30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اس مقام پر شبہ وارد کیا جاتا ہے کہ اگر کسی مسلمان کے کلام میں ننانوے وجہ کفر کی ہوں اور ایک وجہ اسلام کی ہو تو فقہا کا قول ہے کہ کفر کا فتویٰ نہیں دیا جائے گا۔اس کا ازالہ یہ ہے کہ قول اس تقدیر پر ہے کہ کسی مسلمان کے کلام میں ننانوے وجوہ کفر کا صرف احتمال ہو کفرِ صریح (۱)نہ ہو لیکن جو کلام مفہومِ توہین میں صریح ہو اس میں کسی وجہ کو ملحوظ رکھ کر تاویل کرناجائز نہیں اس لئے کہ لفظِ صریح میں تاویل نہیں ہو سکتی۔
دیکھئے’’ اِکْفَارُ الْمُلْحِدِیْن ‘‘کے ص ۷۲پر علماء دیوبند کے مقتداء مولوی انور شاہ صاحب کشمیری لکھتے ہیں۔
’’ قَالَ حَبِِیْبُ بْنُ رَبِیْعٍ اِنَّ ادِّعَائَ التَّاوِیْلِ فِیْ لَفْظٍ صُرَاحٍ لَا یُقْبَلُ‘‘ (۲) حبیب ابن ربیع نے فرمایا کہ لفظِ صریح میں تاویل کا دعویٰ قبول نہیں کیا جاتا اور اگر باوجود صراحت (۳) تاویل کی گئی تو وہ تاویل فاسد ہوگی اور تاویلِ فاسد خود بمنزلہ کفر (۴) ہے۔
ملاحظہ فرمائیے یہی مولوی انور شاہ صاحب دیوبندی’’ اِکْفَارُ الْمُلْحِدِیْن‘‘ کے صفحہ ۶۲ پر لکھتے
ہیں۔ ’’اَلتَّاوِیْلُ الْفَاسِدُ کَالْکُفْرِ‘‘ تاویلِ فاسد کفر کی طرح ہے۔
_______________________
1…واضح کفر نہ ہو 2…الشفا للقاضی عیاض ،الباب الاول فی سبہ،حصہ ۲؍ ۲۱۷ ،مرکز اہلسنت برکات رضا 3…واضح کفریہ کلمہ ہونے کے باوجود 4…صحیح کلمۂ کفریہ کو صحیح ثابت کرنے کے لئے تاویل کرناخود کفر کے درجے میں ہے۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع