دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Allah walo ki batain jild 7 | اللہ والوں کی باتیں جلد7

Syeduna sufiyan suri ke tafseeri aqwal ka tazkira

book_icon
اللہ والوں کی باتیں جلد7
            

سیِّدُناسفیان ثوری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی کے تفسیری اقوال

(9711)…حضرت سیِّدُناعثمان بن زائدہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں کہ حضرت سیِّدُنا سفیان ثوری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی نے قرآنِ مجید میں بیان کردہ(حضرت سیِّدُنا ابراہیم عَلَیْہِ السَّلَام کے )قول: لِیَطْمَىٕنَّ قَلْبِیْؕ- ( پ ۳، البقرة : ۲۶۰) ترجمۂ کنز الایمان : کہ میرے دل کو قرار آجائے ۔ کی تفسیر میں فرمایا: یعنی تیرا خلیل ہونے پر میرا دل مطمئن ہو جائے ۔ (9712)…حضرت سیِّدُنا زافر عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْغَافِر کہتے ہیں کہ حضرت سیِّدُنا سفیان ثوری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی نے اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے اِس فرمان: لَیْسَ لَهٗ سُلْطٰنٌ عَلَى الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا ( پ ۱۴، النحل : ۹۹) ترجمۂ کنزالایمان : اس کاکوئی قابوان پرنہیں جوایمان لائے ۔ کی تفسیر میں ارشاد فرمایا: اِس طرح کہ شیطان انہیں کسی نہ بخشے جانے والے گناہ پر ابھار نہیں سکتا ۔

اللہ عَزَّ وَجَلَّ جسم و جسمانیت سے پاک ہے :

(9713)…حضرت سیِّدُنامحمد بن حسن رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ سے مروی ہے کہ حضرت سیِّدُناسفیان ثوری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی نے اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے فرمان: كُلُّ شَیْءٍ هَالِكٌ اِلَّا وَجْهَهٗؕ ( پ ۲۰، القصص : ۸۸) ترجمۂ کنز الایمان : ہر چیز فانی ہے سوا اُس کی ذات کے ۔ کی تفسیر کرتے ہوئے فرمایا: یہاں ” وَجْهَهٗؕ “ سے چہرہ مراد نہیں ہے ۔ (9714)… مُؤَمَّل بن اِسماعیل کا بیان ہے کہ حضرت سیِّدُنا سفیان ثوری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی نے اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے فرمانِ عالیشان: لِیَبْلُوَكُمْ اَیُّكُمْ اَحْسَنُ عَمَلًاؕ- ( پ ۲۹، الملك : ۲) ترجمۂ کنز الایمان : کہ تمہاری جانچ ہو تم میں کس کا کام زیادہ اچھا ہے ۔ کی تفسیر میں فرمایا: مراددنیا سے بے رغبتی اختیار کرناہے ۔

تقدیر غالب آگئی:

(9715)…حضرت سیِّدُنافُضَیْل بن عِیاض رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں کہ حضرت سیِّدُنا سفیان ثوری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی نے اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے فرمان: رَبَّنَا غَلَبَتْ عَلَیْنَا شِقْوَتُنَا ( پ ۱۸، المؤمنون : ۱۰۶) ترجمۂ کنزالایمان : اے ہمارے ربّ ہم پرہماری بدبختی غالب آئی۔ کے تحت فرمایا: یعنی تقدیر غالب آگئی ۔ (9716)…حضرت سیِّدُنا ضمرہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کہتے ہیں کہ حضرت سیِّدُنا سفیان ثوری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے فرمان: فَمَا لَهٗ مِنْ قُوَّةٍ وَّ لَا نَاصِرٍؕ(۱۰) ( پ ۳۰، الطارق : ۱۰) ترجمۂ کنزالایمان : توآدمی کے پاس نہ کچھ زورہوگانہ کوئی مددگار۔ کی تفسیر میں فرماتے ہیں: یعنی خاندانی قوت ہوگی نہ کوئی اتحادی مددگار ۔

صحابَۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان پر سلامتی کا نزول:

(9717)…حضرت سیِّدُناابو عاصم رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کا بیان ہے کہ حضرت سیِّدُنا سفیان ثوری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی نے اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے فرمانِ ذیشان : وَ سَلٰمٌ عَلٰى عِبَادِهِ الَّذِیْنَ اصْطَفٰىؕ ( پ ۱۹، النمل : ۵۹) ترجمۂ کنز الایمان : اور سلام اس کے چنے ہوئے بندوں پر۔ کے تحت فرمایا: یہاں مراد حضور نبی کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے صحابَۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان ہیں۔ (9718)…حضرت سیِّدُناضمرہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کہتے ہیں کہ حضرت سیِّدُنا سفیان ثوری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے فرمانِ عالیشان: وَ كَانُوْا لَنَا خٰشِعِیْنَ(۹۰) ( پ ۱۷، الانبیآء : ۹۰) ترجمۂ کنز الایمان : اور ہمارے حضور گڑگڑاتے ہیں۔ کے تحت فرماتے ہیں: گڑگڑانے سے مراد دل میں ہمیشہ رہنے والا خوف ہے ۔

ربّ تعالٰی کی عطائیں:

(9719)…حضرت سیِّدُنا محمدبن حمید عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْمَجِیْد کابیان ہے کہ حضرت سیِّدُنا سفیان ثوری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی اِ س فرمانِ باری تعالیٰ: اِنَّ الْمُتَّقِیْنَ فِیْ جَنّٰتٍ وَّ عُیُوْنٍۙ(۱۵) اٰخِذِیْنَ مَاۤ اٰتٰىهُمْ رَبُّهُمْؕ-اِنَّهُمْ كَانُوْا قَبْلَ ذٰلِكَ مُحْسِنِیْنَؕ(۱۶) ( پ ۲۶، الذٰریٰت : ۱۵، ۱۶) ترجمۂ کنز الایمان : بے شک پرہیزگار باغوں اور چشموں میں ہیں اپنے رب کی عطائیں لیتے ہوئے بے شک وہ اس سے پہلے نیکو کار تھے ۔ کی تفسیر میں فرماتے ہیں: عطائیں لینے سے فرائض کاثواب لینامرادہے اورنیکوکارسے مرادہے نفلی عبادت کرنے والے ۔

جنتیوں کی شان وشوکت:

(9720)…حضرت سیِّدُنا عُبَیْدبن سعیداَشجَعِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَ لِی سے مروی ہے کہ حضرت سیِّدُنا سفیان ثوری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی اِس آیتِ طیبہ: وَ اِذَا رَاَیْتَ ثَمَّ رَاَیْتَ نَعِیْمًا وَّ مُلْكًا كَبِیْرًا(۲۰) ( پ ۲۹، الدهر : ۲۰) ترجمۂ کنزالایمان : اورجب توادھرنظراٹھائے ایک چین دیکھے اور بڑی سلطنت ۔ کے تحت فرماتے ہیں: ایسی شان وشوکت والی سلطنت کہ فرشتے بھی اجازت لے کر آئیں گے ۔ (9721)…حضرت سیِّدُنااشجعی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَ لِی کہتے ہیں کہ حضرت سیِّدُنا سفیان ثوری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی قرآنِ کریم کی اِس آیتِ مبارکہ: دَعْوٰىهُمْ فِیْهَا سُبْحٰنَكَ اللّٰهُمَّ ( پ ۱۱، یونس : ۱۰) ترجمۂ کنز الایمان : ان کی دعا اس میں یہ ہوگی کہ اللہ تجھے پاکی ہے ۔ کی تفسیر میں فرماتے ہیں : جب کوئی جنتی شخص کچھ مانگنا چاہے گا تو ” سُبْحٰنَكَ اللّٰهُمَّ “ کہے گا اور مطلوبہ شے اس کے پاس پہنچ جائے گی۔

دائمی خوف والے دل:

(9722)…حضرت سیِّدُنابشربن منصور عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْغَفُوْر کا بیان ہے کہ حضرت سیِّدُنا سفیان ثوری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی نے اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے فرمانِ ذیشان: یَدْعُوْنَنَا رَغَبًا وَّ رَهَبًاؕ-وَ كَانُوْا لَنَا خٰشِعِیْنَ(۹۰) ( پ ۱۷، الانبیآء : ۹۰) ترجمۂ کنز الایمان : ہمیں پکارتے تھے امید اور خوف سے اور ہمارے حضور گڑگڑاتے ہیں۔ کی تفسیرمیں فرمایا: مطلب یہ کہ ہمارے انعام کی امید اور ہمارے عذاب کے خوف سے ہمیں پکارتے تھے اور اُن کے دل میں ہمیشہ رہنے والا خوف ہے ۔ (9723)…حضرت سیِّدُنامِہْران عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰن کہتے ہیں کہ حضرت سیِّدُنا سفیان ثوری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی نے اِس فرمانِ باری تعالیٰ: لَا تَمُدَّنَّ عَیْنَیْكَ اِلٰى مَا مَتَّعْنَا بِهٖۤ اَزْوَاجًا مِّنْهُمْ زَهْرَةَ الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا ﳔ ( پ ۱۶، طٰہٰ : ۱۳۱) ترجمۂ کنزالایمان : اے سننے والے اپنی آنکھیں نہ پھیلااسکی طرف جو ہم نے کافروں کے جوڑوں کو برتنے کے لئے دی ہے جیتی دنیا کی تازگی۔ کے تحت فرمایا: اِس میں رسولُاللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو تسلِّی دی گئی ہے ۔

بڑی گھبراہٹ:

(9724)…حضرت سیِّدُناابو داؤد حَضْرمی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَ لِی بیان کرتے ہیں کہ حضرت سیِّدُنا سفیان ثوری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی نے قرآنِ کریم کی آیتِ مبارکہ: لَا یَحْزُنُهُمُ الْفَزَعُ الْاَكْبَرُ ( پ ۱۷، الانبیآء : ۱۰۳) ترجمۂ کنزالایمان : انھیں غم میں نہ ڈالے گی وہ سب سے بڑی گھبراہٹ۔ کی تفسیر میں فرمایا: جب آگ جہنمیوں کو ڈھانپ لے گی۔

چوری چھپے کی نگاہ:

(9725)…حضرت سیِّدُنامحمد بن یزید بن خُنَیْس رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کہتے ہیں کہ حضرت سیِّدُنا سفیان ثوری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی نے اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے فرمان: یَعْلَمُ خَآىٕنَةَ الْاَعْیُنِ وَ مَا تُخْفِی الصُّدُوْرُ(۱۹) ( پ ۲۴، المؤمن : ۱۹) ترجمۂ کنز الایمان : اللہ جانتا ہے چوری چھپے کی نگاہ اور جو کچھ سینوں میں چھپا ہے ۔ کے تحت فرمایا: کوئی شخص لوگوں کے درمیان بیٹھا ہو اور وہاں سے کوئی عورت گزر ے تو وہ اُسے چوری چھپے دیکھتا ہے یوں کہ اگر لوگ اُسے عورت کو دیکھتا دیکھیں تو وہ نہیں دیکھتا اور اگر لوگ اُسے نہ دیکھیں تو وہ دیکھتا ہے ، یہ ہے چوری چھپے کی نگاہ۔ اور ” سینوں میں چھپے “ سے مراد وہ شہوت ہے جو وہ اپنے دل میں پائے ۔ (9726)…حضرت سیِّدُنا سفیان ثوری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی نے اِس آیتِ طیبہ: سُنَّةَ مَنْ قَدْ اَرْسَلْنَا قَبْلَكَ مِنْ رُّسُلِنَا ( پ ۱۵، بنی اسرآئیل : ۷۷) ترجمۂ کنز الایمان : دستور ان کا جو ہم نے تم سے پہلے رسول بھیجے ۔ کی تفسیر میں فرمایاکہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ ارشاد فرما رہا ہے : آپ سے پہلے ہمارے بھیجے ہوئے رسولوں کو جس قوم نے بھی نکالا ہم نے اپنے دستور کے مطابق انہیں ہلاک کر دیا۔ (9727)…حضرت سیِّدُنا سفیان ثوری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی اِ س فرمانِ والا تبار: یَغْفِرُ لِمَنْ یَّشَآءُ وَ یُعَذِّبُ مَنْ یَّشَآءُؕ- ( پ ۴، اٰل عمرٰن : ۱۲۹) ترجمۂ کنزالایمان : جسے چاہے بخشے اورجسے چاہے عذاب کرے ۔ کی تفسیر میں فرماتے ہیں : یعنی اللہ عَزَّ وَجَلَّ جس کے لئے چاہے بڑا گناہ معاف فرما دے اور جس کے لئے چاہے چھوٹے گناہ پر عذاب دے ۔

بُرد باری سے کینے کا علاج:

(9728)…حضرت سیِّدُنا سفیان ثوری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی نے فرمایا: زیادہ کھانے سے بچو کہ یہ دل کو سخت کرتا ہے ، کینہ کوبُردباری سے دبا دو اور زیادہ نہ ہنسو کہ یہ دلوں کوناگوار گزرتا ہے ۔ (9729)…حضرت سیِّدُنا سفیان ثوری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی فرماتے ہیں: ہم نے ایسے بدمعاش وشریر لوگ بھی دیکھے ہیں جو اپنی مروت کی حفاظت اس دور کے اہْلِ علم سے زیادہ کرتے ہیں۔ (9730)…حضرت سیِّدُنا سفیان ثوری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی نے فرمایا: دنیا میں پہنچنے والی مصیبتوں میں لوگوں کا کیا نقصان ہے ، اللہ عَزَّ وَجَلَّ انہیں جنت دے کر ہر مصیبت کی تلافی فرمادے گا۔

حُسنِ ادب کا کمال:

(9731)…حضرت سیِّدُنا سفیان ثوری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی نے فرمایا: منقول ہے کہ حسنِ ادب اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے غضب کو بجھادیتا ہے ۔ (9732)…حضرت سیِّدُناسفیان ثوری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی نے فرمایا: جو دنیا سے محبت کرتا اور اس پر خوش ہوتا ہے اس کے دل سے آخرت کا خوف نکال دیا جاتا ہے ۔

بہترین اور بدترین لوگ:

(9733)… حضرت سیِّدُناسفیان ثوری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی فرماتے ہیں: پہلے دین میں حکمرانوں کے نزدیک بہترین، مُعَزز اورمنظورِنظر افراد وہ ہوتے تھے جو ان کے پاس جا کر انہیں نیکی کا حکم کرتے اور بُرائی سے منع کرتے تھے اور جو گھروں میں رہتے وہ ان کے نزدیک ایسے نہ تھے لہٰذاانہیں کوئی مرتبہ دیا جاتا نہ اُن کا تذکرہ ہوا کرتا۔ پھر ہمارا دور آیا کہ اب حکمرانوں کے پاس جاکر انہیں نیکی کا حکم کرنے اور بُرائی سے منع کرنے والے بدترین لوگ ہو گئے اورجو اپنے گھروں میں پڑے رہیں اور یہ فریضہ ادا کرنے ان کے پاس نہ جائیں وہ بہترین لوگ ہوگئے ۔ (9734)…حضرت سیِّدُنامحمد بن یوسف فِریابِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَ لِی بیان کرتے ہیں کہ میں حضرت سیِّدُنا سفیان ثوری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی کے ساتھ تھا، ہم سِری کھانے کے لئے بیٹھے تو ایک شخص نے کھانے پر پانی طلب کیا، حضرت سیِّدُنا سفیان ثوری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی نے فرمایا: سری پر پانی پیناناپسندیدہ سمجھا جاتاتھا۔ ابھی تھوڑی دیر گزری تھی کہ آپ نے بھی پانی طلب کیا تو اُس شخص نے کہا: ابو عبداللہ ! کیا آپ نے ابھی یہ نہیں فرمایا کہ ” سری پر پانی پیناناپسندیدہ سمجھا جاتاتھا۔ “ اِ س پر ارشاد فرمایا: جو جس شے سے بچتا ہے اسی میں جا پڑتاہے ۔

عازِمِ حج کو خاص نصیحت :

(9735)…حضرت سیِّدُنا عبداللہ بن محمد باہلی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَ لِی فرماتے ہیں کہ ایک شخص نے حضرت سیِّدُنا سفیان ثوری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی کے پاس آکر کہا: میرا حج کا ارادہ ہے ۔ آپ نے فرمایا: اِ س سفر میں اپنے کسی عزیز دوست کی صحبت اختیار نہ کرنا کیونکہ اگر تم نفقہ (خرچ) میں اُس کے برابر ہوگے تو وہ تمہیں نقصان پہنچائے گا اور اگر اُس کا نفقہ تم سے زیادہ ہوگا تووہ تمہیں ذلیل کرے گا۔ (9736)…حضرت سیِّدُنایحییٰ بن یمان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْمَنَّان کا بیان ہے کہ ایک شخص نے حضرت سیِّدُنا سفیان ثوری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی سے کھانے کے بارے میں پوچھا توانہوں نے فرمایا: سفید یاپیلا حلوہ کھایا کرو چاہے تم حالَتِ احرام میں ہو یا نہ ہو۔

خود کو خوش رکھو:

(9737)…حضرت سیِّدُنایحییٰ بن یمان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْمَنَّان بیان کرتے ہیں کہ حضرت سیِّدُناسفیان ثوری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی نے فرمایا: اسلاف کرام تو گھی کی طرح نرم اور شہدکی طرح میٹھے تھے ۔ ایک مرتبہ میں اور آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کسی شخص کی عیادت کے لئے گئے ، آپ نے اس کے گھر والوں سے فرمایا: اس کے ساتھ نرمی کرو اور اچھی طرح دیکھ بھال کرو۔ پھر فرمانے لگے : ہمارے اسلاف خود کو خوش رکھنا پسند کرتے تھے ۔ میں نے انہیں یہ بھی فرماتے سنا: مجھے ایسا شخص اچھالگتا ہے کہ اگر اللہ عَزَّ وَجَلَّ اُسے کشادگی ووسعت عطا فرمائے تو وہ اپنے اوپرکشادگی کرے ۔ ایک بار آپ کو یہ فرماتے سناکہ’’اگرتمہیں کسی قاری(علم والے ) سے کوئی کام ہو تو اسے کھانا کھلادو۔ ‘‘

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن