30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
مقابل ہے اور مسئلۂ توحید واجب عقلی (۱)ہے لہذا شرک لامحالہ اعتقاد امر ممتنع لذاتہ (۲)کا نام ہوگا۔ ظاہر ہے کہ تصرفاتِ انبیاء واولیاء عَلَیْہِمُ السَّلام اور ان کے باقی کمالاتِ علمیہ وعملیہ سب مُقَیَّد بِالْعَطَا وَبِاِذْنِ اللہ (۳)ہیں اور یہ امر بھی روزِ روشن کی طرح واضح ہے کہ عطاءِ الہی اور اذنِ خداوندی کے ساتھ اللہ کے کسی محبوب کے لئے علمی یا عملی کمالات وتصرفات کا ہونا ہرگز ممتنع لذاتہ نہیں۔ اس لئے اذن وعطا کی قید کے ساتھ ان کا اعتقاد کسی طرح شرک نہیں ہو سکتا۔
البتہ الوہیت اور وجوبِ وجود اور غنا ذاتی (۴)ایسے امور ہیں جن کی عطا ممتنع لذاتہ ہے۔ اس لئے جو شخص کسی کے حق میں ان امور میں سے کسی امر کی عطا کا اعتقاد رکھے گا وہ یقینا مشرک ہوگا۔ جیسا کہ مشرکین عرب اپنے آلہہ باطلہ(۵)کے حق میں اسی قسم کا اعتقاد رکھتے تھے اور کسی مسلمان کا کسی غیر اللہ کے حق میں ہرگز یہ اعتقاد نہیں۔ الحمد للّٰہ اس مختصر بیان سے اہلِ
علم پر مخالفین کے وہ تمام مکروفریب آشکار ہو گئے جن میں بعض حضرات مبتلا ہو جاتے ہیں۔ وَلِلّٰہِ الْحُجَّۃُ الْبَالِغَۃُ (۶)
جو دیوبندی حضرات علماء دیوبند کی صریح توہینی عبارتوں میں توہین نہیں مانتے ان کی خدمت میں مخلصانہ گزارش ہے کہ آپ کے علماء کی عبارات کے مقابلے میں مودودی صاحب
__________________
1…عقل تقاضا کرتی ہوکہ اسکاپایا جانا ضروری ہے 2…جس کا پایا جانا مطلقاً ناممکن ہو 3…ان کے اختیارات اللہ تعالیٰ کے دیئے ہوئے ہیں اور وہ تمام تصرفا ت اللہ تعالیٰ کے اذن سے کرتے ہیں 4…معبود ہونا،فنا نہ ہونااور کسی کا محتاج نہ ہونا 5…جھوٹے معبودوں 6…اور اللہ ہی کی حجت پوری ہے
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع