30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
کو پیٹ بھر کر لوٹتے ہیں۔(1)
آپ کو معلوم ہے دنیا میں کتنے پرندے ہیں؟ اگر آپ معلومات کریں، ریسرچ کریں تو دنیا میں ہم جتنے انسان ہیں اس سے 100 گناپرندے ہیں یعنی اگر ساڑھے سات ارب، 750 کروڑ انسان ہیں تو اگر اس کو 100 گنا کریں تو نہ جانے کتنے لاکھ ارب پرندے دنیا میں ہیں مگر آپ نے دیکھا ہے کہ صبح سارے پرندے نکلتے ہیں، کسی کے پیٹ میں کچھ نہیں ہوتامگر شام کو جب سب گھونسلے میں آتے ہیں سب کو روزی مل چکی ہوتی ہے۔ ہر روز صبح سے شام تک سب کو ملتا ہے۔
اشرف المخلوقات کو روزی کی فکر
ہم بقرعید میں جانور پالتے ہیں، بکرا، گائیں، ہم جب جانور کو دوپہر میں چارہ کھلاتے ہیں، کبھی آپ نے دیکھا کہ وہ چارے کی ٹوکری پیر سے پیچھے کر لے کہ رات کو کیا کھاؤں گا؟ جانور کو فکر ہی نہیں ہے کہ رات کو کیا ملے گا۔ اسے معلوم ہے جس رب نے دوپہر کو کھلایا ہے وہی رات کو کھلائے گا۔ صرف انسان ہے جسے فکر رہتی ہے۔ یاد رکھیے کہ ایک طرف تو ہمارے نام کے ساتھ اشرف المخلوقات کا ٹائٹل لگا ہے،ہم انسان بہترین مخلوق ہیں مگر اشرف المخلوقات کا حال کیا ہے،اس کو ٹینشن ہی ٹینشن ہے کہ کل کا کیا ہوگا، مہینے بعد کا کیا ہوگا، سال کے بعد کا کیا ہوگا، بچی چھوٹی ہے، بڑی ہوگی تو کیا ہوگا، بچہ چھوٹا ہے، بڑے ہو کر مستقبل کا کیا ہوگا؟ اتنی ٹینشن پالی ہیں حالانکہ ان سب کی فکر کرنا ہمارا کام ہی نہیں ہے۔
1...ترمذی،4/451، حدیث:1532۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع