنے جانے کا وقت رجسٹروغیرہ میں درست لکھے ، اگر غلط بیانی سے کام لیا اور ڈیوٹی کم دینے کے باوجود پورے وقت کی تنخواہ لی تو گنہگار وعذابِِ نار کا حقدار ہے۔
6- جن اداروں میں ملازِمین کوعلاج کی مفت سہولتیں فراہم کی جاتی ہیں ، اِن میں جھوٹے بہانوں سے دوا حاصل کرنا ، اپنا نام لکھوایا بتا کر کسی دوسرے کیلئے دوا نکلوا لینا وغیرہ حرام اور جہنَّم میں لے جانے والا کام ہے۔ ایسوں کے ساتھ جان بوجھ کر تعاوُن کرنے والا بھی گنہگار ہے۔
7- تنخواہ زیادہ کرانے اور عہدے وغیرہ میں ترقی کروانے کے لیے جعلی (نقلی) سند لینا ناجائز و گناہ ہے ، کیونکہ یہ جھوٹ اور دھوکے پر مبنی ہے۔
8- اگرکسی عذر کی وجہ سے اَجیر خاص کا م نہ کرسکا تو اُجرت کامستحق نہیں ہے مَثَلاً بارش ہورہی تھی جس کی وجہ سے کام نہیں کیا اگرچہ حاضر ہوا اُجرت نہیں پائے گا (یعنی اُس دن کی تنخواہ نہیں ملے گی) ۔ ([2]) البتہ اگر اِس کی تنخواہ کا بھی عُرْف ہے تو ملے گی کہ تعطیلات معہودہ (یعنی جن چھٹیوں کامعمول ہو تا ہے اُن ) کی تنخواہ ملتی ہے ۔
9- مراقب (یعنی سپر وائزر) یامقررہ ذِمے دارتمام مزدوروں کی حسب استطاعت نگرانی کرے۔ وقت اور کام میں کوتاہی اور سستیاں کرنے والوں کی مکمَّل کارکردَگی ( رَپورٹ) کمپنی یا ادارے کے مُتَعَلّقہ افسر تک پہنچائے ۔ مراقب (سپروائزر) اگر ہمدردی یا مُروَّت یا کسی بھی سبب سے جان بوجھ کر پردہ ڈالے گا تو خائن وگنہگار اور عذابِ نار کا حقدار ہو گا۔
10- کسی مذہبی ادارے میں اِجارے کے شَرْعی مسائل پر سختی سے عمل دیکھ کر نوکری سے کترانا یا صرف اِس وجہ سے مُسْتَعفی ہو کر ایسی جگہ ملازَمت اختیار کرلینا جہاں کوئی پوچھنے والا نہ ہو انتہائی نامناسِب ہے۔ ذِہْن یہ بنانا چاہئے کہ جہاں اِجارے کے شَرْعی اَحکام پر سختی سے عمل ہو وَہیں کام کروں تا کہ اِس کی بَرَکت سے مَعصِیَت کی نحوست سے بچوں اور حلال اورستھری روزی بھی کماسکوں۔
11- ملازِم اپنے دفتر وغیرہ کا قلم ، کاغذ اور دیگر اشیاء اپنے ذاتی کاموں میں صَرْف کرنے سے اجتناب (یعنی پرہیز) کرے ۔
12- اگراِدارے کی طرف سے ذاتی کام میں ٹیلیفون استعمال کرنے کی اجازت ہو تواجازت کی حدتک استعمال کرسکتے ہیں اگراجازت نہیں توذاتی کام کے لیے استعمال کرناناجائز وگناہ ہے۔
13- اجارے کے وقت میں کبھی کبھار بَہُت قلیل (یعنی تھوڑے سے ) وقت کیلئے ذاتی فون سننے کی عُرفاً اجازت ہوتی ہے۔البتّہ اگر کوئی اِجارے کے اَوقات میں باربار فون سنتا ہے اور پھر بات چیت بھی دس پندر منٹ سے کم نہیں ہوتی ا س طرح کے ذاتی فون سننا جائز نہیں کہ اس طرح کام اورمُسْتاجر (یعنی اجارے پرلینے والے) کا بھی نقصان ہوگا ۔
14- ملازم نے اگر مَرَض کی وجہ سے چھٹّی کر لی یا کام کم کیا تومُسْتاجر (یعنی جس سے اِجارہ کیا ہے اُس) کو تنخواہ میں سے کٹوتی کرنے کا حق حاصل ہے۔ مگر اِس کی صورت یہ ہے کہ جتنا کام کم کیا صرف اُتنی ہی کٹوتی کی جائے مَثَلاً 8گھنٹے کی ڈیوٹی تھی اور تین گھنٹے کام نہ کیا تو صرف تین گھنٹے کی اُجرت کاٹی جائے ، پورے دن بلکہ آدھے دن کی اُجرت کاٹ لینا بھی ظلم ہے۔ ([3])
15- متولیان مسجِد کی رِضامندی کی صورت میں امام و مُؤَذِّن عُرْف سے زائد چُھٹّیوں میں اپنا نائب دیدیا کریں تو تنخواہ نہیں کاٹی جائے گی۔
16- امام ، مُؤَذِّن یا کسی بھی دکان وغیرہ کا ملازِم سخت بیمار ہو جائے یا اُس کے یہاں کوئی انتقال کر جائے تو اِن صورَتوں میں ہونے والی چُھٹّیوں میں وہاں کا عُرف دیکھا جائے گا اگر تنخواہ کاٹنے کا عُرف ( یعنی معمول) ہے تو کاٹ لی جائے ورنہ نہ کاٹی جائے۔
17- امام یا مُؤَذِّن یا مدرِّس یا کسی ملازِم کا گھر دُور ہے ، ’’ پیّا جام ہڑتال ‘‘ کی وجہ سے سواری نہ ملی یا ہنگاموں کے صحیح خوف کے سبب چھٹی ہو گئی تو اگرپہلے سے طے ہو گیا تھا کہ ایسے مواقع پر تنخواہ نہیں کاٹی جائیگی یا وہاں کاعُرف (یعنی معمول) ہی ایسا ہو کہ ایسے مواقع پر کٹوتی نہیں ہوتی تو اس طرح کی چھٹی کی تنخواہ پائے گا۔ یادرہے! معمولی ہڑتا ل چھٹی کیلئے عذر نہیں ۔
18- چوکیدار ، گارڈ یا پولیس وغیرہ جن کا کام جاگ کر پہرا دینا ہوتا ہے اگر ڈیوٹی کے اوقات میں اِرادۃً سو گئے تو گنہگار ہوں گے اور ( قصداً یا بِلاقَصْد) جتنی دیر سوئے یا غافِل ہوئے اُتنی دیر کی اُجرت کٹوانی ہوگی۔
19- ایک ہی وقت کے اندر دو جگہ نوکری کرنایعنی اجارے پر اجارہ کرنا ناجائز ہے۔ البتّہ اگر وہ پہلے ہی سے کہیں نوکری پر لگا ہواہے تواب اپنے سیٹھ کی اجازت سے دوسری جگہ کام کرسکتا ہے ، جب کہ پہلی جگہ کے سبب دوسری جگہ کے کام میں کسی طرح کی کوتاہی نہ ہوتی ہو۔
صَلُّوا عَلَی الْحَبیب! صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
ہماری بداعمالیاں اور معاشی بحران
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!سچائی اور دیانتداری کے ساتھ رزقِ حلال کے حُصُولکے لئے بیان کردہ مدنی پھولوں پر عمل کرنا نہایت ضروری ہےمگر افسوس!آجکل اس کی طرف سے توجہ ہٹتی جارہی ہے۔ایک طرف ہمارے اسلاف رَحِمَہُمُ اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِمْ اَجْمَعِیْن کا مبارک دور تھا جب ہرطرف سچائی ، دیانت داری اور احکاماتِ الٰہیہ کی بجاآوری کا لحاظ کیا جاتا تھاجبکہ دوسری طرف ہمارا حال یہ ہے کہ حرص ِ مال اور لالچ کی پٹی ہماری آنکھوں پربندھی ہے ۔اذان کی صدا بلند ہوتی ہے مگر ہماری حرص ہمیں کاروبار چھوڑ کرربّ عَزَّوَجَلَّ کی بارگاہ میں نہیں جھکنے دیتی۔ بددیانتی ، جھوٹ ، دھوکے بازی اور بالخصوص سُود کی برائی ہمارے کاروبار کا حصہ بن چکی ہے ۔آج ہماری اکثریت کاروبار اور تجارت میں خدا کی یاد سے غافل رہتی ہے ، اگر اس دوران ہماری زبان پر اللہ عَزَّوَجَلَّ کا نام آتا بھی ہے تو جھوٹی قسم کھانے اور خود کو ایک مہذَّب و خُوش اخلاق شخصیّت کے طور پر مُتعارف کروانے کیلئے تاکہ سامنے والا ہماری دینداری اور خُوش اخلاقی سے متاثر ہوکر ہم پر اندھا اعتماد کرلے اور ہم اس کو لُوٹنے میں کامیاب ہوجائیں ۔انجامِ آخرت سے بے خوف نہ جانے کتنے ہی تاجر (Business men) دنیا کے عارضی نفع کے بدلے اپنی آخرت بیچ ڈالتے ہیں۔شاید یہی وجہ ہے کہ دونوں ہاتھوں سے مال لُوٹنے کے باوجود آج
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع