30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
مجاہدین وغیر مجاہدین اور مومنین و منافقین کا امتیاز باہمی مراد ہے اور معنی یہ ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے منافقین کو مومنین سے اور غیر مجاہدین کو مجاہدین سے ابھی تک جدا نہیں کیا ۔آئندہ ( علم الہی کے مطابق) انہیں الگ کردیا جائے گا۔ یہاں ’’عِلْم‘‘ سے ’’تَمِیْز ‘‘ مراد ہے۔{فَلَیَعْلَمَنَّ اللہُ الَّذِینَ} بمنزلہ ’’فَلَیُمَیِّزُ اللہُ ‘‘ (۱)کے ہے۔ جیسے اللہ تعالیٰ کے قول { لِیَمِیْزَ اللہُ الْخَبِیْثَ مِنَ الطَّیِّبِ} (۲) میں خبیث کا طیب سے جدا ہونا منصوص ہے، ایسے ہی ان آیات میں ( جنہیں مولوی حسین علی نے نفی ٔ علمِ الہی کی دلیل سمجھا ہے ) مومنین و منافقین اور مجاہدین و غیر مجاہدین کا ایک دوسرے سے الگ ہونا مذکور ہے۔ دیکھئے :بخاری شریف، جلد ثانی ،ص ۷۰۳ پر مرقوم ہے۔
’’{فَلَیَعْلَمَنَّ اللہُ} عَلِمَ اللہُ ذَلِکَ اِنَّمَا ھِیَ بِمَنْزِلَۃِ فَلَیَمِیْزَ اللہُ کَقَوْلِہٖ {لِیَمِیْزَ اللہُ الْخَبِیْثَ}‘‘…اِنْتَھٰی (۳)
یہ مطلب ہر گز نہیں کہ معاذ اللہ خدائے علیم و خبیر کو ان کا علم نہیں۔ اللہ تعالیٰ تو ہر چیز کو جانتا ہے۔(۴)
___________________
1… اللہ تعالیٰ جدا کردیگا 2… پ ۹،سورۃ الانفال ،الآیۃ۳۷:اس لئے کہ اللہ گندے کو ستھرے
سے جدا فرمادے 3…بخاری ،کتاب التفسیر،باب {ان الذی فرض}،۳؍۲۹۶،الحدیث:۴۷۷۳
4… اس مقام پر یہ کہنا کہ اس عبارت میں مولوی حسین علی صاحب نے اپنا مذہب بیان نہیں کیا ہے بلکہ معتزلہ کا مذہب نقل کیا ہے انتہائی مضحکہ خیز ہے اس لیے کہ جب مولوی صاحب مذکور نے قران و حدیث کو اس مذہب پر منطبق مانا تو اس کی حقانیت کو تسلیم کرلیا خواہ وہ معتزلہ کا مذہب ہو۔ اگر دوسرے کا مذہب ،قرآن و حدیث جس پر منطبق ہے اس کا انکار کیونکر ہوسکتا ہے۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع