30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
نہیں ہوتا اور بعض وہ حضرات ہیں جن کے زمانے میں اگرچہ وہ عبارات شائع ہوچکی تھیں مگر ان کی نظر سے نہیں گزریں ، اس لیے انہوں نے تکفیر نہیں فرمائی۔
ہمارے مخالفین میں سے آج تک کوئی شخص اس امر کا ثبوت پیش نہیں کرسکا کہ فلاں مُسَلّم بَیْنَ الْفَرِیْقَیْن بزرگ(۱) کے سامنے علماءِ دیوبند کی عبارات مُتَنَازَعَۃ فِیْہَا (۲) پیش کی گئیں اور انہوں نے ان کو صحیح قرار دیا یا تکفیر سے سکوت فرمایا۔ علاوہ ازیں یہ کہ جن اکابرِ امت مُسَلَّم بَیْنَ الْفَرِیْقَیْن کی عدم ِتکفیر (۳)کو اپنی براء ت کی دلیل قرار دیا جاسکتا ہے، ممکن ہے کہ انہوں نے تکفیر فرمائی ہو اور وہ منقول(۴) نہ ہوئی ہو کیونکہ یہ ضروری نہیں کہ کسی کی کہی ہوئی ہر بات منقول ہوجائے لہذا تکفیر کے باوجود عدمِ نقل کے احتمال نے اس آخری سہارے کو بھی ختم کردیا۔ وَلِلّٰہِ الْحَمْد
ایک تازہ شبہ کا جواب
ایک مہربان نے تازہ شبہ یہ پیش کیا ہے کہ کسی کو کافر کہنے سے ہمیں کتنی رکعتوں کا ثواب ملے گا۔ ہم خواہ مخواہ کسی کو کافر کیوں کہیں ؟ توہین آمیز عبارات لکھنے والے مر گئے۔ اس دنیا سے رخصت ہوگئے۔ حدیث شریف میں وارد ہے’’ اُذْکُرُوْا مَوْتَا کُمْ بِالْخَیْرِ‘‘ (۵) تم اپنے مردوں کو خیر کے ساتھ یاد کرو۔ پھر یہ بھی ممکن ہے کہ مرتے وقت انہوں نے توبہ کرلی ہو۔ حدیث شریف میں ہے۔ ’’اِنَّمَا الْاَعْمَالُ بِالْخَوَاتِیْمِ‘‘ (۶) عمل کا دارومدار خاتمہ پر ہے۔
_______________
1…وہ بزرگ جنہیں دونوں فریق تسلیم کرتے ہوں 2…جن عبارات کی بنا پر جھگڑا ہے 3…کفر کا فتویٰ نہ لگانے کو 4…زبانی یا کتابی صورت میں 5…(مرقاۃ المفاتیح شرح مشکاۃ المصابیح،۶؍۴۰۱:تحت الحدیث:۳۲۵۲ ) 6…(بخاری،کتاب القدر،باب العمل بالخواتیم، ۴؍ ۲۷۴،الحدیث:۶۶۰۷)
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع