دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Allah Walon ka Andaz e Tijarat | اللہ والوں کا اندازِ تجارت

book_icon
اللہ والوں کا اندازِ تجارت

یَوْمَ لَا یَنْفَعُ مَالٌ وَّ لَا بَنُوْنَۙ (۸۸) اِلَّا مَنْ اَتَى اللّٰهَ بِقَلْبٍ سَلِیْمٍؕ (۸۹)   (پ۱۹ ،  الشعراء: ۸۸)

جس دن نہ مال نفع دے گا نہ اولاد  ،  مگر جو اللہ کے حضور سلامت والے دل کے ساتھ حاضر ہوا۔

اے مسکین ! تیرے ربّ نے پہلے ہی تجھے فرمادیا ہے:

وَ لَا تَمُدَّنَّ عَیْنَیْكَ اِلٰى مَا مَتَّعْنَا بِهٖۤ اَزْوَاجًا مِّنْهُمْ زَهْرَةَ الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا ﳔ لِنَفْتِنَهُمْ فِیْهِؕ-وَ رِزْقُ رَبِّكَ خَیْرٌ وَّ اَبْقٰى (۱۳۱)   (پ۱۶ ،  طٰهٰ: ۱۳۱)

اپنی آنکھ اٹھا کر نہ دیکھ اس دُنیوی زندگی کی آرائش کی طرف جو ہم نے کافروں کے کچھ مردوں و عورتوں کے برتنے کو دی تاکہ وہ اس کے فتنہ میں پڑ ے رہیں اور ہماری یاد سے غافل ہوں اور تیرے ربّ کا رزق بہتر ہے اور باقی رہنے والا۔

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!بے شک ہمارے ربّ عَزَّ  وَجَلَّ کا کلام سچا ہے ،  اس نے  ہمیں جو حکم دیا اس کو مان لینا ،  اس پر راضی رہنااور اس پر عمل کرلینا ہی  ہماری بندگی کی معراج ہے۔ یاد رکھئے!دیگر چیزوں کی طرح تجارتی مُعاملات میں بھی اسلام نے مُسلمانوں کے نہ صرف اُخروی بلکہ دُنیوی مفادات اور ان کے تحفّظ کا خیال رکھاہے اور طاقت واختیار سے بڑھ کر کوئی حکم ان پر مسلط نہیں کیا البتہ اسلام تجارتی اور غیرتجارتی تمام مُعاملات میں سُود اور حرام کی راہیں تنگ ہی نہیں بلکہ انہیں بند بھی کرتا ہے۔تاریخ کے مُطالعے سے پتا چلتا ہے کہ مُسلمانوں کی تجارت اور معیشت کا دائرہ نہایت وسیع تھا۔سُودی نظام نہ ہونے کے باوجود مُسلمانوں کی  معاشی خوشحالی کے ایسے ایسے شاندار اَدوار گزرے ہیں کہ ان کے بارے میں پڑھ کرعقلیں دنگ رہ جاتی ہیں۔

معاشی خوشحالی کاحسین دور

حضرت سَیِّدُنا عُمر بن عبد العزیز عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہ ِالْعَزِیْز تقریباً اڑھائی سال یعنی 30 مہینے خلیفہ رہے مگر ناجائز آمدنیوں کی روک تھام ،  ظُلم کے سدِّباب اور مال کی دیانتدارانہ تقسیم کے نتیجے میں ایک سال میں ہی لوگوں کے مالی حالات اتنے بہتر ہوگئے تھے کہ کوئی شخص بھاری رُقوم لاتا اور کسی اہم شخصیّت سے کہتا کہ آپ کی نظر میں جو ضرورت مند ہوں ان کو یہ مال دے دیجئے تو بڑی دوڑ دھوپ اور پوچھ گچھ کے بعد بھی کوئی ایسا آدمی نہ ملتا جسے یہ مال دے دیا جائے  ،  بالآخر اسے وہ مال واپس لے جانا پڑتا ۔ ([1])  

یحییٰ بن سعید کا بیان ہے کہ حضرت سَیِّدُنا عُمر بن عبد العزیز عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہ ِالْعَزِ  یْز نے مجھے افریقہ میں صدقہ وُصول کرنے کے لئے بھیجا میں نے صدقہ وُصول کرکے فقرا کو تلاشا کہ ان پر تقسیم کردوں لیکن مجھ کو کوئی فقیر نہیں ملا کیونکہ حضرت سَیِّدُنا عُمر بن عبد العزیز عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہ ِالْعَزِ  یْز نے لوگوں کو دولت مند بنادیا تھا ،  لہٰذا میں نے صدقہ کی رقم سے غلام خرید کر آزاد کردیئے۔ ([2])  

معاشی خوشحالی کی وجہ

معلوم ہوا کہ حضرت سیِّدُنا عُمر بن عبد العزیز رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ کے مُبارک دور میں تمام مُسلمان غنی ہوچکے تھے اورکوئی بھی زکوٰۃ کا مستحق نہیں تھا ۔اس کی ایک وجہ تو آپ رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ کا عدل وانصاف تھا اور دوسری وجہ یہ تھی کہ  اُس دور میں مُسلمانوں کی تمام تر کاروباری سرگرمیاں شرعی حُدود کے اندر رہ کرہوتی تھیں گویا کہ انہیں اللہ عَزَّوَجَلَّ کی رضا حاصل تھی یہی وجہ ہے کہ  انہوں نے معاشی میدان میں بے مثال ترقّی  کی  ،  یہاں تک کہ  ہر طرف مال ودولت کی فراوانی  ،  آسودگی اور خوشحالی عام ہوچکی تھی اور یہ اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ معاشی ترقی  کیلئے ہر طرح کی آزادی کے بجائے اللہ عَزَّوَجَلَّ  کی رضامندی اور شریعت کی قید و  پابندی ضروری ہے ۔

معاشی بحران کا سبب

اس بات میں کوئی شک نہیں کہ اسلام کے معاشی اصول حقیقی ترقّی اور خوشحالی کے ضامن ہیں  اور ان کی خلاف ورزی ایسی معاشی برائیاں پیدا کرتی ہے جو پورے معاشرے کو اپنی لپیٹ میں لے لیتی ہیں ۔کسی بھی جگہ آنے والے  معاشی بحران کی وجوہات میں سے ایک بڑی وجہ سرمائے اور دولت کا چند لوگوں اور چند اداروں کی تجوریوں میں رُک جانابھی ہےکیونکہ سرمائے کا چند ہاتھوں میں ٹھہر جانا اعتدال اور توازُن کو ختم کردیتا ہے اور درحقیقت یہی عدمِ توازُن معاشی بحران کا سبب بنتا ہے۔ اس وقت پوری دنیا میں دو قسم کے معاشی نظام رائج ہیں۔٭ ایک اشتراکیت اور ٭دوسرا سرمایہ داریت  ،  لیکن یہ دونوں نظام اِفْراط و تَفْریط کا شکار ہیں کیونکہ  اِشْتِراکی نظام میں تمام لوگوں کی ذاتی ملکیتوں کوان کی مرضی کے خلاف جبراً  (زبردستی)  چھین کر ایک مخصوص جماعت کی ملکیت میں دے دیا جاتا ہے البتہ اس کے بدلے ایک حد  تک ان کی ضروریات کو پورا کیا جاتا ہے جبکہ سرمایہ دارانہ نظام میں مالداروں  کو اتنی کھلی چھوٹ دے دی جاتی ہے کہ وہ دولت سے اپنی تجوریاں بھرتے رہتے ہیں جس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ امیر ،  امیر تر اور غریب ،  غریبتر ہوتا جاتا ہے ۔اس کے برعکس اسلام کے معاشی نظام میں نہ اشتراکیت کی قید  ہے نہ سرمایہ داریت کی کھلی آزادی ،  بلکہ یہ نظام تقویٰ ،  احسان ،  ایثار ،  عدل ،  اخوت ،  تعاون ،  توکّل اور قناعت جیسی عظیم اخلاقی قَدروں پر قائم ہے۔یہی وجہ ہے کہ اسلام کے معاشی نظام کو دیگر تمام نظاموں پر فوقیت حاصل ہے ۔

معیشت کی تباہی میں سُود کاکردار

بدقسمتی سے اس وقت ہمارے ہاں جو معاشی نظام رائج ہے وہ سرمایہ داریت کا نظام ہے اور اس پورے نظام کی عمارت ”سُود“ کی بنیادوں پر کھڑی ہے۔ مثلاً:  ایک شخص نے سُودی ادارے میں دس فيصد سُود پر دس لاکھ روپے جمع کروائے۔اُس ادارے نےوہی دس لاکھ روپے پندرہ فیصد سُود پر صنعت کار  کو دیئے  ،  جب مہینہ پورا ہوا تو اس صنعت کار نے پندرہ فیصد سُود ادارے کو دیا ،  ادارے نے دس فیصد سُود رقم کے مالک کو دیا اور پانچ فیصد خود رکھ لیا ۔رقم کے مالک کوبھی فائدہ ہوا اور سُودی ادارے کو بھی مگر جس صنعت کار نے سُود ادا کیا اسے بھی کوئی نقصان نہیں ہوا کیونکہاس نے سُود پر لی گئی رقم سے جومصنوعات ( Products)  تیار کیں ان کی قیمت میں پندرہ فیصد اضافہ کردیا۔ یوں اُس صنعت کار نے سُود کی رقم اپنی مصنوعات سے حاصل کرلی لہٰذا اُس کا بھی فائدہ ہوگیا۔لیکن اس کا سارا بوجھ غریب عوام پر پڑا کہ جب اشیاء کی قیمتیں اسکی قوتِ خرید سے بڑھ گئیں اور ضروریاتِ زندگی کی چیزیں خریدنا بھی ان کے لئے مشکل ہوگیا۔اسی طرح کچھ کمپنیاں اپنی پروڈکشن بڑھانے اور مارکیٹ میں اپنا نام برقرار رکھنے کے لئےتشہیر  (Advertisement)  کا سہارا لیتی ہیں  ،  عموماً اس تشہیر کے لئے سُود پر پیسہ لیا جاتا ہےاور اس سُود کی ادائیگی بھی اشیاء کی قیمتوں میں اضافہ کرکے عوام کے پیسوں سے ہی کی جاتی ہےغرض اس ظلم و ناانصافی اور معاشی تباہی کی ابتداء سُود  (Interest)  نے کی ۔

 



[1]   حضرت سیدنا عمر بن عبد العزیز کی 425حکایات ، ص۴۵۸

[2]   حضرت سیدنا عمر بن عبد العزیز کی 425حکایات ، ص۴۵۹

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن