30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
یہ جل بھن کر مر جائے ،ایسا ہی کیا گیا ،تانبے کی دیگ بنائی گئی ،نیچے آگ لگا دی گئی ،اب آہستہ آہستہ دیگ گرم ہوئی ،بادشاہ کی حالت خراب ہونا شروع ہوگئی ظاہر ہے کہ پوری دیگ گرم ہوئی تو جسم تپنے لگا ،اس نے پہلے تو جھوٹے خداؤں کو پکارا ،ساری زندگی جن کے آگے پیشانی رگڑی تھی انہوں نے کیا جواب دینا تھا ؟کسی نے کوئی جواب نہیں دیا، کوئی مدد نہیں آئی ۔
اللہ اکبر! جب سب امیدیں ٹوٹ گئیں ،بادشاہ کو پتا چل گیا کہ اب میرا آخری وقت آگیا،بس اب میں ختم ہو گیا ،اب میں مارا جاؤں گا، تو اب یہ بادشاہ چونکہ مسلمان نہیں تھا مگراس نے مسلمانوں کے رب یعنی اللہ پاک کو پکارنا شروع کردیا۔ وہ کہتا ہے :یا اللہ ! یارحمن!یا رحیم!مدد فرما دے اور بلند آوازسے لَااِلٰہَ اِلاَّاللہ،لَااِلٰہَ اِلاَّاللہ پڑھنا شروع کردیا۔ اب بادشاہ نے اس مشکل گھڑی میں اللہ کریم سے توبہ بھی کی کہ یا اللہ !مجھے معاف کردے اور بس مجھے بچا لے،اب میں تیری عبادت کروں گا ،اب تک جو کیا مجھے معاف کردے ۔ بادشاہ دیگ میں بیٹھا ہواہے،نیچے آگ لگی ہوئی ہے ۔
دیکھیں! رب کریم نے اس کی پکار کیسے سنی کہ بارش برسنا شروع ہوگئی ،جیسے بارش برسی آگ بجھ گئی اب گرمی تو تقریباً ختم ہوگئی لیکن پھر اتنی تیز ہوا چلی کہ وہ دیگ اڑنے لگی۔وہ بادشاہ لَااِلٰہَ اِلاَّاللہ، لَااِلٰہَ اِلاَّاللہ کی آوازیں بلند کرتا رہا،اب دیگ اڑتے اڑتے غیر مسلم قوم کا جو قبیلہ تھا وہاں جا کر گر گئی ۔ وہاں کے لوگ حیران کہ یہ کیسی دیگ ہے کہ اُڑتے ہوئے آرہی اور اس میں ایک بندہ بیٹھا ہوا ہے اوروہ لَااِلٰہَ اِلاَّاللہ پڑھ رہا ہے تو جب وہ غیر مسلم قریب آئے تو اس میں سے بادشاہ نے باہر نکل کر اپنا واقعہ سنایا :
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع