30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
ملا علی قاری رحمۃُ اللہ تعالٰی علیہ کے اس بیان کی روشنی میں ہمارے ناظرین کرام پر مولوی اشر ف علی صاحب تھانوی کی عبارتِ حفظ الایمان(۱) کا توہین آمیز ہونا بخوبی واضح ہوگیا ہوگا اور تھانوی صاحب نے اپنی عبارت کی تائید کے لئے شرح مواقف کی عبارت سے استدلال کیاہے، اس کا بے سود ہونا بھی اہل علم نے اچھی طرح سمجھ لیا ہو گا۔ جس کا خلاصہ یہ ہے کہ اگر بالفرض یہ تسلیم بھی کر لیا جائے کہ بعض علمِ غیب حیوانات، بہائم اور پاگلوں کو ہوتاہے تب بھی مولوی اشرف علی صاحب تھانوی کی طرح یہ کہنا کہ اگر حضور صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے لئے بعض علم غیب مانا جائے تو ایسا علمِ غیب تو زید وعمروبلکہ ہر صبی(۲) ومجنون(۳)بلکہ جمیع حیوانات و بہائم(۴)کیلئے بھی حاصل ہے، یقینا حضور صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے حق میں موجبِ توہین ہوگا۔
کیونکہ اس عبارت میں بچوں ،پاگلوں ، حیوانات اور بہائم کے الفاظ ایسے ہیں جن کی تصریح ہر اہل فہم کے نزدیک اس کلام میں ایسی صریح توہین پید ا کر رہی ہے جس کا انکار بجز معاند متأسف (۵)کے کوئی شخص نہیں کر سکتا۔ بخلاف عبارت شرح مواقف کے کہ اس میں بچوں ، پاگلوں ، جانوروں اور حیوانوں کی قطعاً کوئی تفصیل مذکور نہیں اور حقیقت یہ ہے کہ علماءِ دیوبند کی اکثر
__________________
1… ’’حفظ الإیمان‘ ‘، جواب سؤال سوم، ص۱۳:
’’ پھر یہ کہ آپ کی ذاتِ مقدسہ پر علمِ غیب کا حکم کیا جانا اگر بقولِ زید صحیح ہو تو دریافت طلب یہ امر ہے کہ اس غیب سے مراد بعض غیب ہے یا کل غیب، اگر بعض علومِ غیبیہ مراد ہیں تو اس میں حضور ہی کی کیا تخصیص ہے، ایسا علمِ غیب تو زید و عمرو بلکہ ہر صبی(۱)و مجنون(۲) بلکہ جمیع حیوانات و بہائم کے لئے بھی حاصل ہے۔‘‘ اصل کتاب کی عبارت باب’’عکسی عبارات‘‘ میں ملاحظہ فرمائیں۔2…بچہ 3…پاگل 4…چوپائے 5…عناد رکھنے والے رنجیدہ شخص کے
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع