30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
کے اندر خیال پیدا ہوا کہ تجھ سے غلطی ہوئی کلمہ شریف کے پڑھنے میں۔ اس کو صحیح پڑھنا چاہیے۔ اس خیال سے دوبارہ کلمہ شریف پڑھتاہوں۔ دل پر تو یہ ہے کہ صحیح پڑھا جائے لیکن زبان سے بے ساختہ بجائے رسول اللہ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے نام کے ’’اَشْرَف عَلِی‘‘ نکل جاتا ہے حالانکہ مجھ کو اس بات کا علم ہے کہ اس طرح درست نہیں لیکن بے اختیار زبان سے یہی کلمہ نکلتا ہے۔ دو تین بار جب یہی صورت ہوئی تو حضور کو اپنے سامنے دیکھتا ہوں اور بھی چند شخص حضور کے پاس تھے لیکن اتنے میں میری یہ حالت ہوگئی کہ میں کھڑا کھڑا بوجہ اس کے کہ رقت طاری ہوگئی زمین پر گر پڑا اور نہایت زور کے ساتھ ایک چیخ ماری اور مجھ کو معلوم ہوتا تھا کہ میرے اندر کوئی طاقت باقی نہیں رہی اتنے میں بندہ خواب سے بیدار ہوگیا لیکن بدن میں بدستور بے حسی تھی اور وہ اثر ناطاقتی بدستور تھا لیکن جب حالتِ بیداری میں کلمہ شریف کی غلطی پر خیال آیا تو اس بات کا ارادہ ہوا کہ اس خیال کو دل سے دور کیا جائے۔ اس واسطے کہ پھر کوئی ایسی غلطی نہ ہوجائے۔ بایں خیال بندہ بیٹھ گیا اور پھر دوسری کروٹ لیٹ کر کلمہ شریف کی غلطی کے تدارک میں رسول اللہصلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم پر درود شریف پڑھتا ہوں لیکن پھر بھی یہ کہتا ہوں ’’اَللَّھُمَّ صَلِّ عَلٰی سَیِّدِنَا وَنَبِیِّنَا وَمَوْلَانَا اَشْرَفْ عَلِیْ‘‘ حالانکہ اب بیدار ہوں خواب میں نہیں لیکن بے اختیار ہوں ،مجبور ہوں۔ زبان اپنے قابو میں نہیں۔
اس خط میں جو ’’لَا اِلٰہَ اِلاَّ اللہُ اَشْرَفْ عَلِیْ رَسُوْلُ اللہ‘‘اور’’اَللَّھُمَّ صَلِّ عَلٰی سَیِّدِنَا وَنَبِیِّنَا وَمَوْلَانَا اَشْرَفْ عَلِیْ‘‘پڑھنے کا واقعہ لکھا ہوا ہے۔ اس کے جواب میں مولوی اشرف علی صاحب تھانوی نے جو عبارت لکھی وہ ہم اسی روئداد مناظرہ ’’گیا ‘‘سے نقل کرتے ہیں۔ملاحظہ فرمائیے :روئداد مناظر ہ ’’گیا‘‘، ص ۸۷
’’اس واقعہ میں تسلی تھی کہ جس کی طرف تم رجوع کرتے ہو وہ بعونہ تعالیٰ متبع سنت ہے۔‘‘
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع