30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
یہ جو مہر و مَہ پہ ہے اطلاق آتا نور کا بھیک تیرے نام کی ہے استعارہ نور کا
میرے آقا صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم تو نورانی آقا ہیں ،فرماتی ہیں کہ جب نبی پاک صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم میرے حجرے میں داخل ہوئے، میرے کمرے میں داخل ہوئے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کے چہرۂ ا نور سے اس قدر نور کی کرنیں تشریف لا رہی تھی کہ میرا پورا کمرہ نور سے بھر گیا ۔اتنی روشنی ہوئی کہ میں نے اس نور کی برکت سے اپنی گمشدہ سوئی تلاش کر لی ،سوئی تلاش کرنے کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم سے بی بی عائشہ رضی اللہ عنہا عرض کرتی ہیں :یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم ! آپ کا چہرہ کتنا پُر نور ہے ، آپ کتنے حسین ہیں،آپ کے چہرے سے کتنا نور نکل رہا ہے ۔
سُوزَنِ گُمشُدہ ملتی ہے تبسُّم سے ترے شام کو صُبح بناتا ہے اُجالا تیرا
سرکار دوعالم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے فرمایا: وَیْلٌ لِّمَنْ لَّا یَرَانِیْ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ ہلاکت ہے اس کے لیے جو قیامت کے دن میرے اس چہرے کی زیارت نہ کر سکے گا ۔ اب ذرا غور کیجئے ۔ ایسا نورانی چہرہ بھی اگر کوئی قیامت کے دن نہ دیکھ سکے اور یہ بات یاد رکھئے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کی زیارت نہ کرنا یہ کوئی چھوٹا نقصان نہیں ہے ۔نبی پاک صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کا چہرہ انور نہ دیکھ سکنے کا مطلب گویا قیامت کے دن ملاقات ہی نہیں ہو سکے گی ، وہ دور رہے گا اور اگر آقا صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم سے دور رہے گا تو بخشش کیسے ہوگی ؟شفاعت کیسے ہوگی ؟جنت میں داخلہ کیسے ملے گا ؟یہ تو بڑی محرومی ہو گئی ۔
بی بی عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا عرض کرتی ہیں :یارسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم !وہ کون ہے جو قیامت کے دن بھی آپ کی زیارت سے محروم رہے گا ؟میرے آقا صلی اللہ علیہ
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع