دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Allah Walon ka Andaz e Tijarat | اللہ والوں کا اندازِ تجارت

book_icon
اللہ والوں کا اندازِ تجارت

صَلُّوا عَلَی الْحَبیب!     صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

انبیائے کرام عَلَیْہِمُ السَّلَام کے پیشے

کسبِ حلال نہ صرف ایک باعثِ فضیلت عمل ہے بلکہ کئی انبیائے کرام عَلَیْہِمُ  السَّلَام کے علاوہ نبیوں کے سُلطان رحمتِ عالمیان صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلہٖ وسلَّم کی بھی پیاری پیاری سنت ہےلہٰذا اسے سنت سمجھ کر اختیار کرنا چاہئے۔انبیائے کرام عَلَیْہِمُ السَّلَام نے کسب کے لئے مختلف پیشے اپنائے۔چنانچہ حضرت آدم عَلَیْہِ السَّلَام اولاً کپڑا سازی کا کام کِیا کرتے تھے پھرکھیتی باڑی کرنے لگے۔حضرت نُوح عَلَیْہِ السَّلَام لکڑی کا پیشہ ،  حضرت اِدْرِیْس عَلَیْہِ السَّلَام درزی گری ،  حضرت ہُود و صالح عَلَیْہِمَاالسَّلَام تجارت ،  حضرت اِبراہیم و لُوط عَلَیْہِمَا السَّلَام کھیتی باڑی اور حضرت شُعَیْب عَلَیْہِ السَّلَام جانور پالتے تھے۔اسی طرح  حضرت مُوسیٰ کَلِیۡمُ اللہ عَلٰی نَبِیِّنَا وَ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام بکریاں چراتے ،  حضرت داؤد عَلَیْہِ السَّلَام  زِرَہ (جنگ میں استعمال ہونےوالا فولاد کا جالی دار کرتا)  بناتے ،  حضرت سلیمانعَلَیْہِ السَّلَام پوری دنیا کے بادشاہ ہونے کے باوجود پنکھے اور زنبیلیں بنایا کرتے تھےاورہمارے پیارےآقا سیِّدُ الانبیاء احمدِ مُجتبیٰ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلہٖ وسلَّم نے تجارت کواپنی ذات ِ بابرکت سے شرف بخشاہے۔ ([1])  

بیان کردہ تفصیل سے  معلوم ہوا کہ رزقِ حلال کے حصول کیلئے انبیائےکرام عَلَیْہِمُ السَّلَام  نے بھی صنعت و تجارت  کو اختیار کیا ،  اس بات میں تو کسی شک و شبہے کی گُنجائش نہیں کہ انبیائے کرام عَلَیْہِمُ السَّلَام ہر قسم کی برائیوں اور گناہوں سے پاک ہوتے ہیں  ،  اگر کسب و تجارت میں برائیوں کا اِرْتکاب ضروری ہوتا یا اس میں بذاتِ خود کوئی خرابی ہوتی تو انبیائے کرام عَلَیْہِمُ السَّلَام ہرگز ہرگز اسے اختیارنہ فرماتے  ،  حقیقت یہ ہے کہ خرابیاں اور بدعنوانیاں کاروبار میں نہیں بلکہ خود ہمارے کردار میں موجود ہیں جن کے سدِّباب  (روک تھام) کے لئے شریعتِ مطہرہ نے جائز و ناجائز اور حلال وحرام کے پیمانے مقرر کردیئے تاکہ کوئی مُسلمان ظلم کا شکار نہ ہو اور نہ ہی کسی کی حق تلفی ہو لہٰذا جو لوگ ان احکامات پر عمل پیرا ہوئے  وہ دنیا و آخرت میں کامیاب ہوئے  ،  اور جنہوں نے ان احکامات کو بالائے طاق رکھتے ہوئے حرام و حلال کی تمیز نہ کی اور خواہشِ نفس پر چلے وہ دنیا و آخرت میں خائب و خاسر  (ناکام) ہوئے۔ آیئے حدیث پاک کی روشنی میں اس بات کا جائزہ لیتے ہیں کہ اسلام کی نظر میں تجارت کے کیا ضابطے ہیں اورایک تاجر کو کیسا ہونا چاہئے۔

تاجر کو کیسا ہونا چاہئے؟

حضرت سیِّدُنا مُعاذ بن جبل رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے روایت ہے کہ دوجہاں کے تاجور سلطانِ بحر و بر صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا: بےشک سب سے پاکیزہ کمائی ان تاجروں کی ہے جوبات کریں تو جھوٹ نہ بولیں ،  جب ان کے پاس امانت رکھی جائے تو اس میں خیانت نہ کریں ،  جب وعدہ کریں تو اس کی خلاف ورزی نہ کریں ،  جب کوئی چیز خریدیں تو اس میں عیب نہ نکالیں ،  جب کچھ بیچیں تو اس کی بیجا تعریف نہ کریں ،  جب ان پر کسی کا کچھ آتا ہو تو اس کی ادائیگی میں سُستی نہ کریں اور جب ان کا کسی اورپرآتا ہوتو اس کی وُصولی کے لئے سختی نہ کریں ۔ ([2])  

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!بیان کردہ حدیث مبارکہ میں تجارتی اصولوں پر مشتمل جو مدنی پھول بیان کئے گئے ہیں درحقیقت یہ مدنی پھول رزق میں برکت اور مُلک و قوم کی ترقّیِ معیشت کے ضامن ہیں۔صحابہ ٔ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان اور اسلاف و بُزرگانِ دین رَحِمَہُمُ اللّٰہُ الْمُبِین نے عملی زندگی کے ہرمیدان میں ان خوبیوں کو اپنے کردار کا حصہ بنا رکھا تھا۔ان مُبارک ہستیوں کی نظر میں معاشی خوشحالی کا مفہوم ہرگزہرگز یہ نہ تھاکہ مُلک و قوم کو خواہ کتنا ہی خسارہ ہوجائے  ،  مُسلمان بھائی کتنا ہی مالی بدحالی کا شکار ہوجائے مگر میرے مالی حالات بہتر ہونے چاہئیں ،  میری ذاتی ملکیت ودولت میں اضافہ ہونا چاہئے۔جائز و ناجائز کسی بھی طریقے سے دوسرے مُسلمانوں کو کنگال کرکے ان کے مال  کو اپنی جائداد کا سنگِ بنیاد قرار دینا ان کے دل نے کبھی گوارا نہ کیاکیونکہ وہ نُفُوسِ قدسیہ آج کے بعض تاجروں         (Business men)    کی طرح  ’’ پیسہ ہو چاہے جیسا ہو  ‘‘ کے قائل نہ تھے بلکہ وہ تو اپنے مُسلمان بھائیوں کے حقیقی خیر خواہ ہوا کرتے تھے اور ان کے نُقصان  کو اپنا نُقصان سمجھا کرتے تھےلہٰذا ہمیں بھی اسلاف کے طرزِ عمل اور پیارے آقا  ،  مدینے والے مصطفےٰصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلہٖ وسلَّمکے فرامین کو پیشِ نظر رکھتے ہوئے اپنے اندر تمام مسلمانوں کی خیرخواہی کا جذبہ بیدار کرنا چاہئے۔

دین خیر خواہی کا نام ہے

حضرت تمیم داری رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے روایت ہے کہ  نبیِ کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ  واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا کہ دین خیر خواہی ہے  ہم نے عرض کی کہ کس کی؟  فرمایا: اللہ کی ،  اس کی کتاب کی،  اور اس کے رسول کی اور مسلمانوں کے اماموں کی اور عوام کی۔ ([3])  

حضرتِ سَیِّدُنا جَرِیْر بن عبدُ الله رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں کہ میں نبیِ مکرَّم  ،  رسولِ مُحتشم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلہٖ وسلَّم  سے نماز قائم کرنے ،  زکوٰۃ دینے اور ہر مسلمان کی خیر خواہی کرنے پر بیعت کرچکا ہوں۔ ([4])

بے مثال خیر خواہی

حضرتِ سَیِّدُنا جَرِیْر بن عبدُ الله رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے ایک مرتبہ اپنے غلام کو حکم دیا کہ ایک گھوڑا خرید لاؤ ،  اس غلام نے تین سو درہم میں ایک گھوڑا خریدا اور گھوڑے کے مالک کو ساتھ لے آیا۔تاکہ حضرتِ سَیِّدُنا جَرِیْر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ اسے رقم ادا کریں ،  جب آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے وہ گھوڑا دیکھا تو اس کے مالک سے کہا کہ تمہارا گھوڑا توتین سو درہم سے زیادہ مالیت کا ہے کیا تم اسے چار سو درہم میں بیچو گے؟  مالک نے کہا اے ابو عبدُ الله  ( یہ حضرتِ سَیِّدُنا جَرِیْر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ کی کنیت ہے)  جیسے آپ کی مرضی پھر حضرت سَیِّدُنا جریر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے کہا یہ چار سو درہم سے بھی زیادہ مالیت کا ہے  ،  کیا تم اسے



[1]   مراٰة المناجیح  ، ۴ / ۲۲۸ ، ملخصاً

[2]   شعب الایمان  ، باب حفظ اللسان،۴ / ۲۲۱،حدیث: ۴۸۵۴

[3]    مسلم،کتاب الایمان ، باب بیان الدین النصیحة ، ص۴۷،حدیث:۹۵

[4]    بخاری ،کتاب الایمان ، باب قول النبی الدین النصیحة    الخ ، ۱ / ۳۵ ، حدیث:۵۷

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن