30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
جتنے پیسے اس باغ سے، ان پراپرٹی سے آتے ہیں اس سے وہ غریبوں کی مدد کرتے ہیں ۔ ابھی حال ہی میں مدینے شریف میں ایک فائیو اسٹار ہوٹل بنایا گیا ہے جس کا نام وقف عثمان ہوٹل ہے،عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے اکاؤنٹس میں اتنے پیسے جمع ہوگئے کہ ایک ہوٹل بنادیا گیا اور اس ہوٹل میں جتنے حاضرین رہیں گے، زائرین رہیں گے،ان کی آمدنی بھی وقف عثمان پر خرچ ہوتی رہے گی ۔
ذرا سوچئے تو سہی !عثمان غنی رضی اللہ عنہ آج مزار شریف میں ہیں مگر ان کا صدقہ جاری ہے ، مال بہت سوں کے پاس آیا ،آج کل فہرست آتی ہے ورلڈ نمبر 1، ورلڈ نمبر 2، ورلڈ نمبر 3، ارے کیا کرنا ہے اس مال کو جو غرق کردے ،انسان کو مال ملے تو اللہ پاک عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے مال کا صدقہ عطا فرمائے۔
قارون کا مال و دولت
آپ کو معلوم ہے کہ قارون کے پاس کتنا مال تھا ؟ یعنی خزانہ کتنا تھا،خزانہ تو ایک طرف ان خزانوں کی صرف چابیاں اونٹوں پر لادی جاتی تھیں،چابیوں کا یہ حال ہے توسوچئے خزانہ کتنا ہوگا ؟اسی مال کی آفت اس پر کیسی غالب ہوئی کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کی گستاخی کی، اللہ پاک کے احکام کی نافرمانی کی ۔قارون کا مسئلہ معلوم ہے کیا تھا ؟اس کے پاس اتنا مال تھا کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اس کو زکوۃ کا حکم دیا، اس زمانے میں زکوۃ کتنی تھی ؟ ایک ہزار پر ایک روپیہ ،آج کتنی ہے 100 پر ڈھائی روپے ۔ اس زمانے میں ہزار پر ایک روپیہ تھی ،جو بہت تھوڑی زکوۃ تھی مگر قارون نےجب ہزار پر ایک روپیہ کا حساب لگایا تو وہ اس زمانے کے اربوں روپے بن گئے ،وہ کہتا ہے :اتنے سارے زکوۃ کے پیسے میں کیسے دے
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع