30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
رکھا تھا۔ یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے ان کی شوکت توڑ دی۔‘‘اِنْتَہیٰ (۱)
دیکھئے یہاں اپنے مذہب کو کیسے چھپایا اور’’فتاویٰ رشیدیہ‘‘ کی عبارت کو صاف ہضم کر گئے۔ یہ تو ایک نمونہ تھا۔ تمام کتاب کا یہی حال ہے کہ جان بچانے کے لیے اپنے مذہب پر پردہ ڈال دیا۔ اپنی عبارات کو بھی چھپادیا۔ اب ناظرینِ کرام خود فیصلہ فرمائیں کہ خیانت کرنے والا کون ہے؟
اس بحث میں ہمارے مخالفین ( حضرات علماءِ دیوبند) کا ایک آخری سہارا یہ ہے کہ بہت سے اکابر علماءِ کرام و مشائخِ عظام نے علماءِ دیوبند کی تکفیر نہیں کی جیسے سند المحدثین حضرت مولانا ارشاد حسین صاحب مجددی رام پوری رحمۃُ اللہ تعالٰی علیہ اور قبلۂ عالم حضرت سید پیر مہر علی شاہ صاحب گولڑوی رحمۃُ اللہ تعالٰی علیہ اسی طرح بعض دیگر اکابر ِامت کی کوئی تحریر ثبوتِ تکفیر میں پیش نہیں کی جاسکتی ۔
اس کے متعلق گزارش ہے کہ تکفیر نہ کرنے والے حضرات میں بعض حضرات تو وہ ہیں جن کے زمانے میں علماءِ دیوبند کی عباراتِ کفریہ ( جن میں التزامِ کفر متیقّن ہو) (۲) موجود ہی نہ تھیں جیسے مولانا ارشاد حسین صاحب رام پوری رحمۃُ اللہ تعالٰی علیہ ۔(۳)ایسی صورت میں تکفیر کا سوال ہی پیدا
_________________
1…رد المحتار، کتاب الجہاد، مطلب فی اتباع عبد الوہاب الخوارج فی زماننا ، ۶؍۴۰۰ 2…یعنی ایسی عبارت جس میں کفر پایا جائے اور اس کے قائل کواس کفر پر اطلاع بھی ہو۔لزوم و التزام کا فرق معلوم کرنے کے لئے دیکھئے صفحہ نمبر N 3…جن کا انتقال۱۳۱۲ھمیں ہوچکا تھا جبکہ کفریہ عبارات پر مبنی کتابوں میں سے بعض تو بعد میں لکھی گئیں یابعض پہلے لکھی جا چکی تھیں مگر عام نہ ہونے کی بنا پر ان علماء کی نظر سے نہیں گزری۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع