30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
سے کتوں سے بدتر کر کے دھتکار دیں گے اور امتِ مرحومہ کے اجر وثواب ومنازل ونعیم سے محروم کئے جائیں گے۔
A…سَوَّدَ اللہُ وُجُوْہَھُمْ فِی الدَّارَیْنِ وَجَعَلَ قُلُوْبَہُمْ قَاسِیَۃً فَلا یُؤْمِنُوْا حَتَّی یَرَوُاالْعَذَابَ الْاَلِیْمَ۔ اللہ تعالیٰ ان بریلویوں کا منہ دونوں جہاں میں کالاکرے اور ان کے دلوں کو سخت کر دے تو وہ ایمان نہ لائیں یہاں تک کہ عذاب الیم کو دیکھ لیں۔ (الشہاب الثاقب ص: ۱۲۰)
ان تمام بددعاؤں اور گالیوں کے جواب میں صرف اتنا عرض ہے کہ الحمد للّٰہ اعلی حضرت بریلوی رحمۃُ اللہ تعالٰی علیہ تو ہرگز اس بد گوئی کے مصداق نہیں ہو سکتے (۱)البتہ بمقتضائے حدیث(۲) اعلیٰ حضرت فاضل بریلوی رحمۃُ اللہ تعالٰی علیہ جیسی مقدس ہستی کے حق میں ایسے ناپاک کلمے بولنے والا انشاء اللہ دنیا وآخرت میں اپنے کلمات کا خود مصداق بنے گا۔ وَمَا ذٰلِکَ عَلَی اللہِ بِعَزِیْز (۳)
____________________
1…اسلئے کہ اعلیٰ حضرت امام اہلِ سنت رحمۃُ اللہ تعالٰی علیہ نے ذاتی انا یا کسی دنیاوی غرض کی بنا پر علمائے دیوبند پر کفر کا فتویٰ نہیں لگایا بلکہ شریعتِ اسلام کی پاسداری اور منصبِ افتاء کی ذمہ داری کے سبب آپ حکمِ کفر لگانے پر مجبور ہوگئے اور خود علمائے دیوبند بھی اس بات کو تسلیم کرتے ہیں کہ ان متنازعہ عبارات پر اگر امام احمد رضا خان صاحب کفر کا فتویٰ نہ لگاتے تو خود کافر ہوجاتے۔چنانچہ مرتضٰی حسن دربھنگی صاحب ناظمِ تعلیمات مدرسہ دیوبند اپنی کتاب’’اشدّالعذاب‘‘ کے صفحہDپر فرماتے ہیں ’’اگر (مولانا احمد رضا) خان صاحب کے نزدیک بعض علمائے دیوبند واقعی ایسے ہی تھے جیسا کہ انہوں نے سمجھا تو (مولانا احمدرضا) خاں صاحب پر ان(علمائے دیوبند) کی تکفیر فرض تھی ،اگر وہ ان (علمائے دیوبند) کو کافر نہ کہتے تو خود کافر ہوجاتے… کیوں کہ جو کافر کو کافر نہ کہے وہ خود کافر ہے۔(سفید و سیاہ ،ص۱۰۶ ) 2…بخاری، کتاب الرقاق ،باب التواضع ،۴؍ ۲۴۸،الحدیث:۶۵۰۲…جس نے میرے ولی سے دشمنی کی اسے میرا اعلانِ جنگ ہے۔ 3…اور یہ اللہ پر کچھ دشوار نہیں (پ۱۳،سورۂ ابراہیم، الآیۃ ۲۰)
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع