30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
میں علامہ کمال ابن ابی شریف ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے ارقام فرماتے ہیں۔’’ ہم کہیں گے کہ اشعری(۱) اور ان کے علاوہ تمام (اہلِ سنت) اس بات پر متفق ہیں کہ ہر وہ چیز جو (فِیْ نَفْسِہٖ) بندوں کے حق میں عیب اور نقص کی صفت ہو، اللہ تعالیٰ اس سے پاک ہے اور وہ صفتِ نقص اللہ تعالیٰ پر محال ہے۔‘‘ (۲)
ایسی صورت میں حضرات علماءِ دیوبند سے مخلصانہ استفسار ہے کہ جب آپ اللہ تعالیٰ کو ہر عیب سے پاک سمجھتے ہیں تو کیا اس کی ذاتِ مقدسہ سے ان تمام علوم کی نفی کریں گے جنہیں نجاست وغلاظت، مکر وفریب کا علم اور شیطانی علوم کہہ کر برا اور مذموم قرار دیا گیا ہے۔ اگر نہیں تو کیا اللہ تعالیٰ کو آپ عیوب ونقائص سے مبرّا (۳) نہیں مانتے۔
حیرت ہے کہ جن لوگوں کی عبارات توہینِ رسول صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم سے ملوّث ہیں اس مسئلہ میں انہیں رسول اللہ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم سے اس قدر حد سے زائد محبت کس طرح ہو گئی کہ اللہ تعالیٰ کی تنزیہ(۴) سے بھی ان کے نزدیک حضور کی تقدیس زیادہ اہم اور ضروری قرار پا گئی۔ فَیَا لَلْعَجَبْ
درحقیقت یہ بھی عداوتِ رسول اللہ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا ایک بیّن ثبوت ہے کیونکہ قاعدہ ہے کہ اگر کسی اچھی چیز سے کسی کو بربنائے عداوت محروم رکھنا ہو تو اس چیز کو برا اور مذموم کہہ دیا جاتاہے تاکہ دوسروں پر یہ ظاہر کر دیا جائے کہ ہم اس شخص کی محبت اور خیر خواہی کی
__________________
1…اشاعرہ کے امام حضرت شیخ ابوالحسن اشعری علیہ الرحمۃ، متوفیٰ۳۲۴ھ 2…المسامرۃ بشرح المسایرۃ،ص ۲۰۶،مطبعۃ السعادۃ بمصر 3… پاک ،بے عیب 4…پاکی
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع