30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
ترجمۂ کنزالایمان : مسلمانوں کی بات تو یہی ہے جب اللہ اور رسول کی طرف بلائے جائیں کہ رسول اُن میں فیصلہ فرمائے تو عرض کریں ہم نے سُنا اور حکم مانا او ریہی لوگ مراد کو پہنچے۔
(پ 18،النور: 51)
بارگاہِ رسالت کا ادب و تعظیم
مسلمان دوجہاں کے آقا صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی بارگاہ میں آواز بلند نہ کرنے والا اور نہایت ادب و تعظیم سے کام لینے والا اور اپنے اعمال و ایمان کے اَکارَت جانے سے خوف رکھنے والا ہوتا ہے۔ اللہ کریم کا فرمان ہے:
یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَرْفَعُوْۤا اَصْوَاتَكُمْ فَوْقَ صَوْتِ النَّبِیِّ وَ لَا تَجْهَرُوْا لَهٗ بِالْقَوْلِ كَجَهْرِ بَعْضِكُمْ لِبَعْضٍ اَنْ تَحْبَطَ اَعْمَالُكُمْ وَ اَنْتُمْ لَا تَشْعُرُوْنَ(۲)
ترجمۂ کنزالایمان : اے ایمان والو اپنی آوازیں اونچی نہ کرو اس غیب بتانے والے (نبی) کی آواز سے اور ان کے حضور بات چلّا کر نہ کہو جیسے آپس میں ایک دوسرے کے سامنے چلّاتے ہو کہ کہیں تمہارے عمل اکارت نہ ہوجائیں اور تمہیں خبر نہ ہو۔
(پ26،الحجرات:2)
اسی طرح مسلمان ہمیشہ رسولِ کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم اور اُن سے نسبت رکھنے والی چیزوں کی تعظیم و توقیر کرتاہے، بلکہ جس لفظ سے رسولِ کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی تعظیم کے خلاف ذرا سا شُبہ بھی ہوتا ہو اس سے بھی محتاط رہتاہے۔ قراٰنِ پاک میں ہے:
یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَقُوْلُوْا رَاعِنَا وَ قُوْلُوا انْظُرْنَا وَ اسْمَعُوْاؕ-وَ
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع