30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
مرقوم ہے۔
’’ ہم بریلی والوں کو اہلِ ہوا (۱)کہتے ہیں۔اہلِ ہوا کافر نہیں۔‘‘
اس سلسلے میں مولوی اشرف علی صاحب تھانوی کا ایک اور مزیدارملفوظ ملاحظہ فرمائیے ۔
(الافاضات الیومیہ، جلد پنجم، مطبوعہ اشرف المطابع تھانہ بھون، صفحہ ۲۲۰ پر ملفوظ نمبر ۲۲۵)میں مرقوم ہے۔
’’ایک سلسلہء گفتگو میں فرمایا کہ دیوبند کا بڑا جلسہ ہوا تھا تو اس میں ایک رئیس صاحب نے کوشش کی تھی کہ دیوبندیوں میں اور بریلویوں میں صلح ہوجائے ۔ میں نے کہا !ہماری طرف سے کوئی جنگ نہیں۔ وہ نماز پڑھاتے ہیں ، ہم پڑھ لیتے ہیں۔ ہم پڑھاتے ہیں وہ نہیں پڑھتے تو ان کو آمادہ کرو۔( مزاحاً فرمایا کہ ان سے کہو کہ آ،مادہ ! نر آگیا) ہم سے کیا کہتے ہو۔
اس عبارت سے یہ حقیقت روزِ روشن کی طرح واضح ہوگئی کہ علماءِ اہلِ سنت ( جنہیں بریلوی کہا جاتا ہے) دیوبندیوں کے نزدیک مسلمان ہیں اور ان کا دامن ہر قسم کے کفر و شرک سے پاک ہے۔ حتی کہ دیوبندیوں کی نمازان کے پیچھے جائز ہے۔ عبارت منقولہ بالا (۲) سے جہاں اصل مسئلہ ثابت ہوا وہاں علماءِ دیوبند کے مجددِ اعظم حکیم الامت مولوی اشرف علی صاحب (۳)کی تہذیب اور مخصوص ذہنیت کا نقشہ بھی سامنے آگیا، جس کا آئینہ دار مولوی اشرف صاحب کے ملفوظ شریف کا یہ جملہ ہے کہ ۔
ان (بریلویوں ) سے کہو آ، مادہ ، نر آگیا۔
__________________
1…اہلِ بدعت 2…یعنی تھانوی صاحب کی وہ عبارت جو ابھی نقل کی گئی 3…متوفیٰ ۱۳۶۲ھ
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع