30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
پورے وثوق سے کہہ سکتا ہوں کہ علماء بریلی یا ان کے ہم خیال کسی عالم نے آج تک کسی مسلمان کو کافر نہیں کہا۔
خصوصاً اعلیٰ حضرت مولانا احمد رضا خاں صاحب بریلوی قُدِّسَ سِرُّہٗ الْعَزِیْزُتو مسئلۂ تکفیر (۱) میں اس قدر محتاط واقع ہوئے تھے کہ امام الطائفہ مولوی اسماعیل صاحب دہلوی کے بکثرت اقوالِ کفریہ نقل کرنے کے باوجود لزوم والتزامِ کفر (۲) کے فرق کو ملحوظ رکھنے یا امام الطائفہ
______________
1… کفر کا فتویٰ لگانے میں 2…لزومِ کفر کے معنی ہیں ’’کفر کا لازم ہونا‘‘اور التزامِ کفر کے معنی ہیں ’’کفر کو اپنے اوپر لازم کرنا‘‘بعض اوقات ایک کلام کفر کو لازم ہوتا ہے مگر قائل کو اسکا علم نہیں ہوتا ۔یہ لزوم ِ کفر ہے یعنی قائل کوکافر نہ کہیں گے مگر جب اسے بتادیا جائے کہ تیرے اس کلام کو کفر لازم ہے اور وہ اس کے باوجود بھی اس پر اڑا رہے اور اپنے کلام میں لزوم ِ کفر کے پائے جانے پر خبردار ہونے کے باوجود بھی اس سے رجوع نہ کرے تو التزامِ کفر ہوگایعنی اب قائل پر کفر کا حکم لگے گا۔ مثال کے طور پر تقویۃ الایمان کی وہ عبارت سامنے رکھ لیجئے جس میں مولوی اسماعیل صاحب دہلوی نے ہر چھوٹی بڑی مخلوق کو اللہ تعالیٰ کی شان کے آگے چوہڑے چمار سے زیادہ ذلیل کہا ہے۔ظاہر ہے کہ چھوٹی مخلوق سے عام مخلوق اور بڑی مخلوق سے خاص مخلوق انبیاء ،ملائکہ مقربین،محبوبانِ بارگاہِ ایزدی کے معنی بلاتأمل سمجھ میں آتے ہیں اور تمام بڑی مخلوق کا چوہڑے چمار سے زیادہ ذلیل ہونا لازم آتا ہے۔انبیاء کرام عَلَیْہمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلامکو اس طرح کہناکفرِ صریح ہے لیکن اگر ہم حسنِ ظن سے کام لے کر یہ سمجھ لیں کہ امام الطائفہ اسماعیل دہلوی صاحب اس سے بے خبر تھے تو یہ لزومِ کفر ہوگا اور جب انہیں خبردار کردیاجائے کہ تمہارا یہ کلام کفر پر مشتمل ہے مگر وہ اس کے باوجود بھی اپنے اس قول سے رجوع نہ کریں تویہ التزامِ کفر ہوگا ۔امام الطائفہ کے متعلق تو تھوڑی دیر کے لیے ہم یہ تسلیم بھی کر سکتے ہیں کہ وہ اس لزومِ کفر سے غافل تھے اور انہیں کسی نے متنبہ بھی نہیں کیا ۔اس لئے یہ لزوم التزام کی حد تک نہیں پہنچا لیکن ان کے پیروکار و معتقدین بار بار تنبیہ کیے جانے کے باوجود بھی اس عبارت کو صحیح قرار دیتے ہیں۔ان کے حق میں کیسے کہا جائے کہ وہ التزامِ کفر سے بری ہیں۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع