دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Allah Walon ka Andaz e Tijarat | اللہ والوں کا اندازِ تجارت

book_icon
اللہ والوں کا اندازِ تجارت

(2) دیانتدار تاجر

حضرت سَیِّدُنا سری سقطی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہ ِالْقَوِی بھی تجارت کیا کرتے تھے۔آپ رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ نے یہ عہد کیا ہوا تھا کہ تین دینار سے زیادہ نفع نہیں لوں گا اور آپ اپنے اس عہدپر سختی سے عمل بھی کِیاکرتےتھے۔ایک مرتبہ آپ رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ بازار تشریف لے گئےاور60دینار کے بدلے96صاع بادام خریدے پھر انہیں بیچنے لگے اور ان کی قیمت 63دینار رکھی ،  تھوڑی دیرکے بعد آپ کے پاس ایک تاجر آیا اورکہنے لگا: میں یہ سارے بادام آپ سے خریدنا چاہتا ہوں۔ آپ رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ نے فرمایا:  خرید لو۔ اس نے پوچھا:  کتنے دینار لیں گے؟  آپ رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ نے فرمایا: 63دینار۔اس تا جر نے کہا: حضور!باداموں کا ریٹ بڑھ گیا ہے اور اب 96 صاع باداموں کی قیمت 90دینا ر تک پہنچ چکی ہے۔آپ رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ مجھے 90دینار میں یہ بادام فروخت کردیں۔حضرت سَیِّدُنا سری سقطی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہ ِالْقَوِی نے فرمایا:  میں نے اپنے ربّ عَزَّوَجَلَّ سے وعدہ کرلیا ہے کہ تین دینار سے زیادہ نفع نہیں لوں گا لہٰذا میں اپنے وعدہ کے مطابق تمہیں یہ با دام بخوشی 63دینار میں فروخت کرتا ہوں ،  اگر چاہو تو خرید لو ،  میں اس سے زیادہ رقم ہر گز نہیں لوں گا۔ وہ تاجر بھی اللہ عَزَّوَجَلَّ   کا نیک بندہ تھااوراپنے مسلمان بھائی کی بھلائی کاخواہاں تھا ۔دھوکے سے ان کا مال لینے والا یا بددیانت تا جر نہ تھا۔جب اس نے آپ رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ  کی یہ بات سنی تو کہنے لگا :  میں نے بھی اپنے ربّ عَزَّوَجَلَّ سے یہ عہد کر رکھا ہے کہ کبھی بھی اپنے مسلمان بھائی کے ساتھ بد دیانتی نہیں کروں گا اور نہ ہی کبھی کسی مسلمان کا نقصان پسند کروں گا۔ اگر تم بادام 90 دینار میں بیچو تو میں خریدلوں گا  ،  اس سے کم قیمت میں کبھی بھی یہ بادام نہیں خریدوں گا ۔ آپ رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ بھی اپنی بات پر قائم رہے اور فرمایا:  میں 63دینار سے زیادہ میں فروخت نہیں کرو ں گا ۔چنانچہ نہ تو اس امانت دارتاجر نے یہ بات گوارا کی کہ مَیں کم قیمت میں خریدو ں او رنہ ہی آپ رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ تین دینار سے زیادہ نفع لینے پرراضی ہوئے بالآخر ان کاسودا نہ بن سکا اور تا جر وہاں سے چلا گیا ۔ ([1])

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!بیان کردہ واقعات سے معلوم ہوتا ہے کہ ہمارے اسلاف رَحِمَہُمُ اللّٰہ ُ السَّلَام حُصُولِ مال کی خواہش کے بجائےلقمۂ حرام سے بچنے کی فکرکیا کرتے تھےیہی وجہ ہے کہ امام اعظم عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہ ِالْاَکرَم نے فروخت کردہ کپڑوں کی حاصل شدہ رقم اپنے پاس رکھنا گوارا نہ کی مگر افسوس! بدقسمتی سے فی زمانہ اکثر لوگوں کو کثرتِ مال ہی کی فکر دامن گیر رہتی ہے حالانکہ دنیا میں جس کے پاس جتنا زیادہ مال ہوگا آخرت میں اسے اتنا ہی زیادہ حساب بھی دینا ہوگا۔

ذرے ذرے کا حساب

حضورِ پاک ،  صاحب ِلولاک صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلہٖ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے کہ قیامت کے دن مالِ حلال جمع کرنے والے اور اسے حلال جگہ خرچ کرنے والے ایک شخص کو لایاجائے گا پھر اس سے کہا جائے گا کہ حساب کے لئے کھڑے رہو۔پھر اس سے ہر دانے  ،  ذرے اور ہر ہر دانق  (درہم کے چھٹے حصے) کا حساب لیاجائے گا کہ اس نے اسے کہا ں سے حاصل کیا اور کہاں خرچ کیا۔پھر فرمایا:  اے ابنِ آدم ! تو ایسی دنیا کا کیا کرے گا جس کے حلال کا حساب دینا پڑے گا اور حرام کی سزا بھگتنا پڑے گی۔ ([2])

سب سے مالدار صحابی کے حسابِ قیامت کا احوال

شیخ طریقت ،  امیر اہلسنت ،  بانیِ دعوتِ اسلامی حضرت علّامہ مولانا ابو بلال محمد الیاس عطّار قادری رضوی ضیائی دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ اپنی مایہ ناز کتاب فیضانِ سنت کے باب نیکی کی دعوت کے صفحہ 353پر ارشاد فرماتے ہیں: عَشَرَۂ  مُبشَّرہ کے روشن ستارے حضرتِ سیِّدُنا عبدُالرحمن بن عَوف رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ   جو کہ صَحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان  میں سب سے زیادہ مالدار تھے ،  آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ  کا سارا ہی مال یقینی طور پر حَلال تھا اورکثر تِ مال غفلت شعاری کے بجائے آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ  کے لیے خشیتِ الٰہی کا سبب بن گئی تھی۔آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کے حسابِ قیامت کی حِکایت بھی سراپا عبرت ہے ،  ملاحظہ فرمایئے چُنانچِہ

ایک بار سرکار عالی وقارصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلہٖ وسلَّم نے صَحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان  کے پاس تشریف لا کر فرمایا: اے اصحابِ محمد! آج رات اللہ تعالٰی نے جنَّت میں تمہارے مکان اور منزلیں نیز میرے مکان سے کس کا کتنا دُور مکان ہے سب مجھے دکھائے۔ پھر آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلہٖ وسلَّمنے جلیل القدر اصحابِ کرام کی منزلیں فردًا فردًا بیان کرنے کے بعد حضرتِ عبدالرحمن بن عَوف رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ  سے فرمایا: اے عبدالرحمٰن (میں نے دیکھا) کہ تم مجھ سے بَہُت دُور ہوگئے یہاں تک کہ مجھے تمہاری ہلاکت کا خَدشہ ہونے لگا پھر کچھ دیر بعد تم پسینے میں شَرابور مجھ تک پہنچے تو میرے پوچھنے پر تم نے بتایا:  مجھے حساب کے لیے روک لینے کے بعد مجھ سے پوچھ گچھ شُروع ہوگئی کہ مال کہاں سے کمایا اور کہاں خرچ کیا؟ راوی کہتے ہیں ،  حضرتِ عبدالرحمٰن رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ یہ سُن کر رو پڑے اور عرض کی: یہ سو اُونٹ جو آج ہی رات مِصر سے مالِ تجارت سَمیت آئے ہیں ،  آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلہٖ وسلَّم کو گواہ بنا کرانہیں مدینۂ پاک کے غریبوں اوریتیموں پر صَدَقہ کرتا ہوں۔ ([3])  

حضرتِ سیِّدُنا عبدالرحمٰن بن عَوف رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ  نے اُمُّ الْمؤمِنین حضرتِ سیِّدَتُنا اُمِّ سَلَمہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہا  کی خدمت میں عرض کی: مجھے اندیشہ ہے کہ کثرت ِ مال کہیں  (آخرت میں) مجھے ہلاکت میں نہ ڈال دے ! انہوں نے فرمایا: اپنا مال  راہ ِخدامیں خرچ کرتے رہا کرو۔ ([4])

مالداروں کیلئے لمحۂ فکریہ

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!یقینی قَطعی حلال مال رکھنے والے اپنا مالِ حلال دونوں ہاتھوں سے راہِ خدا عَزَّوَجَلَّ میں لٹانے والے کے حسابِ قیامت کی اس لرزہ خیز حکایت پر نظر رکھتے ہوئے مال داروں کو غور کرنا اور قِیامت کے ہو شرُبا اَھوال (یعنی دہشتوں اور گھبراہٹوں) سے ڈرنا چاہئے اور جو لوگ محض دُنیوی حرص کے سبب مال اِکٹھا کئے جاتے ،  اس کیلئے در بدر بھٹکتے پھرتے اور مال بڑھانے کے نظام کو بہتر سے بہترین بناتے چلے جاتے ہیں اُنہیں اپنی اس رَوِش پر نظرِ ثانی کر لینی چاہئے اور جو صورت دنیا و آخرت دونوں کیلئے بہترہو وہ اختیار کرنی چاہئے۔

 



[1]   عیون الحکایات،الحکایة الخامسة والاربعون بعد المائة  ، ص۱۶۴ ،ملخصاً

[2]   کنزالعمال  ، کتاب الاخلاق ،قسم الاقوال  ، ۳ /  ۹۷ ، حدیث: ۶۳۲۵

[3]    تاریخ دِمشق ،۳۵ / ۲۶۶

[4]    استیعاب فی معرفةالاصحاب ،۲ / ۳۸۹

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن