30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
کل تجارتی معاملات میں جگہ جگہ جھوٹ اور دھوکہ دہی اسی وجہ سے عام ہوچکی ہے کہ لوگوں نے رازقِ حقیقی عَزَّوَجَلَّپر توکّل اور بھروسہ کرنا چھوڑ دیا ہے۔ آیئے ! اُس پاک ذات پر توکّل کا ذہن بنایئے جس نے زمین پر چلنے والے ہر جاندار کا رزق اپنے ذمّۂکرم پر لے رکھا ہے ۔
دنیا میں بسنے والے تمام جاندار ، خواہ ترقی یافتہ شہری ہوں یا کسی گاؤں کے دیہاتی ، گھنے جنگلات میں رہنے والے حیوانات ہوں یا بلند وبالا درختوں کی چوٹی پر بنے نشیمن میں آباد پرندے ، سمندر کی گہرائیوں میں رہنے والی مچھلیاں ہوں یا پتھر وں کے پیٹ میں اللہ عَزَّوَجَلَّ کی تسبیح وتقدیس کرنے والے کیڑے ، ہرایک کا رزق خدائے خالق و رازِق عَزَّوَجَلَّنے اپنے ذمّے لے رکھا ہے۔چنانچہ ارشادِ خداوندی ہے:
وَ مَا مِنْ دَآبَّةٍ فِی الْاَرْضِ اِلَّا عَلَى اللّٰهِ رِزْقُهَا (پ۱۲ ، ھود: ۶)
ترجَمۂ کنز الایمان: اور زمین پر چلنے والا کوئی ایسا نہیں جس کا رزق اللّٰہ کے ذمّۂ کرم پر نہ ہو
جب خود اللہ ربُّ العالمین جَلَّ جَلَالُہ ہرجاندار کے رزق کا کفیل ہے تو ہمیں چاہئے کہ اسی کی ذات پر توکّل کریں اور اپنے مسلمان بھائیوں کو معاشی نقصان پہنچانے کے بجائے جائز اور حلال طریقے سے رزق طلب کریں۔ اِنْ شَآءَ اللہ عَزَّوَجَلَّجو نصیب میں ہے وہ ضرور ملے گا۔دو عالَم کے مالِک و مختار ، مکّی مَدَنی سرکار صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلہٖ وسلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے : بے شک رزق بندے کو تلاش کرتا ہے جیسے اس کی موت اسے تلاش کرتی ہے۔ ([1])
ارشادِ باری تعالٰی ہے :
وَ مَنْ یَّتَّقِ اللّٰهَ یَجْعَلْ لَّهٗ مَخْرَجًاۙ (۲) وَّ یَرْزُقْهُ مِنْ حَیْثُ لَا یَحْتَسِبُؕ-وَ مَنْ یَّتَوَكَّلْ عَلَى اللّٰهِ فَهُوَ حَسْبُهٗؕ-اِنَّ اللّٰهَ بَالِغُ اَمْرِهٖؕ-قَدْ جَعَلَ اللّٰهُ لِكُلِّ شَیْءٍ قَدْرًا (۳) (پ ۲۸ ، الطلاق: ۲-۳)
ترجَمۂ کنز الایمان: اور جو اللّٰہ سے ڈرے اللّٰہ اس کے لئے نجات کی راہ نکال دے گا اور اسے وہاں سے روزی دے گا جہاں اس کا گمان نہ ہو اور جو اللّٰہ پر بھروسہ کرے تو وہ اسے کافی ہے بیشکاللّٰہ اپنا کام پورا کرنے والا ہے بیشک اللّٰہ نے ہر چیز کا ایک اندازہ رکھا ہے ۔
یادرکھئے!وُسعتِ رزق اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی رضا میں ہی پوشیدہ ہے ، جب ہمارے معاشرے کا ہرفرداللہ عَزَّ وَجَلَّ پربھروسہ کرے گااور ظاہری اسباب کے ساتھ ساتھ رحمتِ الٰہی کا طالب ہوگا نیز اپنے دل میں تقویٰ وپرہیزگاری کا پودا لگائےگا تو اِنْ شَآءَ اللہعَزَّ وَجَلَّ ایک بار پھر ہمارے معاشرے میں خوشحالی کا راج ہوگا۔
تجارت اور صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان کا معمول
اگر ہم صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان کی سیرت پر نظر ڈالیں تو ہرطرف تقویٰ وپرہیزگاری اور طلبِ رضائے الٰہی کی بہاریں نظر آتی ہیں۔وہ مقبولانِ خدا تجارت تو کرتے مگر کبھی خدا کی یاد سے غافل نہیں ہوتے تھے ۔چنانچہ حضرت سَیِّدُنا قتادہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں کہ صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان تجارت تو کرتے تھے مگر جب انہیں حُقُوقُ اللہ میں سے کوئی حق پیش آجاتا تو تجارت اور خریدو فروخت انہیں ذکرُ اللہ سے نہ روکتی ، یہاں تک کہ وہ اسے ادا کرلیتے۔ ([2]) صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان کے اسی طرزِ عمل کو بیان کرتے ہوئے اللہ عَزَّوَجَلَّ اپنے پاک کلام قرآن مجید فُرقان حمید میں ارشاد فرماتا ہے:
رِجَالٌۙ-لَّا تُلْهِیْهِمْ تِجَارَةٌ وَّ لَا بَیْعٌ عَنْ ذِكْرِ اللّٰهِ وَ اِقَامِ الصَّلٰوةِ وَ اِیْتَآءِ الزَّكٰوةِ ﭪ- (پ۱۸ ، النور: ۳۷)
ترجَمۂ کنز الایمان: وہ مرد جنہیں غافل نہیں کرتا کوئی سودا اور نہ خرید و فروخت اللہ كی یاد اور نماز برپا رکھنے اور زکوٰۃ دینے سے۔
حضرت ابنِ مسعود رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے دیکھاکہ بازار والوں نے اذان سنتے ہی اپنا (تجارتی ) سامان چھوڑا اور نماز کے لئے اٹھ کھڑے ہوئے ۔اس پر آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے فرمایاکہ اِنہی لوگوں کے حق میں اللہ عَزَّوَجَلَّ نے آیت ”رِجَالٌ لَّا تُلْہِیْہِمْ “نازل فرمائی ہے۔ ([3])
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!اسلام کا اولین دور کتنا خوبصورت اور روشن تھا کہ جب مسلمان تقویٰ وپرہیزگاری کے پیکر ہوا کرتے تھے ، وہ حضرات کسبِ حلال کیلئے تجارت تو کرتے تھے مگر بددیانتی ، جھوٹ اور فریب وغيره سے اپنے آپ کو بچائے رکھتے۔آئیے!ترغیب کے لئےاسلاف رَحِمَہُمُ اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِمْ اَجْمَعِیْن کی سچی اور پاکیزہ تجارت کے دو ایمان افروز واقعات مُلاحظہ کیجئے۔
(1) عیب دار چیز بِکنے پر ردِّ عمل
کروڑوں حنفیوں کے پیشوا حضرت سَیِّدُنا امام اعظم ابوحنیفہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے حصولِ رزقِ حلال کے لئے تجارت کا پیشہ اپنایا تھا ، آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کپڑے کے بہت بڑے تاجر تھے مگر اس کے باوجودآپ کی تجارت احسان ، خیر خواہی اور اسلام کے پاکیزہ اصولوں پر مشتمل تھی ۔چنانچہ حضرت سیِّدُناحفص بن عبدالرحمٰن عَلَیْہِ رَحمَۃُ الرَّحْمٰن فرماتے ہیں کہ حضرت سیِّدُنا امامِ اعظم ابو حنیفہرَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ میرے ساتھ تجارت کرتے تھے اور مجھے مالِ تجارت بھیجتے ہوئے فرمایاکرتے: اے حفص! فلاں کپڑے میں کچھ عیب ہے۔ جب تم اسے فروخت کروتو عیب بیان کر دینا۔ حضرت سیِّدُناحفص نے ایک مرتبہ مالِ تجارت فروخت کیااور بیچتے ہوئے عیب بتانابھول گئے۔ جب امامِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کو علم ہوا تو آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے تمام کپڑوں کی قیمت صدقہ کر دی ۔ ([4])
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع