30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اگرچہ توہین مقصود نہ ہو۔)
توہین کا تعلق عرفِ عام اور محاورات اہلِ
زبان سے ہوتاہے
بعض لوگ کلماتِ توہین کے معنی میں قسم قسم کی تاویلیں کرتے ہیں لیکن یہ نہیں سمجھتے کہ اگر کسی تاویل سے معنی مستقیم (۱) بھی ہو جائیں اور اس کے باوجود عرفِ عام ومحاورات اہلِ زبان (۲)میں اس کلمہ سے توہین کے معنی مفہوم ہوتے ہوں تو وہ سب تاویلات بیکار ہوں گی۔
مثلاًایک شخص اپنے والد یا استاد کوکہتا ہے آپ بڑے ’’وَلَدُ الْحَرَام‘‘ہیں اور تاویل یہ کرتاہے کہ لفظ حرام کے معنی فعلِ حرام نہیں بلکہ محترم کے ہیں جیسے ’’اَلْمَسْجِدُ الْحَرَام ‘‘اور ’’بَیِْتُ اللہِ الْحَرَام‘‘لہذا وَلَدُ الْحَرَام سے مراد ولد محترم ہے اور معنی یہ ہیں کہ آپ بڑے محترم ہیں تو یقینا کوئی اہلِ انصاف کسی بزرگ کے حق میں اس تاویل کی رو سے لفظ وَلَدُ الْحَرَام‘بولنے کو قطعاً جائز نہیں کہے گا اور ان کلمات کو بر بنائے عرف ومحاوراتِ اہلِ زبان کلماتِ توہین ہی قرار دے گا۔
لہذا ہم ناظرین کرام سے درخواست کریں گے کہ وہ علماءِ دیوبند کی توہین آمیز عبارات (۳) پڑھتے وقت اس اصول کو پیش نظر رکھتے ہوئے یہ دیکھیں کہ عرف ومحاورہ کے اعتبار سے اس عبارت میں توہین ہے یا نہیں۔
_____________________
1…معنی درست 2…لوگوں کے سوچنے سمجھنے یا بول چال میں 3…جو اسی کتاب میں مع حوالہ اگلے صفحات میں تحریر کی جائیں گی
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع