30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
کے خلاف ثابت کر کے ان کے کفر ہونے پر دلیل لا سکا اور نہ ان کو کسی دلیل شرعی کے خلاف ثابت کر کے ان کے بدعت ہونے پر استدلال کر سکا۔البتہ اتنی بات ضرور کہی جاتی ہے کہ جس طریقہ سے تم یہ کام کرتے ہو اسی طرح خَیْرُ الْقُرُوْن (۱) میں یہ کام کسی نے نہیں کئے لہذا یہ سب امور بدعت ہیں۔
اس کے جواب میں تحقیق وتفصیل تو ان شاء اللہ دوسرے رسالے میں ہدیۂ ناظرین ہوگی۔ سردست اتنا عرض کر دینا کافی ہے کہ اگر ان امور کی ہیئت کذائیہ (۲) کی تفصیلات قرون اولیٰ(۳) میں نہیں پائی گئیں تو صرف اس وجہ سے ان کو بدعت کہنا ہرگز درست نہیں ہو سکتا ۔
دیکھئے قرآن مجید کی تیس پاروں میں تقسیم، اعرابِ قرآن ، جمعِ احادیث، بناءِ مدارس، تعلیمِ دین پر اجرت لینا، اوراد و اعمالِ مشائخ وغیرہ بے شمار کام ایسے ہیں کہ خَیْرُ الْقُرُوْن میں ان کا وجود نہیں پایا گیا لیکن علماءِ دیوبند بھی انہیں بدعت نہیں کہتے معلوم ہوا کہ یہ بات قطعاً غلط اور ناقابلِ قبول ہے۔
اسی طرح کوئی منکر کسی حجت شرعیہ سے ان امور کے اعتقاد یا عمل کا شرک ہونا بھی ثابت نہ کر سکا ۔شرک کے متعلق ہمارے ناظرین کرام یہ بات ضرور یاد رکھیں کہ شرک توحید کا
_______________
1…وہ زمانہ جسکو حدیث پاک میں سب سے بہتر دور کہا گیا ہے(مسند البزار) اور یہ صحابۂ کرام،تابعین و تبع تابعین کا زمانہ ہے(تفسیرِ خازن) 2…جس شکل و صورت میں موجودہ دور میں یہ کام کئے جاتے ہیں جیسے میلاد وغیرہ 3… صحابۂ کرام،تابعین و تبع تابعین کے زمانہ میں
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع