دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Allah Walon ka Andaz e Tijarat | اللہ والوں کا اندازِ تجارت

book_icon
اللہ والوں کا اندازِ تجارت

شرکت کرنے لگے بلکہ ویڈیو سینٹر جیسامذموم کاروبار بھی چھوڑ دیا۔یقیناً اگر سارے مُسلمان کاروبار اور دیگر مُعاملات میں اللہ عَزَّوَجَلَّ کی نافرمانی والے کام ترک کردیں اور اس کی یاد کو اپنےدل میں بسالیں تو کیا بعیدکہ اللہ عَزَّوَجَلَّ  ان کے رزق میں ایسی برکت عطا فرمادے کہ ان کے معاشی مسائل کا نام و نشان بھی باقی نہ رہے۔آئیے احادیثِ مُبارکہ کی روشنی میں ترقیِ معیشت اور رزق میں برکت سے مُتَعَلِّق تین مدنی پھول مُلاحظہ کیجئے۔

رزق میں برکت کے روحانی علاج

 (1)  نبیوں کے تاجْوَر ،  مَحبوبِ رَبِّ اکبرصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلہٖ وسلَّمنے فرمایا:  جس نے استغفارکو اپنے اوپر لازم کرلیا اللہ عَزَّوَجَلَّ اس کی ہر پریشانی دُور فرمائے گا اور ہر تنگی سے راحت عطافرمائے گا اور اسے ایسی جگہ سے رزق عطافرمائیگا جہاں سے اسے گمان بھی نہ ہو گا۔ ([1])

 (2) ملفوظاتِ اعلیٰحضرت میں ہے: ایک صحابی (رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ) خدمتِ اقدس  (صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلہٖ وسلَّم) میں حاضر ہوئے اور عرض کی: دنیانے مجھ سے پیٹھ پھیرلی۔ فرمایا: کیا وہ تسبیح تمہیں یا دنہیں جو تسبیح ہے ملائکہ کی اور جس کی برکت سے روزی دی جاتی ہے ۔ خلقِ دنیا آئے گی تیرے پاس ذلیل وخوارہو کر ،  طلوعِ فجر کے ساتھ سوبار کہا کر ”سُبْحٰنَ اللہِ وَبِحَمْدِہٖ سَبْحٰنَ اللہِ الْعَظِیْم وَبِحَمْدِہٖ اَسْتَغْفِرُ اللہ([2])  اُن صحابی رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ  کو سات دن گزرے تھے کہ خدمتِ اقدس میں حاضر ہوکر عرض کی: ”حضور! دنیا میرے پاس اس کثرت سے آئی ،  میں حیران ہوں کہاں اٹھاؤں کہا ں رکھوں ۔“ ([3])

 (3)  حضرت سَیِّدُنا سَہَلْ بن سَعَد رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ  بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص نے حضورِ اَقْدَس شفیعِ روز ِمَحْشَر صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلہٖ وسلَّم کی خدمتِ بابَرَکت میں حاضر ہوکر اپنی مفلسی کی شکایت کی۔ آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا ،  جب تم گھر میں داخل ہوتوگھر والوں کو سلام کرو اور اگر کوئی نہ ہوتو مجھ پر سلام عرض کرو اور ایک بار قُلْ ھُوَاﷲشریف پڑھو۔ اس شخص نے ایسا ہی کیا پھر اﷲتعالٰی نے اس کو اتنا مالا مال کردیا کہ اس نے اپنے ہمسایوں اور رشتہ داروں کی بھی خدمت کی۔ ([4])

اسلام میں نظریۂ زکوٰۃ

معاشی ترقی اور رزق میں برکت کا ایک بہترین طریقہ زکوٰۃ کی ادائیگی بھی ہے۔یاد رکھئے!زکوٰۃ اسلام کا بنیادی رُکن اور اہم ترین مالی عبادت ہے۔یہ ایسا خوبصورت نظام ہے جس کے ذریعے مُعاشرے کے نادار اور محتاج لوگوں کو مالی مدد ملتی ہے۔اگر سارے مالدار لوگ درست طریقے سے زکوٰۃ ادا کریں تو غربت و افلاس کا خاتمہ ہوجائے۔قرآن مجید ،  فرقانِ حمید میں زکوٰۃ ادا نہ کرنے والوں کے

بارے میں سخت وعید آئی ہے  ،  چنانچہ ارشادِ خداوندی ہے:  

وَ الَّذِیْنَ یَكْنِزُوْنَ الذَّهَبَ وَ الْفِضَّةَ وَ لَا یُنْفِقُوْنَهَا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِۙ-فَبَشِّرْهُمْ بِعَذَابٍ اَلِیْمٍۙ (۳۴)   (پ۱۰ ،  التوبة: ۳۴)

ترجَمۂ کنز الایمان:  اور وہ کہ جوڑ کر رکھتے ہیں سونا اور چاندی اور اسے اللہ کی راہ میں خرچ نہیں کرتے انہیں خوشخبری سناؤ دردناک عذاب کی۔

زکوٰۃ نہ دینے والوں کے بارےمیں تین احادیثِ مبارکہ  ملاحظہ کیجئے:

 (1)  جوقوم زکوٰۃ نہ دے گی اللہ عَزَّ  وَجَلَّ اسے قحط میں مبتلا فرمائے گا ۔ ([5])

 (2)  دوزخ میں سب سے پہلے تین شخص جائیں گے ،  اُن میں ایک وہ تونگر بھی ہے جو اپنے مال میں اللہ عَزَّ  وَجَلَّ  کا حق  (زکوٰۃ)  ادا نہیں کرتا۔ ([6])

 (3) جو شخص سونے چاندی کا مالک ہو اور اس کا حق ادا نہ کرے تو جب قیامت کا دن ہوگا اس کے لئے آگ کے پتھر بنائے جائیں گے ان پر جہنم کی آگ بھڑکائی جائے گی اور اُن سے اُس کی کروٹ  ،  پیشانی اور پیٹھ داغی جائے گی ،  جب ٹھنڈے ہونے پر آئیں گے پھر ویسے ہی کر دیے جائیں گے۔ یہ معاملہ اس دن کا ہے جس کی مقدار پچاس ہزار برس ہے یہاں تک کہ بندوں کے درمیان فیصلہ ہوجائے ،  اب وہ اپنی راہ دیکھے گا خواہ جنت کی طرف جائے یا جہنم کی طرف۔([7])

زکوٰۃ کی ادائیگی کی حکمتیں

 (1) سخاوت انسان کاکمال ہے اور بخل عیب۔اسلام نے زکوٰۃ کی ادائیگی جیسا پیارا عمل مسلمانوں کو عطا فرمایاتاکہ انسان میں سخاوت جیساکمال پیدا ہواور بخل جیساقبیح عیب اس کی ذات سے ختم ہو۔

 (2) جیسے ایک ملکی نظام ہوتاہے کہ ہماری کمائی میں حکومت کابھی حصہ ہوتاہے جسے وہ ٹیکس کے طور پر وصول کرتی ہے اور پھر وہی ٹیکس ہمارے ہی مفاد میں یعنی ملکی انتظا م پر خرچ ہوتاہے بلا تشبیہ ہمیں مال ودولت اور دیگرتمام نعمتوں سے نوازنے والی ہمارے ربّ عَزَّوَجَلَّ ہی کی پیاری ذات پاک ہےاور زکوٰۃ اللہ عَزَّوَجَلَّ  کا حق ہے  ،  جو ہمارے ہی غرباء پر خرچ کیا جاتاہے۔

 (3)  ربّ عَزَّوَجَلَّچاہتاتو سب کو مال ودولت عطا فرماکر غنی کردیتا لیکن اس کی مشیت ہے کہ اس نے اپنے ہی بندوں میں بعضوں کو امیر اور دولت مندکیا اور بعضوں کو غریب رکھااور امیروں یعنی صاحبِ نصاب پر زکوٰۃ کی ادائیگی لازم کردی تاکہ اس سے امیروں اور غریبوں میں محبت وانسیّت اور باہمی امداد کا جذبہ پیدا ہو اور اللہ عَزَّوَجَلَّ کی نعمت کو سب مل بانٹ کر کھائیں اور اس کا شکرادا کریں۔

 (4) شریعت نے زکوٰۃ فرض کرکے کوئی انہونی چیز فرض نہیں کی بلکہ اگر ہم اپنے اطراف میں غوروفکر کریں تو زکوٰۃ کی حقیقت ہر جگہ موجود ہے۔ جیسے کہ پھلوں کا گودا انسان کے لیے ہے مگر چھلکا جانوروں کا حق ہے۔گندم میں پھل ہمارا حصہ مگر

 



[1]    ابن ماجه ،کتا ب الادب ،باب الاستغفار ،۴ / ۲۵۷ ، حدیث: ۳۸۱۹

[2]    لسان المیزان،حرف العین،۴ / ۳۰۴ ،حدیث:۵۱۰۰

[3]    ملفوظاتِ اعلیٰ حضرت،ص ۱۲۸

[4]    الجامع لاحکام القر آن،للقرطبی،۲۰ / ۲۳۱

[5]   معجم الاوسط  ، ۳ / ۲۷۵ ، حدیث: ۴۵۷۷

[6]   صحیح ابن خزیمة،کتاب الزکاة  ، باب ذکر ادخال مانع الزکاة    الخ ،۴ /  ۸،حدیث: ۲۲۴۹

[7]    صحیح مسلم ، کتاب الزکاة ، باب اثم مانع الزکاة  ، حدیث: ۹۸۷ ، ص۴۹۱

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن