30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
بس خجستہ معصیت کاں مرد کرد نے زخارے بردمد اوراق ورد
وہ تھوکنا اس کے حق میں کیا مبارک ہوگیا کہ اسے اسلام نصیب ہوگیا ۔ اس پر مولانا تمثیل بیان فرماتے ہیں کہ جس طرح کانٹوں سے گل سرخ کے پتے نکلتے ہیں اسی طرح اس کے گناہ سے اسے اسلام حاصل ہوگیا ۔
حضرت وہب بن منبہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرمایا کرتے تھے: ’’من طلب الدنیا بعمل الٓاخرۃنکس اللّٰہ قلبہ وکتب اسمہ فی دیوان اہل النار‘‘
(تنبیہ المغترّین، الباب الاوّل، اخلاصہم للّٰہ تعالیٰ، ص۲۳)
جو شخص آخرت کے عمل کے ساتھ دنیا طلب کرے ۔ خدا تَعَالٰی اس کے دل کو الٹا کردیتا ہے اور اس کا نام دوزخیوں کے دفتر میں لکھ دیتاہے ۔حضرت وہب بن منبہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ کا یہ قول اس آیت سے ماخوذ ہے جو حق تَعَالٰی نے فرمایا:
مَنْ كَانَ یُرِیْدُ حَرْثَ الدُّنْیَا نُؤْتِهٖ مِنْهَا وَ مَا لَهٗ فِی الْاٰخِرَةِ مِنْ نَّصِیْبٍ (پ۲۵، الشورٰی:۲۰)
کہ جو شخص (اپنے اعمال صالح میں )دنیا چاہے ہم دنیا سے اتنا جتناکہ اس کا مقرر ہے دے دیتے ہیں اور آخرت میں اس کے لئے کوئی حصّہ نہیں
ایک بزرگ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ سے منقول ہے کہ وہ یہاں تک اخلاص کی کوشش کرتے تھے کہ ہمیشہ جماعت کی صفِ اول میں شامل ہوتے ، ایک دن اتفاقًا آخری صف میں کھڑے ہوئے اور دل میں خیال آیا کہ آج لوگ مجھے آخری صف میں دیکھ کر کیا کہیں گے ۔ اس خیال کے سبب لوگوں سے شرمندہ ہوگئے یعنی یہ خیال آیا کہ پچھلی صف میں لوگ دیکھ کر کہیں گے کہ آج اس کو کیا ہوگیا ہے کہ پہلی صف میں نہیں مل سکا ۔ اس خیال کے آتے ہی یہ سمجھا کہ میں نے جتنی نمازیں پہلی صف میں پڑھی ہیں اس میں لوگوں کے لئے نمائش مقصود تھی ۔ توتیس سال کی نمازیں قضا کیں ۔
(کیمیائے سعادت، رکن چہارم، اصل پنجم، ج۲، ص۸۷۶)
حضرت معروف کرخی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرمایا کرتے تھے:’’اخلصی تتخلص‘‘ اے نفس ! اخلاص کر! تاکہ تو خلاصی پائے ۔ آپ نے یہ بھی فرمایا : ’’ المخلص من یکـتم حسنا تہ کما یکـتم سیئاتہ ‘‘مخلص وہ ہے جو اپنی نیکیوں کو بھی ایسے ہی چھپائے جیسے کہ اپنی برائیوں کو چھپاتاہے ۔
حضرت سفیان ثوری رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں کہ مجھے میری والدہ نے فرمایا:
یٰبنی لا تتعلم العلم الا اذا نویت العمل بہ والا فھو وبال علیک یوم القیٰمۃ. (تنبیہ المغترّین، الباب الاوّل، اخلاصہم للّٰہ تعالیٰ، ص۲۳)
اے میرے بیٹے ! علم پر اگر عمل کی نیت ہو توپڑھو ورنہ وہ علم قیامت کے دن تم پروبال ہوگا۔
حضرت حسن بصری رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ ہمیشہ اپنے نفس کو مخاطب کرکے فرمایا کرتے تھے: تتکلمین بکلام الصالحین القانتین العابدین وتفعلین فعل الفاسقین المنافقین المرائین واللّٰہ ما ھذہ صفات المخلصین۔ (تنبیہ المغترّین، الباب الاوّل، اخلاصہم للّٰہ تعالیٰ، ص۲۳)
اے نفس! تو باتیں تو ایسی کرتاہے جیسے بڑا ہی کوئی صالح ، عابد ، زاہدہے لیکن تیرے کام ریاکاروں ، فاسقوں ، منافقوں کے ہیں ۔ خدا کی قسم ! مخلص لوگوں کی یہ صفات نہیں کہ ان میں باتیں ہوں اور عمل نہ ہو ۔ خیال فرمائیے ، امام حسن بصری رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ وہ شخص ہیں جنہوں نے ام المؤمنین ام سلمہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا کا دودھ پیا ۔ حضرت علی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے خرقہ خلافت پہنا ۔ سلسلہ چشتیہ قادریہ اور سہروردیہ کے شیخ ہوئے ۔ مگر نفس کو ہمیشہ ایسے ہی جھڑکا کرتے تھے تاکہ اس میں ریا نہ پیدا ہو ۔ ایک ہم بھی ہیں بدنام کنندہ نکونامے چند کہ ہم اپنی ریاکاریوں کو عین اخلاص سمجھتے ہیں ۔
حضرت ذوالنون مصری رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ سے پوچھا گیا کہ آدمی مخلص کس وقت ہوتاہے ۔ فرمایا:جب عبادت الٰہی میں خوب کوشش کرے اور اس کی خواہش یہ ہو کہ لوگ میری عزت نہ کریں ۔ جو عزت کہ لوگوں کے دلوں میں ہے وہ بھی جاتی رہے ۔ (تنبیہ المغترّین، الباب الاوّل، اخلاصہم للّٰہ تعالیٰ، ص۲۳)
حضرت یحییٰ بن معاذ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ سے سوال ہواکہ انسان کب مخلص ہوتا ہے ۔ فرمایا: جب شیر خوار بچہ کی طرح اس کی عادت ہو ۔شیرخوار بچہ کی کوئی تعریف کرے تو اسے خوش نہیں لگتی اور مذمت کرے تو اسے بری نہیں معلوم ہوتی جس طرح وہ اپنی مدح اور ذم سے بے پرواہ ہوتاہے اسی طرح انسان جب مدح وذم کی پرواہ نہ کرے تو مخلص کہا جاسکتاہے۔
(تنبیہ المغترّین، الباب الاوّل، اخلاصہم للّٰہ تعالیٰ، ص۲۴)
حضرت ابو السائب رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ یہاں تک اخلاص کا خیال رکھتے تھے کہ اگر قرآن یا حدیث کے سننے سے ان کو رقت طاری ہوجاتی اور آنکھوں میں پانی بھر آتا تو آپ فورًا اس رونے کو تبسم کی طرف پھیر دیتے۔ (تنبیہ المغترّین، الباب الاوّل، اخلاصہم للّٰہ تعالیٰ، ص۲۴)
یعنی ہنس پڑتے اور ڈرتے کہ رونے میں ریا نہ ہوجائے ۔ آج ہم خواہ مخواہ وعظ میں تقریر میں رونی صورت بناتے ہیں کہ لوگ سمجھیں کہ یہ حضرت بڑے نرم دل اورخدا خوف والے ہیں ۔ ؎
بہ بیں تفاوت را از کجا ست تا بکجا
ابو عبداللہ انطاکی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں کہ قیامت کے دن ریا کار کو حکم ہوگا کہ جس شخص کے دکھانے کے لئے تونے عمل کیا اس کا اجراسی سے مانگ۔
(تنبیہ المغترّین، الباب الاوّل، اخلاصہم للّٰہ تعالیٰ، ص۲۴)
حضرت حسن بصری رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں :من ذم نفسہ فی الملإ فقد مدحھا وذالک من علامات الریاء۔ (تنبیہ المغترّین، الباب الاوّل، اخلاصہم للّٰہ تعالیٰ، ص۲۵)
کہ جو شخص مجالس میں اپنے نفس کی مذمت کرے تو اس نے گویا مدح کی اور یہ ریا کی علامت سے ہے ۔ یہاں سے ان واعظوں اور لیکچراروں کو عبرت حاصل کرنا چاہیے جو اسٹیج پر کھڑے ہوتے اپنی مذمت کرتے ہیں کہ ان حضرات کے سامنے کیا جرأت رکھتا ہوں کہ بولوں ، میں ان کے سامنے ہیچ ہوں ، یہ ہوں ، وہ ہوں ۔ یہ مذمت نہیں بلکہ حقیقت میں اپنی تعریف کرنا ہے ۔ بزرگانِ دین اس کو بھی ریا پر محمول فر ماتے تھے ۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع