30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
حضرت سیِّدُنا ابراہیم بن ادہم عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْاَکْرَم
ان بُزرگان دین میں سے ایک انتہائی محتاط ودور اندیش اور پختہ ارادے والے حضرت سیِّدُناابو اسحاق ابراہیم بن ادہم عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْاَکْرَم بھی ہیں، آپ کو معرفتوں پر مدد ملی تو آپ نے انہیں پا لیا، آپ کواسرار ورموز کی راہوں پر ڈالا گیا تو آپ عبادت گزار بن گئے ، آپ ہاتھ سے نکل جانے والی اور ہر اعلیٰ وگھٹیاشے سے بے نیاز تھے ، حضور نبی کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی شریعت آپ کا راستہ اور آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی پسند آپ کا مرجع تھا، آپ جوڑنے والے مبارک شخص کو پسند کرتے تھے اور فتنہ پرور جھگڑالو کو ناپسند کرتے تھے ۔
منقول ہے کہدوسروں کی عزت کرنے ، خود کو خدا عَزَّ وَجَلَّ کے حوالے کر دینے ، ہر وقت نگاہ باری تعالیٰ کی طرف رکھنے اور بندوں کے ساتھ نرمی رکھنے کا نام تصوُّف ہے ۔
باشاہی سے درویشی تک:
(100-11099)…حضرت سیِّدُنا ابراہیم بن ادہم رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کے خادم حضرت سیِّدُنا ابراہیم بن بَشَّار رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کا بیان ہے کہ میں نے آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ سے عرض کی: ابو اسحاق!آپ کے معاملے کی ابتدا کیسی تھی یہاں تک کہ آپ اس بلند مقام تک پہنچ گئے ۔ آپ نے فرمایا: اس کے علاوہ کوئی اور بات کرناتمہارے لئے بہتر ہے ۔ میں نے عرض کی: اللہ عَزَّ وَجَلَّ آپ پر رحم فرمائے ! آپ کا فرمان بجا ہے لیکن مجھے اس بارے میں بتائیے شایدکسی دن اس کے سبب اللہ عَزَّ وَجَلَّ ہمیں نفع دے ۔ میں نے آپ سے دوسری بار سوال کیا تو آپ نے فرمایا: تجھ پر افسوس! ذِکْرُاللہ میں مشغول ہو جاؤ۔ میں نے آپ سے تیسری بارپوچھااور کہا: ابو اسحاق، کاش! آپ بتا دیتے ۔ آپ نے فرمایا: میرے والدکا تعلق بلخ سے تھا اور وہ خراسان کے بادشاہ اور بہت مال و دولت والے تھے ، ہمیں شکار کی خواہش ہوئی۔ چنانچہ میں اپنے گھوڑے پر سوار ہو کر نکلا اور میرے ساتھ میرا کتا بھی تھا، میں شکار کو تلاش کر رہا تھا کہ اسی دوران ایک خرگوش یا لومڑی نے چھلانگ ماری، میں نے اپنے گھوڑے کو حرکت دی تو مجھے اپنے پیچھے سے یہ آوازسنائی دی: ” تجھے اس کام کے لئے پیدا نہیں کیا گیا اور نہ ہی تجھے اس کا حکم دیا گیا ہے ۔ “ یہ سن کر میں رُکا اور اپنے دائیں بائیں دیکھنے لگا لیکن مجھے کوئی نظرنہیں آیا، میں نے کہا: ابلیس پر اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی لعنت ہو۔ میں نے پھر اپنے گھوڑے کو حرکت دی تو اس سے زیادہ اونچی آواز سنی کہ ” اے ابراہیم! تجھے اس کام کے لئے پیدا نہیں کیا گیااور نہ ہی تجھے اس کا حکم دیا گیا ہے ۔ “ میں رُک گیا اور اپنے دائیں بائیں دیکھنے لگا لیکن مجھے کوئی دکھائی نہیں دیا، میں نے کہا: ابلیس پر اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی لعنت ہو۔ پھر میں نے اپنے گھوڑے کو حرکت دی تو میری زین کے اُبھرے ہوئے کنارے سے آواز آئی: ” اے ابراہیم! تجھے اس کام کے لئے پیدا نہیں کیا گیااور نہ ہی تجھے اس کا حکم دیا گیا ہے ۔ “ میں رُکا اور کہا: میں باز آیا، میں باز آیا، میرے پاس تمام جہانوں کے ربّ کی طرف سے ڈرسنانے والا آیا ہے ۔ خدا کی قسم!میرے رب کی حفاظت کی بدولت میں نے اس دن کے بعد اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی نافرمانی نہیں کی۔ پھر میں واپس اپنے گھر آیا گھوڑے سے اترا اور پھر اپنے والد کے چرواہوں کے پاس گیا ان میں سے ایک سے جبّہ اور چادر لے کر اپنے کپڑے اسے دے دیئے اور عراق کا رُخ کیا اورمختلف راستوں سے ہوتا ہوا عراق پہنچ گیا وہاں چند روز کام کیامگر مجھے کوئی خالص حلال چیز نہ ملی تو میں نے بعض مشائخ سے حلال کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا: اگر تم حلال چاہتے ہو تو شام کے شہروں میں چلے جاؤ۔ لہٰذا میں نے شام کے شہروں کی راہ لی اور منصورہ نامی شہر چلا گیااسے مِصِّیْصَہ بھی کہاجاتاہے ، میں نے وہاں چند روز کام کیا لیکن وہاں بھی خالص حلال چیزنہ پائی تو میں نے بعض مشائخ سے پوچھا تو انہوں نے مجھے فرمایا: اگر تم خالص حلال چاہتے ہو تو طَرسُوس چلے جاؤ۔ کیونکہ وہاں جائزاشیاء اور کثیر روزگارہے ، میں نے طَرسُوس کا رُخ کیا اور وہاں کچھ دن کام کیا۔ میں باغات کی دیکھ بھال کرتااور کھیتی کاٹتا تھا۔
ایک دفعہ میں بابُ الْبَحْر (جگہ کا نام)میں بیٹھا ہوا تھا کہ ایک شخص میرے پاس آیا اور اس نے مجھ سے اپنے باغ کی دیکھ بھال کرنے کی بات طے کی۔ چنانچہ میں کئی باغوں میں کام کرتا ، ایک مرتبہ باغ کا نگران اپنے ساتھیوں سمیت آیا اور اپنی نشست پر آکر بیٹھتے ہی بلند آواز سے پکارا: اوباغبان!۔ میں نے کہا: میں یہاں ہوں۔ اس نے کہا: جاؤ اور تمہاری نظر میں جو بڑے اور عمدہ انار ہوں وہ ہمارے لئے لے آؤ۔ میں گیا اور بڑے بڑے انار لے آیا، نگران نے ایک انار لے کر چیرا تو اسے کھٹا پایا تو مجھ سے کہنے لگا: باغبان! تم ہمارے باغ میں اتنے عرصے سے کام کر رہے ہو، ہمارے پھل اور انار کھاتے رہے ہواس کے باوجود تمہیں کھٹے میٹھے کی پہچان نہیں ہے ؟ میں نے کہا: بخدا! میں نے تمہارے پھلوں میں سے کچھ نہیں کھایا اور نہ ہی مجھے کھٹے میٹھے کی پہچان ہے ۔ اس نے اپنے ساتھیوں کی طرف اشارہ کر کے کہا: کیا تم اس کی گفتگو نہیں سن رہے ؟ پھر مجھ سے کہنے لگا: کیا تو خودکو ابراہیم بن ادہم سمجھتا ہے ؟ بس اتنا کہنے کے بعد وہ چلا گیا ۔ دوسرے دن جب اس نے مسجد میں لوگوں کو میرا یہ واقعہ بتایا تو کچھ لوگوں نے مجھے پہچان لیا پھر وہ بہت سارے لوگوں کے ساتھ میری طرف آنے لگا تو انہیں دیکھ کر میں ایک درخت کے پیچھے چھپ گیا اور لوگ باغ میں داخل ہونے لگے میں اُس بھیڑ میں شامل ہوکر وہاں سے نکل گیا۔ یہ میرا ابتدائی معاملہ اور طَرسُوس سے نکل کر رِمال کے شہروں کی طرف آنے کا واقعہ تھا ۔
حضرت سیِّدُنا یونس بن سُلَیمان بلخی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی نے اس قصے میں مزید یہ بھی بیان کیا کہ’’جب حضرت سیِّدُنا ابراہیم بن ادہم عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْاَکْرَم اپنے گھوڑے کوایڑ لگا نے لگے تو اچانک آپ نے اوپر سے ایک آواز سنی: اے ابراہیم!یہ کیا بے کار کام میں پڑے ہو کیا یہ سمجھتے ہو کہ ہم نے تمہیں بے کار بنایا اور تمہیں ہماری طرف لوٹنا نہیں ہے ، اللہ عَزَّ وَجَلَّ سے ڈرو اور محتاجی والے دن کے لئے زادِ راہ لو۔ “ یہ سن کر آپ گھوڑے سے اُترے اور دنیا چھوڑ کر آخرت کے لیے عمل میں مشغول ہو گئے ۔
(11101)…حضرت سیِّدُنا عبْدُاللہ بن مبارک رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ بیان کرتے ہیں کہ میں اور حضرت ابراہیم بن ادہم عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْاَکْرَم خراسان سے 60نوجوانوں کے ہمراہ حصولِ علم کی خاطر نکلے میرے سوا ان میں سے کوئی بھی تعلیم مکمل نہ کرسکا۔
حلال روزی کا اہتمام:
(11102)…حضرت سیِّدُنا شقیق بلخی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت سیِّدُنا ابراہیم بن ادہم عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْاَکْرَم سے ملکِ شام میں ملاقات کی تو ان سے کہا: اے ابراہیم! کیا آپ نے خُراسان کو چھوڑ دیا ہے ؟ آپ نے فرمایا: مجھے جینے کا مزا ملک شام میں ہی ملا ہے ۔ میں اپنے دین کی خاطر ایک چوٹی سے دوسری چوٹی اور ایک پہاڑ سے دوسرے پہاڑ فرار ہوتا رہتا ہوں، مجھے دیکھنے والوں میں سے کوئی مجھے دیوانہ کہتا ہے تو کوئی سامان اٹھانے والا قُلی کہتا ہے ۔ پھر فرمایا: اے شقیق! ہمارے نزدیک حج یا جہاد کے سبب فضیلت پانے والا بلند مرتبہ نہیں بلکہ ہمارے نزدیک بلند رتبہ تو وہ شخص ہے جو یہ سمجھ بوجھ رکھتا ہے کہ جو دو روٹیاں وہ اپنے پیٹ میں داخل کر تا ہے وہ حلال کی ہیں یا نہیں؟پھر فرمایا: اے شقیق! اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے فقرا پر کیسا انعام فرمایا ہے کہ بروزِ قیامت وہ ان سے زکوٰۃ، حج، جہاد اور صلہ رحمی کے بارے میں کوئی حساب نہیں لے گا، سوال تو ان بے چاروں یعنی مالداروں سے ہو گا۔
ایک رات ابراہیم بن ادہم عَلَیْہِ الرَّحْمَہ کے ساتھ:
(11103)…حضرت سیِّدُنا ابراہیم بن ادہم عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْاَکْرَم کے خادم حضرت سیِّدُناابراہیم بن بَشَّار خراسانی قُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِی کا بیان ہے کہ ہم نے حضرت سیِّدُنا ابراہیم بن ادہم عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْاَکْرَم کے ساتھ ایک رات ایسی گزاری کہ ہمارے پاس روزہ افطار کرنے کے لئے کوئی چیز نہیں تھی اور نہ ہم کوئی اور تدبیر کر سکتے تھے ۔ آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ نے مجھے پریشان و غمزدہ دیکھا تو فرمایا: اے ابراہیم بن بشار! اللہ تعالیٰ نے دنیا وآخرت کی راحتوں اور نعمتوں میں سے فقرا اور مساکین کو کیسا انعام دیا ہے ، بروز قیامت اللہ عَزَّ وَجَلَّ زکوٰۃ، حج، صدقہ، صلہ رحمی اور غمخواری کے بارے میں ان کا محاسبہ نہیں فرمائے گا بلکہ ان چیزوں کے بارے میں سوال اور محاسبہ تو ان بے چاروں سے ہو گا جو دنیا میں مالدار ہیں جبکہ آخرت میں فقیر ہوں گے ، دنیا میں عزت دار ہیں جبکہ قیامت کے دن ذلیل وخوار ہوں گے ، غم کرو نہ پریشان ہو، اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے رزق کی ضمانت ہے عنقریب وہ تمہارے پاس آ جائے گا، خدا کی قسم! بادشاہ اور مالدار تو ہم ہیں، ہم ہی تو ہیں جنہیں دنیا میں ہی بہت جلد راحت وسرور میسر ہے ، جب ہم اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی اطاعت میں ہوں تو ہمیں کچھ پروا نہیں ہوتی کہ ہم کس حال میں صبح وشام کر رہے ہیں۔ پھر آپ نماز کے لئے کھڑے ہوگئے ، میں بھی نماز ادا کرنے کے لئے کھڑا ہوگیا۔ ابھی تھوڑی ہی دیر گزری تھی کہ ایک شخص ہمارے پاس آٹھ روٹیاں اور بہت ساری کھجوریں لے کر آیا اور ہمارے سامنے رکھ کر کہنے لگا: اللہ عَزَّ وَجَلَّ آپ پر رحم فرمائے ، اسے کھا لیجئے ۔ حضرت سیِّدُنا ابراہیم بن ادہم عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْاَکْرَم نے سلام پھیرا اور فرمایا: اے غمزدہ! کھانا کھا ؤ۔ اتنے میں ایک سائل آ گیا اور کہنے لگا: مجھے کچھ کھلاؤ۔ آپ نے تین روٹیاں اور کچھ کھجوریں سائل کو دے دیں اور تین روٹیاں مجھے عطافرمائیں جبکہ خود دو روٹیاں کھائیں اور فرمایا: غمخواری وبھلائی اہْلِ ایمان کے اخلاق میں سے ہے ۔
اصل راحت تو اللہوالوں کی ہے :
(11104)…حضرت سیِّدُنا ابراہیم بن بشار رطابی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَ لِی فرماتے ہیں کہ میں، حضرت سیِّدُنا ابراہیم بن ادہم، حضرت سیِّدُنا ابو یوسف غَسولی اور حضرت سیِّدُنا ابو عبْدُاللہ سنجاری رَحِمَہُمُ اللہُ تَعَالٰی اسکندریہ جا رہے تھے ، جب ہم نہرِاردن سے گزرے تو آرام کی خاطر بیٹھ گئے ۔ حضرت سیِّدُنا ابو یوسف رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے خشک روٹیوں کے چھوٹے چھوٹے ٹکڑے ہمارے سامنے رکھ دیئے ، ہم نے وہ کھائے اور اللہ عَزَّ وَجَلَّ کا شکر ادا کیا، ہم میں سے ایک شخص حضرت سیِّدُنا ابراہیم بن ادہم عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْاَکْرَم کو پانی پلانے کے لئے کھڑا ہوا مگر آپ اس سے پہلے نہر میں داخل ہوگئے حتّٰی کہ پانی آپ کے گھٹنوں تک پہنچ گیا پھر آپ نے بِسْمِ اللہ پڑھ کر پانی پیا اس کے بعد اَلْحَمْدُلِلّٰہِ کہا پھر آپ نے دوسری مرتبہ بھی بِسْمِ اللہ کہتے ہوئے پانی پیا اورپھر اَلْحَمْدُلِلّٰہِ کہہ کر نہر سے باہر تشریف لائے اور پاؤں پھیلا کر بیٹھ گئے اور فرمایا: ” اے ابو یوسف! اگر بادشاہ اور ان کے شہزادے ہماری نعمتوں اور لذتوں کو جان لیں تو وہ ہماری کم تھکاوٹ اور زندگی کے مزے دیکھ کر ہم سے اپنی تلواروں کے ساتھ ساری زندگی لڑتے رہیں۔ ‘‘
حضرت سیِّدُنا جعفر رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کی روایت میں یہ بھی ہے کہ میں نے عرض کی: ابو اسحاق! لوگ راحت وسکون اور نعمتوں کی چاہت میں سیدھے راستے سے ہٹ گئے ہیں۔ میری اس بات پرآپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ مسکرا دیئے اورفرمایا: تم نے ایسی باتیں کہاں سے سیکھ لیں؟
جنت میں عمدہ مقام کے طالب:
(11105)…عباس بن فضل مَرعَشی کا بیان ہے کہ حضرت سیِّدُنا عبد العزیز بن ابو رَوَّاد عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْجَوَاد سے میری ملاقات ہوئی تو ہم دونوں حضرت سیِّدُنا ابراہیم بن ادہم عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْاَکْرَم کے بارے میں گفتگو کرنے لگے ، حضرت سیِّدُنا عبد العزیز عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْعَزِیْز نے فرمایا: اللہ عَزَّ وَجَلَّ حضرت سیِّدُنا ابراہیم بن ادہم عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْاَکْرَم پر رحم فرمائے !میں نے انہیں خراسان میں دیکھا کہ جب آپ سوار ہوتے تو سامنے بیس بیس خدمت گارموجود ہوتے تھے لیکن آپ نے وسط جنت کاعمدہ مقام طلب کیا۔
بُزرگوں کی دعاسے حسن ظن:
(11106)…حضرت سیِّدُنا ابراہیم بن شمَاَّس رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت سیِّدُنا ابراہیم بن ادہم عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْاَکْرَم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: (میرے والد)حضرت سیِّدُنا ادہم عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْاَکْرَم اچھے انسان تھے ، مَکۂ مکرمہ میں ان کے ہاں ابراہیم کی(یعنی میری) ولادت ہوئی توانہوں نے ایک کپڑے میں اسے اُٹھایا اور اس وقت کے عبادت گزاروں اور زاہدوں کو تلاش کر کے ان سے کہا: اللہ عَزَّ وَجَلَّ سے اس بچے کے لئے دعا کیجئے ۔ لگتا ہے کہ ابراہیم کے حق میں ان میں سے کسی کی دعا قبول ہو گئی ہے ۔
(11107)…حضرت سیِّدُنا خَلَف بن تمیم عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْکَرِیْم بیان کرتے ہیں کہ حضرت سیِّدُنا ابراہیم بن ادہم عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْاَکْرَم نے مجھ سے فرمایا: میں ایک ساحل پر رہتا تھا، لوگ مجھ سے خدمت لیتے اور اپنے کاموں کے لئے بھیجا کرتے تھے اور کبھی ایسا بھی ہوتا کہ بچے میرے پیچھے پڑ جاتے یہاں تک کہ میری پنڈلیوں پر پتھر مارتے ، ایک مرتبہ میرے چند ساتھی آ گئے تو انہوں نے مجھے گھیر لیا اور میری عزت کی، جب وہاں کے لوگوں نے انہیں میری عزت کرتے دیکھا تو وہ بھی میری عزت کرنے لگے ، کاش! تم مجھے بچوں کے ہاتھوں پتھر کھاتا دیکھتے ، ان کا پتھر مارنا میرے ساتھیوں کے مجھے گھیر لینے سے زیادہ میٹھا لگتا تھا۔
تقوٰی سے شخصیت کی پہچان:
(11108)…حضرت سیِّدُنا رواد بن جراح رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ سے مروی ہے کہ حضرت سیِّدُنا ابراہیم بن ادہم عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْاَکْرَم غزّہ کے علاقے میں انگوروں کی باغبانی کیا کرتے تھے کہ ایک مرتبہ باغ کا مالک اپنے دوستوں کے ساتھ آیا اور بولا: ہمارے کھانے کے لئے انگور لے آؤ۔ آپ نے اسے خافونی نامی انگور لاکر دیئے ، تو وہ کھٹے نکلے ۔ وہ بولا: کیا تم نے ان انگوروں میں سے کچھ کھایا ہے ؟ آپ نے کہا: نہ میں نے ان میں سے کچھ کھایا ہے اور نہ ہی اوروں میں سے ۔ وہ بولا: کیوں نہیں کھایا؟ آپ نے کہا: کیونکہ آپ نے مجھے کسی انگور کا مالک نہیں بنایا۔ وہ بولا: اچھا مجھے انار لا دو۔ آپ نے اسے انار لا کر دیا تو وہ بھی کھٹا نکلا، مالک بولا: کیا تم نے اس میں سے کچھ کھایا ہے ؟ آپ نے کہا: نہ میں نے ان میں سے کچھ کھایا ہے اور نہ ہی اوروں میں سے ، میں نے اسے خوب لال سرخ دیکھا توسمجھا کہ یہ میٹھا ہو گا۔ مالک بولا: اگر تم ابراہیم بن ادہم ہو تو یہ بات غلط نہیں۔ جب آپ نے دیکھا کہ لوگ آپ کو پہچان چکے ہیں تو آپ اپنی اُجرت لئے بغیر ہی وہاں سے روانہ ہو گئے ۔
کام میں ذمہ داری کا مظاہرہ:
(11109)…حضرت سیِّدُنا فُضَیْل بن سالِم عکِّی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَ لِی کا بیان ہے کہ حضرت سیِّدُنا ابراہیم بن ادہم عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْاَکْرَم کھیتی باڑی اور باغبانی کرتے تھے ، آپ نے عسقلان میں ایک نصرانی کے باغ کی دیکھ بھال کا کام کیا اس باغ میں انواع و اقسام کے درخت تھے ، ایک مرتبہ نصرانی کی بیوی بولی: سُنیے !اس شخص کے ساتھ حُسنِ سلوک کرنا، میرا گمان ہے کہ یہ وہی نیک شخص ہے جس کا لوگوں میں چرچا ہے ۔ اس کے شوہر نے کہا: تو نے اسے کیسے پہچانا؟ وہ بولی: میں انہیں صبح کا کھانا دیتی ہوں تو رات کو بھی ان کے پاس موجود پاتی ہوں اور رات کا کھانا دوں تو صبح تک ان کے پاس موجود ہوتا ہے ۔ راوی بیان کرتے ہیں کہ آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ انتہائی ذمہ داری سے کھیتی باڑی کرتے تھے ۔
(11110)…حضرت سیِّدُنا فضیل بن سالم عَکِّیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَ لِی بیان کرتے ہیں کہ میں حضرت سیِّدُنا ابراہیم بن ادہم عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْاَکْرَم کے ساتھ پہرہ دینے کی غرض سے عکّہ قبیلے کی دیوار پر چڑھاآپ دو کنگوروں کے درمیان دیوار پر یوں بیٹھ گئے جیسے کوئی اپنی سواری پر بیٹھتا ہے پھر مجھے ڈانٹنے والے کے انداز میں لیٹنے کو کہا۔ میں لیٹ تو گیا مگر مجھے نیند نہیں آئی، پھر میں دھیرے دھیرے آگے بڑھنے لگا تاکہ آپ کے منہ سے نکلنے والے کلمات سن سکوں مگر مجھے آپ کے پیٹ سے شہد کی مکھی کی طرح بھنبھناہٹ ہی سنائی دی۔ آپ جمعہ کی رات پہرہ نہیں دیا کرتے تھے ، میں نے عرض کی: آپ جمعے کی رات پہرہ کیوں نہیں دیتے ؟ فرمایا: لوگ شَبِ جمعہ کی فضیلت پانے میں رغبت رکھتے ہیں لہٰذا وہ اپنا پہرہ خود ہی دیتے ہیں پس جب وہ اپنا پہرہ خود دیتے ہیں تو ہم سو جاتے ہیں اور جب وہ سو رہے ہوتے ہیں تو ہم پہرہ دیتے ہیں۔
کام کاج میں لوگوں کی مدد:
(11111)…حضرت سیِّدُنا سہل بن بِشر رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں کہ حضرت سیِّدُنا ابراہیم بن ادہم عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْاَکْرَم میرے پاس سے گزرے ، میں سوکھی لکڑیوں کے ٹکڑے کررہا تھا اور اس کام نے مجھے تھکا دیا تھا، آپ نے مجھ سے فرمایا: اے محمد!کیا اس کام نے آپ کو تھکا دیا ہے ؟ میں نے کہا: جی ہاں۔ آپ نے فرمایا: تو آپ یہ کام ہمیں کرنے کا حکم دیجئے ؟ میں نے کہا: ٹھیک ہے ۔ آپ نے فرمایا: کیا آپ ہمیں کلہاڑی دیں گے ؟ میں نے کہا: جی ہاں۔ پھر آپ نے لکڑیاں اپنی گردن پر رکھیں اور کلہاڑی لے کر چلے گئے ۔ میں اسی حال پر تھا کہ اچانک دروازہ کھلا کیا دیکھتا ہوں کہ لکڑیاں دروازے پرٹکڑے ٹکڑے ہوئی پڑی ہیں اورآپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے کلہاڑی رکھی، دروازہ بندکیا اور روانہ ہو گئے ۔
حضرت سیِّدُنا سہل بن بِشر رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں کہ حضرت سیِّدُنا ابراہیم بن ادہم عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْاَکْرَم جب عشاء کی نماز پڑھ لیتے تو لوگوں کے گھروں کے سامنے کھڑے ہو کر باآوازِ بلند فرماتے : کیا کوئی غلّہ پسوانا چاہتا ہے ؟تو کوئی عورت یا بوڑھا ٹوکری نکال کر رکھ دیتا، آپ اپنے دونوں پاؤں کے درمیان چکی رکھ لیتے اوراس وقت تک نہ سوتے جب تک وہ غلہ بلا اجرت پیس کر نہ دے دیتے ، پھر اپنے ساتھیوں کے پاس لوٹ آتے ۔
(11112)…حضرت سیِّدُنا علی بن بَکَّار عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْغَفَّار فرماتے ہیں کہ حضرت سیِّدُنا ابراہیم بن ادہم عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْاَکْرَم زمین سے خوشے اُٹھانے کے بجائے کھیت کی کٹائی کرنا پسند کرتے تھا جبکہ حضرت سیِّدُنا سلیمان خواص رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ زمین سے خوشے اٹھانے میں کوئی حرج نہیں جانتے اور اُٹھا لیا کرتے تھے ، دونوں حضرات تقریباً ہم عمر تھے ، حضرت سیِّدُنا ابراہیم بن ادہم عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْاَکْرَم زیادہ فقیہ تھے اور عرب کے قبیلے بنو عجل سے تعلق رکھتے تھے اور اعلیٰ حسب والے تھے ، آپ جب کوئی کام کر لیتے تو رجزیہ نظم پڑھتے اور فرماتے :
اِتَّخِذِ اللهَ صَاحِبَا وَدَعِ النَّاسَ جَانِبَا
ترجمہ : لوگوں کو ایک طرف کر کے اللہ عَزَّ وَجَلَّ کو دوست بنا لو۔
آپ سردی کے موسم میں چمڑے کی عبا(جُبّہ) پہنتے جس کے نیچے کوئی قمیص نہ ہوتی تھی اس کے علاوہ موزے اور عمامہ بھی نہیں پہنتے تھے اور گرمیوں میں چار درہم مالیت والے دو کپڑے پہنتے جن میں سے ایک کو تہبند بنا لیتے اور دوسرا اوڑھ لیتے تھے ، سفرو حضر ہر حال میں روزے سے ہوتے ، رات کو نہ سوتے اور غور وفکر میں مشغول رہتے ، جب کھیتی کی کٹائی سے فارغ ہوتے تو اپنے ساتھی کو بھیجتے وہ کھیت کے مالک سے حساب کتاب کرتا پھر وہ درہم لے کر آتا تو آپ اسے ہاتھ تک نہ لگاتے بلکہ اپنے ساتھیوں سے فرماتے : ” یہ درہم لے جاؤ اور جو دل چاہے کھاؤ۔ “ اگر کھیت کی کٹائی کا کام نہ ہوتا تو باغات اور کھیتوں کی دیکھ بھال پر مزدوری کرتے تھے اور آپ بیٹھ کر ایک ہی ہاتھ سے دو مد گندم پیستے تھے ۔ حضرت سیِّدُناابراہیم بن محمد رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں: دو مُد سے مراد دو قفیز ہیں(مد اور قفیز دو پیمانوں کے نام ہیں)۔
رزقِ حلال کے لئے ہجرت:
(11113)…حضرت سیِّدُنا خلف بن تمیم عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْکَرِیْم فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت سیِّدُنا ابراہیم بن ادہم عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْاَکْرَم سے عرض کی: آپ ملکِ شام میں کتنے عرصے سے قیام پزیر ہیں؟ آپ نے فرمایا: 24 سال سے ، میں یہاں جہاد کے لئے آیا تھانہ ہی سرحد کی حفاظت کے لیے ۔ میں نے پوچھا: پھر آپ کس لئے آئے تھے ؟ فرمایا: حلال روٹی سے پیٹ بھرنے کے لئے ۔
آپ عَلَیْہِ الرَّحْمَہکے ساتھ سفر کی روداد:
(11114)…حضرت سیِّدُنا علی بن بکار عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْغَفَّار کو حضرت سیِّدُناابراہیم بن ادہم رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کے دوست نے بتایا کہ میں حضرت سیِّدُنا ابراہیم بن ادہم عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْاَکْرَم کے ساتھ بیت المقدس سے روانہ ہوا، راستے میں ہماراتوشہ ختم ہوگیاتوہم کانٹے داردرخت کیرب اوردوسرے درختوں کی شاخیں کھانے لگے حتّٰی کہ ہمارے حلق کُھردرے ہو گئے اور ہم مشقت میں پڑ گئے تو میں نے کہا: ہم بستی میں جاتے ہیں ہو سکتا ہے ہمیں کوئی کام مل جائے گا، جب ہم بستی میں گئے تو وہاں ایک نہر دیکھی، آپ نے وضو کیا اور نماز کے لیے کھڑے ہو گئے جبکہ میں کام تلاش کرنے لگا، میں نے لوگوں سے چار درہم کی اُجرت پر گری ہوئی دیوار کی مرمت کی ذمہ داری لے لی اور آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ سے جا کر کہا: میں نے کام کی ہامی بھر لی ہے ۔ چنانچہ وہ تو جوانوں کی طرح کام میں لگ گئے جبکہ میں بوڑھے شخص کی طرح کام کرنے لگا۔ وہ لوگ ہمارے لئے ناشتہ لے کر آئے ، میں نے کھانے کے لیے جلدی سے ہاتھ دھوئے تو آپ نے مجھ سے فرمایا: کیا دن طلوع ہوتے ہی یہ کھانا بھی تمہاری اجرت میں طے تھا؟ میں نے کہا: نہیں۔ آپ نے فرمایا: صبر کرو یہاں تک کہ تم اپنی اُجرت لے کر اس سے کھانا خریدو۔ لہٰذا جب ہم کام سے فارغ ہو ئے تو درہم لئے اور خرید کر کھانا کھایا پھر ہم وہاں سے آگے بڑھ گئے ، راستے میں ہمیں بھوک لگی توہم حِمْص شہر کی ایک بستی میں آئے ، وہاں چھوٹی نہر گزر رہی تھی، آپ نے وضو کیا اور نماز کے لئے کھڑے ہو گئے ۔ ہمارے ایک طرف ایک گھر تھا جس میں ایک کمرہ تھا، کمرے میں رہنے والا ہمیں دیکھ رہا تھا کہ جب سے ہم آئے ہیں کھانا نہیں کھایا ہے لہٰذا اس نے ہمارے پاس ایک بڑا پیالہ بھیجا جس میں ثرید اوربھیگی ہوئی روٹیاں تھیں، وہ ہمارے سامنے رکھ دیا گیا، آپ نمازسے فارغ ہوئے تو فرمایا: کس نے بھیجا ہے ؟ میں نے کہا: گھر والے نے ۔ فرمایا: اس کا نام کیا ہے ؟ میں نے کہا: فلاں بن فلاں۔ پھر ہم دونوں نے کھانا کھایا اس کے بعد ہم انطاکیہ کی ایک وادی میں پہنچے ، فصل کاٹنے کا وقت آچکا تھا لہٰذا ہم نے تقریباً 80 درہم کے عوض فصل کاٹی پھر میں نے سوچا کہ میں اس میں سے آدھی رقم(اپنا حصہ) لے کر واپس چلا جاتا ہوں کیونکہ مجھ میں ان کے ساتھ رہنے کی طاقت نہیں ہے لہٰذا میں نے کہا: میں بیت المقدس واپس جانا چاہتا ہوں۔ آپ نے فرمایا: ٹھیک ہے اب میرے ساتھ نہیں رہنا۔ یہ فرما کر آپ انطاکیہ میں داخل ہوئے اور ان درہموں سے دو بڑی چادریں خرید یں اور مجھ سے فرمایا: جب تم اس بستی میں جاؤجہاں ہم نے کھانا کھایا تھا تو فلاں بن فلاں کے بارے میں معلوم کر کے اسے یہ چادریں دے دینا۔ یہ فرما کر آپ نے بقیہ درہم بھی میرے حوالے کر دیئے اور خود خالی ہاتھ ہو گئے ۔ جب میں نے وہ چادریں اس شخص کے حوالے کیں تو اس نے پوچھا: یہ کس نے بھیجی ہیں؟ میں نے کہا: حضرت سیِّدُنا ابراہیم بن ادہم عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْاَکْرَم نے ۔ اس نے کہا: کون ابراہیم بن ادہم؟ تو میں نے اسے بتایا کہ جن دو شخصوں کے لئے کھانا بھیجا گیا تھا ان میں سے ایک حضرت سیِّدُنا ابراہیم بن ادہم عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْاَکْرَم تھے تو اس نے وہ چادریں لے لیں اور میں بیت المقدس کی طرف روانہ ہو گیا، وہاں کچھ عرصہ رہ کر لوٹا اور اس شخص کے بارے میں معلوم کیا تو کسی نے مجھے بتایا: اس کا انتقال ہو چکا ہے اور اسے انہی دو چادروں میں کفن دیا گیا ہے ۔
کمزور کسانوں سے تعاون :
(11115)…حضرت سیِّدُنا فُضَیْل بن سالِم رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کا بیان ہے کہ میں نے حضرت سیِّدُنا ابراہیم بن ادہم عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْاَکْرَم کو دیکھا جب آپ فصل کاٹتے تو آپ کے ساتھ کام کرنے والے کمزور لوگ آپ سے مدد مانگتے ، آپ ان کے حصے کی کٹائی کرتے پھر بھی اپنی جگہ میں ان سے آگے بڑھ جاتے تھے ۔ چنانچہ آپ کھیتی کاٹ لینے کے بعد اپنے ساتھیوں کو بیٹھنے کا اشارہ کرتے اور خود کھڑے ہو کر دو رکعت نماز پڑھتے پھرجو کچھ کھیتی ساتھیوں کے سامنے بچی ہوتی اُسے کاٹنے لگ جاتے جبکہ ساتھی بیٹھے رہتے ، پھر دورکعت نماز ادا کر کے واپس اپنی جگہ آ کر فصل کاٹتے ۔
توکل و غَنا کی داستان:
(11116)…حضرت سیِّدُنا علی بن محمدمُعَلِّم رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کے والد کا بیان ہے کہ حضرت سیِّدُنا ابراہیم بن ادہم عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْاَکْرَم یہاں غار میں رہا کرتے تھے ، ایک دن بازار گئے ، بازار کی کشادہ جگہ میں خراسان کے ایک بوڑھے شخص کا ایک باغیچہ تھاجن کی کنیت ابو سلیمان تھی، حضرت سیِّدُنا ابراہیم بن ادہم عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْاَکْرَم نے ان سے پوچھا: آپ کہاں جا رہے ہیں؟ انہوں نے کہا: بیْتُ المقدس۔ آپ نے فرمایا: ابو سلیمان! بخدا! میرا ارادہ بھی بیْتُ المقدس جانے کا ہے ۔ انہوں نے کہا: ابو اسحاق!کیا ہم ساتھ ہی چلیں؟ آپ نے فرمایا: جی ٹھیک
ہے ۔ پھر حضرت سیِّدُنا ابو سلیمان حضرت سیِّدُنا ابراہیم بن ادہم رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِمَا کے ساتھ اپنے گھر گئے اور ایک صراحی نکالی جس کا سرا بندھا ہوا تھا اور اس میں روٹیوں کے ٹکڑے تھے ، انہوں نے وہ ٹکڑے اپنے تھیلے میں رکھے اور صراحی کوواپس رکھ کر دروازہ بند کیا اور ساتھ چلنے کو کہا۔ بیان کرتے ہیں : ہم چل پڑے اور بازار سے نکلنے ہی والے تھے کہ حضرت سیِّدُنا ابراہیم بن ادہم عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْاَکْرَم نے فرمایا: ابو سلیمان!میں پچھنے لگوانا چاہتا ہوں۔ پھر آپ نے پچھنے لگوائے ، جب پچھنے لگانے والا فارغ ہوگیاتو آپ نے حضرت سیِّدُنا ابو سلیمان عَلَیْہِ
رَحْمَۃُ الرَّحْمٰن سے فرمایا: کیا آپ کے پاس کچھ ہے ؟انہوں نے کہا: جی ہاں۔ پوچھا: کیا ہے ؟تو انہوں نے ایک تھیلی نکالی جس میں اٹھارہ درہم تھے ، آپ نے فرمایا: یہ پچھنے لگانے والے کو دے دو۔ میں نے کہا: ابو اسحاق! کیا یہ تمام درہم اِسے دے دوں؟ آپ نے فرمایا: ہاں میرے کہنے کے مطابق سارے دے دو۔ حضرت سیِّدُنا ابراہیم بن ادہم عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْاَکْرَم کی عادت تھی کہ جو کہہ دیتے اس سے پھرتے نہیں تھے ۔ چنانچہ میں نے وہ درہم دے دیئے اور ہم وہاں سے نکل گئے ، جب ہم نے ایک یا دو میل کا فاصلہ طے کر لیا تو میں نے کہا: ابو اسحاق! وہ درہم ہم نے اس لیے اپنے پاس رکھے تھے کہ اپنے بچوں اور گھر والوں کے لئے بیْتُ المقدس سے کچھ خرید کر لے جائیں گے مگر آپ کے کہنے پر ہم نے وہ سارے درہم پچھنے لگانے والے کو دے دیئے ، میں آپ سے گھبرا گیا تھا، بخدا! ان دراہم کے علاوہ میرے پاس اور کوئی شے نہیں۔ مگرآپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ خاموش رہے اور مجھے کوئی جواب نہیں دیا، میں نے ایک مرتبہ پھردراہم کاذکر کیامگر آپ بدستور خاموش رہے اور جواب نہ دیا۔
ہمیں راستے کی ایک جانب بستی دکھائی دی تو آپ نے فرمایا: ابو سلیمان! میرے خیال میں اس بستی میں رات گزارنی چاہئے ۔ مجھے یہ رائے پسند آئی لہٰذا ہم اس کی طرف چل پڑے جب ہم بستی میں داخل ہوئے تو سورج ڈوب چکا تھا اورمُؤَذِّن اذان دینے کے ارادے سے بیٹھا ہوا تھا، ہم اسے سلام کر کے مسجد میں داخل ہو گئے ، حضرت سیِّدُنا ابراہیم بن ادہم عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْاَکْرَم نے اس سے پوچھا: تم کون ہو؟ کیا تم یہیں کے رہنے والے ہو؟ اس نے کہا: جی ہاں۔ آپ نے فرمایا: ہمیں یہاں کی ایسی فصل کے بارے میں بتاؤ جسے ہم کاٹ سکیں۔ حالانکہ لوگ فصلوںکی کٹائی کر چکے تھے ، بوڑھے مُؤَذِّن نے کہا: بستی والے کٹائی کر چکے ہیں اور میری معلومات کے مطابق ایک نصرانی کے دو بڑے کھیت ہی باقی رہتے ہیں۔ آپ نے اس سے فرمایا: اگر اللہ نے چاہا تو نماز کے بعد تم ہمیں اس کے پاس لے جانا، تم دیکھ رہے ہو کہ ہم دونوں بوڑھے ہیں اور کٹائی کرتے ہیں اور اچھا کام کرتے ہیں۔ اس نے کہا: جو اللہ تعالیٰ نے چاہا ہوگا۔ جب اس بوڑھے شخص نے نمازِ مغرب ادا کر لی اور ہم نے بھی اس کے ساتھ نماز پڑھ لی تو حضرت سیِّدُنا ابراہیم بن ادہم عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْاَکْرَم اس کے پاس گئے اور فرمایا: اللہ عَزَّ وَجَلَّ آپ کو اچھا بدلہ دے ! ہمیں اس نصرانی کے پاس لے چلو اور اس سے ہمارے بارے میں گفتگو کرو۔ اس نے کہا: سبحٰن اللہ ، اللہ عَزَّ وَجَلَّ تمہیں عافیت عطا فرمائے ! ہمیں کچھ اور بھی نماز پڑھنے دو، حضرت سیِّدُنا ابراہیم بن ادہم عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْاَکْرَم خاموش ہو گئے اور پھر دونوں نے کچھ نماز پڑھی، نماز کے بعد آپ نے دوبارہ اس کے پاس جا کر کہا: چلو۔ چنانچہ،
ہم اس کے ساتھ نصرانی کے گھر پہنچے ، اس نے دروازہ کھٹکھٹا یا، نصرانی باہر آیا تو اس نے کہا: یہ دونوں بوڑھے مسافر ہیں اور فصل کی کٹائی بڑی اچھی کرتے ہیں۔ میں نے تمہارے کھیتوں کا ذکر ان سے کیا تھا، ان دونوں کھیتوں کے معاملے میں بستی والے تمہیں انکار کر چکے ہیں، مجھ امید ہے کہ یہ دونوں بوڑھے تمہاری مرضی کے مطابق فصل کاٹ دیں گے لہٰذا تم ان دونوں کو اپنے کھیت دکھا دو اور ان دونوں سے کام لے لو۔ اس نے کہا: جیسے تمہاری مرضی۔ پھرجبہم اس نصرانی کے ساتھ اس کے کھیت کی طرف جانے لگے تووہ ضعیف مُؤَذِّن اپنے گھر یا مسجد کو واپس ہونے لگا، حضرت سیِّدُنا ابراہیم بن ادہم عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْاَکْرَم نے اس سے فرمایا: میں چاہتا ہوں کہ تم بھی ہمارے ساتھ چلو تمہیں بھی اُجرت مل جائے گی۔ تووہ بھی ہمارے ساتھ ہولیا، چاندنی رات تھی، نصرانی نے اپنے کھیت دکھائے تو حضرت سیِّدُناابراہیم بن ادہم عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْاَکْرَم نے اس سے کہا: ہم نے دیکھ لیا ہے اور اِنْ شَآءَ اللہ عَزَّ وَجَلَّ ہم تمہارا یہ کام اچھی طرح کریں گے ، تم ہمیں اپنی مرضی کے مطابق اُجرت دے دینا۔ اس نے کہا: بولو! کیا لوگے ؟ آپ نے فرمایا: ہم کچھ نہیں کہیں گے تم خود سوچ کر جو چاہے رکھ لو اور جو بھی اجرت دینی ہو وہ اس بوڑھے مُؤَذِّن صاحب کو دے دو وہ اس کے پاس رہے گی، اگر تم دیکھو کہ ہم نے تمہاری پسند کا کام کیا ہے تو تم مؤذن صاحب کو کہہ دینا یہ ہمیں ہمارا حق دے دیں گے اور اگر تمہیں کام پسند نہ آئے تو تمہیں اختیار ہو گااور تمہارا حق تمہارے پاس ہو گا۔ نصرانی بولا: میں تمہیں ایک دینار دوں گا۔ حضرت سیِّدُنا ابراہیم بن ادہم عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْاَکْرَم نے کہا: ہمیں منظور ہے ، تم وہ دینار بوڑھے مؤذن صاحب کو دے دو، اِنْ شَآءَ اللہ عَزَّ وَجَلَّ ہم آج رات ہی تمہارے کام کا آغاز کر دیں گے ۔ نصرانی نے دینار لا کر بوڑھے کو دے دیا اور ہم اس کے ساتھ مسجد آ گئے ، جب ہم عشاء کی نماز سے فارغ ہوئے تو حضرت سیِّدُنا ابراہیم بن ادہم عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْاَکْرَم نے بوڑھے سے فرمایا: ہم تو بھول ہی گئے ہمارے پاس درانتیاں نہیں ہیں، اس نصرانی کے پاس یہ پیغام بھیج دو کہ وہ ہمیں دو درانتیاں دے دے ۔ بوڑھے نے کہا: میرے پاس درانتیاں ہیں میں تمہیں دے دوں گا۔ پھر اس نے کسی کواپنے گھربھیجا وہ دو نئی درانتیاں لے آیا۔
حضرت سیِّدُنا ابراہیم بن ادہم عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْاَکْرَم نے مجھ سے فرمایا: کھیت کی طرف چلتے ہیں۔ ہم وہاں آئے اور کھیت میں داخل ہوئے تو اس میں ایک جگہ کچھپانی بھی تھا ، آپ نے کھیت میں چار رکعت نماز پڑھی پھر فرمایا: ابو سلیمان!مسلمانوں میں ہم دونوں کتنے بُرے ہوں گے کہ ہماری رات نصرانی کے کام میں گزر رہی ہو اور ہم یہاں اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے لئے نماز نہ پڑھ سکیں؟ میرا نہیں خیال کہ یہاں کبھی کسی نے نماز پڑھی ہو گی، ابو سلیمان! تمہیں دو میں سے کون سی بات زیادہ پسند ہے : تم یہاں اس جگہ نماز پڑھواور میں جا کر فصل کاٹتا ہوں یاتم جا کر فصل کاٹو اور میں اپنی طاقت کے مطابق نماز میں رہوں؟مجھے ان کی بات اچھی لگی اور میں نے کہا: میں یہاں نماز پڑھتا ہوں آپ جا کر فصل کاٹیے ۔ حضرت سیِّدُناابراہیم بن ادہم عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْاَکْرَم نے اپنے کپڑے اوپر چڑہا کر کمر سے باندھے اور درانتی لے کر چلے گئے ، میں نے وہیں کچھ نماز پڑھی اور پھر سر رکھ کر سو گیا ، رات کے آخری حصے میں حضرت سیِّدُنا ابراہیم بن ادہم عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْاَکْرَم میرے پاس آئے اور مجھ سے فرمایا: ابو سلیمان! میں تمہیں سوتا ہوا دیکھ رہا ہوں اٹھو صبح ہو چکی ہے اور ابھی فجر طلوع ہورہی ہے ، میں نصرانی کا کام پورا کر چکا ہوں۔ میں نے کہا: کیا آپ نے دونوں کھیتوں کی تمام فصل کاٹ لی ہے ؟ آپ نے فرمایا: اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے ہماری مدد فرمائی ہے ۔ پھر ہم نے وہاں پانی سے وضو کیا اور کچھ دیر بیٹھ گئے حتّٰی کہ جب صبْحِ صادق کا وقت ہوا تو ہم نے جا کراس بوڑھے مُؤَذِّن کے ساتھ نماز ادا کی، جب اس نے سلام پھیر لیا تو حضرت سیِّدُنا ابراہیم بن ادہم عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْاَکْرَم نے اس کے پاس جا کر کہا: اَلسَّلَامُ عَلَيْك۔ اس نے کہا: وَ عَلَيْك السَّلَام۔
آپ نے فرمایا: ہم نصرانی کے کام سے فارغ ہو گئے ہیں اور ہم نے ساری فصل کاٹ دی ہے اور مناسب طریقے سے اس کے بنڈل بنا دیئے ہیں۔ اس نے کچھ دیر سر جھکانے کے بعد سر اُٹھایا اور کہا: شیخ! میرے خیال میں آپ نے نصرانی کو، خود کو اور اپنے ساتھی کو ہلاکت میں ڈال دیا ہے کیونکہ یہ کام پانچ دن اور پانچ راتوں میں بھی مکمل نہیں ہو سکتا اور آپ کہہ رہے ہو کہ ہم نے یہ کام ایک رات میں ہی کر لیا ہے ایسا کیسے ہو سکتا ہے ؟ حضرت سیِّدُنا ابراہیم بن ادہم عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْاَکْرَم نے فرمایا: سُبْحٰنَ اللہ! جھوٹ بہت بُری شے ہے ، اللہ عَزَّ وَجَلَّ تمہیں عافیت عطا فرمائے ! اگر تم مناسب سمجھو تو ہمارے ساتھاس نصرانی کے پاس چلو تاکہ وہ اپنے کھیتوں میں جائے ۔ اگر وہ دیکھے کہ کام اسی طرح ٹھیک ہوا ہے جس کی وجہ سے ہمارا حق دینا تم پر لازم ہوتا ہے تو ہمارا حق دے دینا اور اگر اس میں خرابی ہو تو ہمیں ہمارا حق نہ دینا اور اگر ہم پر تاوان لازم ہو گا تو ہم تاوان بھی دیں گے ۔ بوڑھے نے کہا: میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ جو چاہتا ہے کر تا ہے ، اللہ عَزَّ وَجَلَّ کا نام لے کر ہمارے ساتھ چلو۔
ہم نصرانی کے پاس پہنچے ، وہ اپنے گھر سے نکلا تو مؤذن نے کہا: یہ بوڑھے سمجھتے ہیں کہ یہ تمہارا کام مکمل کر چکے ہیں اور انہوں نے اچھی طرح فصل کی کٹائی کر دی ہے اور مناسب طریقے سے اس کے بنڈل بنا دیئے ہیں۔ یہ سن کر نصرانی پھوٹ پھوٹ کر رونے لگااور اپنی مٹھی میں خاک لے کر اپنے سر پر ڈالنے لگا اُس نے ایک مٹھی مٹی لے کر سر پر ڈالیاور اپنی داڑھی نوچتے ہوئے اس بوڑھے کو ملامت کرتے ہوئے کہنے لگا: تم نے مجھے دھوکا دیا ہے ۔ حضرت سیِّدُنا ابراہیم بن ادہم عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْاَکْرَم نے اس سے فرمایا: اے نصرانی! ایسے نہ کر، ہمارے ساتھ چل اور ملامت اور بُرا بھلا کہنے میں جلدی نہ کر ، اگر تو اسے اپنی پسند کے مطابق پائے تو ہمارا حق دے ورنہ تجھے اپنے معاملے کا اختیار ہے ۔ آپکی گفتگو سن کر وہ اور زیادہ رونے اور اپنی داڑھی نوچنے لگا اور بیٹھ کر کہنے لگا: یہ تم کیا کہہ رہے ہو، تم نے مجھے اور میرے اہل وعیال کو برباد کر دیا۔ اِسی دوراناس بستی کا ایک شخص وہاں سے گزرا توحضرت سیِّدُنا ابراہیم بن ادہم عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْاَکْرَم نے فرمایا: اس شخص کومیری طرف سے ایک درہم دے کر تفتیش کروا لو، یہ کھیت میں جا کر دیکھ آئے گا کیونکہ مجھے یہ کسان لگ رہا ہے ، اگر یہ کٹائی میں خرابی یا اچھائی دیکھے گا تو تجھے آ کر بتا دے گا ۔ بوڑھے مُؤَذِّن نے کہا: میرے خیال میں تم نے منصفانہ بات کی ہے ہمارے ساتھ چلو۔ یہ کہتے ہوئے اس نے نصرانی کو ہاتھ سے پکڑ کر کھڑا کیا، ہم سب گئے اور پہلے کھیت پر آئے تو دیکھا کہ فصل کو اچھی طرح کاٹا گیا اور بڑے ہی عمدہ بنڈل بنا کرترتیب سے رکھا گیا ہے ۔ پھر ہم دوسری طرف والے کھیت میں داخل ہوئے تو وہاں بھی یہی معاملہ تھا۔ بوڑھا مؤذن اور نصرانی دونوں حیران ہو گئے ، نصرانی نے بوڑھے سے کہا: ان دونوں کو دینار دے دو اور میں انہیں ایک دینار اور دیتا ہوں۔ حضرت سیِّدُناابراہیم بن ادہم عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْاَکْرَم نے فرمایا: کیا تمہیں کچھ بُرا لگا؟ اس نے کہا: نہیں۔ آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے فرمایا: ہمیں تمہاری اضافی رقم کی حاجت نہیں، ہمیں ایک ہی دینار دو۔ اس نے آپ کو دینار دے دیا۔
حضرت سیِّدُنا ابو سلیمان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰن فرماتے ہیں کہ حضرت سیِّدُنا ابراہیم بن ادہم عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْاَکْرَم نے مجھ سے فرمایا: ابو سلیمان! یہ دینار رکھو اور جان لوکہ اب تم بیْتُ المقدس میرے ساتھ نہیں جاؤ گے یا میں عَسْقَلان لوٹ جاتا ہوں اور تم بیْتُ المقدس چلے جاؤ یا میں بیْتُ المقدس جاتا ہوں اور تم عَسْقَلان لوٹ جاؤ۔ یہ سن کر میں رونے لگا اور کہا: ابو اسحاق! مجھے آپ کے ساتھ ہی جاناہے ۔ آپ نے فرمایا: نہیں، تم میرے سامنے بار بار دراہم کا ذکر کرتے رہے ، یہ دینارلو اور اپنے گھر جاؤ، اللہ عَزَّ وَجَلَّ تمہیں برکت عطا فرمائے ۔ میں دینار لے کر عسقلان لوٹ آیا اور آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ بیتُ المقدس کی طرف روانہ ہو گئے ۔
پورا رمضان نہ سوئے :
(11117)…حضرت سیِّدُنا ابو اسحاق فزاری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی بیان کرتے ہیں کہ حضرت سیِّدُنا ابراہیم بن ادہم عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْاَکْرَم رمضان کے مہینے میں دن کے وقت فصل کی کٹائی کرتے اور رات میں نمازیں ادا کرتے تھے ، آپ نے 30 دن یوں گزارے کہ نہ رات کو سوئے نہ دن کو۔
ہر رات لیلۃُ القدر:
(11118)…حضرت سیِّدُنا ابو یوسف یعقوب بن مُغِیرہ غَسُولی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَ لِی فرماتے ہیں کہ ہم رمضان کے مبارک مہینے میں حضرت سیِّدُنا ابراہیم بن ادہم عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْاَکْرَم کے ساتھ کھیتی کاٹنے میں مشغول تھے ، کسی نے آپ سے کہا: ابواسحاق!اگر آپ ہمیں شہر لے چلیں اور ہم آخری دس روزے وہاں رکھیں تو ہو سکتا ہے ہم لیلۃ القدر پا لیں؟ آپ نے فرمایا: یہیں رہواور اچھی طرح کام کرو تمہارے لئے ہر رات لیلۃُ القدر ہے ۔
دُگنا کا م، آدھی اجرت:
(11119)…حضرت سیِّدُنا خَلْف بن تَمِیْم عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْکَرِیْم فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت سیِّدُنا ابراہم بن ادہم عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْاَکْرَم سے پوچھا: آپ یہاں سرزمیْنِ شام میں کتنے عرصے سے ہیں؟ فرمایا: 24 سال سے ہوں، ایک مرتبہ مجھے کھیت کی کٹائی کرنے والے عربی جوانوں کی طرف بھیجا گیا، وہ اپنے خیمے لگائے بیٹھے تھے ، مجھے کہنے لگے : نوجوان!آؤ، ہمارے ساتھ فصل کاٹو۔ میں ان کے ساتھ فصل کاٹنے لگ گیا، وہ لوگ مجھے کٹائی کی اجرت اتنی دیا کرتے جتنی وہ اپنے کسی ماہر شخص کو دیتے تھے ، میں نے دل میں سوچا: یہ ٹھیک نہیں کہ یہ ماہر لوگ مجھے گنجائش دیں جبکہ میں اچھی طرح کٹائی نہیں کر سکتا۔ چنانچہ میں ان سے الگ ہو جاتاحتّٰی کہ جب وہ اپنے بستروں پر جا کر سو جاتے تو میں درانتی لے کر فصل کی کٹائی کرتا اور صبح ہوتی تو میں مناسب کٹائی کر چکا ہوتا، میں انہیں آپس میں سرگوشیاں کرتے ہوئے سنتا، وہ کہہ رہے ہوتے : کیا یہ کھیتی کل کھڑی نہ تھی؟ اسے کس نے کاٹ دیا؟ ان میں سے کچھ نے کہا: ہم نے اسے رات کے وقت فصل کاٹتے ہوئے دیکھاہے ، میں نے انہیں یہ بھی کہتے ہوئے سنا کہ ہم اتنے کام کی طاقت نہیں رکھتے یہ تو دن، رات کٹائی کرتا ہے جبکہ اجرت ایک آدمی کے برابر ہی لیتا ہے ۔
(11120)…حضرت سیِّدُنا ابراہیم بن ادہم عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْاَکْرَم کے رفیق حضرت سیِّدُنا ہارون رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں کہ ہم غزہ میں حضرت سیِّدُنا ابراہیم بن ادہم عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْاَکْرَم کے ساتھ فصلوں کی کٹائی کیا کرتے تھے ، ایک مرتبہ آپ نے فرمایا: ہارون!چلواس جگہ سے دور چلتے ہیں۔ میں نے پوچھا: کیوں؟ فرمایا: مجھے خبر پہنچی ہے کہ ایک چھوٹا لشکرافریقہ کی طرف بھیجا گیا ہے ۔ میں نے کہا: آپ کو اس لشکر سے کیا خوف ہے ؟ فرمایا: انہوں نے جو راستہ اختیار کیا ہے وہ ہم سے قریب ہے اور ہم اس بات سے محفوظ نہیں رہ سکتے کہ ان میں سے کوئی ہمارے پاس آ کر یہ پوچھے : ” ہم فلاں جگہ کس طرح پہنچیں؟ “ کیا ہم اس کی رہنمائی کریں گے ؟ ہمارے لئے بہتر یہی ہے کہ ہم دور رہیں، ہم انہیں دیکھیں نہ وہ ہمیں۔
ظالموں کو راستہ نہ بتایا:
(11121)…حضرت سیِّدُنا علی بن بکار عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْغَفَّار کا بیان ہے کہ حضرت سیِّدُنا ابراہیم بن ادہم رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فِلَسْطِیْن میں اجرت پر کام کیا کرتے تھے ، ایک مرتبہ آپ آبپاشی کر رہے تھے کہ ایک لشکر مصر کو جاتے ہوئے آپ کے پاس سے گزرا، آپ نے ڈول کی رسی کاٹ کراسے کنویں میں ڈال دیا تاکہ ان لوگوں کو پانی نہ پلا سکیں، وہ لوگ آپ کے سر پر چوٹیں مارتے ہوئے راستے کے بارے میں پوچھتے رہے مگرآپ ان کے سامنے گونگے بن گئے تاکہ انہیں راستہ نہ بتانا پڑے ۔ حضرت سیِّدُنا علی بن بکار عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْغَفَّار فرماتے ہیں: یہ ورع وپرہیزگاری نہ میرے پاس ہے نہ تمہارے پاس۔
(11122)…حضرت سیِّدُنا احمد بن داود رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں کہ یزید نامی ایک شخص حضرت سیِّدُنا ابراہیم بن ادہم عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْاَکْرَم کے پاس سے گزرا جبکہ آپ انگور کے باغ کی نگرانی کر رہے تھے ، یزید بولا: ہمیں ان انگوروں میں سے کچھ دو۔ آپ نے فرمایا: مجھے اس کے مالک نے اجازت نہیں دی۔ یہ سن کر اس نے اپنے چابک کو پلٹا مارا اور آپ کے سفید بالوں سے پکڑ کرآپ کے سر کو جھنجھوڑنے لگا تو آپ نے اپنا سر جھکا کر فرمایا: مارو اس سر پر جولمبے عرصے سے اللہ عَزَّ وَجَلَّ کانافرمان ہے ۔ راوی کا بیان ہے کہ وہ شخص بے بس ہو گیا۔
شجاعت وبہادری:
(11123)…حضرت سیِّدُنا اشعث رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کو حضرت سیِّدُنا ابرہیم بن ادہم رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کے کسی ساتھی نے بتایا کہ حضرت سیِّدُنا ابراہیم بن ادہم عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْاَکْرَم نے جب دشمنوں کو دیکھا تو دریامیں کود گئے اور ان کی جانب تیرنے لگے ، آپ کے ساتھ ایک اور شخص بھی تھا، جب دشمنوں نے یہ منظر دیکھا تو بھاگ کھڑے ہوئے ۔
اعلیٰ درجے کی احتیاط:
(11124)…حضرت سیِّدُنا بقیہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت سیِّدُنا ابراہیم بن ادہم عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْاَکْرَم کے ایک ساتھی سے پوچھا: مجھے بتاؤ کہ حضرت سیِّدُنا ابراہیم بن ادہم عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْاَکْرَم کی صحبت میں رہتے وقت تم پر سب سے زیادہ سخت معاملہ کون سا گزرا؟اس نے کہا: ایک دن ہم روزے کی حالت میں تھے مگر ہمارے پاس افطار کے لئے کوئی چیز نہیں تھی، میں نے ان سے عرض کی: ابو اسحاق! آپ کا اس بارے میں کیا خیال ہے کہ ہم بابِ رُستن پر جائیں اور وہاں فصل کاٹنے والوں کے ساتھ مزدوری کریں؟انہوں نے فرمایا: ٹھیک ہے ۔ لہٰذا ہم باب رُستن گئے تو ایک شخص نے آ کر مجھے ایک درہم اُجرت پر مزدور رکھ لیا، میں نے اس سے کہا: میرے ساتھی کو بھی مزدوری پر رکھ لو۔ اس نے کہا: تمہارا ساتھی کمزور ہے ، میں اسے مزدوری پر نہیں رکھنا چاہتا۔ میں اس سے اصرار کرتا رہا بالآخر اس نے حضرت سیِّدُناابراہیم بن ادہم رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کو چار دانق مزدوری پر رکھ لیا، ہم روزے سے تھے ، جب شام ہوئی تو میں اس شخص سے مزدوری لے کر بازار گیا اور اپنی ضرورت کی چیزیں خرید کر باقی رقم صدقہ کر دی۔ اُس وقت آپ نے فرمایا: ہم نے اپنی اجرت تو پوری لے لی، کاش! مجھے معلوم ہوجائے کہ ہم نے اپنا کام بھی مکمل کیا ہے یا نہیں؟ مجھے اس بات پر غصہ آ گیا، جب آپ نے مجھے غصے میں دیکھا تو فرمایا: غصہ مت کرو، تم مجھے ضمانت دے دوکہ ہم نے اس کا کام پورا کیا ہے ۔ جب میں نے یہ بات سنی تو آپ سے کھانا لے لیا اور وہ بھی صدقہ کر دیا۔ جب سے میں نے ان کی صحبت اختیار کی یہ بات مجھ پر سب سے زیادہ سخت گزری۔
کوئی تمہیں فقیر نہ سمجھ لے :
(11125)…حضرت سیِّدُنا ضمرہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کا بیان ہے کہ ہم حضرت سیِّدُنا ابراہیم بن ادہم رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کے ساتھشام کے ساحلی شہرصورمیں آپ کی رہائش گاہ پر تھے ، آپ فصل کی کٹائی کیا کرتے تھے ، حضرت سیِّدُنا ابو الیاس سلیمان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰن دروازے پراون کا جُبّہ پہنے بیٹھے ہوئے تھے توحضرت سیِّدُنا ابراہیم بن ادہم عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْاَکْرَم نے ان سے فرمایا: سلیمان!اندر چلے جاؤ ایسا نہ ہوکہ یہاں سے گزرنے والا تمہیں فقیر سمجھ کر کچھ نہ کچھ دے جائے ۔
وطن کی محبت:
(11126)…حضرت سیِّدُنا بقیہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت سیِّدُنا ابراہیم بن ادہم رَحْمَۃُ اللہِ تَعَا لٰی عَلَیْہ کوفرماتے سنا: میں نے مسلسل عبادت کی تو میں نے اپنے لئے سب سے سخت نفس کی وطن جانے کی خواہش کو پایا۔
(11127)…حضرت سیِّدُنا مَضاء بن عیسٰی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں کہ حضرت سیِّدُنا ابراہیم بن ادہم عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْاَکْرَم نے فرمایا: میں نے وطن چھوڑنے سے زیادہ سخت تکلیف کسی شے کے چھوڑنے میں نہ پائی۔
گزشتہ وآئندہ پر افسوس نہیں:
(11128)…حضرت سیِّدُنا ابراہیم بن ادہم عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْاَکْرَم فرماتے ہیں: میں نے اپنے نفس سے زیادہ سخت دنیا کا کوئی معاملہ نہیں جھیلا کبھی وہ میرے خلاف ہوتا ہے اور کبھی میرے حق میں اور خدا کی قسم! میں نے اپنی خواہشات کے خلاف اللہ عَزَّ وَجَلَّ سے مدد مانگی تو اس نے میری مدد فرمائی اور میں نے بارگاہِ الٰہی میں نفس کے بُرے غلبے سے بچاؤ کا سوال کیا تو اس نے میرا سوال پورا کر دیا، پس خدا کی قسم! دنیاکا جو کچھ آگے آنے والا ہے اور جو کچھ پیچھے گزر چکا مجھے کسی پر کچھ افسوس نہیں۔
آپ عَلَیْہِ الرَّحْمَہ کی عاجزی:
(11129)…حضرت سیِّدُناابراہیم بن بَشَّار عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْغَفَّار بیان کرتے ہیں کہ حضرت سیِّدُنا ابراہیم بن ادہم عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْاَکْرَم نے فرمایا: میں نے ایک معاملے کے سوا کبھی اپنے ساتھیوں اور دوسرے لوگوں پر بوجھ نہیں ڈالا۔ میں نے پوچھا: ابو اسحاق! وہ کون سا معاملہ تھا؟ آپ نے فرمایا: میں کٹائی کرنے والوں میں اپنی مزدوری اچھی طرح طے نہیں کر سکتا تھا لہٰذاوہ لوگ مجھے مزدوری پر رکھوا کر میرے لیے اجرت لیتے تھے ، بس میری طرف سے ان پر یہی بوجھ تھا۔
مٹی کھا کر گزارہ کرنے والے :
(11130)…حضرت سیِّدُنا سعید بن حَرْب رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں: حضرت سیِّدُنا ابراہیم بن ادہم رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ مَکۂ مکرمہ آئے اور حضرت سیِّدُنا عبد العزیز بن ابو رَوَّاد رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کے پاس ٹھہرے آپ کے پاس ہرنی کی کھال کا تھیلا تھا، آپ نے اسے کھونٹے پر لٹکایا اور طواف کے لئے چلے گئے ، پھر حضرت سیِّدُنا سفیان ثوری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی حضرت سیِّدُنا عبد العزیز عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْعَزِیْز کے گھر میں آئے تو پوچھا: یہ تھیلا کس کا ہے ؟ لوگوں نے کہا: آپ کے بھائی حضرت سیِّدُنا ابراہیم بن ادہم کا۔ حضرت سیِّدُنا سفیان ثوری رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے فرمایا: شاید اس میں ملکِ شام کا کوئی پھل ہو گا، آپ نے اسے اُتار کر کھولا تووہ مٹی سے بھرا ہوا تھا، آپ نے وہ تھیلا باندھ کر واپس کھونٹے پر لٹکا دیا اور چلے گئے ، پھر حضرت سیِّدُنا ابراہیم بن ادہم عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْاَکْرَم آئے اور حضرت سیِّدُنا عبد العزیز عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَدِیْر نے انہیں حضرت سیِّدُنا سفیان ثوری رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کے عمل کے بارے میں بتایا تو آپ نے فرمایا: میں ایک مہینے سے یہی کھا رہا ہوں۔
(32-11131)…حضرت سیِّدُنا عطاء بن مسلم رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کا بیان ہے کہ مَکۂ مکرمہ میں حضرت سیِّدُنا ابراہیم بن ادہم عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْاَکْرَم کا زادِ راہ گُم ہوگیا توآپ نے پندرہ دن مٹی پھانک کر گزارہ کیا۔
(34-11133)…حضرت سیِّدُنا ابو معاویہ اَسْوَد رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کا بیان ہے کہ میں نے دیکھا کہ حضرت سیِّدُنا ابراہیم بن ادہم عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْاَکْرَم 20 دن تک مٹی کھاتے رہے پھر فرمایا: ابو معاویہ! اگریہ خوف نہ ہوتا کہ لوگ میری ٹوہ میں پڑیں گے تو میں اللہ عَزَّ وَجَلَّ سے ملاقات تک یا پھر اس وقت تک مٹی کھا کر گزارہ کرتا جب تکمیرے لئے حلال اس طرح واضح نہہو جاتا کہ وہ کہاں ہے ؟
(11135)…حضرت سیِّدُنا ابو اسحاق فزاری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْبَارِی بیان کرتے ہیں کہ حضرت سیِّدُنا ابراہیم بن ادہم عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْاَکْرَم نے مجھے بتایا کہ جب وہ قحط سالی میں مبتلا ہوئے تو چند دن تک ریت کو پانی میں بھگو کر کھاتے رہے ۔
عظیمُ الشان خیر خواہی:
(11136)…حضرت سیِّدُنا سہل بن ابراہیم عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْکَرِیْم فرماتے ہیں کہ میں ایک سفر میں حضرت سیِّدُنا ابراہیم بن ادہم عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْاَکْرَم کے ساتھ تھا، آپ نے اپنا تمام زادِ راہ مجھ پر خرچ کر دیا، پھر میں بیمار ہو گیا تو مجھے کسی چیز کی خواہش ہوئی تو آپ نے اپنا گدھا لے جا کر فروخت کر دیا اور میری پسند کی چیز خرید لائے ، میں نے عرض کی: ابراہیم!گدھا کہاں ہے ؟ آپ نے فرمایا: بھائی! میں نے اسے فروخت کر دیاہے ۔ میں نے عرض کی: میرے بھائی!ہم کس پرسوار ہوں گے ؟ آپ نے فرمایا: میرے بھائی! میری گردن پر۔ پھر حضرت سیِّدُنا ابراہیم بن ادہم عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْاَکْرَم انہیں اپنی گردن پر اُٹھا کر تین منزل تک لے کر گئے ۔
حضرت سیِّدُنا امام اوزاعی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے فرمایا: ان علمائے کرام میں حضرت سیِّدُنا ابراہیم بن ادہم عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْاَکْرَم سے افضل کوئی نہیں کیونکہ وہ لوگوں میں سب سے زیادہ سخی ہیں۔
لوگوں کی مدد کا جذبہ:
(11137)…حضرت سیِّدُنا احمد بن فضل عکِّی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَ لِی کے والد کا بیان ہے کہ حضرت سیِّدُنا ابراہیم بن ادہم عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْاَکْرَم نے قیساریہ میں باغبانی کی پیشگی اُجرت میں دینار حاصل کیا پھر آپ کو ایک عورت کی چیخ سنائی دی تو دریافت فرمایا: اس عورت کو کیا ہوا ہے ؟ لوگوں نے بتایا کہ زَچگی کے درد میں مبتلا ہے ۔ آپ نے پوچھا: اس حالت میں اسے کن چیزوں کی حاجت ہے ؟ وہ بولے : اس کے لئے آٹا، زیتون، گوشت اور شہد خریدا جاتا ہے ۔ چنانچہ آپ نے اپنا دینار اس طرح خرچ کیا کہ ایک ٹوکری خرید کر اسے آٹے سے بھرا پھر زیتون، گھی، شہد اور گوشت خریدا اور یہ تمام سامان اپنی گردن پر اُٹھا کر اس کے دروازے تک لائے اور اُس کے گھر والوں سے کہا: یہ لے لو۔ جب آپ نے اُن گھر والوں کو دیکھا تو اہْلِ قیساریہ میں سب سے زیادہ محتاج اور سب سے زیادہ عبادت گزار پایا۔
ادھار لے کر مدد فرمائی:
(11138)…حضرت سیِّدُنا شقیق بن ابراہیم عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْکَرِیْم فرماتے ہیں کہ ہم ایک دن حضرت سیِّدُنا ابراہیم بن ادہم عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْاَکْرَم کے پاس تھے کہ ایک مزدور وہاں سے گزرا تو آپ نے فرمایا: کیا یہ فلاں نہیں ہے ؟ کسی نے کہا: جی ہاں۔ آپ نے ایک شخص سے کہا کہ اس کے پاس جا کر کہو : ابراہیم بن ادہم( عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْاَکْرَم ) نے پوچھا ہے کہ تم نے سلام کیوں نہیں کیا؟ اس شخص نے کہا: خدا کی قسم! ایسی کوئی بات نہیں ہے ، بات یہ ہے کہ میری بیوی نے بچہ جنا ہے اورمیرے پاس کوئی چیز نہیں ہے پس میں پاگل کی سی کیفیت میں گھر سے نکلا ہوں۔ اس شخص نے حضرت سیِّدُنا ابراہیم بن ادہم عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْاَکْرَم کو جا کر ساری بات بتائی تو آپ نے فرمایا: اِنَّا لِلّٰہِ وَ اِنَّا اِلَیْہِ رٰجِعُوْن ہم اپنے ساتھی کے معاملے سے کیسے بے خبر رہ گئے اور اسے یہ پریشانی لاحق ہو گئی؟ پھر فرمایا: اے فلاں! جاکرباغ کے مالک سے دو دینار اُدھار لے لو اور بازار جا کر ایک دینار سے وہ چیزیں خریدو جن سے اس کے حالات بہتر ہو جائیں اور دوسرا دینار اسے دے دینا۔ راوی کہتے ہیں: میں بازار گیا، ایک دینار سے تمام اشیائے ضرورت خریدیں پھر انہیں لاد کر اس شخص کے گھر چلا گیا، جب اس کے دروازے پر دستک دی تو اس کی بیوینے پوچھا: کون ہے ؟ تو میں نے کہا: میں فلاں سے ملنا چاہتا ہوں۔ اس نے کہا: وہ موجودنہیں ہے ۔ میں نے کہا: دروازہ کھولنے کی اجازت دو اورخودایک طرف ہو جاؤ۔ پھر میں نے دروازہ کھولا اور اونٹپر لدا تمام سامان گھر میں لے جا کر صحن میں رکھ دیا اور دینار اس عورت کو دے دیا۔ اس نے کہا: یہ سب کس نے دیا ہے ؟ میں نے کہا: اپنے شوہر سے کہہ دینا کہ تمہارے بھائی حضرت سیِّدُناابراہیم بن ادہم عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْاَکْرَم نے دیاہے اس عورت نے کہا: اے اللہ !حضرت ابراہیم بن ادہم کو آج کے دن کی خاص جزا عطا فرما۔
اپنی حقیقت چھپانے کا اہتمام:
(11139)…حضرت سیِّدُنا علی بن بکار عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْغَفَّار فرماتے ہیں کہ ہم مِصِّیْصَہ شہر کی جامع مسجد کے پاس بیٹھے ہوئے تھے ہمارے درمیان حضرت سیِّدُنا ابراہیم بن ادہم عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْاَکْرَم بھی موجود تھے اتنے میں خراسان سے ایک شخص آیا اور اس نے پوچھا: تم میں سے ابراہیم بن ادہم کون ہیں؟ لوگوں نے کہا: یہ ہیں( یا شاید آپ نے خود فرمایا: میں ہوں۔ )اس نے کہا: آپ کے بھائیوں نے مجھے آپ کے پاس بھیجا ہے ۔ آپ نے جیسے ہی اپنے بھائیوں کا سنا تو کھڑے ہو گئے اور اس کا ہاتھ پکڑ کر اسے ایک طرف کو لے گئے اور پوچھا: کیوں آئے ہو؟ اس نے کہا: انہوں نے مجھ غلام سمیت گھوڑا، خچر اور 10 ہزار درہم آپ کے لئے بھیجے ہیں۔ آپ نے فرمایا: اگر تم سچے ہو تو آزاد ہو اور جو کچھ تمہارے پاس ہے وہ سب تمہارا ہے ، جاؤ اور کسی کومت بتانا۔ چنانچہ وہ شخص چلا گیا۔
حضرت سیِّدُناعلی بن بکار عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْغَفَّار فرماتے ہیں کہ حضرت سیِّدُنا ابراہیم بن ادہم عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْاَکْرَم جب غلّہ پیستے تو ایک پاؤں پھیلا کر اور دوسرا سمیٹ کر بیٹھتے اورپھیلائے ہوئے پاؤں کو نہ سمیٹتے اور نہ ہی سمیٹے ہوئے کو پھیلاتے تھے حتّٰی کہ دو مُد غلّہ پیس لیتے ۔ دو مُد سے فارغ ہو کر سمیٹے ہوئے پاؤں کو پھیلاتے اور پھیلائے ہوئے کوسمیٹ لیتے اور پھردو مُد غلّہ مزید پیستے ۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع