30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
وَ الْقَمَرَ قَدَّرْنٰهُ مَنَازِلَ حَتّٰى عَادَ كَالْعُرْجُوْنِ الْقَدِیْمِ(۳۹)(پ 23،یس:39)
ترجمہ کنزُ العِرفان : اور چاند کے لیے ہم نے منزلیں مقرر کیں یہاں تک کہ وہ کھجور کی پرانی شاخ جیسا ہوجاتا ہے۔۔
یعنی آپ نے دیکھا ہوگا چاند جو ہے پہلے دن بالکل ہلال کی مانند ہو جاتا ہے،اس کی منزلیں ہوتی ہیں۔ پھر فرمایا:
لَا الشَّمْسُ یَنْۢبَغِیْ لَهَاۤ اَنْ تُدْرِكَ الْقَمَرَ وَ لَا الَّیْلُ سَابِقُ النَّهَارِؕ-وَ كُلٌّ فِیْ فَلَكٍ یَّسْبَحُوْنَ(۴۰)(پ 23،یس :40) ترجمہ کنزُ العِرفان : سورج کو لائق نہیں کہ چاند کو پکڑے اور نہ رات دن پر سبقت لے جانے والی ہے اور ہر ایک ایک دائرے میں تیر رہا ہے۔
پیارےاسلامی بھائیو! یہ قرآن ہمیں بتا رہا ہے کہ یہ ساراسسٹم، یہ ساری Calculation رب کی بنائی ہوئی ہے پھر ہم اپنے رب سے محبت کیوں نہ کریں؟ پھر اس قدرت والے سے پیار کیوں نہ کریں؟ پھر کیوں دنیا والوں کے پیچھے جائیں؟ اپنے رب سے کیوں نہ مانگیں؟ جو مصیبتوں کو دور کرنے والا،جو ہمیں رزق عطا کرنے والا ہے اور یہی بات قرآن فرماتا ہے۔ غور سے سنیں،اتنی ساری باتیں بیان کرنے کے بعد رب خود فرماتا ہے:
یٰۤاَیُّهَا الْاِنْسَانُ مَا غَرَّكَ بِرَبِّكَ الْكَرِیْمِۙ(۶)(پ 30،انفطار:6)
ترجمہ کنزُ العِرفان : اے انسان!تجھے کس چیز نے اپنے کرم والے رب کے بارے میں دھوکے میں ڈال دیا۔
کیوں اپنے کریم رب سے دور بھاگتا ہے ؟کیوں اپنے رب کی بارگاہ میں سر کو نہیں جھکاتا؟
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع