30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
ہوتاہے جس کو تکلیف ہوتی ہے وہ اپنے دل کا علاج کرلے کہ یار میرے دل میں اتنی خباثت کیوں ہے کہ میرے رب نے مجھے مال دیا اور اسی کی راہ میں خرچ کرنے میں مجھے مسئلہ کیوں ہوتاہے، راہِ خدا میں خرچ کرتے ہوئے خوش ہوا کریں ۔
صدقہ بھی دیں اورسجدہ بھی کریں
ایک جملہ ذہن میں رکھئے، اللہ کرے یہ بات میرے بھی دل میں بیٹھ جائے اور آپ کے دل میں بھی بیٹھ جائے کہ جب بھی اللہ پاک کی راہ میں خرچ کیا کریں تو سجدہ بھی کیا کریں ، شکر ادا کیا کریں ، یا اللہ !تیری مہربانی تو نے دینے والا بنایا ہے ،مانگنے والا نہیں بنایا۔ جی ہاں!یہ رب کی مہربانی ہے اور جس دن آپ دینے والے ،خوشی والے بن گئے ، اللہ یہ ہاتھ دینے والا ہی رکھے گا،کبھی مانگنے والا نہیں بنائے گاکیونکہ آپ کو دینے میں خوشی ہورہی ہے اور جنہیں راہِ خدا میں دینے میں تکلیف ،پریشانی اور مسئلہ ہوتا ہے ،جنہیں زکوٰۃ بوجھ محسوس ہوتی ہے، وہ اپنا علاج کرے ۔ قارون کا یہی تو مسئلہ تھا اس کا نتیجہ کیا نکلا ،قرآن کہتا ہے۔
فَخَسَفْنَا بِهٖ وَ بِدَارِهِ الْاَرْضَ- فَمَا كَانَ لَهٗ مِنْ فِئَةٍ یَّنْصُرُوْنَهٗ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِۗ-وَ مَا كَانَ مِنَ الْمُنْتَصِرِیْنَ(۸۱)(پ:20، قصص:81)
ترجمہ کنزُ العِرفان : ا تو ہم نے اسے اور اس کے گھر کو زمین میں دھنسا دیا تو اس کے پاس کوئی جماعت نہ تھی جو الله کے مقابلے میں اس کی مدد کرتی اور نہ وہ خود (اپنی) مدد کرسکا۔۔
سب کچھ رب کی عطا سے
جن کے پاس مال ہوتا ہے ان میں ایک بیماری بھی ہوتی ہے،قرآن میں ہے ،قارون کہتا تھا:
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع