30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
حدیث شریف میں آیا ہے۔ ’’اِنَّمَا الْاَعْمَالُ بِالنِّیَّاتِ ‘‘ (۱) یعنی عملوں کا دارومدار نیتوں پر ہے۔ لہذا علماء دیوبند کی عبارتوں میں اگرچہ کلماتِ توہین پائے جاتے ہیں مگر ان کی نیت توہین اور تنقیص کی نہیں۔ اس لئے ان پر حکمِ کفر عائد نہیں ہو سکتا۔
اس کے جواب میں گزارش ہے کہ حدیث کامفاد صرف اتنا ہے کہ کسی نیک عمل کا ثواب نیتِ ثواب کے بغیر نہیں ملتا۔ یہ مطلب نہیں کہ ہر عمل میں نیت معتبر ہے۔ اگر ایسا ہو تو کفر والحاد اور توہین وتنقیصِ نبوت کا دروازہ کھل جائے گا۔ ہر دریدہ دہن(۲) بے باک جو چاہے گا کہتا پھرے گا، جب گرفت ہو گی تو صاف کہہ دے گا کہ میری نیت توہین کی نہ تھی، واضح رہے کہ لفظِ صریح میں جیسے تاویل نہیں ہو سکتی ایسے ہی نیت کا عذر بھی اس میں قابل قبول نہیں ہوتا۔
اِکْفَارُ الْمُلْحِدِیْن ،صفحہ ۷۳ پر مولوی انور شاہ صاحب کشمیری دیوبندی لکھتے ہیں۔
’’اَلْمَدَارُ فِی الْحُکْمِ بِالْکُفْرِ عَلَی الظَّوَاہِرِ وَلَا نَظْرَ لِلْمَقْصُوْدِ وَ النِّیَّاتِ وَلَا نَظْرَ لِقَرَاءِنِ حَالِہٖ‘‘(کفر کے حکم کا دارومدار ظاہر پر ہے۔ قصد ونیت اور قرائن حال پر نہیں۔) (۳)
نیز اسی ’’اِکْفَارُ الْمُلْحِدِیْن‘‘ کے صفحہ ۸۶ پر ہے۔
’’وَقَدْ ذَکَرَ الْعُلَمَاءُ اَنَّ التَّہَوُّرَ فِی عِرْضِ الْاَنْبِیَاءِ وَ اِن لَّمْ یَقْصِدِ السَّبَّ کُفْرٌ‘‘(علماء نے فرمایاہے کہ انبیاء عَلَیْہِمُ السَّلام کی شان میں جرأت ودلیری کفر ہے
_________________
1…صحیح البخاری، کتاب بدء الوحی، باب کیف کان بدء الوحی الی رسول اللہ،۱؍۵،الحدیث:۱2 …بد زبان 3 …یعنی کفر کا حکم لگاتے وقت ظاہری الفاظ و افعال کا اعتبار ہوتاہے ،اگر وہ واضح کفر پر مبنی ہوئے تو اب حکمِ کفر لگائیں گے اگرچہ نیت و ارادہ اچھا ہونا بیان کرے۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع