دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Ala Hazrat aur Ameer Ahl e Sunnat | اعلٰی حضرت اور امیرِاہلِ سنّت

Aala Hazrat Kehne Ki Waja

book_icon
اعلٰی حضرت اور امیرِاہلِ سنّت

اعلیٰ حضرت کہنے کی وجہ

سُوال: امام احمد رضا خان رحمۃُ اللہِ علیہ کو ”اعلیٰ حضرت“ کیوں کہا جاتا ہے ؟ 
جواب: اعلیٰ کے معنیٰ  عمدہ اور بہترین کے ہیں چونکہ ہمارے امام احمد رضا خان رحمۃُ اللہِ علیہ بہترین اور عمدہ تھے اسی لیے وہ ”اعلیٰ حضرت“تھے ۔ ہمارے عُلَمائے کِرام آپ کو ”اعلیٰ حضرت“ کہتے ہیں تو ہم بھی آپ کو اعلیٰ حضرت کہتے ہیں۔ نیز آپ رحمۃُ اللہِ علیہ زبردست عِلم والے ہیں اس لیے ”اعلیٰ حضرت“ ہیں۔ ( )

سیرتِ اعلیٰ حضرت کی ماخذ کتاب

سُوال: سیرتِ اعلیٰ حضرت پرکونسی کتاب پڑھی جائے؟ (رُکنِ شوریٰ کا سُوال)
جواب: اعلیٰ حضرت اِمام اَحمد رَضا خان   رحمۃُ اللہِ علیہ کی سیرت پر بہت سی کتابیں ہیں ، لیکن اُن سب کا ماخذ ’’حیاتِ اعلیٰ حضرت‘‘ہے جو خلیفۂ اعلیٰ حضرت مولانا مفتی ظفر الدّین بِہاری رحمۃُ اللہِ علیہ کی تصنیف ہے۔ آپ نے اعلیٰ حضرت رحمۃُ اللہِ علیہ کی بہت صحبت پائی اور  تین جلدوں میں یہ کتاب لکھی۔ اعلیٰ حضرت رحمۃُ اللہِ علیہ کی سیرت پر جو کتابیں لکھی جاتی ہیں اُن کا مواد عُموماً ’’حیاتِ اعلیٰ حضرت‘‘سے ہی لیا جاتا ہے۔ جیسے  سرکارِ غوثِ اَعظم شیخ عبدُ القادِر جیلانی رحمۃُ اللہِ علیہ کی سیرت پر لکھی جانے والی کتابیں عُموماً  ’’بہجۃُ الْاَسْرار‘‘ سے لکھی جاتی ہیں جو بہت بڑے بُزُرگ حضرتِ علّامہ علی بن یوسف شَطَّنَوفی رحمۃُ اللہِ علیہ کی غوثِ پاک رحمۃُ اللہِ علیہ کی سیرت پرعَرَبی زبان میں لکھی ہوئی بہت پُرانی کتاب ہے۔ سیرت نگار کو ہر بات پہنچ جائے یہ ضروری نہیں ہوتا ، بعض باتیں اپنے طور پر بھی معلوم ہوتی ہیں۔ جیسے مکتبۃ المدینہ کا رِسالہ ’’بریلی سے مدینہ‘‘ ہے ، اِس رسالے کے اندر میں نے اعلیٰ حضرت رحمۃُ اللہِ علیہ کی سیرت کی ایسی باتیں بھی لکھی ہیں جو مجھے اپنے تجرِبات اور بُزُرگوں کی ملاقات  سے Direct (بلا واسطہ) معلوم ہوئی ہیں اور وہ باتیں ’’حیاتِ اعلیٰ حضرت‘‘ میں موجود نہیں ہیں۔ اِسی طرح اور بھی کئی کتابیں ہوسکتی ہیں جن میں لکھنے والوں کو Direct معلومات حاصل ہوئی ہوں اور اُنہوں نے کتاب میں شامل کردی ہوں۔

”ماحیِ بدعت“ کا مطلب

سُوال:اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان رحمۃُ اللہِ علیہ ماحیِ بدعت “تھے ، اِس کا کیا مطلب ہے؟ 
جواب: ” ماحیِ بدعت “ آپ کا لقب ہے ، اِس کا مطلب ہے : بدعت کو مٹانے اور سنَّتوں کو زندہ کرنے والے۔ سنَّتوں کی جگہ جو بدعتیں اور گمراہیاں رائج ہو گئی تھیں اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان رحمۃُ اللہِ علیہ نے ان کو مٹایا ہے اسی لیے  آپ کو ماحیِ بدعت کہا جاتا ہے۔
سُوال : کیا آ پ کااعلىٰ حضرت کے مَزار شرىف پر جانا ہوا ہے ؟
جواب: اَلحمدُ لِلّٰہ! دو بار بَرىلى شرىف حاضِرى کی سعادت نصیب ہوئى ہے ۔

عُرس مَنانے کا بہترین طریقہ

سُوال: عُرسِ اعلیٰ حضرت کس طرح مَنایا جائے ؟
جواب:عُرسِ اعلیٰ حضرت مَنانے کا اَنداز اِس طرح ہو کہ اس میں قرآن خوانی،نعت خوانی کی جائے،اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان رحمۃُ اللہِ علیہ کی سیرت کے مختلف پہلو اُجاگر کیے جائیں ، ان کا تقویٰ و پرہیزگاری ، ان کاعِلم ، ان کی دِینی خدمات اور ان کی کَرامات کا  تَذکرہ کیا جائے۔ اِس طرح لوگوں کے دِلوں میں اَولیائے کِرام رحمۃُ اللہِ علیہم کی محبت بڑھے گی۔ عام طور پر اَعراسِ بزرگانِ دِین میں عُلَمائے کِرام بیان فرماتے ہیں اور یہ ہونے  بھی چاہئیں ، اس کے بعد جو نیکیاں ہوتی ہیں ان کا اِیصالِ ثواب ہوتا ہے ، پھر کھانا بھی کھلایا جاتا ہے۔ کھانا کھلانا بڑے ثواب بلکہ مَغْفِرَت واجب کرانے والے کاموں میں سے ایک ہے۔  (مکارم الاخلاق  للطبرانی ،  ص370، حدیث :  158)(نیز) عُرس مَنانے کا ایک طریقہ یہ بھی ہے کہ اِیصالِ ثواب کے لیے عِلمِ دِین کی اِشاعت میں حصّہ لیا جائے۔ اعلیٰ حضرت نے زندگی بھر عِلمِ دِین کی خدمت کی ہے ، ہم نے اعلیٰ حضرت کا دامن یوں ہی نہیں پکڑا  بلکہ آپ کی شخصیت ہی ایسی ہے جس کا دامن پکڑ کر گوہر مُراد حاصِل کیا جا سکتا ہے۔ میرے اعلیٰ حضرت ، اعلیٰ حضرت تھے جن کا ایک سیکنڈ بھی ضائع نہیں ہوتا تھا۔آپ کو عِلمِ دِین سے پیار تھا ، آپ نے اس کی اِشاعت میں اپنی پوری زندگی وَقف کی ہوئی تھی لہٰذا آپ کے اِیصالِ ثواب کے لیے اگر ہم عِلمِ دِین کی کتابیں تقسیم کریں گےتویہ  اِیصالِ ثواب کا بہترین طریقہ ہو گا۔

اعلیٰ حضرت کی مصروفیات کا عالَم

سوال:اعلیٰ حضرت کی مصروفیات کا عالم کیا تھا؟
جواب:آپ دِین کی خدمت میں اِس قدر مَصروف تھے کہ ایک بار کسی نے اپنی انجمن کی سرپرستی کرنے  کا عرض کیا کہ آپ ہمارے لیے کام کریں۔اِرشاد فرمایا:آپ میرے پاس تشریف لے آئیں اور میرے شَب و روز کا مُعائنہ کریں کہ میں کیا کیا کام  کرتا ہوں ، اگر کوئی مِنٹ آپ کو فارغ مل جائے تو  میں وہ مِنٹ آپ کودےدوں گا۔(فتاویٰ رضویہ، 29/110-111 ملخصا)یعنی آپ کے پاس ایک منٹ بھی فارغ نہیں ہوتا تھا۔  
سوال: کیا اعلیٰ حضرت کی سب کتابیں چھپ گئی ہیں؟
جواب:اعلیٰ حضرت رحمۃُ اللہِ علیہ کے صِرف فتاویٰ کا مجموعہ 30 جلدوں میں شائع ہوا ہے حالانکہ شروع کے 10 سال کے فتاویٰ تو جمع ہی نہیں ہوئے۔خدا بہتر جانتا ہے کہ آپ کی کتنی تصنیفات ابھی تک چھپی بھی نہیں ہیں،غیرمطبوعہ ہی رہ گئی ہیں۔آپ رحمۃُ اللہِ علیہ لکھنے میں کامیاب ہو گئے مگر ہم چھاپنے میں کامیاب نہیں ہوئے، حالانکہ آپ رحمۃُ اللہِ علیہ اکیلے لکھنے والے تھے اور ہم لاکھوں چھاپنے والے ہیں،اِس کے باوجود ہم ان سے پیچھے رہ گئے۔ 
سوال: اعلیٰ حضرت کے شاگردوں کی کتنی تعداد ہے؟
جواب:اعلیٰ حضرت رحمۃُ اللہِ علیہ نے بڑے بڑے عُلَما تیار فرمائے ہیں ، آج تک ان کے شاگردوں کے شاگردوں کے شاگرد  ہی چلے آرہے ہیں ، یعنی یوں کہہ سکتے ہیں کے ہزاروں عُلَمائے کِرام آپ کے شاگرد ہیں اور اس وقت دُنیا بھر میں پھیلے ہوئے ہیں۔ 

عشقِ رسول بڑھانے کا وظیفہ

سوال:عشق رسول میں اضافہ کیسے ہو؟
جواب: اعلیٰ حضرت رحمۃُ اللہِ علیہ  نےعشقِ رسول میں اضافے کا ایک نسخہ یہ بھی بیان فرمایا ہے کہ ’’خُوش اِلحان قاری سے قرآنِ کریم کی تِلاوت سُننے سے اللہ پاک کی محبّت بڑھتی ہے اور خُوش اِلحان نعت خواں سے نعت شریف سُننے سے عشقِ رسول میں اِضافہ ہوتا ہے۔ (ملفوظاتِ اعلیٰ حضرت ، ص173) نعتیں بھی وہ سُنیں جو شریعت کے مُطابِق ہوں ، جیسے اَعلیٰ حضرت رحمۃُ اللہِ علیہ ایسے عاشقِ رسول ہیں کہ آپ کے قلم سے نِکلا ہوا ہر مِصر ع ، بلکہ ہرلفظ عشقِ رسول میں ڈوبا ہوا ہوتا ہے ، ایسوں کا کلام سُننے سے دِل میں عشق بڑھے گا ، یہاں تک کہ سمجھ میں نہیں بھی آئے گا تب بھی دِل مطمئن  رہے گا کہ اِن کا کلام شریعت کے مُطابِق ہے ، پلّے پڑے یا نہ پڑے ، جُھومے جائیں۔بَرادرِ اَعلیٰ حضرت ، شہنشاہِ سُخن مولانا حَسَن رَضا خان رحمۃُ اللہِ علیہ ، شہزادۂ اعلیٰ حضرت ، حضور مُفتیٔ اَعظم ہِند مولانا مصطفےٰ رضا خان رحمۃُ اللہِ علیہ اور دیگر عُلَمائے اَہلِ سُنّت کے لکھے ہوئے کلام پڑھنے سُننے سے بھی اِن شاءَ اللہ عشقِ رسول میں اِضافہ ہوگا۔ (ایک مدنی مذاکرے میں فرمایا:)اعلیٰ حضرت رحمۃُ اللہِ علیہ کے قدموں سے لپٹے رہیں اِن شاءَ اللہ   عشق کی ساری منزلیں بآسانی طے ہوجائیں گی۔ 
سوال:حدائق ِبخشش کے بارے میں بھی کچھ بتائیے؟
جواب:اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان رحمۃُ اللہِ علیہ کا نعتیہ دِیوان”حدائقِ بخشش“پڑھا جائے۔ اچھی اُردو جاننے والا اگر حدائقِ بخشش کو سمجھ کر رٹتا رہے تو وہ بہت بڑا عاشقِ رَسُول بن جائے گا ۔ سچى بات ىہ ہے کہ عشقِ رَسُول کے حصول مىں ماحول اور صحبت زیادہ کارگر ہے۔ صحبت کے ذَرىعے جَذبہ بڑھتا ہے۔ اب جىساکہ کوئى حج ىا مدىنۂ پاک کى حاضرى کے لىے گىا اور اس سفر مىں کسی عاشقِ مدینہ کی صحبت نہ ملى تو  اسے ذوق نصیب نہىں ہوگا لہٰذا حرمینِ طیبین کا سفر اہلِ ذوق اور  اہلِ عِلم کے ساتھ کرنا چاہیے۔ نیز اپنے ملک میں بھی عاشقانِ رَسُول کى صحبت مىں زیادہ سے زیادہ وقت گزارنا چاہیے۔ اَلحمدُ لِلّٰہ! دعوتِ اسلامى کے سنتوں بھرے اِجتماعات اور مَدَنى مذاکرات میں شرکت سے مدىنے شرىف کى محبت کى چاشنى ملتى ہے۔ 

دانہ خاک میں مل کر گلِ گلزار ہوتا ہے

سوال : اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان رحمۃُ اللہِ علیہ کے  اس مقطع کى وضاحت فرمادىں : 
رضا جو دل کو بنانا تھا جَلوہ گاہِ حبیب                                                        تو پیارے قیدِ خُودی سے رَہِیدہ ہونا تھا
(حدائقِ  بخشش، ص147  )
  جواب : اقبال کہتا ہے : مِٹادے اپنى ہستى کو اگر کچھ مَرتبہ چاہے     کہ دانہ خاک مىں مِل کر گُلِ گُلزار ہوتا ہے
ہوسکتا ہے ڈاکٹر اقبال نے اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان رحمۃُ اللہِ علیہ کے اس مقطع کو آسان کیاہو کہ تاریخ میں موجود ہے ڈاکٹر اِقبال اعلیٰ حضرت رحمۃُ اللہِ علیہ سے متأثر تھے۔ بہرحال اعلیٰ حضرت رحمۃُ اللہِ علیہ اس شعر میں فرما رہے ہیں :”اے رضا! تم چاہتے ہو کہ تمہارے دِل مىں پىارے حبىب صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کے جلوے سما جائىں تو اپنے آپ کو سمجھاؤ اور  اپنے آپ کو کچھ سمجھنے والی سوچ سے رہیدہ یعنی آزاد ہوجاؤ۔“ یعنی عاجزی و انکساری کروگے تو تمہارے دِل میں اللہ پاک کے پیارے حبیب صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کے جلوے اُتر آئیں گے اور اگر اپنے آپ کو کچھ سمجھوگے اور “ میں میں “کروگے تو کچھ نہیں ہوگا۔ یہ اعلیٰ حضرت رحمۃُ اللہِ علیہ کی عاجزی ہے آپ رحمۃُ اللہِ علیہ سراپا عاجزی کے پیکر تھے۔ اگر ہم بھی عاجزی کریں تو واقعی وہ جلوہ کہاں نہیں! لیکن درحقیقت ہمارے اندر عاجزی ہی نہیں۔

ایک پسندیدہ کتاب کا انتخاب

سوال:اگر آپ کو کسی جنگل یا صحراء وغیرہ میں محصور کردیا جائے اور اپنے ساتھ قرآن و حدیث کے علاوہ صرف ایک کتاب رکھنے کی اجازت دی جائے تو آپ کس کتاب کا انتخاب فرما ئیں گے ؟ 
جواب:فتاویٰ رضویہ کی 30 جلدوں کو وہ محصور کرنے والا اگر ایک کتاب تسلیم کرلے تو میں اپنے ساتھ اعلیٰ حضرت امامِ اہلِ سنّت رحمۃُ اللہِ علیہ کا فتاویٰ رضویہ شریف لے جانے کی درخواست کروں گا کیونکہ اس میں بہت کچھ ہے،عبادات  اور اعتقادات کے بارے میں بہت ساری رہنمائی موجود ہے نیز اس میں تصوف بھی ہے۔     (امیرِ اہلِ سنت کی کہانی انہی کی زبانی ، قسط 6 )

کتابوں میں ترجَمۂ کنز الایمان کے اہتمام کی وجہ

سُوال:حُضُور! آپ اپنے بیانات اور تَصانیف وغیرہ میں آیاتِ مُبارَکہ کے تَرجمے میں ”تَرجَمۂ کنزُالایمان “ کا ہی اِہتمام  فرماتے ہیں اس کی کیا وجہ ہے ؟  
جواب : جس طرح اعلیٰ حضرت کی ہر بات قُرآن و حدیث کے عین مُطابِق ہے ایسے ہی آپ کا شُہرۂ آفاق تَرجَمۂ قُرآن کنزُالایمان بھی قُرآن و حدیث کے مُطابِق اور عشق و محبت میں ڈوبا ہوا ہے ۔   اس تَرجمے میں جو خوبیاں ہیں وہ کسی اور تَرجمے میں نہیں پائی جاتیں، اس لیے میں تَرجَمۂ قُرآن کنزُالایمان  کا ہی اِہتمام کرتا ہوں ۔   
قُرآنِ کریم اللہ  ربُّ  العالمین کا کلام ہے اس  کا تَرجمہ کرنا کوئی آسان کام نہیں ۔  جن لوگوں نے آسان سمجھ کر اس کا  تَرجمہ کرنے کی کوششیں کی ہیں تو انہوں نے ٹھوکریں بھی بہت کھائی ہیں ۔  ان مُتَرْجِمِیْن (یعنی ترجمہ کرنے والوں) کی نظر اَلفاظِ قُرآنی کی رُوح تک نہ پہنچ سکی، لفظ بلفظ تَرجمہ کرنے کے سبب یہ لوگ مقامِ اُلُوہیت (یعنی اللہ پاک کے مقام و مرتبے)  اور شانِ رِسالت (یعنی نبیٔ کریم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کی شانِ عظمت نشان) کا پاس نہ رکھ سکے اور ایسے اَلفاظ اِستعمال کیے جو مقامِ اُلُوہیت اور شانِ رسالت کے قطعاً مَنافی ہیں ۔ اعلیٰ حضرت رحمۃُ اللہِ علیہ کے تَرجمہ کا طریقہ یہ تھا کہ آپ زبانی آیاتِ کریمہ کا تَرجمہ بولتے جاتے اور صَدرُ الشَّریعہ  (مفتی امجد علی اعظمی رحمۃ اللہ علیہ )اس کو لکھتے جاتے ۔   پھر جب صَدرُ الشریعہ اور دِیگر عُلمائے حاضِرین اعلیٰ حضرت کے تَرجمے کا کُتُبِ تَفاسیرسے تَقابُل کرتے تو یہ دیکھ کر حیران رہ جاتے کہ اعلیٰ حضرت کا یہ بَرجستہ فی البدیہہ (یعنی فِی الفور بولا ہوا) تَرجمہ تَفاسیرِمعتبرہ (یعنی معتبر تفسیروں)کے بالکل مُطابِق  ہوتا ۔ ( انوارِ کنز الایمان، ص932 ملخصاًجوہرآباد پنجاب)

اعلیٰ حضرت کی اپنے پیرو مرشد سے محبت

سوال:اعلیٰ حضرت کو اپنے پیرومُرشد سے کیسی محبت تھی؟
جواب: میرے آقا اعلیٰ حضرت کو اپنے بُزرگوں سے کیسی  عقیدت ومحبت تھی باوجود ولیٔ  کامل ہونے کے بارگاہِ غوثیت مآب میں عرض کرتے ہیں :
رضا کا خاتمہ بالخیر ہو گا                                    تری رَحمت اگر شامِل ہے یا غوث
(حدائقِ بخشش، ص 263)
اپنے دادا پیر حضرت سیِّد شاہ آلِ احمد اچھے میاں مارہروی قادری رَحْمَۃُ اللّٰہ عَلَیْہِ کے بارے میں فرماتے ہیں:
نامہ سے رضا کے اب مِٹ جاؤ  بُرے کامو                           دیکھو مِرے پَلّہ  پر وہ اچھے میاں آیا
خوش کار رضا خوش ہو سب  کام بھلے ہوں گے                              وہ اچھے میاں پیارا اچھوں کا میاں آیا
(حدائقِ بخشش، ص 49 )
اعلیٰ حضرت رحمۃُ اللہِ علیہ نے اپنے اِس  کلام کے مَقْطَع کے پہلے مصرعے  میں عاجزی و اِنکساری فرماتے ہوئے خود کو ”بدکار“فرمایا  ہے، میں نے اس کی جگہ ”خوش کار“ کر دیا ہے اور ’’بدکام‘‘  کو ’’سب کام‘‘ سے بدل دیا ہے ۔ اب اسی  مَقْطَع کو میں اپنے لیے عرض کرتا ہوں :
بدکار گدا خوش ہو بد کام بھلے ہوں گے                                          دیکھو میرے پَلّہ پر وہ احمد رضا خاں آیا
 (تنگدستی اوررِزق میں بے برکتی کاسبب،ص15)

آئیڈیل کسے بنایا جائے؟

سُوال: ہمیں اپنا آئیڈیل کسے  بنانا چاہیے ؟
جواب: فی زَمانہ سیِّدی اعلیٰ حضرت،امامِ اہلسنَّت، مُجَدِّدِدِین  وملت ،پَروانۂ شمع رسالت ، عاشِقِ ماہِ نُبُوَّت مولانا شاہ امام احمد رضا خان رحمۃُ اللہِ علیہ ایک ایسی شخصیت ہیں کہ جنہیں مِعیار (Ideal)  بنا کر ہم دونوں جہان کی کامیابی حاصل کر سکتے ہیں۔اعلیٰ حضرت رحمۃُ اللہِ علیہ کا ہر قول وفعل قرآن و سنَّت کے مُطابِق رہا ہے  اس لیے انہی کو آئیڈیل بنا کر ان کے دامن کو مضبوطی سے تھام کر” یَکْ دَرْ گِیْر مُحْکَمْ گِیْر یعنی ایک دروازہ پکڑ اور مضبوطی کے ساتھ پکڑ“    کا مِصداق بن جائیے۔اعلیٰ حضرت رحمۃُ اللہِ علیہ کے مقابلے میں کسی شخصیت سے متأثر ہو کر اپنی عقیدت کو مَجروح ہونے سے بچائیے۔

خائفِ کبریا ہیں رضا ہیں رضا
عاشقِ مصطفےٰ ہیں رضا  ہیں رضا
سنّتوں کے پیشوا ہیں  رضاہیں رضا
رہبرو رہنما ہیں رضاہیں رضا
صوفیِ با صفا ہیں رضاہیں رضا
صاحب اِتِّقا ہیں رضاہیں رضا
خوبرو خوش ادا ہیں رضاہیں رضا
دلبرو دلربا ہیں رضاہیں رضا
عاشقِ اولیا ہیں رضاہیں رضا
زینتِ اتقیا ہیں رضاہیں رضا
عالمِ باعمل ہیں رضاہیں رضا
مفتیِ بے بدل ہیں رضاہیں رضا

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن