30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
کرے گاکہ آپ کی مہربانی آپ نے 5 ہزار دے دیئے،نہیں کہے گا کیونکہ اسی کے پیسے تھے اُسی نے مانگے مگر اللہ پاک کی شان دیکھیں ، رب نے مال دیا ، رب نے احسان کیا اور اب جب ہم اللہ پاک کی راہ میں خرچ کرتے ہیں تو اللہ پاک قرآن میں کیا فرماتا ہے، سبحان اللہ! میرے رب کی شانِ کریمی دیکھیں ، اللہ پاک قرآن میں فرماتاہے:
مَنْ ذَا الَّذِیْ یُقْرِضُ اللّٰهَ قَرْضًا حَسَنًا (پ:2،بقرہ:245)
ترجمہ کنزُ العِرفان : ہے کوئی جو اللہ کواچھا قرض دے ۔
پیارے اسلامی بھائیو!ذرا سوچیں کہ یہ سب مال اللہ پاک کا ہے ،یا اللہ !تیرا مال ہے ہماری کیا اوقات کہ تجھے قرض دیں۔ اللہ فرماتاہے :
مَنْ ذَا الَّذِیْ یُقْرِضُ اللّٰهَ قَرْضًا حَسَنًا فَیُضٰعِفَهٗ لَهٗۤ اَضْعَافًا كَثِیْرَةًؕ-وَ اللّٰهُ یَقْبِضُ وَ یَبْصُۜطُ۪-وَ اِلَیْهِ تُرْجَعُوْنَ(۲۴۵)(پ:2،بقرہ:245)
ترجمہ کنزُ العِرفان : ہے کوئی جو اللہ کواچھا قرض دے تو اللہ اس کے لئے اس قرض کو بہت گنا بڑھا دے اور اللہ تنگی دیتا ہے اور وسعت دیتا ہے اور تم اسی کی طرف لوٹائے جاؤ گے ۔
تفسیر صراط الجنان میں اس آیت کے تحت لکھا ہے:راہِ خدا میں اِخلاص کے ساتھ خرچ کرنے کو قرض سے تعبیر فرمایا ،یہ اللہ پاک کا کمال درجے کا لطف و کرم ہے کیونکہ بندہ بنایا ہوا اسی کا ،مال اُس کا عطا فرمایا ہوا، حقیقی مالک وہ جبکہ بندہ اُس کی عطا سے مجازی مِلک رکھتا ہے مگر قرض سے تعبیر کیوں کیا گیا؟
راہ خدا میں دیا ہوا مال واپس ملےگا
علماء نے بڑی بحث کی، اللہ پاک یہ فرما دیتا ہے کوئی جو اللہ کی راہ میں خرچ کرے ،یہ
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع