30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
رسول صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے بتائے ہوئے طریقے کے مطابق حل کرنا اور اپنا معامَلہ اللہ و رسول کے سِپُرد کر دینا چاہئے، کیونکہ ہر معاملے میں اللہ و رسول کی طرف رجوع لانا ہی بہتر اور اچّھے انجام کا ذریعہ ہے، چنانچہ ربِّ کریم کا فرمان ہے:
فَاِنْ تَنَازَعْتُمْ فِیْ شَیْءٍ فَرُدُّوْهُ اِلَى اللّٰهِ وَ الرَّسُوْلِ اِنْ كُنْتُمْ تُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِؕ-ذٰلِكَ خَیْرٌ وَّ اَحْسَنُ تَاْوِیْلًا۠(۵۹)
ترجمۂ کنز الایمان :پھر اگر تم میں کسی بات کا جھگڑا اٹھے تو اُسے اللہ و رسول کے حضور رجوع کرو اگر اللہ و قیامت پر ایمان رکھتے ہو یہ بہتر ہے اور اس کا انجام سب سے اچھا۔
(پ5،النسآء:59)
کفّار کی اطاعت و ہم نوائی سے بچنا
مسلمان کو ہمیشہ قراٰن و سنّت اور علمَائے حقّہ کی اِطاعت کرتے رہنا چاہئے نیز کسی بھی معاملے میں کفّار کی اطاعت و ہم نوائی سے بچنا چاہئے، اللہ کریم فرماتا ہے:
یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِنْ تُطِیْعُوْا فَرِیْقًا مِّنَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ یَرُدُّوْكُمْ بَعْدَ اِیْمَانِكُمْ كٰفِرِیْنَ(۱۰۰)
ترجمۂ کنز الایمان : اے ایمان والو اگر تم کچھ کتابیوں کے کہے پر چلے تو وہ تمہارے ایمان کے بعد تمہیں کافر کر چھوڑیں گے۔
(پ4،اٰل عمرٰن:100)
ایمان و اسلام کو ترجیح
مسلمان کو احکام ِاسلام پر آدھا ادھورا نہیں بلکہ پورا پورا ایمان ہونا چاہئے اور عمل و
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع