30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
ترجمہ: اے نبی (صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم)! آپ مسلمانوں سے فرمادیجئے کہ اگر تمہارے باپ اور تمہارے بیٹے اور تمہارے بھائی اور تمہاری بیویاں اور تمہارے کنبہ دار اور مال جو تم نے کمائے ہیں اور سوداگری جس کے مندا (۱)پڑ جانے کا تم کو اندیشہ ہو اور مکانات جن میں رہنے کو تم پسند کرتے ہو۔ اگر یہ چیزیں اللہ اور اس کے رسول اور اللہ کے راستے میں جہاد کرنے سے تم کو زیادہ عزیز ہوں تو ذرا صبر کرو۔ یہاں تک کہ اللہ اپنے حکم کو لے آئے اور اللہ تعالیٰ نافرمانوں کو ہدایت نہیں فرماتا)
ان دونوں آیتوں کا مطلب واضح ہے کہ عقیدے اور ایمان کے معاملے میں اور نیکی کے کاموں میں بسا اوقات خویش و اقارب(۲) ،کنبہ اور برادری، محبت اور دوستی کے تعلقات حائل ہوجایا کرتے ہیں۔ اس لیے ارشاد فرمایا کہ جن لوگوں کو ایمان سے زیادہ کفر عزیز ہے ،ایک مومن انہیں کس طرح عزیز رکھ سکتا ہے ۔ مسلمان کی شان نہیں کہ ایسے لوگوں سے رفاقت اور دوستی کا دم بھرے ۔خدا اور رسول کے دشمنوں سے تعلقات استوار کرنا یقینا گنہگار بننا اور اپنی جانوں پر ظلم کرنا ہے۔ جہاد فی سبیل اللہ اور اعلاءِ کلمۃ الحق (۳) سے اگر یہ خیال مانع ہو کہ کنبہ اور برادری چھوٹ جائے گی ، استادی شاگردی یا دنیاوی تعلقات میں خلل واقع ہوگا، اموال تلف ہوں گے یا تجارت میں نقصا ن ہوگا،راحت اور آرام کے مکانات سے نکل کر بے آرام ہونا پڑے گا تو پھر ایسے لوگوں کو خدا تعالیٰ کی طرف سے اس کے عذاب کے حکم کا منتظر رہنا چاہیے ۔ جو اس نفس پرستی ،دنیا طلبی اور تن آسانی کی وجہ سے ان پر آنے والا ہے۔
____________________
1…سست پڑ جانے 2…رشتہ دار 3…کلمۂ حق کو بلند کرنے سے
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع