30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
ان کو توہین کے جرمِ عظیم سے بچا نہیں سکتیں۔ جیسا کہ ہم اس سے پہلے مولوی انور شاہ کشمیری دیوبندی کی تصریحات اسی اعتراض کے جواب میں نقل کر چکے ہیں۔ (۱)
توہین کا دارومدار واقعیت پر نہیں ہوتا
بعض لوگ توہین کو واقعیت پر موقوف سمجھتے ہیں (۲)حالانکہ توہین وتنقیص کا تعلق الفاظ وعبارات سے ہوتا ہے۔ بسا اوقات کسی واقعہ کو اجمال کے ساتھ کہنا موجبِ توہین نہیں ہوتا لیکن اسی امر واقعہ میں بعض تفصیلات کا آجانا توہین کا سبب ہو جاتاہے اگرچہ ان تفصیلات کا بیان واقعہ کے مطابق بھی کیوں نہ ہو۔ ملاحظہ فرمائیے شرح فقہ اکبر مطبوعہ مجتبائی صفحہ ۶۴ بار سوم۱۹۰۷ء میں ہے ۔
’’عالم میں کوئی شے ایسی نہیں جس کے ساتھ ارادۂ الٰہیہ متعلق نہ ہو اور اس بناء پر اگر یہ کہہ دیا جائے کہ تمام کائنات اللہ تعالیٰ کی مراد (یعنی ارادہ کی ہوئی ) ہے تو اس میں کوئی توہین نہیں لیکن اگر اسی واقعہ کو اس تفصیل سے کہا جائے کہ ظلم، چوری، شراب خوری اللہ تعالیٰ کی مراد ہے تواگرچہ یہ کلام واقعہ کے مطابق ہے لیکن ظلم، فسق وغیرہ کی تفصیلات آجانے کے باعث خلافِ ادب اور توہین آمیز ہوگا اسی طرح بدلیل آیۂ قرآنیہ ’’ اللہُ خَالِقُ کُلِّ شَیْئٍ‘‘ یہ کہنا بالکل جائز ہے کہ اللہ تعالیٰ ہر شے کا خالق ہے لیکن ’’اللہُ خَالِقُ الْقَاذُوْرَاتِ وَغَیْرِہَا‘‘( اللہ گندگیوں اور دوسری بری چیزوں کو پیدا کرنے والا ہے) کہنا جائز نہیں کہ ذلیل اور رذیل اشیاء کی تفصیل ایہام ِکفر (۳) کی وجہ سے یقینا موجبِ توہین ہے۔‘‘ (ملخصاً) (۴)
_______________________
1…ملاحظہ فرمائیے صفحہ ۱۵ تا ۱۷ 2 …یعنی وہ لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ بیان کردہ شیء اگر حقیقت میں موجود ہے تو اسکے بیان کرنے میں کوئی توہین نہیں جیسے اللہ تعالیٰ سور کا خالق ہے 3…کفر کا شبہ ڈالنے کی وجہ سے
4…شرح فقہ الاکبر،ص ۱۴۱،دار البشائر الاسلامیہ،مفہوماً
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع